فیصلے کے بعد

اور آخر کار میاں صاحب نا اہل ہوگئے۔ اب ہم جیسے آزاد منش پاکستانی جو فیصلے سے پہلے میاں صاحب کی طرف تھے یا ان کے خلاف، اب سب کو یک زبان ہو کر یہی مطالبہ کرنا چاہیے کہ ایک سیاستدان کا احتساب ہوا ہے تو اگلی باری کسی جرنیل، پھر جج، پھر بیورو کریٹ اور اس کے بعد میڈیا مالکان کا بھی اسی انداز میں باری باری ٹرائل کیا جائے۔ اور جب یہ سرکل پورا ہو جائے تو پھر نئے سرے سے کسی سیاستدان اور اس کے بعد کسی جرنیل، جج، بیوکریٹ اور میڈیا مالکان کی باری آئے۔ کہنے لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ یہ جو سلسلہ چل نکلا ہے اسے رکنا نہیں چاہیے۔ پاکستان میں صرف میاں نواز شریف کرپٹ نہیں تھا، صرف سیاستدانوں کے آف شور اور سوئیس اکاونٹس نہیں ہیں، ایک طویل فہرست ہے اس ملک کو لوٹنے والے کرپٹ لوگوں کی جو یقیناً ہر شعبے اور ہر ادارے میں موجود ہیں۔ سیاستدانوں اور خاص طور پر لیگی کارکنان کا بھی اب یہی مطالبہ ہونا چاہیے کہ جنرل مشرف اور جنرل کیانی کے اندرون اور بیرون ملک اکاؤنٹس کی بھی چھان بین ہو، ان سے بھی اسی انداز میں عوام کے سامنے پوچھا جائے کہ ا ن کے ذرائع آمدن ان کی نوکریوں کے علاوہ کیا تھے؟ ان کا رہن سہن ان کی سرکاری تنخواہوں اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے میل کھاتا ہے کہ نہیں؟ ۔

بلا شبہ وزیر اعظم اور خواجہ آصف جیسے وزرا کے اقامے باعث شرم تھے اور ایسی کسی شخص کو حق حکومت نہیں ہونا چاہیے۔ مطلب ریاست عجیب تماشہ بن چکی ہے کہ اقامہ والے وزیر اعظم اور وزیر بن جاتے ہیں مگر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں۔ کسی ریاست میں انصاف، قانون، اصول اور ضابطے کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن جتنا بڑا مذاق یہ ہے اتنا ہی بڑا مذاق سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جیسے حساس عہدوں پر رہنے والے قومی سلامتی کے رازوں سے سے واقف اشخاص کا غیر ممالک میں نوکریاں کرنا ہے۔ ہم عوام ڈی ایچ اے سمیت ایم ای ایس کا آڈٹ چاہتے ہیں۔ جو لوگ فوج سے تھوڑا سا بھی واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایم ای ایس کیسا ڈیپارٹمنٹ ہے۔ آج اگر ہم اپنی بنیادیں سیدھی کرنے کی طرف چل نکلے ہیں تو ہمیں بے اصول طاقت کی سب دیواریں گرانی ہوں گی۔ انصاف سب کے لیے یکساں ہے اور ریاست کی اعلی ترین عدالت ہر شخص، ہر ادارے کو ایک نظر سے دیکھتی ہے، عدل کا معیار سب کے لیے ایک ہے، یہ سب محض میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے ثابت نہیں ہوگا۔ نظام عدل کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ابھی عدالت عالیہ کو بہت سے سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔

یہاں جانبدار اور یکطرفہ انصاف کی ایک طویل تاریخ ہے، سو میاں صاحب جو پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے انصاف کی زد میں آئے ہیں، انھیں بھٹو کے عدالتی قتل اور پیپلز پارٹی سے ہونے والی زیادتیوں سے فائدہ اٹھا کر مظلوم بننے کا موقع نہ دیا جائے۔ عدالت عالیہ این ایل سی ایل سکینڈل سے لے کر جنرل مشرف اور کیانی کے سوئیس اکاؤنٹس تک سب کا اسی طرح اوپن ٹرائل کرے۔ اور اگر کسی کو جمہوریت کی خدمت کرنا ہے تو وہ میاں صاحب کی درست نا اہلی پر سوگ منانے کی بجائے مقدس گائے بنے اداروں میں بیٹھے ’’ان ٹچ ایبلز‘‘ کی تلاشی کا بھی مطالبہ کریں۔ یہی وقت ہے، اس وقت کا فائدہ اٹھانا ہوگا، ورنہ میاں صاحب کیخلاف فیصلہ محض ایک روایتی فیصلہ ہی گردانا جائے گا اور ملک میں کوئی بہتری نہیں آ سکے گی۔ اور کل پھر کوئی جرنل ضیا ایجنسیوں کی مدد سے ایک نیا لیڈر کھڑا کر دے گا اور پھر وقت آنے پر اسے بھی کرپٹ کہہ کر گرا دیا جائے گا۔ کرپشن کے پودوں کو ختم کرنا ہے تو پنیری لگانے والوں کا بھی کوئی بندو بست کرو۔

باقی ہمیں ارسلان افتخار کے مقدمے کا بھی اوپن ٹرائل مقصود ہے، جو باپ کے چیف جسٹس ہونے کے وقت بزنس ٹائیکون کہلایا اور ہمیں افتخار چوہدری کیخلاف ریفرنس بھی درکار ہے۔ ہمیں بھٹو ریفرنس پر بھی ایک کلئیر فیصلہ چاہیے۔ ہمیں جسٹس قیوم کے ریڈ وارنٹ بھی درکار ہیں اور ہمیں خواجہ شریف جیسے ریٹائرڈ ججوں کیخلاف ریفرنس بھی درکار ہیں۔ ہمیں ریاست سے اس سوال کا جواب بھی چاہیے کہ یہاں معین قریشی اور غلام اسحاق خان جیسے تحصیل دار کرسی ء صدارت اور وزارت عظمی تک کیسے اور کیونکر پہنچے؟ ہم ایبٹ آباد کمیشن اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹس کو بھی پبلک ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جہاں سب سے اہم قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہ غیر ممالک کی نوکریوں پر لگے ہوں وہاں قومی سلامتی کے حوالے سے کوئی عُذر کوئی بہانہ قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔ رہی بات عوامی لیڈران کی کرپشن کی تو اگر عوام کا ایک لیڈر کرپٹ نکلا عوام دوسرا منتخب کر لے گی۔ اور اگر قومی اسمبلی میں موجود تمام اراکین بھی کرپٹ ثابت ہوتے ہیں تو اس کا کوئی بھی تناسب اٹھارہ کروڑ عوام کے سامنے ممکن نہیں۔ اٹھارہ کروڑ میں بہت سے صاف ستھرے بھی نکل آئیں گے۔

ہمیں فقط اتنا کہنا اور ثابت کرنا ہے کہ ’’ہم بانجھ قوم نہیں ہیں‘‘۔ جمہوریت ہی ہمارا مستقبل ہے اور اسی سے ریاست کو آگے بڑھنا ہے۔ جیسے پارلیمان میں کرپٹ عناصر موجود ہیں ویسے ہی باقی اداروں میں ہیں۔ ہمیں ساری گندگی صاف کرنے کی کوشش کرنا ہے کہ یہ ایک دوسرے سے مشروط ہے، جُڑی ہوئی ہے۔ ہمیں تعلیم اور صحت سے بھی گندگی کا صفایا کرنا ہے۔ اور جو کہتے تھے کہ احتساب اوپر سے شروع ہونا چاہیے آج ان کا مطالبہ پورا ہوگیا، اب انھیں چاہیے کہ نیچے والوں کے احتساب کا مطالبہ کریں۔ ہم نون لیگ میں شامل ایسے خاندان کو بھی جانتے ہیں جو تقسیم ہند کے وقت محض ساڑھے بارہ ایکڑ کا مالک تھا اور آج ا ن کی تازہ خاندانی تقسیم میں بغیر کسی فیکٹری اور کاروبار کے خاندان کا ہر فرد سو مربع زمین کا مالک بنا بیٹھا ہے۔ ان سے بھی پتہ کیا جائے کہ لوگوں کی زمینیں بچوں کی پیدائش کے بعد تقسیم ہو کر کم ہوتی گئیں تو ان کی کیسے بڑھ گئیں؟۔ اگر صرف شریف خاندان کو اقتدار سے دور رکھنا مقصود ہے تو نہ تو یہ کرپشن مخالف مہم ثابت ہوگی اور نہ ہی شریفوں کی لنکا ڈھئے گی۔

سلسلہ چل نکلا ہے تو اوپر سے لے کر نیچے تک جانا ہوگا۔ ایم این اے سے ایم پی اے تک کی تلاشی لینا ہوگی۔ گجرات کے چوہدریوں کا بھی اوپن ٹرائل کیا جائے اور جہانگیر ترین اور علیم ڈارک کی بھی تلاشی لی جائے۔ لیگیوں کی کم عقل میڈیا ٹیم نے جتنا وقت عمران خان کے آف شور اکاؤنٹس کی مہم چلانے میں ضائع کیا اتنا اگر یہ شوکت خانم کے آڈٹ کے مطالبے پر صرف کرتے تو شاید بہت سی مالی بے ضابطگیاں سامنے آ جاتیں۔ بہر حال ہمیں ہر محکمے کے صوبائی سیکٹری سے لے کر ہر اے سی، ڈی سی اور تحصیل دار کے اثاثوں کی مکمل تلاشی چاہیے، آئی جی سے لے کر ایس ایچ او تک سب کی۔ دیکھا جائے کہ کوئی اپنی حیثیت سے بڑھ کر رہ رہا ہے تو کیسے رہ رہا ہے؟ مملکت خداداد کرپشن کا گڑھ بنی ہوئی ہے۔ اس ناسور سے جان چھڑانے کے لیے ہمیں میٹرک بورڈ اور یونیورسٹیوں سے لے کر مدرسوں تک سب کی تلاشی لینی ہوگی۔ ہمیں ان سیاسی اور فرقہ پرست مولویوں کی بھی تلاشی لینا ہوگی جو بغیر کسی معروف کاروبار کے پراڈو لے کر گھومتے ہیں اور بڑے بڑے حجروں اور گھروں میں مقیم ہیں۔ کوئی مقدس ادارہ نہیں، کوئی مقدس گائے نہیں ہونی چاہیے۔ سب اسی قوم میں سے ہیں جس کا منتخب وزیر اعظم نا اہل ہوا!

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *