متعلقہ اور غیر مُتعلقہ ۔۔۔ ہارون ملک

Relevant & Irrelevant

جب ایک مُسلمان کو لندن کے مئیر کے طور پر مُنتخب کیا جاتا ہے توہمیں خُوشی منائیں گے۔کیونکہ اِس معاملے میں کہ مغرب میں مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک یا عدم برداشت ہمارے سے متعلقہ ہے ۔

لیکن جب اقتصادی امور کی کمیٹی میں ایک احمدی شامل ہو گا تو ہمیں ماتم کرنا چاہئیے کیونکہ یہاں مذہبی بنیادوں پر غیر امتیازی سلوک ہمارے لئے غیر متعلقہ ہے۔

جب ہماری اپنی خواتین مغرب میں برقعہ یا حجاب استعمال کریں تو مغرب کو اپنے ڈریس کوڈ اور ثقافتی پہلوؤں پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ یہاں اِس معاملے میں کپڑوں کے انتخاب کی آزادی کا حق ہم سے متعلقہ ہے ۔
لیکن جب مغرب سے ایک عورت اسلامی جمہوریہ میں آئے تو اُسے ہمارے ڈریس کوڈ اور ثقافتی پہلوؤں کا احترام کرنا ہوگا ۔یہاں پر اُس کی اپنی مرضی اور آزادی کا حق ہمارے لئے غیر متعلقہ ہے۔

جب ایک مسلمان کو غیر مسلم ریاستوں میں کِسی طرح سے نشانہ بنایا جاتا ہے، تو ہمیں اس مسئلے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے کیونکہ غیر مسلم ریاستوں میں اقلیتیوں ( مُسلمانوں ) کے ساتھ اگر ظلم و ستم ہوگا تو یہ ہمارے متعلقہ ہے ۔
لیکن جب پاکستان میں اقلیتیں پر کُوئی ظُلم ہو گا تو ہم بالکل مُنہ میں گُھنگیاں ڈال لینی چاہئیں کیونکہ یہاں پر اقلیتوں کے ساتھ زیادتی ہمارے لئے غیر متعلقہ ہے۔

جب ایک غیر مُسلم اسلام قبول کرتا ہے، تو ہم جشن منانا چاہئیے کیونکہ یہاں پر مذہبی آزادی کا حق ہمارے متعلقہ ہے۔لیکن جب اگر کُوئی ایک مسلمان اسلام کو چھوڑ دیتا ہے تو ہم سب کو اس کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ یہاں مذہبی آزادی ہمارے لئے غیر متعلقہ ہے۔
اگر آپ اُن من گھڑت باتوں پر یقین رکھتے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں ( ایک خاص مائینڈ سیٹ کے تحت ) شامِل کردی گئی ہیں اور وُہ آپ کو پسند ہیں تو ٹھیک کیونکہ وُہ آپ سے متعلقہ ہیں ۔
لیکن اگر آپ کو سچائی بتائی جائے گی تو وُہ آپ کے لئے پریشان کُن ہے اور لہٰذا آپ سے غیر مُتعلقہ ہے ۔
اگر یہاں پر اقلیتوں کے کھانے پینے کے برتن الگ ہوں تو ٹھیک بات ہے کیونکہ وُہ گندے اور پلید ہوتے ہیں اور یہاں پر برابری کی باتیں ہمارے لئے غیر متعلقہ ہیں لیکن اگر مغرب میں کہیں ایسا ہو ( ایسا ہو ہی نہیں سکتا لیکن ) تو یہ بڑی سخت زیادتی کی بات ہے ۔کیونکہ یہ ہمارے سے متعلقہ ہے ۔
یہاں ہم نے عیسائیوں کو چُوہڑے ہی کہنا ہے اور اُن کی دِل آزاری کرنی ہے کیونکہ یہاں پر نسلی اور مذہبی تعصب ہمارے سے متعلقہ نہیں ہے ۔
لیکن اگر مغرب یا دیگر غیر ممالک میں ایسا کہ ہمیں پاکی ، بلڈی مُسلم یا کُچھ اور غلط سلط کہے تو سخت زیادتی کی بات ہے کیونکہ یہ ہمارے سے متعلقہ ہے ۔
ذرا سوچیں کہ ہم سے بڑی بھی کُوئی متعصب کمیونٹی ہوگی ؟( انڈیا میں ہندو بھی اِس دوڑ میں لگے ہُوئے ہیں لیکن فی الحال وُہ زیرِ بحث نہیں ) ۔
ذرا سوچئیے کہ کیا یہ کُھلا تضاد نہیں ہے ؟

(وسیم الطاف کی انگریزی پوسٹ سے ترجمہ کُچھ اضافے کے ساتھ)
Note :  Translated from Waseem Altaf’s post and few more lines are added

ہارون ملک
ہارون ملک
Based in London, living in ideas

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *