عمران خان کو مسئلہ کرپشن سے نہیں /بلال عالم خان

بات پاناما لیکس سے شروع ہوئی اور اقامہ پر آکر ختم ہوئی مسئلہ سب کو کرپشن سے تھا لیکن فیصلہ کسی اور پر ہوا ۔ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ پاکستانی عدالتوں میں لڑے جانے والے مقدمے کے فیصلے کا سب کو شدت سے انتظار تھا اور پیر کے روز گیارہ بجے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور عدالت نے سابق منتخب وزیراعظم نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر نااہل کر دیا اور ایک بار پھر پاکستان میں تاریخ دہرائی گئی۔ کسی نے بھی فیصلہ سننے اور پڑھنے کا انتظار تک نہیں کیا لیکن نااہلی کا سنتے ہی بھنگڑے ڈالنے اور مٹھائی تقسیم کرنا شروع کردی اور ایک دوسرے کو مبارک دینے کے لیے یوں بغل گیر ہوئے جیسے برسوں بعد کسی قید سے آزادی ملی ہو۔ اور ان کو کرنا بھی تو تھا کیونکہ روایت جو چلی آرہی ہے 1947 سے لے کرآج تک پاکستان میں جب بھی کوئی پرائم منسٹر نااہل ہوا اس قوم نے نااہلی پر جشن منایا ۔یہ ایک ایسی قوم ہے جو پہلے خود ان راہزنوں کو منتحب کر کے ایوانوں میں پہنچاتے ہیں اور بعد میں ان کی نااہلی پر خوب جشن مناتے ہیں۔

پاکستان کا ہر باشندہ جمہوریت کا تو خواہشمند ہے پھر کوئی بھی جمہوریت کو قائم رکھنے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتا۔بظاہر یہ کرپشن کے خاتمے کی لڑائی ہے لیکن درحقیقت یہ کرسی کے حصول کی جنگ ہےاور عمران خا ن بھی اسی جنگ کا ایک سپاہی ہے۔کیوں کہ اگرعمران کا مسئلہ صرف کرپشن ہوتا تو احتساب کا عمل پہلے اپنی ذات ،پھر پارٹی اور پھر صوبے سے شروع ہونا چاہیے تھا۔خیبر پختونخوا جہاں خیبر بینک جیسے کرپشن کے سنگین کیس سامنے آئے۔ اگر مسئلہ کرپشن سے ہوتا تو کیو ڈبلیو پی پر کرپشن کے سنگین الزامات لگا کر ان کو اپنے اتحاد سے الگ کرکے بعد میں منت سماجت کر کے ان کو دوبارہ اتحاد میں شامل نہ کیا جاتا، یہ مسئلہ انا کا ہے ورنہ کرپشن کے الزام میں وزارت سے ہٹانے والا سابق وزیر صحت شوکت یوسف زئی آج پارٹی کا ڈپٹی جنرل سیکرٹری نہ ہوتا ، اگر مسئلہ کرپشن سے ہوتا تو خان کے اردگرد آج بد نام زمانہ اور کرپٹ ترین سیاستدان عالیم خان ،جہانگیر ترین کی شکل میں ساتھ نہ بیٹھے ہوتے۔

خان صاحب خواب تو نئے پاکستان کا دیکھ رہے ہیں لیکن پارٹی میں مہرے سارے پِٹے ہوئے شامل کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ بابرا عوان ،فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری، پرویز خٹک اور اعظم سواتی جیسے لاتعداد لوگ ،جنھیں کئی بار عوام نے اقتدار میں دیکھا اور 2013 کے انتخابات میں بری طرح مسترد کیا ،یہاں مسئلہ موروثی سیاست سے نہیں ہے ورنہ پرویز خٹک کے خاندان کے لگ بھگ آدھے درجن لوگ اسمبلیوں میں نہ ہوتے۔ انصاف کا نعرہ لگا نے والے تو اپنے ہی نظریاتی کارکنوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکے ،جس نے خان صاحب کے ساتھ مل کرپارٹی کی بنیاد رکھی تھی آج ان کا نام و نشان تک نہیں اور آج فیصل چوہان کی طرح وہ خون کے آنسو رو رہے ہیں، نظریاتی کارکنوں کی بجائے وہی سیاسی لوٹے فواد چوہدری کی شکل میں پارٹی کی مرکزی قیادت ہیں جن کی پارٹیاں اور مفادات موسم کی طرح تبدیل ہوتے ہیں ۔خان صاحب کی خواہش تو پوری ہو گئی ایک منتخب وزیر اعظم کو عدالت نے نا اہل قرار دیدیا۔اب عدالت کو چاہیے کہ پاناما کی وجہ سے جیتنے بھی کیس متاثر ہوئے ان کی جانب توجہ دے۔ اور باقی سیاسی قائدین اور پارٹیوں کا بھی احتساب ممکن بنایا جائے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *