پاکستان میں تیزی سے پھیلتا اسلام۔۔۔۔عابد حسین

دوستو! آج تک گالیاں نہیں کھائیں. جو بھی لکھا سادہ لکھنے کی کوشش کی. ایسا کہ بہت زیادہ متنازعہ نہ ہو . تنقید ہو، تذلیل نہ ہو. طنز ہو تشنیع نہ ہو. ہر طرح کے لوگوں کی پوسٹس پر کمنٹ  کیے (بیشتر لکھنے والے کمینٹس ہی کے حوالے سے جانتے ہیں). لیکن کبھی بھی ایسی بات کی حمایت نہیں کی جو سمجھ نہ آئی ہو. جتنے متنازعہ لکھنے والے ہیں ان کی متنازعہ پوسٹس کو دیکھ کر گزرنے کی عادت بنا لی. کیونکہ ہر شخص ہماری منشاء کے مطابق نہیں لکھ سکتا. اگر وہ قطعی غلط بھی ہو تو ہمیں اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے. وہ بھی تحریر کے ذریعے اپنا مدعا پہنچا رہا ہے. آپ کو نہیں پسند تو آپ بھی لکھیے . لیکن کبھی سمجھ نہیں پایا کہ کسی کی وال پر جا کر “جہاد” کرنے کا آپ کو کیا حق پہنچتا ہے. اگر کوئی حق ہے تو صرف اتنا کہ آپ ان کی رائے سے متفق نہیں. جہاں کچھ تعلق ہو وہاں دلائل سے اپنی بات پہنچا کر آجائیں. بحث یا مرنے مارنے کی تو ضرورت بھی نہیں پڑتی. ناقابل برداشت صورتحال کے لیے، اس فب کو بنانے والوں نے بہت سے آپشن دیے ہیں. انہیں استعمال کریں. ناپسندیدہ کو بلاک کریں، فالو نہ کریں، اس کی محفل سے بچیے. سب آپ کے ہاتھ میں ہے. گالی گفتار کی وجہ کبھی سمجھ نہیں آئی سوائے اس کے کہ آپ کی تربیت پر انگلی اٹھائی جائے.

اب آتا ہوں پہلے جملے کی طرف. کل سے دوستوں اور دوسرے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں. میاں عاطف کو لے کر بیٹھے ہیں. ہنگامہ مچا رکھا ہے. جیسے نئی حکومت نے “اسلامی مملکت” کے خزانے کی چابیاں ایک قادیانی کو دے دی ہیں. او میرے پکے پکے اسلامی بھائیو. ایک کمیٹی بنی ہے جس میں بارہ پروفیشنلز ہیں. کچھ تعلیمی اداروں سے کچھ عملی اداروں سے. ان کی تعلیمی قابلیت پر کسی کو کوئی شک بھی نہیں. ان میں سے ایک بندہ “خاص کافر” ہے. سو وہاٹ۔۔ اس کے عقائد کا اس کمیٹی کے کام سے کیا تعلق ہے. وہ کیا قادیانی عقائد کو اسٹیٹ بینک، ایف بی آر یا پلاننگ کمیشن کے معاملات میں گھسیڑ دے گا؟کیا اس کمیٹی کے اجلاسوں میں، شرکاء کو مرزا کو سجدے کروادے گا. آخر ایسا کیا نقصان ہوگا کہ اسے اس کمیٹی میں کسی بھی قیمت پر برداشت کیا ہی نہیں جاسکتا. اس قسم کے اعتراض کرتے ہوئے بھی تھوڑی بہت سمجھ ضروری ہے.

قادیانی غیر مسلم ہیں. مانتا ہوں. امتناع قادیانی آرڈیننس کے حساب سے مسلمانوں کی شرعی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے. مانتا ہوں. لیکن کیا پاکستان میں ان پر ہوا، پانی، کھانا پینا، چلنا پھرنا، رہنا، تعلیم حاصل کرنا سب منع ہے؟ کیا انہیں تبلیغ نہیں کی جاسکتی؟ کیا وجہ ہے کہ سینکڑوں قادیانی اسلام قبول کرتے ہیں. وہ بنا ملے، بات چیت کیے، بحث کیے مسلمان ہو جاتے ہیں؟

مجھے اب یقین ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ہم پکے مسلمانوں کی وجہ ہی سے یہ قادیانی اب تک اپنے غلط عقائد سے چپکے ہوئے ہیں. اگر انہیں ہم نے صرف انسان بھی سمجھا ہوتا تو آج یہ اتنی تعداد میں نہ ہوتے. میری ان باتوں کا مقصد یہ نہیں کہ میں انہیں کوئی دودھ کا دھلا سمجھتا ہوں. ان میں بھی فسادی ہو سکتے. انتہا پسند ہو سکتے ہیں. غالی قادیانی ہو سکتے ہیں. لیکن سارے تو ایسے نہیں ہو سکتے نہ. بہت سے معاشی، معاشرتی اور سماجی دباؤ کی بنا پر بھی قادیانی رہنے پر مجبور ہوں گے. ان تک اپنی اپنی بات کون پہنچائے گا. اور کس طرح پہنچائے گا. جب صرف قادیانی بندے کا پتا چلنے پر بھی ہم کف اڑانے لگیں گے.

آخری بات۔۔خان نے اگر اس معاملہ میں۔۔ نانی نے خصم کیا، برا کیا، چھوڑ دیا اور برا کیا ۔۔۔والا معاملہ کیا تو میں اس سے تبدیلی کی امیدیں لگانا چھوڑ دوں گا.
ویسے بھی وہ میرے لیے تبدیلی کا آخری استعارہ کبھی نہیں رہا. وہ صرف اس سوچ کا ایک محرک ہے. میں اپنی اور آنے والی نسلوں کے لیے اس سوچ کو بدلوں گا نہیں.

وہ نہیں اور سہی۔۔ اور نہیں اور سہی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *