زمیں گردش میں ہے‘ اس پر مکاں رہتا نہیں ہے

بچہ جو ماں کی گود میں پڑا سسک رہا تھا۔ سات آٹھ سال کا لگ رہا تھا مگر تھا پندرہ سولہ سال کا۔ اس کے جسم نے نشوونما نہیں قبول کی تھی۔ اس کا ڈائیلیسز ہورہا تھا۔ یعنی گردے کام نہیں کر رہے تھے اور خون کی صفائی کا کام جو گردے کرتے ہیں‘ مشین کے ذریعے ہورہا تھا۔

ایک اور بیڈ پر ایک خاتون کا ڈائیلیسز ہورہا تھا۔ ایک مریض سے پوچھا کہ کتنے عرصہ سے ڈائیلیسز پر ہے۔ اس نے بتایا‘ تیرہ برس سے۔

ہر طرف مشینیں لگی تھیں۔ مریض لیٹے ہوئے تھے‘ مستعد‘ چاق و چوبند سٹاف‘ ان کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ جو کچھ ہورہا تھا‘ معاوضے کے بغیر ہورہا تھا۔ ڈاکٹر بھی تھے‘ نرسیں بھی‘ لیبارٹری بھی اندر ہی تھی۔

کرنل (ر) سردار خان صاحب نے جب یہ ادارہ دیکھنے کی دعوت دی تو بالکل اندازہ نہ تھا کہ چند افراد‘ ذاتی غرض اور تشہیر سے مکمل بے نیاز ہو کر اتنا بڑا فلاحی ادارہ چلا رہے ہیں۔

’’پاکستان کڈنی پیشنٹس ایسوسی ایشن‘‘ (Pakistan Kidney Patients Association) کا یہ فلاحی ادارہ راولپنڈی کے گنجان اور عوامی علاقے کمال آباد ٹاہلی موری روڈ پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر 2008ء میں شروع ہوئی۔ 14 اگست 2009ء کو افتتاح ہوا۔ ابتدا میں گنتی کی چند ڈائیلیسز مشینیں تھیں اب ان مشینوں کی تعداد تیس ہو چکی ہے۔ ایک سو پچاس مریضوں کا باقاعدگی سے ہفتے میں دوبار ڈائیلیسز کیا جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کے لیے الگ مشینیں مختص ہیں تاکہ یہ بیماری دوسرے مریضوں کو نہ لگ جائے۔ او پی ڈی فری کام کر رہی ہے۔ 2017ء میں تقریباً چار ہزار مریضوں کا مفت چیک اپ کیا گیا۔ ادویات بھی دی گئیں۔

ایک کنال زمین پر واقع یہ مرکز مریضوں کی ہر روز بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ناکافی ہے۔ وہ جو اقبال نے کہا تھا    ع

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد

تو ان اہل ہمت نے نئی بستی بسانے کا عزم کر رکھا ہے۔ جی ٹی روڈ پر روات سے چھ کلومیٹر دور‘ بارہ کنال زمین خریدی گئی ہے۔ یہاں ڈائیلیسز سنٹر بہت بڑا ہوگا۔ او پی ڈی بھی بڑی ہوگی۔ یہاں گردوں کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کا بھی منصوبہ زیر غور ہے۔ پتھری نکالنے کے لیے آپریشن کی سہولت میسر ہوگی۔ لیبارٹری وسیع تر ہوگی۔ مستقبل بعید میں نرسنگ تربیتی سکول بھی کھلے گا۔ ادارہ اس نئے منصوبے کی تعمیروتکمیل کے لیے پرعزم ہے۔

اگرچہ ورکرز اور سٹاف کو تنخواہیں دی جاتی ہیں مگر جو اصحاب انتظامیہ میں ہیں‘ وہ سارے کے سارے رضاکارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ چائے بھی اپنی جیب سے پیتے ہیں۔ ادارے کے سیکرٹری کرنل (ر) سردار خان اسی آبادی میں رہتے ہیں جہاں یہ کالم نگار رہتا ہے۔ میرے ذاتی علم میں ہے کہ وہ ہر روز‘ ذاتی گاڑی پر‘ جیب سے پٹرول ڈلوا کر‘ سترہ اٹھارہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جاتے ہیں۔ دن بھر کام کرتے ہیں اور اسی طرح ذاتی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے واپس آتے ہیں۔ انتظامیہ کے تمام ارکان کا یہی حال ہے۔ یہ ایک گروہ ہے بے غرض‘ بے لوث  افراد کا۔ ان کا کام ان کا جذبہ اور مریضوں کی تعداد دیکھ کر حیرت ہوئی۔ شاید ایسے ہی لوگ ہیں جو اس ملک کی بقا کے ضامن ہیں۔ جنرل نعیم خالد لودھی‘ بریگیڈیئر عبدالحلیم‘ بریگیڈیئر شہزاد سعید‘ سکورڈرن لیڈر غلام عباس‘ بریگیڈیئر ملک فتح خان‘ شوکت بیگ‘ مادام غزالہ جاوید‘ مادام وقار النسا بولانی اور دیگر خواتین و حضرات سب رضاکارانہ طور پر اس ادارے کو چلا رہے ہیں۔ مالیات کے انچارج شوکت بیگ صاحب نے مجھے پہچان لیا۔ پوچھا کہ کیا آپ اصغر مال کالج میں تھے؟ اور کالج میگزین کے ایڈیٹر تھے جواب دیا‘ ہاں۔ مگر کمال ان کا یہ تھا کہ عشروں کے بعد بھی پہچان لیا۔ کہاں اٹھارہ انیس برس کا شاداب ہرا بھرا طالب علم اور کہاں اب ایک پیر مرد۔ زمانے کا کھایا ہوا کالم نگار۔ توصیف تبسم کا شعر یاد آ گیا      ؎

کہنے کو خدوخال نظر آشنا سے ہیں

ہے کون آئینے کے مقابل؟ کہا نہ جائے

خورشید رضوی نے کہا تھا      ؎

خورشید! میں نے نصف نہار شباب پر

کھولی جو آنکھ برج کہولت میں آ گیا

اور اس فقیر کا شعر      ؎

کہاں دوپہر کی حدت! کہاں ٹھنڈک شفق کی

سیہ ریشم میں چاندی کا غبار آنے لگا ہے

لگے ہاتھوں افتخار عارف کا شعر بھی اس مضمون کا سن لیجئے

ابھی سے برف اترنے لگی ہے بالوں میں

ابھی تو قرض مہ وسال بھی اتارا نہیں

اشعار یوں امڈ کر حافظے سے با ہر آ رہے ہیں جیسے چاروں طرف گھٹا چھا جاتی ہے۔ عہد شباب میں جو اشعار یاد تھے‘ ایک لاکھ سے کم کیا ہوں گے۔ اب ضعف پیری یادداشت کو اس طرح کھائے جا رہی ہے جیسے دیمک لکڑی کو اور گھن گندم کو کھاتی ہے۔ آتش کا ایک شعر سنیے پھر موضوع کی طرف پلٹ جائیں گے     ؎

محبت مے و معشوق ترک کر آتش

سفید بال ہوئے‘ موسم خضاب آیا

اب خضاب پر اقبال کا شعر یاد آ گیا۔ اس میں تو نصیحت بھی ہے    ؎

مزن وسمہ بر رو و ابروئی خویش

جوانی زدزدیدان سال نیست

کہ چہرے اور ابروئوں پر خضاب (وسمہ) نہ لگایا کرو۔ سال چوری کرنے سے جوانی نہیں لوٹتی۔

گردے کے مریضوں کی اس فلاحی تنظیم میں جس شخصیت نے اپنے سحر میں جکڑ لیا وہ چھیاسی سالہ کرنل (ر) یونس بھٹی ہیں۔ 72 سال کی عمر میں وہ اس تنظیم سے وابستہ ہوئے۔ زندگی بھر کی جمع پونجی چالیس لاکھ روپے ادارے کی نذر کردیئے۔ اس کار خیر میں ان کی مرحومہ بیگم بھی ان کے ساتھ تھیں۔ اس عمر میں بھی یونس بھٹی صاحب ہر روز باقاعدگی سے ادارے کے دفتر میں آتے ہیں۔ دن بھر بیٹھ کر سیکرٹری جنرل کی حیثیت میں تمام انتظامی‘ تکنیکی‘ مالی‘ ترقیاتی امور سرانجام دیتے ہیں۔ مطالعہ اس قدر کیا اور اتنی شدید محنت کی کہ پیشہ وارانہ لحاظ سے پائلٹ تھے مگر اب کسی ماہر ڈاکٹر سے کم نہیں۔ گردوں‘ دل اور آنکھوں کی بیماریوں پر اور عمومی صحت کے بارے میں لیکچر دیتے ہیں۔ سننے والوں میں آگہی او رشعور پیدا کرتے ہیں۔ اس ایک چراغ سے بہت چراغ جل رہے ہیں۔ رضاکاروں کی ایک کھیپ انہوں نے تیار کی جو مریضوں کی دنیا اور اپنی عاقبت سنوار رہے ہیں۔

قدرت کے نظام کا ایک کرشمہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چھیاسی سالہ یونس بھٹی صاحب نے زندگی اور مال کو خدمت خلق کے لیے وقف کردیا۔ اس کا صلہ آخرت میں تو ملنا ہی ہے‘ دنیا میں اس کے عوض خالق کائنات نے ان پر ایک خاص کرم کیا۔ اس زمانے میں جب اولاد‘ ماں باپ کو بڑھاپے کے سپرد کر کے دوسرے ملکوں کو ہجرت کئے جا رہی ہے‘ بھٹی صاحب کا بیٹا‘ امریکہ میں اپنا بائیس سالہ قیام تیاگ کر واپس پاکستان آ گیا صرف اس لیے کہ ماں باپ کی خدمت کرے۔ ماں تو جنت کو سدھار گئی‘ اب اس نے اپنے آپ کو باپ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ والد کے دفتر ہی میں بیٹھا ہوا تھا۔ وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے والد کی صحت‘ ادویات اور کام کے ہر پہلو سے بخوبی آگاہ تھا اور جو بات یا دوا کا نام بھٹی صاحب بھول جاتے‘ اسے یاد ہوتی۔ تعجب اور خوشی اس لیے ہوئی کہ کچھ عرصہ پہلے ایک عزیزہ شدید بیمار ہوئیں‘ ان کے صاحبزادے سے پوچھا کہ امی کو کیا ہوا ہے‘ کہنے لگا‘ معلوم نہیں۔ اس آئینے میں ہر مرد اور عورت اپنا چہرہ دیکھ لے کہ ماں باپ کی صحت‘ آرام اور مسرت میں کس قدر دلچسپی لے رہی ہے اور یہ بھی یاد رکھے کہ بڑھاپا گلی کے موڑ پر اس کا بھی انتظار کر رہا ہے۔

آخری منزل سب کی وادی خاموشاں ہے۔ زندگی کی داستان‘ کیا طویل‘ کیا مختصر‘ ایک دن انجام کو پہنچنی ہے۔ جو سینت سینت کر‘ گن گن کر دولت سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں‘ ان کے ہاتھ بھی کفن میں خالی ہی ہوں گے۔ کیا جاتی امرا‘ کیا بلاول ہائوس‘ کیا دبئی کا آنکھوں کو خیرہ کرتا محل‘ کیا نیویارک کے پینٹ ہائوس اور کیا سنٹرل لندن کی خواب گاہیں‘ سب کچھ وارثوں کے لیے ہے اور وارثوں کے وارثوں کے لیے۔ زمین گردش میں ہے۔ اس پر کوئی محل‘ کوئی قصر دائمی نہیں۔ عقل مند وہی ہیں جو اپنی زندگی میں اپنی دولت دوسروں پر خرچ کردیتے ہیں۔ یہ وہ خوش بخت ہیں جنہوں نے موت کے بعد اپنے ٹھکانے ابھی سے آرام دہ بنا لیے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *