آمرانہ طرز حکمرانی

تین اپریل 2016سے اٹھائیس جولائی2017 تک چلنے والے پانامہ کیس کا فیصلہ وزیراعظم کی نااہلی کی صورت میں آیااور شریف فیملی کو خاندانی سلطنت چلانے کیلئے مسلم لیگ نون میں کوئی بھی اتنا قابل امیدوار نہیں ملاجو وزیراعظم کے معیار پر پورا اترتا ہوں جبھی یہ کہا جارہا تھا کہ گدی بچانی ہیں تو گدی نشین گھر سے ہی لائیں، ملک کی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے۔ یہ خاندانی حکمرانی کی ایک مثال ہے پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو خاندان چلاتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے پڑھے لکھے لوگ بھی نہ جانے کیوں خاموش ہیں، اے این پی، جمعیت علماءاسلام ف، پیپلز پارٹی، چوہدری برادران اور شریف فیملی نے پاکستانی عوام کو خاندانی حکمرانی میں پھنساکر رکھا ہوا ہے۔ یہ کونسا اصول ہے اگرمیں نہیں تو میری جگہ میرابیٹا یا پھرمیرابھائی ہو گا اب تو فیصلہ ہو ہی چکاہے کہ چھوٹے میاں صاحب قومی اسمبلی کا الیکشن لڑکر وزیراعظم کی کرسی تک پہنچے گے.۔
تین بار وزیرا علی ٰرہنے والے شہباز شریف نے تین شادیاں کی ہیں اور ان کی تین اولادیں ہیں اور پہلی بار وہ قومی اسمبلی کے الیکشن کیلئے جا رہے ہیں چھوٹے میاں نے بطور وزیراعلیٰ خادم پنجاب بن کر تو خوب نام بنایا کیاخادم قوم بن کر اپنی شناخت بناپائیں گے حالانکہ چھوٹے میاں صاحب پر بھی بدعنوانی کے الزامات ہیں اور حدیبیہ پیپرز کیس میں ان کا نام بھی شامل ہے۔
دوسری طرف چھ بار ممبر نیشنل اسمبلی بننے والے شاہد خاقان عباسی عبوری اور تین بار وزیر اعلیٰ بننے والے کو مستقل وزیراعظم اتنا تضاد کیوں؟کیا جو شخص عبوری وزیرا عظم بن سکتا ہے وہ مستقل وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتا حالانکہ خاقان عباسی صاحب پر قومی ائیر لائن کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے , ایل این جی میں ہونے والی دو ارب ڈالر کی بدعنوانی اور اختیارات کا بے دریغ استعمال جیسے الزامات ہیں.
میاں صاحب کے ساتھ شامل تین سو افراد میں سے کوئی بھی اتنا باشعور اور فہم و فراصت والا نہیں کہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں وزیراعظم بن سکے میاں صاحب آمرانہ سوچ رکھتے ہیں اور چھوٹے بھائی کی نامزدگی اس بات کی عکاس ہے کہ شریف خاندان کی ترجیحات میں ہمیشہ سے ہی سلطنت رہی انہوں نے کبھی جمہوریت کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ ان کی سیاست میں آمد ہی ایک آمر کے توسط سے ہوئی تھی یہی وجہ ہیکہ نواز شریف کو بطور وزیرا عظم تین بار مختلف اداروں نے مختلف طریقوں سے نااہل قرار دیا 1993 میں صدرغلام اسحاق خان نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کی ، 1999 میں آرمی چیف پرویز مشرف نے رخصت کیا اور اب 2017 میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا ان پینتس سالوں میں وطن عزیزکوخوب لوٹا ، اربوں روپے مالیت کے پرتیش محلات کو اپنی جائیداد کا حصہ بنایا، ملک دشمنوں کے اشاروں پر چلتے رہے، دشمنوں سے دوستیاں نبھاتے رہے ، ماڈل ٹاﺅن میں چودہ قتل کروائے، ان کے کارندے حوا کی بیٹیوں کی عزتیں لوٹتے رہے، زبردستی طلاقیں دلواتے رہے ، ہنستے بستے گھر اجاڑے دئے ، کئی خواتین کو بیوہ اور بیٹیوں کو یتیم کر دیا ، لاکھوں لوگوں کے شناختی کارڈ بلاک کروا کر انھیں مالی وذہنی اذیت میں مبتلا کر کے نا جانے کون سے سکون کے تلاش میں تھے۔
اس قدر ظلم ڈھانے کے بعد یہ موصوف اوران کی پارٹی کے لوگ اس خاندان کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کی کلابیں ایک کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرنے میں لگے ہوئے ہیںاور ساراالزام قومی اداروں اور اسٹبلشمنٹ کے سر تھوپنے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے ،کیا اسٹبلشمنٹ نے اس خاندان کو کرپشن کرنے کیلئے اکسایا تھا کہ جناب آپ کرپشن کرتے رہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔؟؟ یقینا اس کا جواب نہیں ہی ہوگا، آخر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ابھی تو صرف ابتداءہے سولہ کمپنیز کی تفصیلات سامنے لائے جائے گی آنے والے دن شریف خاندان کے لئے مزید سخت اور تکلیف دہ ہونے والے ہیں اس کا اندازہ شریف خاندان کو نہیں ہے ۔ عدلیہ نے اپنا کام کر دیاپارلیمنٹ، الیکشن کمیشن اور نیب اپنا کام کب کریں گے؟ اگر پاکستانی عوام اب بھی نہ سمجھے اور بدعنوان،جھوٹے سیاستدانوں کا بائیکاٹ نہ کیا تویہ سیاستدان اسی طرح میوزیکل چیئر گیم کھیلتے رہے گے اور ہم لوگ اسی طرح کسی کے جانے اور کسی کے آنے پر خوشیاں مناتے رہے گے ۔

مزمل فیروزی
مزمل فیروزی
صحافی،بلاگر و کالم نگار پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے رکن مجلس عاملہ ہیں انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی وطن عزیز کے نامور انگریزی جریدے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی سے روزنامہ آزاد ریاست میں بطور نیوز ایڈیٹر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ صبح میں شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں اردو میں کالم نگاری کرتے ہیں گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں آپ مصنف سے ان کے ٹوءٹر اکائونٹ @maferozi پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *