• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط 5

بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان/قسط 5

عمران۔تقابل۔ مشورے
چھ اقساط کی قسط نمبرپانچ

تبدیلی کے یوں اچانک آجانے پر اقبال دیوان کا مضمون
اقبال دیوان ہمارے مومن مبتلا، فقیر راہ گزر ہیں، نہ کسی کی راستہ روکتے ہیں ۔نہ کسی کا دامن تھامتے ہیں، وما علینا الاالبلاغ ا ل مبین کہ(سورہ یٰسین کی مشہور ترین آیت کہ ہمارا کام تو سچا صاف پیغام پہنچا دینا ہے) شہرت اور ہوس مال و منام سے بے نیاز ہیں۔طاہر ہ سید جب بہت اچھی لگتی تھیں تب بھی وہ بس من دی موج مویا ہنسنا کھیڈنا سنتے تھے اب بھی وہ یہی ایک گیت سنتے ہیں بس اس اضافے کے ساتھ کہ اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا، راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی سمجھتے ہیں۔ طے کر بیٹھے ہیں کہ جہاں جسٹن بی بیر،زین ملک اور جیکی راؤلنگ جیسے بھیڑ کھینچو(Crowd -Puller)موجود ہوں وہاں ان جیسے پل دو پل کے شاعرقسم کے کالم لکھنے والے کی کیا بساط)۔سندھ سرکار کے سابق سیکرٹری اور فورتھ کامن کے افسر ہیں۔ہماری طرح یہ بھی عمران خان کے فدائیان خلق میں شمار ہوتے ہیں
: ایڈیٹر ان چیف۔۔۔انعام رانا
کل اقساط۔ چھ
موجودہ قسط۔پنجم

ہم نے عرض کیا تھا نا کہ عمران خان کا معاملہ کچھ ایسا ہے کہ اس پرہمارا ڈرائیور فقیر محمد آف کالاباغ بھی تبصرہ کرلیتا ہے۔ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب کا ان کے بارے میں گفتگو کا حوالہ کرکٹ اور پی سی بی کے چیئرمین اور کئی دفعہ کی ملاقات تھی تو ہمارے فقیر محمد کو یہ تفاخر حاصل ہے کہ عمران خان کے ددیالی آبا ؤ اجداد بھی اسی خاک خوش نما سے تعلق رکھتے تھے جہاں سے ہمارے ڈرائیور فقیر محمد آف کالاباغ کاخمیر اٹھا ہے۔ان کے دادا نے ان کا نام تضحیک و تحقیر کی غرض سے مغربی پاکستان کے سابق گورنر اور عائلہ سمیرہ ملک کے دادا ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ(جن کو بعد میں امجد اسلام امجد کے سڑکیں سنسان کردینے والے پی ٹی وی کے ڈرامے’وارث‘ میں چوہدری حشمت کے کردار میں امر کردیا)کے لیے اپنی بے پناہ غربت کو مدنظر رکھ کر عطا کیا۔

امیر محمد خان

یوں آپ جناب امیر محمد خان کی ضد میں فقیر محمدخان کہلائے۔دادا حضور جو پولیس کے سپاہی تھے ان کی پوسٹنگ قیام پاکستان کے وقت لدھیانہ میں تھی۔ وہیں ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ساحر لدھیانوی کے والد نے ان کا نام اپنے سب سے بڑے دشمن عبدالحئی کے نام پر رکھا تھا تاکہ گالیاں دینے سے کلیجہ آسانی سے ٹھنڈا ہوجائے۔

ساحر لدھیانوی،امریتا پریتم

ڈرائیور فقیر محمد میں تین خرابیاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے تین میمن سیٹھ اس کو فیملی کی نوکری سے فارغ کرچکے ہیں۔ایک تو وہ Mentally Blind ہے ۔ دس سال اسی روٹ پر منی بس چلانے اور تین سال قرب جوار کے بنگلوں میں ڈرائیونگ کرنے کے بعد بھی اسے بتانا پڑتا ہے کہ بیچ ویو کے لیے کہاں سے مڑنا ہے جب کہ موٹر سائیکل پر ڈیٹ مارنے آنے والی انگور اڈا (جنوبی وزیر ستان) اور اسپن بولدک(ملا عمر کا گاؤں) کے گاؤں کی لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈ کو بتادیتی ہیں کہ بیچ ویو اور
ڈولمن مال کے لیے کہاں سے مڑنا ہے۔ہائپر اسٹار کہاں ہے اوربریانی سینٹر کس گلی کے موڑ پر واقع ہے۔ ان کے برقعے کے اس رنگ کی وجہ سے انگریزی زبان کو ایک نیا شیڈ مل گیا ہے۔یہ نیلا رنگ اب قندھار بلیو کہلاتا ہے۔

انگور اڈہ
برقع
بیچ ویو کے قریب
ان ہوائوں سے بچا بالما
اے عشق فریاد کنم۔۔۔قندھار بلیو
کراچی بلیوز

فقیر محمد آف کالاباغ کی دوسری برائی اس کا ہر حال میں اپنے علاقے کی گرد آلود پنجابی بولناہے۔میمن خواتین پچھلی سیٹ پر اکیلی ہوں تو دوران سفر تسبیح پر رزق میں اضافے کے وظیفے  پڑھتی رہتی ہیں۔ان اوراد اور وظائف میں گنتی کا ٹھیک شمار رکھنابہت ضروری ہے۔ذرا سی بھول چوک ہوجائے تو آپ کی رقم پیسہ ایان علی اور انور مجید کے اکاؤنٹ میں چلی جاتی ہے۔آگے حسین لوائی جیسے مگر مچھ بینکر بیٹھے ہیں۔مشرقی پاکستان سے آئے تھے تو حالات سے دل برداشتہ ہوکر   خودکشی کی کوشش کی تھی۔کامیاب ہوجاتے تو باقی ماندہ گناہوں سے بچ جاتے۔دوزخ سے جلد جان چھٹ جاتی۔اب اس بے ایمانی اور سود کے کاروبار کو فروغ دینے کی وجہ سے ہمیں ڈر ہے کہیں وہ بئس المصیر میں نہ دھکیل دیے جائیں۔
اب اگر یہ نیک بی بیاں وہ وظیفہ چھوڑ کر فقیر محمد آف کالا باغ کو راستہ بتائیں تو یہ وظیفہ عظمی بخاری تو پڑھنے سے رہیں۔ گھر سے یہ اگر گروپ کی صورت میں نکلی ہوں تو یہ میمنی میں ریحام خان کی کتاب سے لے کر فرح احسن سلیم گجر کیVacation Destinations اور ر63 برس کی ر یکھا کے نئے پلاسٹک سرجری والے BODY CONTOUR SCULPTING کا کلینک کھوجنے کے چکر میں ہوتی ہیں اس دل چسپ بحث میں جب انہیں ماضی میں سولہ وہیل ٹرالر چلانے والے ڈرائیور کی آواز سنائی دیتی ہے کہ ”باجی چھیتی دسو ہن کتھے مڑنا ہے؟“ تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اسے وہ دوھوراجی کالونی (میمنوں کا مشہور علاقہ)کے کسی گٹر میں ٹھونس کر اوپر سے تیزاب کا ڈرم الٹا دیں۔

لیڈی گجر
ریکھا۔خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
body contour sculpting
body contour sculpting

کہہ رہا تھا کہ پچھلی باجی جس کے بارے میں ہمیں بھی پتہ تھا کہ انہوں نے گرمیوں کی تعطیلات میں لندن اسکول آف اکنامکس سے چھٹی ملنے پر وہیں لندن بیکری اسکول میں بیکنگ کے کورسز کرنے کی ٹھان لی۔کچھ مہلت ملی تو دس پندرہ دن کے لیے یہاں آئیں۔فقیر محمد آف کالا باغ کو پیٹ کی ہلکی کسی ملازمہ نے بتادیا تھا کہ چھوٹی سیٹھانی وہاں ڈبل روٹی کیک اور پاپے بنانے کی تعلیم لے رہی ہیں۔اس نے ان کا تن، من، دھن ایئر پورٹ سے واپسی پر یہ کہہ کر پھونک ڈالا کہ باجی اتنا دور ولایت میں   جاکر ڈبل روٹی اور پاپے بنانے کا ہنرسیکھنے کیا فائدہ، یہاں نیلم کالونی میں ہمارے میانوالی والوں کی عیسیٰ خیل بیکری ہے ان کا کاریگر ایک دم سپر کلاس ہے اس سے سکھوالیتے ہیں۔

ایک دن وہ انہیں فیزسیون میں لے گیا۔ سہیلی کے گھر سے چھ بجے لینے کا وقت دیا تھا۔ وہ فون کرتی تھیں کہ ڈرائیور فقیر محمد تم آگئے ہو تو یہ ہر بار جواب میں کہتا تھا ”چروکنا “۔گاڑی بھی کم بخت نے سامنے والے گھر سے بھی ہٹ کر پارک کی تھی۔ سو دکھائی نہ دی۔وہ زچ ہوکر اپنی سہیلی کے ساتھ کہیں اور نکل گئی۔سیٹھ نے کہا بھائی تو کسی بیورکریٹ کے پاس ہی چل سکتا ہے۔ یہ تیرا چروکنا ان کے ہاں نہیں  چلے گا۔سو وہ ہمیں مل گیا۔
اس کی تیسری برائی یہ ہے کہ وہ ٹی وی ٹاک شوز بھی بہت دل جمعی سے دیکھتا ہے اور دفتر میں آنے والے چھ بڑے اردو اخبار سیٹھ سے زیادہ دل چسپی سے پڑھتا ہے۔اس وجہ سے خود کو بہت صاحب الرائے گردانتا ہے۔
ہم اسے بہت سمجھاتے ہیں کہ خبر وہ نہیں جو بتائی جارہی ہے بلکہ خبر وہ ہے جو آپ سے چھپائی جارہی ہے۔یہ تمام اینکرز جو رات آنے پر بقراط، سقراط اورکرسٹینا امان پور اور ہالہ گورانی (سی این این کی زبرادست اینکر ز)بن جاتے ہیں وہ یا تو محکمہء زراعت اور خلائی مخلوق کے پے رول پر ہوتے ہیں یا کسی سیاسی پارٹی کے حرم کی خادمہ خوش گفتار ہیں ۔ان کا ذخیرہء الفاظ اور مواد وہی کنٹرول کررہے ہوتے ہیں۔بسلاند مارتا انداز اور پینڈو و ارڈ روب ضرور ان کا اپنا ہوتا ہے۔ان کو ملازمت بھی وہ ہی لے کردیتے ہیں، ورنہ ایک چینل چھوڑ کر دوسرے چینل جانے پر ماں باپ معاف نہیں کرتے ان کو دوسرا چینل اتنی خوش دلی سے کیسے اپنا لیتا ہے۔یہ کبھی آپ نے نہیں سوچا۔

کرسٹیناامان پور
ہالا گورانی

ملٹی نیشنلز اور فون کمپنیوں کے کرتا دھرتا گھی تیل اسٹیل اور رئیل اسٹیٹ کے فیاض ڈاکوانہی  کی آنکھ کے اشارے پر ان ٹاک شوز کے پروگراموں میں اشتہارات کی بھرمار کرتے ہیں جس سے ان کی اونٹ کے منہ  میں زیرے جتنی تنخواہ یہی ماہانہ   کوئی پچاس لاکھ کے اندر اندر نکل آتی ہے۔اس کی وجہ سے بچی خوش بھی رہتی ہے اور محفوظ بھی ، حالانکہ زلزلے تو پاکستان میں بھی بہت آتے ہیں۔اسی وجہ سے ایک کمپنی سے اشتہار سے یہ ہی رقم نکل آتی ہے۔ایک رات میں موضوعات کی یکسانیت اور ان کا حامی اور مخالفانہ بیانیہ(Narrative and Counter Narrative) دیکھ کر آپ کو نہیں لگتا کہ یہ سب  اینکرز ایک ہی فکری ماں کے بہت سے جڑواں بچے ہیں جنہیں وہ راولپنڈی کے جنکشن پر چھوڑ کر کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔

فقیر محمد آف کالا باغ کے ڈرائیونگ میں رویے ہوتے ہیں اور زندگی کے باقی ہر معاملے پر رائے۔

وہ ان دونوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا ۔سوچیں جو لانگ روٹ بس،سولہ وہیلر ٹرالرز اور منی بس چلاتا رہا ہو اس کی کار ڈارائیونگ کس قدر پرخطر ہوگی ۔بس میں کوئی پولیس والا اپنی سرکاری ٹوپی اور بندوق بھول گیا تھا۔بندوق واپس کردی۔ٹوپی اس کی اجازت سے رکھ لی۔شکل بھی اداکار امریش پوری جیسی ہے۔کراچی کے موٹر سائیکل پر سوار Stunted -Growth والے سیل فون جتنے تلنگے مہاجر لڑکے تو اس کو رینجر کا لباس سادہ والا خفیہ ڈیوٹی پر مامور ٹھاکر سمجھ کر ڈر جاتے ہیں۔

رینجرز رانا ٹھاکر
امریش پوری

ہم کار میں سوار اس کے Captive Audience ہوتے ہیں۔ہر معاملے میں اس کی رائے سنی پڑتی ہے کہ جانے کب کہاں راستہ بدل جائے۔ رائے سے اختلاف کرو تو اینکر ڈاکٹر دانش، یاسمین منظور،نصرت جاویدکی طرح سلائی سے ادھڑ جاتا ہے۔ایسے موقعوں پر اس کی آواز کے آگے سڑکوں پر پریشر ہارن پنڈت روی شنکر کا ستار لگتے ہیں۔

عمران خان کا عاشق ہے مگر ضد کرتا ہے کہ میانوالی کی مٹی میں ایسی خاصیت ہے کہ عمران خان آف عیسی خیل میاں والی ہو یا ڈرائیور فقیر محمد آف کالا باغ راستہ بھول ہی جاتے ہیں۔
جب کپتان نے ریحام سے شادی کی تو ڈرائیور فقیر محمد کچھ بہت خوش نہیں تھے۔سندھی کک نے نیٹ پر ریحام کی اسکرٹ والی تصویر دکھادی تھی بتا  بھی دیا تھا کہ باجی پہلے انگریزوں کو موسم کا حال سناتی تھی۔ فقیر محمدتصویر دیکھ کر کہنے لگا کہ لڑکی ہلکی ہے ۔ موسمی لڑکی سے شادی زیادہ دیر نہیں چلے گی۔ہماری   طرف سردیاں جلد آجاتی ہیں۔اس کی بات سچ نکلی۔

ریحام خان

جب عمران خان انتخاب میں ایک اکثریت لے کر کامیاب ہوگئے اور بلاول کے نہ چاہتے ہوئے بھی نوبت وزیر اعظم کا حلف اٹھانے تک جاپہنچی تو ہم نے چھیڑا کہ تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے عمران کی سابقہ بیگم جمائما بچوں سمیت آرہی ہیں۔عمران نے میسج کیا ہے۔وہ بڑا حیران ہوا۔
نا جی نا وہ نہیں آئے گی۔ہم نے پوچھ لیا کہ اتنے وثوق سے وہ یہ کیوں کہہ رہا ہے تو کہنے لگا اپنی طرف کی عورتوں کو ہم زیادہ جانتے ہیں کہ آپ میمن سیٹھ۔ہمیں جمائما کو عمران خان کی رعایت سے اس کا اپنی طرف کی عورت سمجھنا۔اللہ اللہ کیا اونر شپ، کیسا تسلط۔ہمارے بس میں ہوتا تو اس ناجائز قبضے پر ملک ریاض سے لے کر بحریہء ٹاؤن اس کے حوالے کردیتے۔

عمران خان دونوں بیٹوں کے ہمراہ

وہ اس بات پر نازاں تھا کہ یہ جمائما بڑی ڈاھڈی عورت ہے۔یہ نہ ہوتی تو جب حنیف عباسی کی درخواست  پنامہ کیس میں عمران خان کے خلاف آئی تھی تو عمران کا کڑاکے بول جانے تھے۔الزام تھا کہ اس نے بیرونی ملک میں اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے تھے۔جمائمانے دفتر دفتر گھوم کر بند ہوئے بینک سے رسیدیں نکلوائیں۔ ان کو بھیجا اور ان کی وجہ سے عمران کی گلو خلاصی ہوئی۔ بچوں کو بھی کیسے پیار سے پالا ہے۔آپ کی میمن عورتیں ایسی ہوسکتی ہیں۔ہم نے کہا ہماری بیگم صاحبہ نے طلاق نہیں مانگی۔بچے بھی ہم دونوں کے ہیں ورنہ شاید ہمیں جمائما میاں والی کے سامنے اپنی بیوی اور جملہ پاکستانی عورتوں کی جانب سے یوں شرمندہ نہ ہونا پڑتا۔
ہم نے پوچھ ہی لیا کیا وہ آئے گی۔نا جی نا وہ تو نامحرم ہے۔پیرنی بھابھی کو اچھا نہیں لگے گا۔جب ہم نے بتایا کہ ان کا ٹویٹ آگیا ہے کہ نہ وہ آئیں گی نہ بچے کیوں کہ بیٹوں کی آمد کو ان کے والد صاحب نے روک دیا ہے۔فقیر محمد آف کالا باغ کا کہنا تھا کہ کپتان وزیر اعظم ان کی میانوالی کا سیانا ہے۔شبدھ گھڑی پر لڑائی دنگا نہیں کرنا چاہتا۔اسی لیے مدعو نہیں کیا۔

جمائما کا ٹویٹ

ہم نے اپنے ایک دوست سے جو کسی زمانے میں کسی حوالے سے گوریوں کی شہ رگ سے بڑا معمولی فاصلہ رکھتے تھے۔ برسبیل تذکرہ پوچھ لیا ۔وہ بتاتے ہیں وہ دن جب وہ ڈاکٹر حسنات کے لیے پڑوس کے لندن میں دہلی دربار سے کڑاھی گوشت اور ماش کی دال اور نان اور لیڈی ڈائنا کے لیے گھنٹے بھر کی دوری پر ملنے والے ہسپانوی ٹاپا(چھوٹے اسنیکس جو ڈرنکس کے ساتھ لیے جاتے ہیں)اطالوی سیا باتا بریڈ اور گیز پاکو سوپ لینے چلے جاتے تھے۔یہی مہلت وصل ہوتی تھی۔وہ بتارہے تھے کہ گوریوں کی  انگریزی اتنی سادہ نہیں کہ بات کا وہی مطلب ہو جو ہمارے جیسے اردو میڈیم آن لائن ڈکشنری کی مدد سے سمجھ لیں۔

شہزادی ڈیانا
ٹاپا
سباتا بریڈ
گیز پاکو سوپ

جمائما جن کے بے شمار جعلی ٹوئیٹر اکاؤنٹ غلط سلط انگریزی کی مدد سے مریم اورنگ زیب کی نگرانی میں چلتے ہیں ان کی کسی بے تاب پاکستانی مداح بی بی مریم جو اب بھی اس بات کو تسلیم کرنے پر رضامند نہیں کہ ان کی آپس میں طلاق کو  14  سال ہوگئے ہیں، پوچھ لیا کہ وہ اور بچے اس تقریب میں کیوں نہیں آئے۔جواب میں سترہ اگست کے ٹوئیٹ میں درج تھا کہ بیٹے تو آنا چاہتے تھے مگر والد صاحب رضامند نہ تھے۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے نہیں بھیجا۔اس لیے کہ اس انگریز اشرافیہ جو امریکہ روس اور دنیا پر ایک عرصے تک راج کرتے رہے  (جرمنی،روس اور برطانیہ کے بادشاہ آپس میں کزن تھے) جس نے ریت میں ایک لائن کھینچ کر مشرق وسطی میں آج تک آگ لگا رکھی ہے۔جمائما اس کی اہم رکن ہے۔اس کی تربیت بہت ٹھوس اور پائیدار ہے۔ایک کلاس ہے۔

ریت پر لائن

ہر چند کہ وہ بتارہے تھے کہ اس کا  دل ایسا معصوم ہے کہ پاکستان کی اسکول کی لڑکیوں کا بھی کیا ہوگا۔ٹیکسٹ میسج کا پندرہ منٹ جواب نہ آئے تو اگلا پیغام آئے گا ”ہائے بھگوان میں نے ایسا کیا کردیا کہ آپ کا من دکھی  ہوا“۔پاکستان سے بہت سچا پیار بھی ہے۔جس بی بی کے گھر  برطانیہ کے چار وزرائے اعظم،سوروس،روتھ شیلڈ جیسے روساۓ اعظم کھانے پر آتے ہوں اس کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم کی تقریب میں آنا تو مانو  ایسا ہی ہے کہ محلہ میں کسی بیوہ کے سوئم پرجانا۔وہ نہیں آئے گی۔وہی تو تھی جسے ڈیانا نے سب سے پہلے گلہ کیا تھا کہ پرنس چارلس کی زندگی میں Parker-Bowles نامی خاتون بھی ہے بعد میں جب مارٹن بشیر نے 20, نومبر سن 1995 والے بی بی سی کے انٹرویو میں پوچھا کہ اس شادی کی بربادی میں کمیلا بولز پارکر کا بھی ہاتھ تھا تو انہوں نے جواب دیا کہWell, there were three of us in this marriage, so it was a bit crowded.
(یقیناً  اس شادی میں تین فریق تھے جس کی وجہ سے کچھ بھیڑ لگی رہتی تھی)۔ سو اس کا نہ آنا قرین آداب اور رسم و راہ دنیا کو نبھانے کے لیے ہے۔

مارٹن بشیر اور لیڈی ڈیانا

پچھلے دنوں کی شاموں میں وہ کچھ تنہا تھے، کچھ اداس بھی۔ہم نے انہیں سمجھایا تھا کہ ع
دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جی کا زیاں،
عشق کو عشق سمجھ، مشغلہء دل نہ بنا
رازوں کو سینے سے لگا کر رہتے ہیں۔ہم نے کہا دنیا میں کوئی راز نہیں۔جب ہماری سیکرٹریٹ انسٹیوٹ فیض آباد میں تربیت کا آغاز ہوا تو انگریزوں کے زمانے کے ایک افسر نے بتایا کہ سرکار کے ہاں ٹوائلیٹ پیپر کے علاوہ کوئی چیز سیکریٹ نہیں ہوتی۔
جب روسی امریکہ کی وزیر خارجہ  کے نجی ای میل سرور اکاؤنٹ ا ور بعد کی صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن کے کمپیوٹر سے ہینڈ شیک کرکے ان کا الیکشن ہائی جیک کرگئے تو تمہارے رازکیسے۔نہ مانے۔۔۔

کچھ ایسا ہی معاملہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور ان کی سوانح نگار محبوبہ پاؤلا براڈویل کا بھی تھا حضرت نے دل تھام کر کئی سرکاری راز اس بی بی کو بتادیے جس پر سن 2015 میں عدالت نے انہیں دو سال کی موقوف سزا اور ایک لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی۔ ڈاکٹر ظفر الطاف، جنرل حمید گل صاحب کو اکثر ازراہ تفنن کہا کرتے تھے کہ جنگ ایسا بھیانک اور سنجیدہ کھیل ہے کہ یہ جرنیلوں کے حوالے کرنا قومی خودکشی کے مترادف ہے۔

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس
اؤلا براڈویل

جب گوریوں کے اس رفیق بے نام کو لگا کہ اب ہم بہت کچھ ان سے لے اڑیں گے تو حکمت عملی کے طور پر انہوں نے ہم سے پوچھ لیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ عمران خان بہت امارت پسند ہے۔ کیا اس کے رفقائے کار اور جماعتی سپورٹرز واقعی سب کے سب اے ٹی ایم کی مشینیں ہیں۔
ہم نے کہا جمہوریت تو مال و منال کے معاملے میں ہے ہی کاتک کی کتیا۔ہندی سال کے وہ مہینے جب جانور جنسی تعلق پر آمادہ ہوتے ہیں۔نگوڑی پرانی زن شفتالہ ہے دھن کی دھنو ہے۔جمہوریت سیاست اور حکمرانی کاسرمائے اور جرائم سے پرانا ساتھ ہے۔
اب ہمارے ہر دل عزیزجناح صاحب کو لے لیں۔ مجال ہے کسی غریب سے کبھی کوئی مشورہ مانگا ہو۔ہر وقت۔حبیب ئگوکل،آدمجی،داؤد،ہارون، رستم فقیر جی کاؤس جی،راجہ صاحب آف محمود آباد،نواب آف جونا گڑھ،نظام آف حیدرآباد،سلطان محمد آغا خان سوئم، مرزا ابو الحسن اصفہانی جیسے رؤسا کی صحبت میں پائے جاتے تھے۔ان کی دوسری بیگم رتنا بائی کے والد اور ان کے دوست سر پتیت ڈنشا کا شمار بھارت کے مالدار ترین گھرانوں میں ہوتا تھا۔

پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو لے لیں۔نصرت صابونچی سے شادی ہی اس لیے کی کہ وہ گورنر جنرل اسکندر مرزا کی بیگم ناہید مرزا کی کزن تھی اور حضرت کسی نہ کسی طرح جی بسم اللہ بول کر سرکار کی بس میں چڑھنے کے آرزومند تھے۔وہ نہ ہوتی تو گورنر جنرل ہاؤس جس کے دروازے اب عمران اسماعیل صاحب نے غرباء اور مساکین پر کھول دیے ہیں وہاں انہیں کوئی نہ گھسنے دیتا۔
بھٹو صاحب نے پنجاب میں ممتاز دولتانہ،صادق حسین قریشی(شاہ محمد قریشی کے والد) سندھ میں رئیس غلام مصطفے خاں جتوئی۔نواب چانڈیو،سردار ممتاز بھٹو،سردار عبدالحمید جتوئی،۔مخدوم طالب المولیٰ آف ہالا،سردار غلام محمد مہر،بلوچستان میں اکبر  بگٹی،سردار دودا خان زرکزئی کے ذریعے قدم جمائے۔

غلام مصطفٰی جتوئی
نواب شبیر چانڈیو
سردار ممتاز علی بھٹو
مخدوم طالب المولیٰ آف ہالا
سردار فاروق لغاری
غلام مصطفٰی کھر
صادق حسین قریشی اور بھٹؤ

ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کا ذکر ہو تو ان کو وزیر اعظم بنانے میں چھ گجراتی بزنس مین پیش پیش تھے۔ان کی وجہ سے بی جے پی کی فنڈنگ اس وجہ سے روک دی تھی کہ بھارتی جنتا پارٹی کا اگر مودی کے علاوہ لال کشن آڈوانی،وشونت سنہا،ششما سوراج، سردار جسونت سنگھ کو وزیر اعظم بنانے کا موڈ ہے تو رقم کا بندوبست کہیں اور سے کیا جائے۔یہ سب سیاست دان پارٹی میں مودی جی سے بہت اونچا درجہ رکھتے تھے جب کہ مودی جی کو اپنے تونسے شریف کے بن بتی، بن لالٹین والے سردار عثمان بزدار سمجھیں۔
یہ چھ بزنس مین عزیم پریم جی،ٹاٹا، امبانی گروپ، جن کا بطور وزیر اعلی گجرات انہوں نے بڑا لالن پالن(ہندی میں خیال رکھنا) کیا تھا۔ان کی انتخابی مہم کے انچارج بھی امیت شاہ تھے جن کا باقاعدہ کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔آڈانی اور امبانی گروپ کا جہاز مودی جی اس طرح اڑاتے تھے کہ تین ماہ سے بھی زائد عرصے تک پورے ہندوستان میں انتخابی مہم میں ان کے جہازوں میں آیا جایا کرتے تھے۔آپ ایک جہانگیر ترین سے آزردہ ہیں۔

عزیم پریم جی
رتن۔ٹاٹا
مکیش امبانی
امیت شاہ
کمار منگلم ادتیہ برلارے
نیرو مودی،ڈائمنڈ مرچنٹ

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مودی نے تمام زندگی صرف دو کام روزی روزگار کے لیے کیے ہیں۔ایک تو والد کے چھوٹے سے ٹی اسٹال سے چائے بیچتے تھے یا دوسرا سیاست جس میں یا تو وزیر اعلی رہے یا وزیر اعظم۔
ہم نے اس فرنگی اشرافیہ شناس دوست سے پوچھ لیا کہ کیا وہ عمران سے کئی دفعہ ملنے اور جمائما سے بات چیت کے   ذریعے ان کے مغرور ہونے کی سن گن پاسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کی وجہ سے کپتان کی شخصیت ذرا پیچیدہ ہے۔گو اس نے دین کا  راستہ اختیار کرکے،شلوار قمیص پہن کر خود کو بہت قابل قبول اور عوام کے لیے آسان بنایا ہے۔اس کے باوجود تصنع اور جذباتیت کی جو Cultration (مقامی ثقافت میں ڈھل جانا) پاکستان کی سیاست اور معاشرے میں درکار ہے وہ شاید وہ ساری عمر نہ اپنا پائے۔جس کی مثال آپ کو اس سندھی  فیملی کے جوائن نہ کرنے سے ملتی ہے کہ جن کے اسلام آباد میں چھ گھر تھے اور سندھ کے ملازمین کی ایک فوج ظفر موج مگر عمران نے پردیسوں کو مانی(کھانے) کا بھی نہیں پوچھا۔دروازے تک چھوڑنے بھی نہیں آیا اور کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ ملایا۔۰ قسط نمبر چار کا حوالہ )ہمارے   دوست کا خیال ہے کہ وہ بہت سیلف میڈ،خود دار اور قدرے مغرور ہے۔اس کا تکبر انگریز اشرافیہ میں بڑا ہونے کے باعث آیا۔ یہ اشرافیہ ذہانت اور پرفارمنس کی وجہ مکمل اطاعت کی خواہشمند رہتی ہے۔

کاردار صاحب اور عمران خان کا واسطہ میدان کرکٹ میں جس ٹیم سے رہتا تھا۔ان کی اکثریت کرکٹر بہت اچھی تھی مگر اس کا تعلق معاشی اور سماجی طور پر بہت پس ماندہ گھرانوں سے تھا مثلاً پاکستان کی ان دنوں کی ٹیم کے اوپنر علیم الدین کے ائیر پورٹ پر پورٹر تھے۔ان کی کمیونیکشن بھی بہت کمزور تھی۔اس وجہ سے ان دونوں اسکپرز کے رویے میں ایک Aloofness اور Haughtiness یعنی گھمنڈ آگیاہے۔کاردار صاحب پر تو آکسفورڈ اور انگریز کلچر کی چھاپ اتنی گہری تھی کہ وہ شاذ و ناذر ہی تھری پیس سوٹ کے بغیر گھرسے باہر جاتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اسے شرمیلے پن اور اجنبیت سے زیادہ تعبیر کرتے ہیں اور ہمیں ان سے مکمل اتفاق ہے کیوں کہ کاردار صاحب کے ساتھ ہمیں کئی دفعہ گفتگو کا موقعہ ملا اور وہ آپ کو کبھی کم تر ہونے کا احساس نہیں دلاتے تھے۔

ہمارے دوست عمران خان کو حکمت عملی میں بھی طاق نہیں سمجھتے۔وہ کھیل میں جیت کی حکمت عملی کا سہرا مدثر نذر، جاوید میاں داد اور وسیم اکرم کو دیتے ہیں۔ عمران کی سیاست میں مقبولیت میں شیخ رشید کو کریڈٹ زیادہ دیتے ہیں۔ہم ان سے یہاں بھی اتفاق نہیں کرتے۔
۔ سن 1996جب انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنی پارٹی کی داغ بیل ڈالی تو قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے الیکشن لڑا NA-53,۔میانوالی۔۔ اور لاہور NA-94,۔دونوں سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 134 سیٹوں پر ان کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔ان کے مخالفین کا خیال تھا کہ عمران خان کو ہوا میں قلعے بنانے کی عادت پڑگئی ہے۔موجودہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ عمران کے ہوائی قلعوں کی تعمیر کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ یہ تو ایک ایسا گھر ہیں جن کے نیچے آپ کو بس بنیاد سجانی ہوتی ہے۔بنیاداب سج گئی ہے۔اب ایک نیا  نان سینس عمران سامنے آئے گا ذرا دھیرج رکھیں۔

عمران خان Transformation کے بادشاہ ہیں۔ اس کا ابتدائی نمونہ ہمیں ان کی کرکٹ کی زندگی میں ملتا ہے۔یوں تو انہوں نے کرکٹ کا آغاز سن 1971, مگر ٹیم میں باقاعدہ شمولیت پورے پانچ سال بعداختیار کی جب انہوں نے آکسفورڈ یونی ورسٹی سے گریجویشن کرلیا۔ابتدا میں وہ بیٹسمن تھے مگر بعد میں وہ میڈیم پیس بالر بن گئے۔جب انہیں لگا کہ ان کی محنت انہیں دنیا کے ممتاز فاسٹ بالرز کی صف میں شامل کرسکتی ہے تو انہوں اس کے لیے سخت محنت کی۔ڈاکٹر  ظفر الطاف کہا کرتے تھے کہ اس کی محنت دیکھ کر یقین آجاتا تھا کہ محنت کرنے کی وجہ سے کوئی بھی اپنے پسینے میں نہیں ڈوبتا۔ 1978, تک ان کا شمار جیف تھامسن اور مائیکل ہولڈنگ کے بعد تیسرے نمبر کے فاسٹ بالر کے بطور ہونے لگا تھا۔ان کی گیند کرانے کی رفتار 139.7 km/hکلومیٹر فی گھنٹہ تھی جو بہرحال اینڈی رابرٹس اور ڈینس للی سے تیز تھی۔کوئی اور بالر ہوتا تو شاید وہ وقار یونس اور عاقب جاوید کی طرح تیز بالر بن کر ہی رہتا مگر جلد ہی وہ ایک عمدہ آل راؤنڈر بنے جس کی وجہ سے انہیں اپنے جوہر دکھانے کے کئی مواقع ملے۔عمران کو ان کی ایک دوست پرمیشور گوڈریج نے تین الفاظ میں بیان کیا ہے شائستہ(Suave) کہ عمران خان نے کسی خاتون کے لیے کبھی کوئی نازیبا بات نہیں کی۔نہ عائشہ گلا لئی کے لیے ،نہ ریحام کے لیے ،جن کا طرز عمل جو بھی تھا سابقہ وابستگی کے تناظر میں باوقار اور محتاط نہ تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اوراق پارینہ بن گئیں۔دوسرا وصف وہ ان کو باخبر اور با علم (erudite ) قرار دے کر ظاہر کرتی ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ وہmonstrously talented۔ہیں۔

وہ پوچھ رہے تھے کہ آپ کو عمران خان کے وزیر اعظم والے رول میں بطور بیورکریٹ کیا ایسی بات نظر آتی ہے  جو پہلے کبھی دیکھنے کااتفاق نہ ہوا تو ہم نے کہا ایک تو ہم نے کبھی پرائم منسٹر کے حلف سے پہلے اتنے سفیروں کو پرائم منسٹر پر کال آن کرتے نہیں دیکھا۔ملاقات کے جو Visuals ہم نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا نہ صرف مبارک باد دینے آئے جو نہ صرف ایک اچنبھے کی بات تھی بلکہ وہ ایک ایسا بیٹ بھی تحفے میں لائے تھے جس پرپوری ہندوستانی ٹیم کے دستخط تھے۔یہ قدر دانی اور اعتراف صرف بھارت تک ہی محدود نہ تھا بلکہ جب سی آئی کے سابق سربراہ اور موجودہ سیکرٹری آف اسٹیٹ پومپیو وزیر اعظم سے ملنے آئے تو تصویر میں گورے کی جانب سے احتراماً گردن کو خمیدہ کرنا معمولی بات نہیں،یہ گورا امریکہ کا ہے فن لینڈ، آئس لینڈ یا کیوبا کا نہیں۔دنیا کا چوتھا طاقتور آدمی ہے پہلے پوپ،دوسرے ٹرمپ،تیسرے پٹن۔
ایسا کیوں ہے۔؟ انہوں نے پھر ہمارے تجربات کی زنبیل کو ٹٹولا۔

بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا
عمران اور اجے بساریہ
پومپو آتے ہیں
کپتان کی آمد
من آمدم۔وزیر اعظم اور پومپیو

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ بے حد فٹ ہیں۔وجیہ ہیں،سادہ لباس ہیں۔یہ تین اوصاف دیکھنے والے پر پہلا باؤنسر بن کر آتے ہیں۔کھلاڑی مقابلے اور میرٹ کا علم بردار ہوتا ہے۔عمران جیسا دنیا کا مشہور کھلاڑی سامنے ہو تو مقابلے اور میرٹ کی انتہا ہوتی ہے۔ان کی کمیونی کیشن بہت عمدہ ہے گوروں سے گورے کی طرح بات کرتے ہیں۔اس کے برعکس اپنے نواز شریف تھے ذرا دیکھیں تو نیپال کے وزیر اعظم کے سامنے بھی نوٹس پکڑ کر بیٹھے ہیں۔پومپیؤ کے پیش رو ٹلرسن جب یہاں آئے تھے وزیر اعظم ہاؤس کی میٹنگ میں خاقان عباسی نے بس وزیر اعظم ہاؤس کے مالی اور ویٹر معاونت کے لیے نہیں بٹھائے ورنہ کون تھا جو وہاں نہ تھا وزیر اعظم کے کاندھے پران سے کمتر منصب والے نے کندھے پر ایسے ہاتھ رکھا ہے جیسے ریکس ٹلرسن وزیر خارجہ رمضان شوگر ملز اور حدیبیہ ملز اور جاتی امرا کے مالک ہوں اور نواز شریف ان کے چیف اکاؤنٹنٹ جسے وہ بیرونی ممالک کے دورے پر جانے سے پہلے انتظامی ہدایت دے رہے ہوں۔

خاقان عباسی اور ٹلر سن کی میٹنگ
نوازشریف اور نیپالی وزیراعظم
ٹلر سن اور نواز شریف

ہم سے پوچھیے تو پومپیو کے اور چینی وزیر خارجہ کے دور میں سب سے زیادہ بھنڈ کہاں ہوا،کس نے کیا۔ایک ہی مجرم ہے۔ہمارے پیر صاحب شاہ محمودقریشی۔ایک تو انہوں نے ٹھان لیا ہے کہ عمران خان کی بجائے وہ وزیر اعظم بننے کے زیادہ حقدار ہیں۔اس گھمنڈ اور اتراہٹ میں نہ وہ پومپیو کا اسقبال کرنے جاتے ہیں نہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا نہ ہی ہمارے محبوب ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف کا۔

برطانوی افسر کے ساتھ، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
visitor received by foreign ministry officer
جاوید ظریف کا خیر مقدم
وزارت خارجہ کا اجلاس
وی آنگ ای

یوں تھوڑا ہی ہوتا ہے۔بھارت میں ششما سوراج پھولوں کے گلدستے کے ساتھ پومیو کو استقبال کو پہنچی تھیں۔دورے کے خیرمقدم سے آدھے معاملات طے ہوجاتے ہیں۔ایڈیشنل سیکرٹری کے لیول پر یہ خیر مقدم ذاتی انا کو بھلے سے تسکین پہنچائے مگر قومی مفادات پر اس سے ضرب لگتی ہے اور شاہ صاحب کو غالباً یہ یاد نہیں رہا کہ وہ بھی دوروں پر جائیں گے اور ایسے بابو تو ان کی وزارت میں بکثرت ہوتے ہیں اور ہمارے افسروں سے زیادہ دلفریب بھی۔ع
ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کرسکو۔۔۔صوفی تبسمؔ

سشما ،پومپیو
ششما سوراج ۔صاحبہ۔۔سنی جو ان کے آنے کی آہٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *