فیاض چوہان کو لگام ڈالیے/عامر ہاشم خاکوانی

مجھے آج ایک دوست نے پنڈی میں تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کا ایک ٹی وی فوٹیج دکھایا۔ فیاض الحسن چوہان نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے اخلاق اور تہذیب کا دامن بالکل ہی چھوڑ دیا۔ یوں لگا کہ کوئی شخص مجنونانہ انداز میں ، پاگلوں کی طرح، منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے انتہائی بدتمیزی، غیر شائستگی سے بول رہا ہو۔ یہ گفتگو شرمناک تھی۔ فیاض الحسن چوہان جیسے تیسرے چوتھے درجے کے لیڈر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پاکستانیوں کی بزعم خود ترجمانی کریں۔ انہیں بالکل حق نہیں کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی اس درجہ توہین کریں ، کشمیریوں کو مجموعی طور پر مذاق اڑائیں، ان کی تحقیر کرنےکی کوشش کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ایک فوٹیج نے تحریک انصاف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پہلی زیادتی عمران خان نے خود کر دی، اب ان کے عقل وہوش سے نابلد پیروکار رہی سہی کسر بھی پوری کر رہے ہیں۔ کشمیری ووٹر صرف آْزاد کشمیر میں نہیں رہتے، پاکستان کے کئی حلقوں میں کشمیری ووٹ موجود ہے۔ اور پھر سچ تو یہ ہے کہ یہ صرف ووٹ یا ووٹر کا معاملہ نہیں۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں، ان کے جذبات ، احساست ہمیں ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ اس طرح کی بدتمیزی، پاگلوں کے انداز میں لعن طعن کی احمقانہ کوششوں کی شدید ترین مذمت ہونی چاہیے۔ ویسے تو بول چینل کو ایسی فضول گفتگو سنسر کر دینی چاہیے تھی، مگر بدقسمتی سے آج کل چینلز میں ایڈیٹنگ برائے نام رہ گئی ہے۔ بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ ہر باشعور پاکستانی کو کشمیریوں کے خلاف اس طرح کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی مذمت کرنی چاہیے۔ یہ ہم سب کا فرض ہے۔
اس کا یہ کہنا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی اوقات ہی کیا ہے، ایک سب انسپکٹر گھسیٹ کر وزارت عظمیٰ سے الگ کر دیتا ہے۔ یہ بات فیاض الحسن چوہان نے کشمیری وزیراعظم کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف، ریاست پاکستان کے خلاف کہی ہے، یعنی بھارتی پروپیگنڈے کی تائید کی ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی پاکستان میں یہ اوقات ہے ۔ اس کی مذمت کرنی چاہیے تحریک انصاف کے کارکنوں کو خاص طور سے ۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں، ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ ان پر ہونے والے ہر وار کا جواب پاکستانیوں کے ذمے ہیں، اس کا جواب انشااللہ ہم دیں گے۔
(عامر خاکوانی)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *