تیسرے سال والے۔۔۔سردار عمار بیگ

میڈیکل کالج کے پانچ سالوں میں تیسرے سال والوں کا وہی مقام ہے جو دنیا میں تیسری دنیا کا۔یعنی پسماندہ,مفلوک الحال اور غیر اہم.

میڈیکل کالجوں اور ان سے منسلک ٹیچنگ ہسپتالوں میں چیف جسٹسوں اور دل کے دوروں کے بعد سب سے بڑا دورہ جو پڑتا ہے وہ ڈاکٹری کا ہے جو تیسرے سال والوں کو پڑتا ہے.دوسرے سال کا نسبتا ًآسان پروف دینے کے بعد رنگروٹ پہلے دن نئے,کلف لگے اوور آل کے کالر کھڑے کئے اُڑے اُڑے ہسپتال جا رہے ہوتے ہیں.یہ ان کی مختصر زندگی کا پہلا مائل سٹون ہوتا ہے جب وہ بحیثیت زیر تربیت ڈاکٹر اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس سے پیشتر انہیں برسات موسم میں آلودہ پھلوں کے بعد پانی پینے سے وقوع پذیر ہونے والے شدید دست و اسہال یعنی ڈائریہ،چھوٹے بہن بھائی کی پیدائش پر والدین کے ہمراہ نومولود کو ویلکم کرنے یا کھیلتے ہوئے ناک و کان میں کنچا(بنٹا) پھنسانے کی صورت میں ہی اسپتال کا تجربہ نصیب ہوتا ہے.

خواتین طلباء کا حال قریب قریب یہی ہوتا ہے!یہ جنس احساس تفاخر کے مارے مرغابیوں کی طرح گردنیں نکالے اکڑائے اکڑائے چل یا یوں کہہ  لیجئے  کہ  لُڑکھ رہی ہوتی ہیں.
فی میل سٹونٹس ڈیڑھ صد روپے والی ‘سپرٹ سٹیتھ’ کو بار بار گھما گھما کر لاک اور ان لاک کر کے دوسرے سال کی جونیر لڑکیوں کی ‘سیلف اسٹیم ‘پر شدید حملے کر رہی ہوتی ہیں.اس تضحیک کا بدلہ دوسرے سال والیاں باقاعدہ منہ چڑا کر دیتی ہیں.
کچھ ”سرمایا دار” دونالی” سٹیتھ گلے میں لٹکائے اس سوال کو مرے جا رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ان سے دوسری نالی کا اضافی کام پوچھتا ہے تو وہ پہلے تو دونوں نالیوں کو پیار سے دلاسہ دیتے ہیں اور پھر آہستہ سے ‘مرمراتے’ ہیں کہ  اس سے دل کی مرمر واضح  سنائی دیتے ہیں.

ہسپتال میں ان کے منہ سے “تھرڈ ائیر میڈیکل سٹوڈنٹ” سن کر ڈاکٹر ایسے منہ پھیرتے ہیں جیسے مرے ہوئے چوہے کو دیکھ کر ایک سویپر سائیڈ مار لیتا ہے کہ دوسرا گزرتے ہوئے اٹھا لے گا.دو تین روٹیشنز(اسپتال کے دوروں) کے بعد انہیں ہسپتال والے باقاعدہ طور پر اپنے ‘ہم جنس’ سمجھتے ہوئے وارڈ کے کونے میں لگے اٹینڈنٹس کے بینچ پر بیٹھانے کی مہربانی کر لیتے ہیں.دیگر وارڈز کا تو ہمیں علم نہیں مگر ای این ٹی(ENT) وارڈ میں سٹوڈنٹس مریضوں کی ناکوں میں یوں ٹارچ مار رہے ہوتے ہیں جیسے کوئلے کی کان میں کان کن.ہر مریض کی واحد تشخیص جو تیسرے سال والے کرتے ہیں وہ ڈی این ایس ہے(deviated nasal septum)!!تیسرے سال والوں کی معلومات اور اوقات اسی تک ہی محدود ہوتی ہے.

سب سے مظلوم طبقہ گائنی وارڈ والا ہوتا ہے!!زچہ بچہ وارڈ جس میں زچہ کی اکثریت ہوتی ہے جبکہ بچہ عموماً ابھی تک فرشتوں کے ہاں زیر تعمیر ہوتا ہے.شرمیلے لڑکے پہلے تو ناک پر رومال رکھے کھسیانی ہنسی ہنس کر حیا اور بے غیرتی کا بیک وقت مظاہرہ کرتے ہیں.پھر جب گائنی کی میڈم سے پر سکون لیٹی مریضاؤں  کے سامنے بارہا بے عزت ہونے کے بعد لڑکوں کو ‘پراپر  ایکسپوئژر'(EXPOSURE) کا حکم ملتا ہے تو کانپتے ہاتھوں،ماتھے پر چمکتے پسینے اور لرزتی ٹانگوں سے مریضہ کا ایکسپوئژر ہو نہ ہو تیسرے سال والے کا ماضی،کانفیڈنس اور گائنی کی میڈم کے ہاتھوں مستقبل میں سپلی آنے کا امکان ایکسپوز ہو جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *