خراٹے لینا کس تکلیف دہ بیماری کا سبب بن سکتا ہے؟

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خراٹیں لینا کسی بھی فرد میں گٹھیا کا مرض لاحق ہونے کے امکانات کو دُگناکردیتا ہے۔

برطانیہ میں تقریباًآٹھ ہزار افراد پر کی جانےو الی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ آبسٹریکٹیو سلیپ اپنویا(او –ایس-اے) میں مبتلا ہوتےہیں انہیں جوڑوں کی تکلیف ہونے کے خطرات ہوتے ہیں۔ اپنویا ایک ایسی حالت ہے جس میں رات میں سوتے ہوئے آپ کا دم گھٹنے لگتا ہے۔

tripako tours pakistan

اگرچہ گٹھیا کا تعلق ان بھاری بھرکم لوگوں سے ہوتا ہے جو کثرت سے شراب نوشی کرتے ہوئے اور مرغن غذائیں کھاتے ہیں۔

لیکن برطانوی تحقیق کے مطابق صحت مند باڈی انڈیکس رکھنے والے او- ایس- اے مریضوں کو ان لوگوں کی نسبت جو نیند کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے، گٹھیا کا مرض لاحق ہونے کے امکانات دُگنے ہوتے ہیں۔

سلیپ اپنویا تب ہوتا ہے جب گلے کے نرم پٹھے سانس کی نالی کو جام کردیتے ہیں۔ ایسا ہونا آکسیجن کی ترسیل کو روک دیتا ہے جو یورک ایسڈبننے کا سبب بنتا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

بڑی مقدار میں یورک ایسڈکرسٹل بن سکتا ہے جوگھٹنے، ٹخنے اور پیروں میں   سوزش اوردردکا سبب بنتا ہے۔ جسے گٹھیا کہتے ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply