نواز شریف نا اہل،سیاستدان ادارے مضبوط کریں

نواز شریف نا اہل،سیاستدان ادارے مضبوط کریں
طاہر یاسین طاہر
آج کا دن ملکی تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔حکمران خاندان کے حوالے سے عدالت عظمیٰ نے انتہائی اہم فیصلہ سنا دیا ہے،اور اس فیصلے پر عمل در آمد کی نگرانی سپریم کورٹ کے ایک معزز جج صاحب کریں گے۔ابھی تک اس فیصلے پر قانونی و آئینی ماہرین اور سیاسیات و صحافت کے شہسوار تبصرے کر رہے ہیں۔اب تک میڈیا پر فیصلے سے متعلق جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر کو بھی ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کردی۔ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے اپنے چیمبر میں مشاورت کی۔عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد5 رکنی عملدرآمد بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف فوری طور پر وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 6 ہفتے میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف کے خلاف ریفرنس داخل کرنے کی بھی ہدایت کی اور تمام مواد احتساب عدالت بھجوانے کا حکم دے دیا۔عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا جائے۔
دوسری جانب اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے وضاحت کی کہ وزیراعظم ابھی بھی عہدے پر موجود ہیں اور اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے، جب تک صدرمملکت انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے نہ کہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت صدر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرسکیں کہ موجودہ وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنا ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر اس بات کو واضح کیا ہے کہ ,صدر جمہوری عمل کی ہموار منتقلی کو یقینی بنائیں۔یہ امر واقعی ہے کہ اگر صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت اپنا اختیار وزیر اعظم کے حق میں استعمال کرتے ہیں تو یہ نون لیگ کی جانب سے ٹکراو کی انتہائی پوزیشن ہو گی جس کا سرا سر نقصان ملک کو ہو گا۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت ایسا نہیں کریں گے بلکہ عدلات عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں وزیر اعظم فوری طور اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔
فیصلہ کن بنیادوں پہ ہوا؟ اور کیسا ہوا؟ مدتوں اس پہ آئینی ماہرین بحث کرتے رہیں گے۔
لمحہ موجود میں جس بات کی ضرورت ہے وہ جمہوری عمل کی روانی اور اداروں کی مضبوطی کو یقینی بنانا ہے۔جمہوری سسٹم بچانے کا واحد حل جو اس وقت نظر آ رہا ہے وہ یہی کہ پارلیمان میں نیا وزیر اعظم لایا جائے،اور تصادم کی راہ سے گریز کیا جائے۔یاد رہے کہ پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ،آف شورمالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں،خبر آئی ہے کہ لاہور مال روڈ پہ نواز شریف کے حق میں مسلم لیگ نون کے کارکن اکٹھے ہو رہے ہیں۔
یہ امر قطعی نا درست ہے۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ کسی فرد کے بجائے اداروں کی مضبوطی سے ہی ملک اور اقوام ترقی کرتے ہیں۔ابھی تک نون لیگ کے دو پارلیمانی ممبران نے میڈیا گفتگو میں اس فیصلے کو عدالتی قتل کہا اور آج کے دن کو سیاہ دن قرار دیا۔اگر یہی لب و لہجہ رہا تو شریف خاندان کے لیے احتساب عدالت میں بھی شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔سیاسی جماعتوں کی ترجیح سسٹم کی مضبوطی ہونی چاہیے،اسی میں ملک و قوم کی خیر و بھلائی ہے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *