• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط4

بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط4

تبدیلی کے یوں اچانک آجانے پر اقبال دیوان کا مضمون
اقبال دیوان ہمارے مومن مبتلا، فقیر راہ گزر ہیں، نہ کسی کا  راستہ روکتے ہیں،نہ کسی کا دامن تھامتے ہیں۔۔
وما علینا الاالبلاغ ا ل مبین کہ(سورہ یٰسین کی مشہور ترین آیت کہ ہمارا کام تو سچا صاف پیغام پہنچا دینا ہے) کے مصداق  شہرت اور ہوس مال و منام سے بے نیاز ہیں۔طاہر ہ سید جب بہت اچھی لگتی تھیں تب بھی وہ بس من دی موج مویا  ہنسنا کھیڈنا سنتے تھے     اب بھی وہ یہی ایک گیت سنتے ہیں بس اس اضافے   کے ساتھ کہ اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا، راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی ۔ طے کر بیٹھے ہیں کہ جہاں جسٹن بی بیر،زین  ملک اور جیکی راؤلنگ جیسے بھیڑ کھینچو(Crowd -Puller)موجود ہوں وہاں ان جیسے پل دو پل کے شاعرقسم کے کالم لکھنے والے کی کیا بساط)سندھ سرکار کے سابق سیکرٹری اور فورتھ کامن کے افسر ہیں۔ہماری طرح یہ بھی عمران خان کے فدائیان خلق میں شمار ہوتے ہیں
 ایڈیٹر ان چیف۔۔۔انعام رانا
کل اقساط۔ پانچ یا شاید چھ
موجودہ قسط۔چوتھی

ہمارے ایک دوست کو دنیاوی کامیابیوں کے ساتھ جب ان کے مڈ لائف بلیوز(شادی شدہ مرد یا عورت میں چالیس کے سن کو پہنچنے کے بعد احساس کامیابی سے جڑی نا آسودہ محرومیوں کا ادراک)  کے  جوار بھاٹے میں ایکایک ایسی دوست بھی مل گئی جو جواں تھی، عمر دوست کی عمر سے نصف سے بھی پورے سات سال کم ،لاکھوں میں تو نہیں مگر سو پچاس میں ضرور ایک تھی۔ گولڈ فش کی طرح رنگ رنگیلی مچلتی دم ہلاتی، ملو تو بچپن کے ا یک کھیل کے بول یاد آجاتے تھے کہ بول میری مچھلی کتنا پانی۔طبلے کے توڑے کی طرح گمکتی،خوش لباس اور ہر رکاوٹ سے ماورا ۔چھما چھما باجے رے میری پیجنیا،موجاں ہی موجاں اور ذوبی ڈوبی والے گیتوں پر ناچتی بھی بہت اچھا تھی۔
لمحا ت وصل و بے پروائی میں ہمارے دوست کو بارہا یقین دلاتی تھی کہ   زندگی کی تمام تر تلخیوں کو گلے لگانے کے باوجود بھی ان میں پیار کی بہت سی شیرینی ابھی بیلنس میں پڑی ہے۔موبائیل فون کے پیکج کی طرح ساری رات جی بھر کے بات کریں۔ بیلنس ختم ہونے کا نام ہی نہ لے گا۔ ان میں بہت ساپیار باقی ہے۔ دوست بھی الفاظ کی اس گھمن پھیری میں آن کر پیار اور تحائف کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ کردیتے تھے۔

یہ بات ہمیں اس وقت یاد آئی جب ایک سہ پہر ہم ڈاکٹر ظفر الطاف کو لیے لیاری کی جانب رواں دواں تھے۔وہاں سے ہم اور ڈاکٹر ظفر الطاف کنٹینرز  میں  منگوائی ہوئی پرانی کتب وزن کے حساب سے کتابیں خریدتے تھے۔تاجر کتب کو ہم نے ایک دفعہ مالی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا۔ یہ بات کرکٹ سے جانے کیوں جڑ گئی مگر راستے میں ہم نے پوچھ لیا کہ ماجد خان میں بھی کرکٹ کی بہت سی شیرینی ابھی بیلنس میں پڑی تھی ۔ ان میں بہت کرکٹ باقی تھی۔سگا خالہ زاد بھائی بھی تھا پھر عمران نے اسے ٹیم سے کیوں نکال باہر کیا۔

لیاری میں کتابوں کا گودام
ظفر الطاف
ظفر الطاف
ماجد خان

ڈاکٹر صاحب کا بھی وہی اعتراض تھا جو ہماری سوچ تھی کہ ماجد خان  میں ابھی کرکٹ باقی تھی۔ اسے جلد فارغ کردیا گیا۔وہ کہنے لگے کہ عمران کا خیال ہے کہ ماجد خان اور ظہیر عباس دونوں ویسےGutsy کھلاڑی نہیں جیسے جاوید میاں داد اور سلیم ملک ہیں۔He has passed his prime۔جب تک ماجد اور ظہیر ٹیم میں رہیں گے جاوید میاں داد اور سلیم ملک کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع نہیں مل پائے گا ۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے نزدیک سلیم ملک دیو ررچرڈز سے بہتر فاسٹ بال کھیلنے والے یٹسمن تھے۔

Burbery check loafers
ظہیر عباس
جاوید میانداد
سلیم ملک

ڈاکٹر صاحب کے  کلمات بھی ماجد خان بارے میں کچھ احوصلہ افزا نہ تھے۔وہ انہیں بہت کنفیوزڈ اور موڈی سمجھتے تھے۔بتانے لگے کہ بجائے اس کے میچ کے دوران گیند اور فیلڈ پر دھیان دیں ،ماجد خان ڈریسنگ روم میں پیڈ باندھ کر اپنی باری کے انتظار میں کتاب پڑھتے رہتے تھے۔
عمران خان ان سب سے الگ ہٹ کر ایک کرسی ڈالے ایک ایک گیند اور کھلاڑی کو سی سی ٹی وی کیمرے کی طرح Read کرتے تھے اور کسی کی مداخلت کو براشت نہیں کرتے تھے۔ایک دو دفعہ ہم نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ڈریسنگ روم میں جانے کی کوشش کی تو کہنے لگے عمران بیٹھا ہے۔اسے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی غیر متعلقہ فرد کھیل کے دوران ڈریسنگ روم میں  آئے۔ تینوں سگے خالہ زاد بھائی ایک دوسرے سے خاص لگاؤ نہیں رکھتے تھے۔عمران کی البتہ ڈاکٹر نوشیروان برکی سے بہت بنتی ہے جو جاوید برکی کے بھائی ہیں۔شوکت خانم میمورئیل ہسپتال کے قیام میں ان کا بڑا رول رہا ہے۔

ڈاکٹر نوشیروان برکی
جاوید برکی

جاوید برکی،ماجد خان اور عمران ان دنوں غصے کے وقت مغلظات بکنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔یہ کرکٹ کا Norm تھا۔کھلاڑی بالخصوص بالرز بہت Aggressive ہوتے ہیں۔پچاس ساٹھ کی دہائی میں ویزلے ہال، گرفتھ تو ایسے تھے کہ بیٹسمن کو گیند لگتی تھی تو باقاعدہ خوشی کا اظہار کرتے تھے۔مغلظات کے بکنے  سے  کاردار صاحب اور ڈاکٹر ظفر الطاف بھی مستثنی نہ تھے۔پاکستان کے ایک ٹاپ آرڈر مشہور بیٹسمن کو ایک دن نیٹ پریکٹس کے وقت کچھ مہمانوں نے دیکھا کہ عمران خان نے اس کی ماں بہن ایک کردی۔انڈیا سے سیریز چل رہی تھی۔

ویزلے ہال
گرفتھ

حضرتBurberry Check Leather Loafers, پہن کر پریکٹس پر چلے آئے تھے۔یہ کپتان عمران خان کو قبول نہ تھا۔بیٹسمن کا برا حال تھا مگر کچھ دیر بعد جب اس نے جوتے بدل لیے تو کپتان نے خود اسے باؤلنگ کرکے پریکٹس کرائی اور رات کو کسی کے گھر کھانے پر ساتھ چلے گئے۔

گالم گلوچ کی بات ہورہی ہے توڈاکٹر صاحب بھی ایسی گفتگو سے گریز نہ کرتے تھے۔ایک دفعہ میٹنگ کے بعد ہم نے انہیں جتایا کہ آپ کی گفتگو میں آج انسانی اعضا کا ذکر کچھ زیادہ بڑھ گیا تھا۔کہنے لگے،میں اور منسٹر صاحب سوپ پی کر آرہے ہیں۔ وہ تو کہیں اور چلے گئے میں میٹنگ میں آگیا۔ ہم نے پوچھا سوپ کا گالیوں سے کیا تعلق توفرمایا جب پی ایم بے نظیر سے ڈانٹ کھاکر آتے ہیں تو سیدھے سوپ پینے چلے جاتے ہیں۔ وہاں اپنی فرسٹریشن دور کرنے کے لیے خوب گالیاں بکتے ہیں۔

پی ایم بینظیر
بینظیر اور زرداری

ہم نے پوچھ لیا کہ اتنی محنت اس پرفارمنس اور اتنی قدر دانی پر بھی بے نظیر صاحبہ آپ دونوں کو نہیں بخشتی ہیں تو کہنے لگے ایک دن میں نے پوچھا کہ میڈم پرائم منسٹر ہر میٹنگ کے آغاز میں آپ ہماری لترول کیوں شروع کردیتی ہیں بالخصوص کابینہ کی میٹنگ میں۔کہنے لگیں ہم سندھی ہیں۔سندھیوں میں کہتے ہیں کہ ہن دھی کہہ  تے سکھے نوح۔(آپ بیٹی کو ماریں گے تو بہو خود ہی سیکھ لے گی)۔تم اور یوسف(نواب یوسف ٹالپر وزیر زراعت) تو میری بیٹیوں جیسے ہو۔

نواب یوسف تالپر (ہمارے پیارے منسٹر)

یہ وہ موقع ہوتا جب ڈاکٹر صاحب اپنا باہر کا کوئی دورہ منظور کرالیتے۔چالاک تھے۔احمد صادق کے ویسے بھی Blue- Eyed Boy تھے۔ان کو اشارہ ہوجاتا تو منسٹری کو وزیر اعظم کا حکم نامہ موصول ہوتا The Prime Minister has desired that Dr. Zafar Altaf Secy GOP -MINFAL must avail the opportunity of attending the…..conference.A comprehensive report for the perusal of the Honorable Prime Minister must be submitted on his return .
ہمیں کانفرنس کے کاغذات کراچی ائیرپورٹ سے تھما کر واپسی تک رپورٹ لکھ کر ان کے پی ایس مجید یا انور کو بھجوانے کا حکم ہوتا جس میں ان کی آمد پر تھوڑی بہت جمع تفریق کرکے ایسے قبرستان بھیج دیا جاتا جسے وزیر اعظم ہاؤس کہا جاتا ہے اور جہاں پڑھنے لکھنے کا رجحان بہت کم تھا۔۔وزیر نواب یوسف ٹالپر صاحب کو ان سے بہت پیار تھا۔بہت لحاظ بھی کرتے تھے۔باہر جانے کے شوق پر جز بز ہوتے تھے بس کہتے تھے کہ پیر کو جب کابینہ کی میٹنگ ہو آجائیں۔

ڈاکٹر ظفر الطاف رنجور تھےَ۔22, جون 2004 کو عمران خان کی جمائما سے طلاق کی خبر میڈیا کے ذریعے باہر آچکی تھی۔ان کی جمائما سے کبھی ملاقات کا احوال نہیں ملا۔شاید ہوئی بھی نہ ہو۔

ہر آشنا میں کہاں خوئے محرمانہ وہ

ایک گوری جو ان کے قریبی دوست کی بیگم تھیں ہمارے گھر بھی وہ ایک دفعہ آئی تھیں۔ ان کی جمائما سے یاد اللہ تھی۔ اسی کی زبانی سن سن کر وہ جمائما کے قدر دان بنے تھے۔
ہمیں بتاتے تھے کہ بڑی لاجواب خاتون ہے۔بڑی کلاس ہے۔کچھ بھی نہ ہوتی تو اس کا بہت امکان تھا کہ وہ گھڑ سواری کی فیلڈ میں شو جمپنگ کی بین الاقوامی چمپئین ہوتی۔ڈاکٹر صاحب کے ہاں کھلاڑیوں کابہت احترام تھا۔انگریزی زبان کی ڈگری یافتہ ہے۔ہم نے پوچھ لیا کہ طلاق کی کیا وجہ ہے۔تو کہنے لگے کہ]سوزن (فرضی نام)کہتی تھی۔سیاست کی وجہ سے اسے اکثر گھر سے دور رہنا پڑتا تھا۔جمائما نے جب تک شوکت خانم میمورئیل ہسپتال کا کام تھا عمران کا جی کھول کر ساتھ دیا اور مدد بھی بہت کی۔اس کام میں عمران کو برطانیہ رہنے میں کوئی دشواری نہ تھی۔سیاست میں قدم رکھنے پر بے جا دشنام اور الزام تراشیوں کا دور چل پڑا۔ طوفان بدتمیزی کو اٹھانے میں سرفراز نواز (سیفی ) جو فاسٹ بالر  تھے ان کا بہت بڑا رول تھا۔عیاشیوں  کی  وجہ سے  اخراجات بہت تھے ۔لالچی بھی بہت تھے۔

شو جمپنگ
جمپنگ شو
سرفراز نواز

ڈاکٹر ظفر الطاف انہیں بہت ہلکا انسان(Low -Life (مگر بہت اچھا کرکٹر سمجھتے تھے۔ انہوں نے کئی دفعہ ہماری موجودگی میں اسے اس غلاظت سے پرے رکھنے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جب اکتوبر سن 1993 میں وزیر اعظم بنیں تو عمران خان نے ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف کرپشن کے الزامات لگائے۔بے نظیر کو عمران خان سے آکسفورڈ کے زمانہ طالب علمی سے کوئی شدید ذاتی رنجش تھی۔سیفی کو انہوں نے اپنا مشیر مقرر کرکے سرکاری خزانے کا منہ  اور غلاظت کا ڈھکن دونوں ایک ساتھ کھول دیے ۔اسی دوران کپتان کی ذات سے جڑا ایک حادثہ اسکینڈل بن کر سامنے آیا۔

عمران کے گھر کے حالات کچھ ایسے بہتر نہ تھے ،فرنیچر، دیواروں کا پینٹ اس پر کھانے کے حوالے سے tummy bugs, اور سب سے بڑھ کر بجلی کی  لوڈ شیڈنگ ان سب نے بھی اس معصومہ کو بہت تنگ کیا۔ہم نے پوچھ لیا کہ وہ ایسی رئیس بیگم کے ہوتے ہوئے بھی مالی تنگ دستی کا کیوں شکار تھا۔جواب ملا خود داری اور عزت نفس۔اس میں اس حوالے سے بہت گھمنڈ ہے کہ بیگم بچوں کا خرچہ اٹھانا میری ذمہ داری ہے کسی اور کی نہیں۔بہت بعد میں جب 400صفحات  کی سوانح حیات Imran vs Imran شائع ہوئی تو ڈاکٹر صاحب کی  بتائی  ہوئی باتوں کی تصدیق ہوگئی۔

جمائما ،عمران اور سلیمان
عمران بمقابلہ عمران

یہ کتاب جس وقت شائع ہوئی ان دنوں بہت کم افراد عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بارے میں پر امید تھے اوراس ناامیدی کا کھلا مظاہرہ ان پروگراموں میں بھی ہوتا رہا جہاں سامعہ خان، ماموں،سید انتظار حسین شاہ زنجانی بلغاریہ کی بابا وانگا (دنیا کی شہرہ آفاق پیش گو)بنے کہتے رہتے تھے کہ نواز شریف الیکشن جیت کر چوتھی مرتبہ بھی وزیر اعظم بنیں گے۔دست شناس یاسین وٹو شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کی باتیں کرتے تھے۔۔۔اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ ہر شام ٹاک شوز دیکھنے میں  جو وقت لگاتے ہیں ، وہ اگر آپ عبادت کرنے میں،کتاب پڑھنے میں یا اینیمل پلانیٹ دیکھنے میں لگائیں تو آپ کی روح کی بالیدگی،ذہنی نشو و نما اور دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کے  حیوانی رویوں کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی۔

سامعہ خان
ستاروں والے ماموں
بابا وانگا

ایک دن جب وہ نرگس گردیزی کے گھر کھانے پر ایک سوال کے جواب میں عمران خان کی خوبیاں بیان کر رہے تھے ہم نے چپ کو بہتر سمجھا۔یوں بھی   یوں بھی مائل بہ کرم حسن اور ذہانت کا ومبلڈن ٹینس میچ کا فائنل چل رہا ہو تو درمیان میں مداخلت کرنا مناسب  نہ سمجھا۔نرگس ہم سے بہت احترام اور قدر دانی کا رشتہ رکھتی تھی۔جب ضرورت ہوتی کسی مہمان کے لیے کار ڈرائیور بھیجنے یا اس کے سجے سجائے ویسٹ ونڈ کے اپارٹمنٹ میں مہمان کو ٹھہرانے میں ذرا تامل نہ کرتی۔۔ اسی لیے ہمیں  ان دونوں کی گفتگو میں خلل ڈالنا مناسب نہ لگا۔

عمران کون سا ہمیں نہال کردیتا۔وہ تو یوں بھی اچھے اچھوں کو چائے تک کا نہیں پوچھتا۔ سندھ کے ایک بڑے زمین دار گھرانے جن کا ارادہ پی پی کو خیر باد کہہ کر اپنے آدھے ممبر پی ٹی آئی میں دے مارنے کا  تھا۔  بہت رکھ رکھاؤ والے لوگ ہیں پشتینی رئیس، عجز و انکسار اور مروت کے مارے۔ہر دور میں گھر کا ایک آدھ فرد وزیر ہوتا ہے۔اسلام آباد میں ایک نہیں چھ گھر ہیں۔ملازم بھی سندھ کے۔رئیس کی آنکھ کا اشارہ دیکھ کر۔آپ کے آگے قالین ہوجائیں گے۔۔ان کے گھر دعوت ہو
بس آپ کے منہ  میں خود نوالے نہیں ڈالتے ورنہ کیا اہتمام نہیں کرتے۔ان کی جانب سے اعلان میں تاخیر ہوئی تو ہم نے پوچھاکہ پارٹی کیوں نہیں جوائن کرتے ۔ کہنے لگے عمران ہمارے ٹائپ کا آدمی نہیں ہے۔ سائیں ایک تو ہم پردیسیوں کو مانی (کھانے)کا نہیں پوچھا۔دوسرے دروازے پر چھوڑنے بھی نہیں آیا اور جس بات کا انہیں سب سے زیادہ قلق تھا وہ یہ کہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ دیا (ملایا)۔روایت پسند سندھیوں اور بلوچوں میں مہمان کو کھڑے ہوکر خوش آمدید نہ کہنا بہت ہتک کی بات سمجھا جاتا ہے۔

آئیے نرگس کے گھر چلیں۔نرگس فون لینے کے لیے ادھر ادھر ہوئیں۔سیل فون کا زمانہ نہ تھا۔ موقع  غنیمت جان کر ہم نے پوچھ لیا کہ اگر عمران خان کے حوالے سے وہ ایک وصف بیان کرنا چاہیں ایک ایسا Lethal Attribute جو انہوں نے نوٹ کیا ہو تو کہنے لگے۔وہ تو تم میں بھی ہے۔تب تک نرگس بھی واپس آن چکی تھی ضد کرنے لگے کہ  ٹیل نا ڈاک (ڈاکٹر ظفر الطاف کو قریب دوست زیڈ اے یا ڈاک کہتے تھے) دونوں میں کیا کامن ہے His ability to reinvent himself یہ مختصر سا جواب تھا۔۔۔ان کا اشارہ عمران خان کی جانب تھا مگر ہم نے شک کا فائدہ اٹھا کر اشارے کے معاملات مندرجہ ذیل واقع سے جوڑے۔

یہ واقعہ ان دنوں کا ہے  جب ہم ڈاکٹر صاحب کے لاکھ سمجھانے پر بھی اسلام آباد اور  فیڈرل سروس کی سیکرٹیریٹ سروس کو چھوڑنے سے باز نہ آئے۔ وہ اس ضد سے آزردہ اور بے لطف تھے چاہتے تھے کہ ہم اس  فیصلے سے باز آجائیں۔جب ہم نے انہیں جواب دیا کہ اس دنیا میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے ایلزبیتھ ٹیلر اور ریکھا کو چھوڑ دیا۔ہمارے آگے سی ایس ایس اور فورتھ کامن کیا بیچتا ہے۔ہم نے انہیں نہیں بتایا تھا کہ بی سی سی آئی کے امتحان میں ٹاپ کر نے کی وجہ سے ہم کراچی جاکر لندن روانہ ہوجائیں گے۔زیادہ مال،لندن،آغا حسن عابدی کی چھپر چھاؤں، ہم سے شادی کے شوق میں ہلکان ہواموجود مصری دوست ڈاکٹر مواہب۔(ناراض ہے پر اس کے بعد کہیں شادی نہ کی)کیا نہ تھا جو ہمارے لیے اس ترک تعلق میں نہ تھا۔

ڈنر کے بعد میں کھانے کی میز سے ہٹ کر فنجان (چھوٹے شیشے کے پیالے) میں کافی پیتے ہوئے ایک صاحب بتانے لگے کہ  عمران کے کرکٹنگ کئریر کی ابتدا بطور بلے باز کے ہوئی تھی اس کے بعد وہ تیز رفتار گیند کرنے والے بن گئے اور پھر ایک کامیاب آل راؤنڈر۔ورلڈ کپ کی جیت میں ان کا یہ رول بھی خصوصی طور پر نمایاں تھاموضوع بے نظیر کی طرف چلا گیا تو نرگس مچل گئی کہ عمران کے بارے میں اور بتائیں۔ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ دو آدمیوں کو لائم لائٹ اور میڈیا کی ڈارلنگ بن کے رہنے کا آرٹ بہت آتا ہے ایک لیڈی ڈائنا اور دوسرے عمران خان۔

لیڈی ڈیانا،عمران ،جمائما

لیڈی ڈائنا ہمارے ایک دوست کے گھر ڈاکٹر حسنات سے ڈیٹ مارنے آتی تھی۔بڑے ہنڈسم انسان ہیں۔ڈائنا پر جانے کیا جادو ٹونہ کیا تھا کہ وہ‘Mr Wonderful’ کہنے سے نہ تھکتی تھی ایک آپ کے ہمارے چاہنے والے ہیں کہ نام لے رہے ہوں تو لگتا ہے کہ کنکریوں سے غرارے کررہے ہیں۔وہ دوست کہتے تھے کہ مارلن منرو کی طرح پرنسس ڈائنا کو بھی یہ ہنر آتا تھا کہ ایک عام سی ملاقات کو ایونٹ میں کیسے بدلنا ہے۔نرگس پھر کسی طور ڈاکٹر صاحب کو واپس عمران کی طرف گھسیٹ لائی ورنہ شل (سندھی زبان میں اللہ نہ کرے)نہ کوئی حسین عورت بھارتی ڈیزائنر کی ساڑھی پہن کر باتیں کرنے بیٹھی ہو تو کم بخت گونگے بہرے بیوروکریٹس کو بھی پورا وکی پیڈیا زبانی یاد آجاتا ہے۔

ڈیزائنر ساڑھی
ڈاکٹر حسنات
مسٹر ونڈر(ڈاکٹر حسنات کو لیڈی ڈیانا کا دیا ہوا نام)

ڈاکٹر صاحب کہنے لگے اسی Re inventingکے چکر میں وہ اپنے مد مقابل کو دلیری سے چیلنج کرتا ہے۔اس میں جارحانہ مدافعت اور بے باکی یعنیDEFIANCE بہت ہے۔
تجدید ذات تو آپ نے کرکٹ سے کینسر ہسپتال کے سفر میں دیکھ لیں۔بھولا نہیں۔سادہ لوح ضرور ہے بھانپ گیا تھا کہ چالیس سال کا  مرد اور کیا کرکٹ کھیلے گاوالدہ سے پیار بھی بہت  تھا تو ان کی یاد میں کینسر کا ہسپتال بناڈالا۔سب کہتے رہے کہ کینسر بہت مہنگی بیماری ہے۔مفت کا علاج ممکن نہیں۔کرکے دکھایا۔والد بیمار تھے ان دنوں یہ تیمارداری پر مامور ہوتے تھے۔بہن صاحبہ آتی تو یہ باہر کسی دفتر میں جاکر بیٹھ جاتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مریض کے پاس صرف ایک تیماردار کو رکنے کی اجازت تھی۔والد اکرام اللہ خان نیازی کی بیماری کا پورا خرچہ حضرت نے لائن میں لگ کر ادا کیا۔نرگس کو ہمارے علاوہ ایسے کسی مرد کو بھی I love him for that کہنے میں کبھی تامل نہ ہوتا تھا۔سو اب کیوں ہوتا۔

ہم نے ان کے ایک کزن ڈاکٹر نوشیرواں برکی کا اوپر ذکر کیا ہے۔ وہ گفتگو کے بادشاہ ہیں۔علم کا ایک بہتا دریا ہیں۔جب وہ آپ کے ساتھ ہوں تو ایسے مسحور ہوجاتے ہیں کہ ملاقات میں وہ تو یاد رہ جاتے ہیں مگر نام پوچھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔۔امریکہ میں ان کے ساتھ کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اتنے پائے کے ڈاکٹر اور ایسے منکسر المزاج۔ عمران خان شوکت خانم ہسپتال بنا رہے تھے تو ڈاکٹر نوشیرواں اسے Non-Starter سمجھتے تھے۔بعد میں وہ کہا کرتے تھے کہ عمران بنا بھی لے تو ہسپتال چلا نہیں پائے گا۔اس ایک جملے میں آپ کو تجدید ذات، چیلنج اور جارحانہ مدافعت کے تینوں حوالے ملتے ہیں۔

اب عمران خان ایسا ہے کہ اس پر ڈاکٹر ظفر الطاف ہی کیا مریم اورنگ زیب ،شہلا رضا،دانیال عزیز، رانا ثنا اللہ، عابد شیر علی سبھی تبصرے کرلیتے ہیں جن کی اکثریت نے انہیں  سٹڈیم یا ٹی وی پر دیکھا ہو تو ہو،بالمشافہ ملنے کا انہیں یقیناً  کوئی موقع نہیں ملا ہوگا۔اس کے باوجود عمران خان کے بارے میں بی بی سی بنے رہتے ہیں۔ اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں جس کے پاس ریسرچ ہے وہ opinion سے محروم ہے اور جس کے پاس opinion ہے وہ بکواس کیے ہی چلا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں Law of Torts نہیں،ہتک عزت کے قانون پر عمل درآمد نہیں۔ورنہ یہ میڈیا والے اپنے والد صاحب کے بارے میں اس قدر تحقیق و احتیاط نہ کریں جتنا کسی کے بارے میں خبر یا آئٹم چلانے کے بارے میں کیا کریں۔ان دنوں انگلینڈ کے سابق کپتان آئن بوتھم والا معاملہ تازہ تھا۔

آئن بوتھم

اس نے عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ عمران نے اسے اور ساتھی کھلاڑی ایلن لیمب پر ball-tamperer اور racist ہونے کا الزام لگایا تھا۔عمران سے تین اور بھی الزامات منسوب تھے کہ عمران انہیں مناسب تعلیم سے بے بہرہ( not properly educated ) ( اور کم تر سماجی مرتبے( of inferior social standing. ) کا سمجھتا ہے۔ ان کی یہ بکواس بھارت کے موقر جریدے انڈیا ٹوڈے میں شائع ہوئی تو کپتان کو تاؤ آگیا۔جیوری کا فیصلہ آیا تو سب سے زیادہ حیرت جمائما کو ہوئی جس نے سوچ رکھا تھا کہ عمران کے جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں۔عمران کو اس کیس میں پانچ لاکھ پاؤنڈ کا ہرجانہ ملا۔بوتھم کا گھر جرمانہ ادا کرنے میں  بک گیا اور نیک دل بیوی جھوٹا الزام لگانے کی وجہ سے طلاق لے کر چل دی۔

ایلن لیمب
کیتھرین بوتھم

اب یہ احد چیمہ اور فواد حسن فواد اور صفدر بھٹی کی تو شرکائے حیات نہیں کہ والدین نے رخصتی کے وقت کہہ رکھا ہو کہ بیٹا مشرقی عورت میاں کا گھرصرف جنازے کی صورت میں چھوڑتی ہے۔ بائی دے وے یہ کرکٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین مقدمہ تھا۔بعد کی آنے والی خبروں سے تصدیق ہوئی کہ بوتھم کو چھوڑنے میں ایک جھوٹ کے علاوہ دوسرا جھوٹ اور بھی شامل ہوگیا تھا کہ بیگم کیتھرئین بوتھم کو پتہ لگ گیا تھا کہ بوتھم کا ایک جواں سال آسٹریلوی ویٹریس کیلی ورل سے بھی ایک عرصے سے لمبا پیچا پڑا ہوا تھا۔

کیلی ورل

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط4

  1. پرلطف اور معلومات سے لبریز۔۔اگر آپ بی سی سی آئی میں گئے تھے تو پھر ایک سیریز اس پر بھی بنتی ہے ۔کچھ عرصہ پہلے ہولی وڈ میں بنی ایک فلم دیکھی تھی جو بی سی سی آئی کے زوال کے متعلق تھی۔

  2. کیا عمدہ لکھتے ہیں جناب_ دیوان۔ لکھت کا ایک نیا انداز متعارف کرا دیا آپ نے: بات ایک خاص موضوع سے آغاز کیا جائے، پھر نظمیہ شاعری کے مانند ، قربی تلازمات اور کہیں کہیں بعدی تلازمات کی مدد سے اس خاص موضوع کو دلچسپ، خواندنی، مفید اور معانی کا حیرت کدہ بنا دیا جائے۔ اس سے دو طرح کے فائدے ملتے ہیں: اول؛ موضوع کے زیادہ سے زیادہ متعلقات تک رسائی کے امکانات۔دووم؛ اگر تحریری موضوع کا کردار آپ کا نا پسندیدہ بھی ہے( جیسے عمران خان، بہت سوں کا ہے) تب بھی آپ کے لیے جمالیات ومعلومات کا کافی سامان موجود ہے۔ جناب_ دیوان زندہ رہیے، عمدہ صحت_ جسم و ذہن کے ہمراہ!

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *