• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات ۔۔۔۔ارمغان احمد داؤد

ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات ۔۔۔۔ارمغان احمد داؤد

ملکی معیشت جیسا مضمون اپنی ذات میں خود ہی سمندر ہے لیکن جیسے ہی یہ مضمون پاکستانی معیشت کا روپ دھارتا ہے تو اس مضمون پر بات کرنے کے لئے درکار ضمنی موضوعات اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ ایک کالم میں ان سب کا احاطہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اب چونکہ انعام (ہزاروں والا بھی اور رانے والا بھی) کامعاملہ ہے تو ہم بھی سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ملک کی معیشت بھی اسی بنیادی بات سے شروع ہوتی ہے جو کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ آمدنی کتنی ہے اور اخراجات کتنے ہیں۔ آمدنی کم ہے اور اخراجات زیادہ ہیں تو قرضہ جات لینے پڑتے ہیں۔ یہاں سے مسائل جنم لینا شروع ہوتے ہیں، اگر یہی قرضہ جات آمدنی بڑھانے والے منصوبات پر نہ لگائے جائیں تو یہی قرضہ جات بمعہ سود آمدنی کو اور گھٹانا شروع کر دیتے ہیں اور ملکی معیشت قرضوں کے منحوس گرداب میں پھنستی چلی جاتی ہے۔

آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ٹیکس کی آمدن ہوتا ہے اور آمدن بڑھانے کے لیے سب سے پہلے ٹیکس بڑھانے کے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکس کی مد میں آمدنی مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب سے انتہائی کم ہے۔ جب ہم مشہور معیشت دانوں کے ٹیکس کے نو اصولوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے ٹیکس کے سسٹم میں بہت نقائص نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹیکس پالیسی سے لے کر ٹیکس لگانے تک میں ویژن اور پلاننگ کا فقدان نظر آتا ہے ۔ میرے نزدیک ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے نیچے دیئے گئے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

پہلا قدم یہ کہ وہ لوگ جو کماتے تو ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے ان سے ان کی آمدنی کی مناسبت سے ٹیکس وصول کرنا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں خود سے ٹیکس دینے کا بالکل بھی رواج نہیں ہے وہاں یہ مشکل تو ہوگا مگر ناممکن قطعاً بھی نہیں ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کا ٹیکس دینا بنتا ہے مگر وہ ٹیکس نہیں دیتے ان کے پاسپورٹ نہ بنائیں، ان کے شناختی کارڈ کی تجدید نہ کریں، ان کے بنک اکاؤنٹ کھلوانے پر پابندی ہو ، ان کے لئے گاڑیاں خریدنے کی پابندی ہو، ائر ٹکٹس نہ خرید سکیں وغیرہ وغیرہ۔ ہماری گورنمنٹ کو ایسے ٹیکس چوروں پر اسی طرح کے سخت اقدامات کرنے ہوں گے اور پھر ان پر ڈٹ جانا ہوگا کیونکہ ٹیکس نہ دینے والا مافیا (جیسے تھوک، پرچون، ٹرانسپورٹ، تعمیرات وغیرہ) سڑکوں پر نکل کر بلیک میلنگ پر اتر آتا ہے۔

میرے نزدیک دوسرا قدم ان اشیاء اور خدمات پر ٹیکس لگانا ہے جن پر یا تو سرے سے ٹیکس ہے ہی نہیں اور یا بہت کم ہے۔ زرعی شعبہ اس پر سب سے اوپر ہے۔ بچپن سے ہم یہ سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے تو زراعت کے ذریعے اپنے گھروں کو چلانے والے اس زراعت کی آمدنی پر ٹیکس دینے سے کیوں کتراتے ہیں؟ زراعت کی آمدن میں ٹیکس لگانے کے لئے ڈاکومینٹیشن آف اکانومی بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے لئے جو اقدامات ایف بی آر اٹھا رہا ہے وہ نہ صرف یہ کہ ناکافی ہیں بلکہ اس میں زراعت سے حاصل شدہ آمدنی والے حضرات پر زور بھی نہیں ہے۔

ٹیکس کے لیے تیسرا قدم ایف بی آر کو ہنگامی بنیادوں پر ٹھیک کرنا ہے۔ رشوت ستانی، نا اہلی اور بیوروکریسی جیسے بیماریوں کے لیے ایف بی آر کی تنظیم نو کرنی ہو گی اور کارکردگی کو جانچنے کے لیے نوٹس بھیجنے کی تعداد نہیں بلکہ ان کی کوالٹی جانچنی ہوگی۔

چوتھے قدم پر ہمیں ٹیکس لگانے والوں اصولوں کو پھر سے دیکھنا ہوگا۔ ہمارے ہاں کارپوریٹ اور پارٹنرشپ میں ٹیکس ریٹس کا اتنا تفاوت ہے کہ یہ بجائے خود ڈاکومینٹیشن آف اکانومی کے لئے انتہائی مضر ہے۔ ہمیں کاروباری سرگرمیوں کی آمدن پر ٹیکس ریٹ کو غیر کاروباری آمدن کی سرگرمیوں کے ٹیکس ریٹ سے کم از کم آدھا رکھنا پڑے گا تاکہ ہمارے لوگ اپنا پیسہ کاروباری سرگرمیوں میں لگائیں جس سے اکانومی میں ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی۔ اس طرح کاروبار کرنے کی لاگت (کاست آف ڈوئینگ بزنس) میں کمی واقع ہوگی جس سے اکنامک سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور بیروزگاری جیسے مسائل بھی حل ہونا شروع ہوں گے۔

آمدنی کو بڑھانے کے لیے دوسری ضروری چیز برآمدات میں بڑھوتری  لانا ہے۔ برآمدات کے ذریعے جو غیر ملکی کرنسی آتی ہے وہ ادائیگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں برآمدات پچھلے کچھ سالوں سے گرتی چلی آ رہی ہیں اور حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں نظر آ رہے۔ ہمارے ملک کی بڑی برآمدات میں چاول، کپاس (اور اس سے بنی اشیاء)، لیدر، کمیکل وغیرہ ہیں۔ زراعت سے متعلق برآمدات کے لئے حکومت کو زرعی شعبے میں خاطر خواہ اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف پیداوار بڑھائی جا سکے بلکہ کوالٹی کو بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔

پاکستان میں برآمدات بڑھانے پر زیادہ توجہ اشیاء پر ہی ملحوظ رہتی ہے، میرے خیال میں خدمات کے نتیجے میں آنے والی غیر ملکی کرنسی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ اشیاء کے ذریعے ۔ اس کے لئے ہماری حکومت کو آئی ٹی کے شعبے کو جدید بنیادوں پر مستحکم کرنا ہوگا تاکہ ہم آئی ٹی کے شعبے میں کم از کم بھارت کے مقابلے پر تو آسکیں اور بین الاقوامی کمپنیاں جو معاہدے بھارت کی آئی ٹی کمپنیوں سے کرتی ہیں ان کے لئے پاکستان بھی ایک آپشن ہو۔

آمدنی کے بعد جب ہم اخراجات کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں پر بھی بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ سب سے پہلے ہمیں ہر اس میگا پراجیکٹ اور سفید ہاتھی سے جان چھڑانی ہوگی جو کہ غیر ملکی قرضوں سے بنتا ہے اور جس کے بغیر بھی گزارہ ممکن ہے ، مثال کے طور پر لاہور میں اورینج ٹرین منصوبہ۔ ہماری درآمدات کا بل ہمارے فارکس ریزروز کے لئے سم قاتل ہے۔ ہمیں ہر قسم کی پرتعیش اشیاء کی درآمد پر پابندی لگانی پڑے گی، چاہے وہ گاڑیاں ہوں، میک اپ کا سامان ہو، یاکھانے پینے کی اشیاء ہوں ۔ ان پر ٹیکس بڑھا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے، جب تک ان پرتعیش اشیاء کی درآمد نہیں رکے گی، تب تک پاکستان میں بنی ہوئی اشیاء کی مانگ نہیں بڑھے گی اور ادائیگیوں کا توازن برقرار نہیں رہے گا۔

اس مضمون میں سی پیک کا ذکر دانستہ طور پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ فی الحال تو سی پیک کی وجہ سے جو درآمدات ہو رہی ہیں ان کی وجہ سے ہمارا ادائیگیوں کا توازن کافی خراب ہے مگر سی پیک کے پراجیکٹس سے آمدنی کا حصول ابھی مزید کچھ سال تک نہیں آنا، لہذا جہاں ہیں جیسے ہیں کی بنیاد پر ہم پہلے اپنے مسائل تو ٹھیک کرنے کی ٹھان لیں تب تک ہمیں سی پیک کے فوائد و نقصانات کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔

ارمغان احمد
ارمغان احمد
یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگُزر میں گُزراں نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *