• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط3

بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط3

تبدیلی کے یوں اچانک آجانے پر اقبال دیوان کا مضمون
اقبال دیوان ہمارے مومن مبتلا،ایک فقیر راہ گزر ہیں ۔سندھ سرکار کے سابق سیکرٹری اور فورتھ کامن کے افسر ہیں۔ہماری طرح یہ بھی عمران خان کے فدائیان خلق میں شمار ہوتے ہیں
: ایڈیٹر ان چیف۔۔۔انعام رانا
کل اقساط۔ پانچ یا چھ
موجودہ قسط۔تیسری
عمران خان۔۔۔۔شخصیت
بطور وزیر اعظم۔۔۔۔۔۔مشورے۔جن پر عمل درآمد ہونے کے امکانات بہت کم ہیں

ہمارے ایک مہربان قاری محمد عثمان پچھلی قسط میں شاکی تھے کہ کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے کے مصداق اب تک عمران کا تذکرہ ذرا چینی کم والا ہی رہا ہے۔ان کے ذہن میں شاید اس فلم کی ہیروئن تبو تھی اور ہم تھے کہ سمجھاتے رہے کہ بقول غالب ؔع
ہے پرے سرحد ادارک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں

tripako tours pakistan
تبو چینی کم فلم میں

سو چلیے ان کا شکوہ دور کریں۔گلوں کی بات کریں، گل رخوں کی بات کریں۔آئیے عمران کی بات کریں۔

عمران خان کے ہاں پاکستان کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار کا بڑا احترام تھا۔ہم نے کاردار صاحب کو جب بھی دیکھا عمران خان زیادہ سمجھ میں آئے۔ڈاکٹر ظفر الطاف کا خیال تھا کہ عمران خان کے Formative Years پر کاردار صاحب کی بہت گہری چھاپ تھی۔ہمارے ایک محترم بزرگ کا کہنا تھاکہ کاردار strategist بہت عمدہ درجےکے تھے اور جوہر شناس بھی کمال کے مگر   کھلاڑی وہ اس پائے کےنہ تھے کہ ان کا مقابلہ عمران سے کیا جاتا۔ہم نے یہ بات  کبھی نہیں کی ورنہ ڈاکٹر صاحب ہمیں آرٹیکل 6/اے میں غدار وطن قرار دینے میں تامل نہ کرتے۔ دنیائے آکسفورڈ اور کرکٹ میں عمران  کا رول ماڈل عبدالحفیظ کاردار صاحب ہی رہے۔ عمران نے ان کا ہی اجتناب،تکبر،اشرافیہ سے روابط اور مالی طور پر بے نیازی کے اوصاف فوٹو اسٹیٹ کی طرح اپنی نشوونما کے ڈی این اے میں شامل کرلیے جس کی وجہ سے انہیں انگریز معاشرے میں ایک Cutting Edge مل گئی۔

پرنس چارلس کے ساتھ
عبدالحفیظ کاردار انڈین کیپٹن کے ہمراہ
انگریز اشرافیہ

یہ اور بات ہے کہ ان دو ادوار کا فرق یوں سامنے آیا کہ میڈیا کی بے پناہ توجہ سے عمران خان کی زندگی کی بلٹ ٹرین جنکشن کے باہر دوڑتی ہوئی پٹڑیوں پر چڑھ کر شہرت اور سیاست کی نئی مسافتوں پر نکل گئی۔یوں زینت امان، شبانہ اعظمی،ششمیتا سین، سمی گریوال، پرمیشور گوڈریج جو ممبئی میں ان کی مستقل میزبان ہوتی تھیں۔ملیُ بینڈ برادران اور اداکارہ ایلزبیتھ ہرلے،سیتا وہائٹ،ایما سارجنٹ،گورڈن براؤن،صادق خان،ناصر  حسین کس کس کا نام لیں ان کو دیکھ ان کی رفاقت میں ہر وقت دم گٹکوں ہوتے رہتے تھے۔

ملی بینڈ براداران
اداکارہ ایلزبتھ ہرلے کراچی ایرپورٹ کے باہر ۔۔۔۔ جلا کے راکھ نہ کردوں تو داغ نام نہیں
عمران کی بھارت میں سب سے قابل اعتماد دوست آن جہانی پرمیشور گوڈ ریج

عمران خان،کاردار صاحب جیسے خوش گفتار اور ڈیپ نہیں۔وہ بہت Loner ہیں۔ یعنی تنہائی پسند۔ کسی فرد کی گفتگو اگر علمیت کا پتہ دیتی ہے تو کاردار صاحب کا مطالعہ بھی مقابلتاًبے حد وسیع تھا۔
اس کے برعکس کم از کم ہمیں ایسا لگا کہ عمران خان کا بہت سا Knowledge by Earعلم بذریعہ سماعت ہے . ذاتی مطالعہ قدرے محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں سطحیت کی بھرمار اور تجزیے کی  تکلیف دہ کمی ہے۔اس کی ایک مثال ریاست مدینہ کی کثرت سے دی جانے  والی مثال ہے۔
دنیائے اسلام میں علم حدیث پر مولانا اکرم ندوی کا بہت بڑا نام ہے۔کیمبرج یونی ورسٹی اور آکسفورڈ یونی ورسٹی کے شعبہ ہائے اسلامی کے  وہ صدور بھی رہے ہیں  اور جنہوں نے 57 جلدوں پر ایک ال محدثات کے نام سے بے مثل سوانحی انسائیکلوپیڈیا ترتیب دیا ہے جس میں ان پاک اور باعلم بیبیوں کے حالات   درج ہیں جنہوں نے احادیث کی روایت اور علم کے فروغ میں بہت نام پیدا کیا۔ زندگی کو بدلنے والی ایک کتاب میں جس کا نام ہے If the oceans were ink

مولانا اکرم ندوی
if the oceans were ink

یہ ان کے طویل انٹرویو   پر مبنی ہے۔گفتگو کے دوران وہ مصنفہ کارلا پاؤر کو جتاتے ہیں کہ اگر state اور power اتنے اہم ہوتے تو انبیا کی کوئی ضرورت نہ تھی۔انبیا کی بہت بڑی اکثریت کے پاس نہ پاور تھا نہ ریاست۔مثلاً سیدنا ابراہیمؑ،سیدنا عیسیؑ،سیدنا یونسؑ کس کس کا نام لیں۔

کارلا پاؤر

سب ہی ہستیاں بے ریاست اور بے عہدہ تھیں۔ سیاسی طور پر جذباتی افراد نبی پاک ﷺ کے مدینہ کے دس سالہ قیام کو مدینہ کو پہلی آئینی اسلامی ریاست کے طور پر پیش کرنے سے نہیں چوکتے۔مولانا اسے درست بیانیہ نہیں مانتے ان کا کہنا یہ ہے کہ سب سے پہلے تو مکۃ المکرمہ کی ہجرت حالات کا جبر تھی۔ ہمارے آقائے دوجہاں محمدﷺ کے خلاف مکہ میں ایک ایسا مخالفانہ اتحاد جڑ پکڑ چکا تھا جو دین اسلام اور دعوت دین کے درپے ہوگیا تھا۔اس وجہ سے آپ کو  مجبوراً مکہ المکرمہ کو خیر باد کہنا پڑا۔مدینہ میں البتہ رفتہ رفتہ آپ کو ایسے دنیاوی معاملات کو بھی نبھانا پڑا جو آج کے ریاست اور حاکمیت سے جڑے ہیں،اس میں کسی ماڈل کی بجائے دین کے رہنما اصولوں سے معاملات کو چلایاگیا ہے۔ہم اس غلطی کو عمران خان کی خوش نیتی اور لگاؤ کی نسبت سے دوسرے حکمرانوں سے بہتر سمجھتے ہیں کہ ان کے افکار یہاں تک تو آن پہنچے ہیں۔

وہ بیان نہیں کر پاتے مگر شاید ان کے سامنے ریاست چلانے کے لیے ایسے ہی رہنما اصول ہیں گو اسد عمر،پرویز خٹک اور علیم خان، زبیدہ جلال، فہمیدہ مرزا ،ڈاکٹر عشرت حسین،شعیب سڈل ،اعظم خان جیسے lack-lustre افراد کی وجہ سے ان کے ناقدین ان افکار پر عمل درآمد کو اتنا ہی ناممکن سمجھتے ہیں جتنا شیخ رشید کا سی آئی اے کا چیف لگنا ۔

“کاردار صاحب کی بات ہورہی ہے تو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ وہ تعلقات کو بہت ہی دل جوئی سے پالتے تھے۔ عمران خان کے ہاں تعلقات کا ایسا جذباتی لگاؤ نہیں پایا جاتا۔عمران خان سے سابقہ تعلقات کا زعم رکھنے والے موجودہ متروک دوستوں کا اصرار ہے کہ وہ بلا ضرورت لوگوں سے ملاقات کو وقت کا زیاں مانتے ہیں ۔کاردار صاحب اتنے سادہ مزاج نہیں تھے جتنے عمران خان ہیں۔ عمران لباس اور خوراک کے معاملے میں بے نیاز مگر تن پرور۔ ساٹھ برس سے اوپر کی عمر کے باوجود وہ جوانوں جیسی ورزش کو   عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔کاردارصاحب بہت خوش پوش تھے اور پنجابی کلچر کے دل دادہ۔ گھر سے باہر وہ شاذ و نادر ہی سوٹ ٹائی کے بغیر دکھائی دیتے تھے۔کاردار صاحب کے ہاں تعلقات انسانی کا بہت شعور تھا۔وہ انہیں برتنا بھی بہت خوب جانتے تھے۔ دوستوں سے ملنے خود ہی روانہ ہوجاتے تھے۔ان کی زندگی اسکینڈلز سے بہت دور رہی۔اس حوالے سے وہ بہت باوقار تھے۔عمران کو دیکھیں تو لگتا ہے کرکٹ سے دوری کے باوجود ان کے مزاج اور diction پر ڈریسنگ روم والی سادگی ، عجلت،بے تکلفی غالب ہے ان میں تواتر سے نتائج پیدا کرنے والی سوچ کو پیدا ہونے میں وقت لگے گا۔ نہ انہوں نے اپنی تقریر پر اوباما ویسی محنت کی ہے   کہ لگے انہوں نے کبھی ملائشیا کے ڈاکٹر انور ابراہیم، کو بی بی سی کی لز ڈوسیٹ جیسی کٹھور کاٹ دار عورت سے محو کلام دیکھا ہے، اپنے عظیم احتجاج کے  ساتھی طاہر القادری سے بولنا سیکھا ہو۔،نہ ان کا شعور art of governance میں بھارت کے بے مثال وزیر اعظم داکٹر من موہن سنگھ جیسا matureاور دور بیں ہے۔سر دست ان کا حملہ علامات پر ہے اسباب پر نہیں۔ سو دن کےپندرہ فیصد ایام بے نتیجہ رہے ہیں حالان کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اننگ کے آغاز میں وکٹین لینا بہت آسان ہوتا ہے۔اس وقت ان کا کرپشن،انتطامی درستگی اور پکڑ دھکڑ کا ہر فیصلہ سابقہ ریکارڈ کا بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے جنتا سر آنکھوں پر بٹھاۓ گی۔

کاردار صاحب کے مقابلے میں عمران خان کی سوچ بھی قدرے غیر یقینی اور ڈھل مل سی ہوتی ہے۔وہ بہت جلدی یو ٹرن لینے کے عادی ہیں۔یہ برائی نہیں۔ایک اوور میں چھ گیند کرانے والے بالر کو ہر مرتبہ اپنی لائن اور لینتھ بدل کر بیٹسمن کو آؤٹ کرنے کی کوشش کرنا پڑے تو اسے حکمت عملی تو کہا جاسکتا ہے مگر نادانی اور متلون مزاجی نہیں۔اسی طرح انہیں کھلاڑی،فیلڈ اور بیٹنگ،بالنگ  لائن اپ بدلنے کی بھی گھٹتے بڑھتے اسکور کی وجہ سے مستقل چینج کرنے کی عادت ہوتی ہے۔۔ Trial and Error کا یہ طریق کار پاکستان کے روایت پسند،خاندانی سیاست سے جڑے اپنے پارٹی لیڈر کی جوتیوں میں پانی پینے والے سیاست دان نہ اس سیماب صفت متلون مزاجی کو سمجھ سکتے ہیں نہ ہی اسے ٹھیک سے برت سکتے ہیں۔

عمران خان کاردار صاحب کی نسبت مردم شناسی میں بھی کوئی ایسا خاص ملکہ نہیں رکھتے ۔ ملک کے وزیر اعظم بننے کے بعداور اتنی بڑی کامیابی کے بعد جو ان کے چاہنے والوں نے بات نوٹ کی وہ ایک مناسب ہوم ورک کی کمی تھی۔ پنجاب کے وزیر اعلی سے کابینہ اور اپنے اہم ترین بیورو کریٹس کے معاملے میں ان کا ہوم ورک اور حسن انتخاب بہت ہلکا دکھائی دیا۔ خواتین کو ریزرو سیٹیں بھی اندھوں  کی ریوڑی کی مانند بانٹی  گئیں۔ایک لاہور شہر پورے پاکستان پر بھاری پڑگیا ۔چن چن کر ہر ایم این اے ایم پی اے کی   سالی،خالہ،ممانی،بھابھی،پھوپھی اور بھانجی کو سیٹ پکڑادی۔وہ جو دس بجے رات کے جلسے میں فجر کی اذان پر شرکت کے لیے گھر سے نکل پڑتی تھیں ۔کوئی بڑی کھلاڑی،کوئی ڈاکٹر،کوئی فنڈ ریزر، کوئی فن کارہ ،کوئی بیرون ملک میں نمایاں نام رکھنے والی ان کے معیار قابلیت پر نہ جچی۔۔یہ بہت ہی بھونڈی تقسیم ہوئی۔ کسی بھی گھرانے کا ایک سے  زیادہ فرد پارٹی یا اسمبلی میں نہیں ہونا چاہیے۔تین میں سے دو خواتین وزیر کرپشن اور قرضے معاف کرانے جیسے گھناؤنے الزامات سے لتھڑی ہوئی۔اس حوالے سے عمران خان First Impression is the last impression والے رہنما نظر آئے اور یہ First Impression بھی بیوروکریسی کی حد تک تو محض سنا سنایا اور انتخاب براہ راستہ سماعت دکھائی دیا۔یوں وہ ایک ایسے انسان دکھائی دیتے ہیں جوجلد بھروسہ کرتے ہیں اور نقصان پہنچنے پر خود دل سے دل کی بات کرکے بغیر روئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف، زارداری اور الطاف حسین کے ہاں تو دھوکا دینے والے کو گلے لگانے کے لیے ہر وقت خودکش بمبار اور بوریاں تیار رہتی ہیں ۔اس وجہ سے ان تین کی پارٹیوں میں Betrayal پر ایک ہی نعرہ لگتا ہے کہ قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے۔یہ سب میکاولی کے اس مقولے پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ رعایا حاکم سے خوف لازما’ً کھائے اگر محبت نہ کرے تو مضائقہ نہیں لیکن اگر ساتھ ساتھ محبت بھی کرے تو بہتر ہے۔ایک عمدہ صورتحال تو یہ ہے کہ اس سے لوگ خوف بھی کھائیں اور پیار بھی کریں۔
“It is better to be feared than loved, if you cannot be both.” Thus the ideal situation for a ruler is to be both feared and loved.

جب کہ عمران خان اپنی سیاسی اور نجی زندگی سے ہاں میں  داغی ہوں قسم کے بے وفاؤں کو جب علیحدہ کرتے ہیں تو ہمارے جیسے نکتہ چیں کرکٹ کمینٹری کی اصطلاح میں کہتے ہیں Well -Leftیوں وہ خوف سے بے نیاز ایک پہیے کی سائیکل پر سوار نظر آتے ہیں ورنہ سائے کی طرح ساتھ لگا رہنے والا عون چوہدری یوں کیوں حلف والے دن راندہء درگاہ ہوتا کہ اس کا روزہ مغرب سے آدھا گھنٹہ پہلے ٹوٹنے کا مسجد کے مائیک سے اعلان  ہوتا۔

عون چوہدری

کاردار صاحب کی نسبت عمران خان میں نرگسیت اور خود پسندی بہت ہے۔وہ پہلے اپنے Looks کی وجہ سے یونانی دیوتاؤں جیسے تھے۔ بعد میں کرکٹ اور کرکٹ سے جڑی شہرت نے انہیں ایک طویل عرصے تک مرکز نگاہ بنائے رکھا۔
کاردار کا دور بھی کچھ اور تھا کرکٹ سے ریٹائر منٹ کے بعد وہ اس کھیل کو پاکستان میں آرگنائز کرنے میں لگ گئے۔ اس دور کے میڈیا کا آج کل والا پھیلاؤ بھی نہ تھا۔کاردار صاحب نے آئل اینڈ گیس میں بہت کام کیا مگر پس پردہ۔کینیڈا کی کئی کمپنیاں ان کی وجہ سے اس کام میں پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری پر رضامند تھیں مگر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی انا اور ان سے وابستہ افراد کی کرپشن کی وجہ سے اس سیکٹر میں خاطر خواہ ترقی نہ ہوپائی۔
کاردار صاحب کو اپنے دوست مسعود کھدر پوش آئی سی ایس کی وجہ سے پنجابی زبان اور کسان اور زراعت سے خصوصی دل چسپی ہوگئی تھی ۔یہ کھدر پوش وہی تھے جنہوں نے سر فرانسس مودی جو سندھ کے آخری گورے گورنر تھے لکھ بھیجا تھا کہ وہ اپنے دورے پر اگر نواب شاہ کلب میں بیٹھ کر شراب پییں گے تو وہ بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اس بات کا اختیار رکھتے ہیں کہ کھلے عام شراب نوشی کے جرم میں گرفتار کرلیں۔ہم نے اس خط کو انٹرنیٹ پر ڈھونڈا مگر ممکن ہے کہ وہ ان خطوط میں محفوظ ہو جو سر فرانسس موڈی کے حوالے سے British Library: Asian and African Studies  میں رکھے ہوئے ہیں۔

مسعود کھدر پوش

یہ کاردار صاحب ہی تھے جن کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب نے کرکٹ کے ساتھ زراعت کے شعبے میں بھی ایسی مہارت حاصل کرلی کہ ملک خدا بخش بچہ،خورشید صاحب،اور جہانگیر ترین جیسے زمین اور زراعت سے جڑے افراد بھی ان کا لوہا مانتے تھے۔حالانکہ ڈاکٹر صاحب نفیسات میں ایم ایس۔سی ایس پی۔معاشیات میں برمنگھم یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی تھے۔

ایم سی سی کا صدر دفتر

کاردار صاحب اور ہمارے محبوب قائد عمران خان دونوں کو انگریز اشرافیہ کی بہت سمجھ ہے۔انگریز اشرافیہ ہماری اشرافیہ کی طرح۔فراری کی اسپورٹس کار میں ڈرائیور کے  ساتھ بیٹھ کرگجرانوالہ کے چڑے اور مزنگ کی مچھلی کھانے والے,،شلوار قمیض میں لتھڑے پہاڑیے نہیں، گو کہ اخلاقی طور پر دونوں ہی بدحال ہیں۔میڈیا اب کیمرے کے کشکول اٹھائے ہر جگہ فقیر بن کر کھڑا نہیں ہوتا مگر ہم نے ڈاکٹر صاحب سے سن  رکھا ہے کہ رولس رائس والی بی بیاں کاردار صاحب کا بھی لندن کی برفباری میں ایم سی سی کا اجلاس ختم ہونے پر انتظار کرتی تھیں۔۔
یہی کچھ معاملہ آپ نے عمران خان کے حوالے سے دیکھا ہے کہ نادان ایک زمانے تک کیسے ماں باپ کی دولت کے انبار پرس میں ڈھیر کیے قیمتی شوفر والی کاروں میں سامان لادے پیچھے پیچھے پھرکنی بنی گھومتی تھیں۔

فراری
کاردار صاحب کا زمانہ ۔۔۔۔ ماہی آوے گا

اشرافیہ کی گوریاں بہت مغرور ہوتی ہیں۔ کئی مرتبہ جب ٹیم کا انتخاب  ہوجاتا تو اس کی فائنل منظوری کے لیے عمران خان کی رضامندی کا انتظار کیا جاتا۔ان کی قدافی یا نیشنل اسٹڈیم والے دفتر میں آمد سے پہلے یہ تینوں ہماری موجودگی پر معترض نہ ہوتے جس کا واحد جواز وہاں ڈاکٹر ظفر الطاف کی موجودگی ہوتی۔ہمیں توآپ بس شاہ کا مصاحب سمجھ لیں ورنہ ہم کہاں کے دانا،کس ہنر میں یکتا۔ شہر میں ہماری کیا آبرو ۔جیسے ہی علم ہوتا کہ عمران خان آگئے ہیں ہمیں ڈاکٹر صاحب بورڈ کے کسی عہدے دار یا کھلاڑی کے ساتھ علیحدہ کمرے میں بھیج دیتے تھے۔

انگریز اشرافیہ کی بت مغرور لیلی

ڈاکٹر صاحب کے مرد و زن مہربانوں ،ستم گاروں کے احوال حسنہ اور قبیحہ سبھی سے بخوبی واقف ہونے   کے باوجود بھی یہ نہیں ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے ہمیں کبھی ٹیم کے حوالے سے معمولی سی بھی سن گن دی ہو یا کسی کھلاڑی کو ڈسکس کیا ہو۔
ان دونوں صاحبان کو ڈاکٹر صاحب جیسے ٹکسالی (مستند ،کھرے)بیورکریٹ،عارف علی خان عباسی جیسے نستعلیق مرد اثر و رسوخ اور صلاح الدین یعنی صلو میاں جیسے خوش مزاج اوراور صاحب سلوک و ذوق بھی بہت احترام سے ملتے تھے۔

 

عارف علی عباسی
صلاح الدین، صلو میاں

ہم نے ایک دن ڈاکٹر صاحب کو موڈ میں دیکھ کر پوچھاکہ انہوں نے عمران خان میں ایسی کیا خوبیاں دیکھیں کہ انہیں یقین ہے کہ وہ ایک دن پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر بن جائے گا۔تب تک ڈاکٹر صاحب کی ملاقات فیاض الحسن چوہان، عثمان بوزدار، جیسے نورتنوں سے نہیں ہوئی تھی۔
ہمیں وہ بات بتائیں جو کھلاڑی،بیوروکریٹ اور نفسیات کے سکہ بند طالب علم کے طور انہوں نے عمران خان میں دیکھی ہو۔کہنے لگے اس کی تین باتیں تم دیکھنا اسے ایک دن اس ملک کا وزیر اعظم بنادیں گی۔اس کی۔قوت ارادی (Intent) ثابت قدمی( Determination ) اورجرات مندی(courage)۔ہم نے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ بطور کرکٹر عمران خان کے سامنے کرکٹ کے کھیل سے جڑے کچھ ایسے اسباق بھی ہوں گے جن سے میدان سیاست میں بھی براہ راست فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو۔
کہنے لگے کیوں نہیں۔کرکٹ سے براہ راست وابستگی کی وجہ سے عمران کو اسپیڈ کا بخوبی اندازہ ہے۔ وہ خود بھی سو میل کی تیز  رفتار گیند کرانے کے چکر میں تھا مگر مختلف انواع کیinjuries نے یہ مہلت نہ دی۔ شعیب اختر کی   سن2003 والی گیند جو انہوں نے 161.3 کلومیٹر کی رفتار سے ڈربن جنوبی افریقہ میں انگلینڈ کے بیٹسمن کو پھینکی تھی۔ سو کرکٹ ایک لحاظ سے آئس ہاکی اور ٹیبل ٹینس جیسا تیز رفتار کھیل ہے۔یہ اسپیڈ اور کنٹرول کا سبق ہے۔جب موقع آئے گا تم دیکھنا وہ کیسی اسپیڈ پکڑتا ہے۔ڈاکٹر صاحب زندہ ہوتے تو ہنس کر کہتے”یار آئی ڈی عمران نے نہلے دہلے ایلے میلے
Electables پارٹی میں گھسیڑنے کی بہت اسپیڈ دکھائی۔

شعیب اختر

اب اس کھیل کی سست رفتاری کا اندازہ کریں یہ اعزاز بھی خیر سے پاکستان کے پاس ہے کہ حینف محمد نے 223,گیندوں پر صرف 20 زنز بنائے تھے۔یہ صبر کا مقام ہے۔ حیرت ناک طور پر استقامت’(PERSEVERANCE )عزم(DETERMINATION)اور(TENACITY)یعنی کس بل اور مقصدیت کے معاملے میں ہٹ دھرمی کا انمول مکس ہے جو ایک ایسی شخصیت سے جڑا ہے جس پر سر تا سر Charisma کا سایہ مہربان ہمہ وقت چھایا رہتا ہے۔ان کے قریب قریب جدو جہد بے نظیر بھٹو کی تھی مگر باپ کی پھانسی اور سندھی ووٹ یہ دو فوائد انہیں پہلے ہی سے حاصل  تھے اورپیپلز  پارٹی آج بھی اسی کی کمائی کھا رہی ہے ۔ والد سے قربت نے ایک طویل عرصے تک ا بے نظیر بھٹو کی سیاسی تربیت بھی کی تھی جو عمران خان کو تو سرے سے میسر ہی نہ تھی۔ اس لحاظ سے کسی رہنما نے بائیس برس تک ایسی تن تنہا جدوجہد نہیں کی جتنی عمران خان نے اس مقام تک پہنچنے میں کی۔

ان کے ناقدین یہ سوچ لیں کہ یقیناً  اسٹیبلشمنٹ کی رائے ان کے بارے میں مثبت ہوگی مگر یہ کہنا کہ ان کے وزیر اعظم بننے میں خلائی مخلوق کا بڑا ہاتھ ہے یہ زیادتی ہے۔گردن موڑ کر آپ ٹھنڈے دل سے جائزہ تو لیں۔ آپ کو تاریخ کا مطالعہ ظاہر کرے گا کہ بھٹو صاحب نے تو سرکار میں انٹری کے لیے اپنی بیگم نصرت صابونچی نامی خاتون سے دوسری شادی کی وہ گورنر جنرل سکندر مرزا کی بیگم کی رشتہ دار اور ایرانی النسل تھی۔اس کی وجہ سے انہیں گورنر جنرل ہاؤس میں انٹری ملی ۔ وہاں وہ روز انہ بیگم کو لے کر پہنچ جاتے تھے اور سکندر مرزا کے سیکرٹری قدرت اللہ شہاب کی منتیں ترلے کیا کرتے تھے کہ ہو نگاہء کرم شہا ب صاحب نے ہی پطرس بخاری کو کہہ کر بھٹو صاحب کا نام اقوام متحدہ جانے والے وفد میں ڈالوادیا تھا۔قدرت اللہ شہاب کی ہی سفارش   پر پہلے اسکندر مرزا اور بعد میں ایوب خان نے انہیں وزیر بنادیا۔

دوسری طرف فیصل آباد کے زاہد سرفراز جو جنرل جیلانی گورنر پنجاب کے دوست تھے ان کے ذریعے ملک اللہ یار کا پتہ صاٖف کرکے میاں نواز شریف پہلی مرتبہ1985 میں وزیر اعلی بنے تھے۔
آئیں اب کرکٹ کے تیسرے  سبق جو عمران خان کے کام آیا اس کا جائزہ لیں۔
کرکٹ دنیا کا واحد کھیل ہے جس میں ایک کھلاڑی یعنی بیٹسمن کا مقابلہ بہ یک وقت گیارہ کھلاڑیوں سے ہوتا ہے۔ دنیا میں اس سے تنہا کھیل بھی کوئی نہیں کہ ایک بیٹسمن پر ساری نگاہیں مرکوز رہتی ہیں۔سو اس سے زیادہ نہ لائم لائٹ کو کوئی نمٹنا جانتا ہے نہ مخالف ٹیم کے پریشر کو۔جب پنامہ کا ہنگامہ کھڑا ہوا اور تنہا عمران نے نواز شریف کی ناک میں گرم ریت بھرنا شروع کی تو ڈاکٹر صاحب اس دنیا سے رخصت ہوچلے تھے۔
بارہ مئی   2007کو وہ الحمد وللہ بقید حیات تھے،کراچی میں فائرنگ اور غارت گری کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا،برطرف چیف جسٹس افتخار چوہدری کراچی تشریف لائے تھے۔ایم کیو ایم نے ان کی آمد پر جنرل پرویز مشرف کی شہ پر بڑی بدامنی پھیلائی،عمران خان نے اسی دن سی این این پر آن کر پہلی دفعہ الطاف حسین اور ان کی پارٹی کو دہشت گردی کے الزامات سے نوازا جس کے نتیجے میں کراچی پولیس نے وسیم اختر صاحب جو اس وقت سندھ کے وزیر داخلہ تھے عمران خان کے داخلے پر نہ صرف پابندی لگادی بلکہ ایم کیو ایم کی جانب سے عمران خان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔یوں عمران خان وہ پہلے لیڈر تھے جنہوں نے اسٹیٹ پاور کے بغیر ایم کیو ایم کو چیلنج کیا۔

کرنل شجاع خان زادہ خو دکش حملے

ایم کیو ایم سپورٹرز عمران کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے
کوءی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا

ڈاکٹر صاحب ٹیسٹ کرکٹ کے کھلاڑی رہے۔کاردار صاحب کے زمانے سے بطور بن معاوضہ سیکرٹری شروع ہوئے تو توقیر ضیا سے پہلے پی سی بی کے چیئرمین تھے۔ پاکستان میں کرکٹ کے کھیلنے والے بہت معلومات جھاڑنے والے بھی کم نہیں مگر کھیل کی فلاسفی سے ہم نے صرف پانچ آدمیوں کو واقف دیکھا۔ پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار،ڈاکٹر ظفر الطاف،عارف علی خان عباسی،صلاح الدین صلو میاں اور عمران خان۔اس میں اول عبدالحفیظ کاردار اور آخر عمران یعنی دونوں ہی کپتان کی بجائے اسکیپرکہلاتے تھے۔ان کی موجودگی میں ذوالفقارعلی بھٹو سے لے کر نواز شریف کی بھی گھگھی بندھ جاتی تھی۔
پاکستان کے ایک نامور بیوروکریٹ ڈاکٹر طارق صدیقی کو ایک اجلاس میں جب ہمیشہ کے متکبر وزیر اعظم بھٹو نے کسی بات پر بدلحاظی سے ٹوکا تو وزیر تعلیم عبدالحفیظ کاردار نے بھری میٹنگ میں انہیں جتلادیا کہ ان کا سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر صدیقی وزارت تعلیم کے تقاضوں کے بارے میں ان سے زیادہ باخبر ہے۔بھٹو صاحب اس گستاخی پر بہت ناراض ہوئے۔لاہور کی ہیرا منڈی کے ایک مشہور دلال افتخار تاڑی پنجاب کے صوبائی وزیر جیل خانہ جات تھا اسے کاردار صاحب کو بھٹو صاحب کے پسندیدہ الفاظ میں Fix-Up (مزاج درست اور طبیعت ٹھکانے لگانا ) کی ذمہ داری سونپی گئی۔لاہور کا ہر معتبر آدمی ہمیشہ سے کاردار صاحب کا گرویدہ تھا۔افتخا رتا ڑی لاکھ بدمعاش سہی مگر دنیا داری سے ناواقف نہ تھا۔سول سروس کے کچھ افسران اور لاہور کے ایک مشہور پولیس افسر جو کاردار صاحب کے زیر کپتانی فاسٹ بالر تھے یعنی فضل محمود ان کے ذریعے ایسا پیغام پہنچا کہ تاڑی رفو چکر ہوگیا۔

قائد اعظم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طارق صدئقی اور ان کی اہلیہ نگار

نواز شریف جب وزیر اعلی پنجاب ہوتے تھے تو انہیں اپنی دیگر خوبیوں کے علاوہ کرکٹ سے وابستگی کا بھی بہت زعم تھا۔ڈاکٹر ظفر الطاف بتاتے تھے کہ ان کے دور پرے کے رشتہ دار کوئی بٹ جی ریلوے ٹیم کے کوچ تھے۔فرسٹ کلاس کرکٹ میں داخلے کے لیے لازم تھا کہ کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کرکٹ کھیلی گئی ہو۔بٹ جی کو ایک ویسپا اسکوٹر رشوتاً دیا گیا جس کی وجہ سے ان کی ریلوے میں بطور قلی بھرتی ہوئی اور بٹ جی نے انہیں ٹیم میں دے مارا۔

ٹیم میں شریف خاندان کا پسندیدہ کھلاڑیوں کو شامل کرنے پر بہت زور ہوتا تھا۔ اس وقت وہ وزیر اعلی پنجاب تھے۔ جاوید برکی ،صلاح الدین اور ڈاکٹر ظفر الطاف یہ تین حضرات سلیکشن ٹیم کے ممبر ہوتے تھے لیکن انتخابی اجلاس میں عارف علی خان عباسی بھی شریک ہوتے تھے۔ڈاکٹر صاحب اور جاوید برکی بیوروکریٹ تھے اور وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کو براہ راست منع کرنا ملازمت میں دشواری کا باعث بن سکتا تھا۔صلاح الدین میں دنیا داری اور لحاظ بہت کوٹ کوٹ کر بھرا ہے مگر Survivor بھی ہیں۔وہ پی آئی اے سے وابستہ تھے لہذا وزیر اعظم کی سفارش کے آگے ان کا بھی پتہ پانی ہوتا تھا۔لہذا تمام تر سفارشات کو بھی ایک کونے میں لکھ کرسب سے آخر میں عمران صاحب کی بطور کپتان منظوری کی جاتی ۔ ٹیم وہی ہوتی تھی جسے وہ منظور فرماتے۔ اپنا کوئی سفارشی کھلاڑی نظر انداز ہوتا تو نواز شریف جل بھن کر رہ جاتے تھے۔ سو پاکستان کے دو سابق دو وزرائے اعظم یعنی بے نظیر اور نواز شریف کی عمران خان کو ناپسند کرنے کے ڈانڈے آکسفورڈ کی طالب علمی کے دور سے نواز شریف کے وزارت اعلی کے ادوار پر محیط ہیں۔یہ پروردہ مخاصمت تھی۔مت سہل اسے جانو۔پھرتا ہے فلک برسوں۔۔

ڈاکٹر ظفر الطاف مرحوم

ہمارے احباب کا خیال ہے کہ ہم عمران پر کچھ لکھیں۔ان میں ایک دوست تو ایسے ہیں کہ لیڈی ڈائینا سے ان کی دوستی رہی، ان کی ایک دوست اسرائیل کی ایک بہت بڑی طبیبہ اور ان کی دوست جو وفات ناگہانی سے پہلے ہماری بھی دوست بن گئی تھیں یعنی ڈاکٹر کلور لی جن کی لیڈی جمائما سے دانت کاٹے یعنی بچپن کی دوستی ہے۔وہ دوست بھی بضد ہیں کہ ہمارے پاس طالب علمانہ افکار عمران خان پر لکھنے کے لیے اوروں سے نسبتاًبہتر ہیں۔

ڈاکٹر کلور لی،جو اس دنیا سے رخصتُ ہوگئیں

ہمیں عمران خان اپنے شعبہ ہائے خدمات اور کارکردگی میں دیگر پاکستانیوں سے بہت بہتر  لگتے تھے۔کرکٹ،ہسپتال،نمل یونی ورسٹی، سیاست۔ اس میں پہلی قدر دانی کی رم جھم اس وقت برسی جب ورلڈ کپ گھر آگیا۔ ہم نے عمران خان کو اس فائنل میں مکمل حکمت عملی سے آراستہ بطور حوصلہ مند لیڈر کے دیکھا۔وہ میچ جیتنا چاہتے تھے۔میاں داد جیسے Cheeky Runner کو سنبھالنا انضمام الحق جیسے خوابیدہ بیٹسمین کے بس کی بات نہیں، عمران خان نے میانداد کا ساتھ دینے کے لیے خود کو بیٹنگ آرڈر میں اوپر پروموٹ کیا اور سب نے دیکھا کہ ورلڈ کپ پاکستان آگیا۔یہ واحد فیصلہ تھا جس کی جرات مندی نے کھیل کا پانسا پلٹ دیا باقی سب Details ہیں۔

عمران خان کے بارے میں آج آپ ذرا سوچیں تو ان کی کل وکٹیں،سال کے دنوں جتنی بھی نہیں۔کل ملا کے 360 وکٹیں  جب کہ  ان سے سو عدد سے زیادہ وکٹس نیوزی لینڈ کے  کپتان سر رچرڈ ہیڈلی اور بھارتی کپتان کپل دیو کی ہیں مگر دنیائے کرکٹ انہیں بھلا بیٹھی ہے۔ہندوستان کے نامو ر ماسٹر بلاسٹر کھلاڑی ٹینڈولکر کا ریاست بہار کے درالحکومت پٹنہ سے 170 کلومیٹر عطر والیا گاؤں میں ایک مجسمہ بھی نسب ہے جس کی  گاؤں کے لوگ پوجا کرتے ہیں۔ہینڈ سم ہونے کا سوچیں تو آسٹریلیا کے فاسٹ بالر بریٹ لی اور 52 برس کے دھلائی کے پاؤڈر والے وسیم اکرم بھی کچھ کم نہیں۔کھیل کی کوالٹی اور ریکارڈ کا سوچیں  برائین لارا اور سر وویو رچرڈ بھی کسی سے پیچھے نہ تھا مگر وہ بات کہاں مولوی مدن والی ہمارے عمران خان والی۔۔

رچرڈ ہیڈلی
کپل دیو
ٹنڈولکر
سچن ٹینڈولکر کا بت بہار میں
بریٹ لی
وسیم اکرم
برائن لارا
وویو رچرڈ

عمران خان بہت کم عمری میں اپنے انتہائی متاثر کن برسوں (Impressionable Years) میں انگلستان چلے گئے۔لاہور میں ایچی سن کالج میں ان کی اسکول کی تعلیم ادھوری تھی لہذا یہ حصہ انہوں نے رائل گرامر اسکول وورسیٹر سے مکمل کیا ور بعد میں کیبلے کالج آکسفورڈ سے ڈگری لی۔
لاہور کے زمان پارک کے اور بھی لڑکے اور ان کے اپنے خالہ زاد بھائی بھی آکسفورڈ جاچکے تھے۔ان کے اپنے دو کزن جاوید برکی اور ماجد جہانگیر اور ان سب سے پہلے ڈاکٹر جہانگیر خان۔ جب عمران خان آکسفورڈ میں تھے تو وہاں طالب علم رہنما طارق علی کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی گو وہ ان دنوں یونی ورسٹی کے طالب علم نہ تھے مگر academia (یعنی یونی ورسٹی سے منسلک وہ افراد جو معاشرے میں فکری طبقات کے نمائندے ہوں) سے وابستگی گہری تھی۔عبدالحفیظ کاردار کے صاحبزادے شاہد کاردار جو اسٹیٹ بنک کے گورنر بھی رہے۔ وہ بھی وہاں موجود تھے ۔اگر عبدالحفیظ کاردار جو ان دنوں بورڈ کے سربراہ تھے اپنے اصول پر اڑ نہ جاتے تو شاہد کاردار کی آکسفورڈ یونی ورسٹی کی ٹیم کرکٹ میں شمولیت دور کی بات نہ تھی ۔کاردار صاحب کو لگا کہ کہ شاہد کا کیرئر ہمیشہ ان کا مرہوں منت سمجھا جائے گا۔لہذا انہیں کاردار صاحب نے کسی اور سمت کا رخ کرنے کو کہا۔ بے نظیر صاحبہ بھی وہیں پر تھیں اور عالمگیر مسعود بھی۔عالمگیر مسعود کا ذکر کم سننے کو ملتا ہے۔ان کی شادی سعودی عرب کی پہلی خاتون پی ایچ ڈی اور ان کے آئل منسٹر ذکی یمانی کی صاحبزادی مئے یمانی سے ہوئی۔ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کے سب ہی قابل کنوارے(Eligible Bachelors) ان دنوں آکسفورڈ یونی ورسٹی میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔

شاہد کاردار
ڈاکٹر مے یمانی
طارق احمد

ورلڈ کپ کے بعد عمران خان کا شوکت خانم میمورئیل ہسپتا ل کا پراجیکٹ شروع ہوگیا۔یہ ذرا ناممکن سا کام تھا مگر ان کی شخصیت اور مارکیٹنگ کی صلاحیت نے ممکن بنادیا۔کاردار، اور عمران خان اس حوالے سے آکسفورڈ پہنچے اور انہیں اپنی مارکیٹنگ بھی آتی تھی۔آکسفورڈ تو جاوید برکی اور ان کے دوسرے خالہ زاد بھائی ماجد خان بھی پہنچے۔ان دونوں کی کھیل کی صلاحیت محدود تھی اور یوں بھی کرکٹ میں بیٹسمن کا رول بہت کم گلیمرس ہوتا ہے۔

آیئے اب ہم عمران خان کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کی بات کریں ، جو دنیا میں کامیاب مردوں میں بڑا مشترک ہے۔وہ کسی بھی واقعہ اور ہستی سے یک بارگی دور ہٹ جانا۔ٖفاصلہ قائم کرنے کی یہ صلاحیت ضرر رسانی کے امکانات کو کم کردیتی ہے۔ ماہرین نفسیات کو ہرکامیاب انسان میں جو اللہ کی جانب سے عندا لخطا یعنی خطا سے بالا و برتر نہ ہوں ان میں بکمال موجود ہوتی ہے۔ان traits ہی کی وجہ سے انہیں وہ Psychopaths کہتے ہیں۔۔جرائم کی دنیا سے جڑ جانے کے باعث اس اصطلاح کو قدر و منزلت کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا مگر یہ ایک سرجری کا چاقو ہے اس کے کچوکوں کے بغیر جراحی کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ بابر اورنگ زیب، گاندھی،نہرو،جناح، مودی، کینیڈی،کلنٹن،پٹن،یاسر عرفات،بشار الاسد ،صدام،سوئیکارنو، ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان۔امبانی،منشا،کس کس کے نام لیں۔
یہ سب کے سب ” Psychopath شمار کیے جاسکتے ہیں اور ” Psychopathy اتنا برا وصف نہیں۔ دراصل یہ تو ایک پورا نفسیاتی پیکج ہے۔ اس پیکج پر برائی کا کمبل ڈال کر اس کو binary (جفتی،ثنائی یا تحتانی) بنا دیا گیا ہے۔ علمیت کے معیار پر جانچیں تو یہ نرا ایک پیمانہ ہے۔ جب اس پیمانہ پر اسکور زیادہ ہوجائے تو کسی فرد کو اچھا برا کہا جاسکتا ہے۔

ان کی نمایاں خصوصیات میں ایک تو یہ ہوتی ہے جو ہارورڈ یونی ورسٹی کے پروفیسر Joshua Greene نے یہ بتائی ہے کہ وہ moral dilemmas سے جلد جان چھڑانے کا ملکہ رکھتے ہیں
, آپ اگر کیون ڈیوٹنThe Wisdom of Psychopaths پڑھیں تو آپ کو کامیاب لوگوں کی بہت سی ان خصوصیات کی علم ہوجائے گا جو بہت بڑے مجرموں،قاتلوں اور دہشت گردوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کو کامیاب لوگ اچھے نہیں لگیں گے اور مجرم اتنے برے بھی نہیں لگیں گے جتنے اب لگتے ہوں گے۔ ۔کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ان کامیاب لوگوں میں جو کھیل، سیاست، فنون لطیفہ،ادب ہر جگہ پائے جاتے ہیں ان میں  بے خوفی۔محتاط، محدو دہم دردی۔غیر مروج سماجی برتاؤ۔من موجی پن(Impulsiveness) سطحی دل کشی(Superficial charm)غیر معمولی احساس برتری( Grandiose self-worth )۔جھوٹ۔چالبازی ( Cunning/manipulative )۔عدم ندامت۔جنسی بے راہ روی۔مختصر مدت کی شادیاں۔
بہت عام دکھائی دیتی ہیں۔اس حوالے سے بھارت میں ایک جوک پچھلے دنوں بہت مشہور ہوا کہ ایک نامور اور مستند psychopath مودی جی سے پوچھا گیا کہ ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز کیا ہے۔ہنس کے کہنے لگے کہ روزانہ ایک سیر گالیاں کھانا اور اور بیوی سے جلد نجات۔

wisdom of psychopaths

جن افراد کے نام اوپر مذکور ہیں اور جو تھوڑے بہت کامیاب افراد آپ کی زندگی میں بھولے سے چلے آئے ہیں ان کو آپ ان انسانی خصوصیات کی سان پر چڑھائیں (سان بمعنی دھار تیز کرنے کا آلہ)تو ان تمام افراد میں یہ خصوصیات بدرجہ اتم نظر آئیں گی۔تجارت،سیاست،حاکمیت، عدالت،کھیل کے اونچے مراتب پر فائز ایسے ہی افراد کا غلبہ ہے۔اس میں تشدد شامل ہوجائے جو تو پھر یہ مجرم، ڈاکواور سیریل کلر بن جاتے ہیں۔
ان سب کی گھریلو زندگی ویسی نارمل نہیں ہوتی جو ایک عام جوڑے کی ہوتی ہے یعنی Hatch, Match and Dispatch (پیدا ہوجاؤ،شادی کرلو اور دنیا چھوڑ دو)۔ان افراد کے ہاں پرائمری تعلقات کمزور ہوتے ہیں کیوں کہ انہیں Manipulate کرنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ ممتا کی ماری ماں تو باآسانی Manipulateہوجاتی ہے مگر بھائی، بہن اور اولاد جوں جوں ایک دوسرے پر دار و مدار کی حدود سے نکل آتے ہیں تو موقع پڑنے پر ایسے ہوجاتے ہیں کہ ہر وقت آپ کو سورۃ یوسف کی آیت نمبر دس میں استعمال ہونے والی اصطلاح غیبات ال جب یعنی اندھے کنوئیں میں پھینکنے سے بھی نہیں چونکتے۔یہ تو صرف ہمارے اعلی ظرف نواز شریف اور پرویز خٹک ہیں جنہوں نے زندہ اور مردہ ہر رشتہ دار کو اسمبلی میں پہنچاکر مال بنانے کا پورا پورا موقع  دے رکھا ہے۔ورنہ بڑے آدمی کب کسی کو یاد رکھتے ہیں۔ہمیں خود آج تک ایشوریا رائے نے اور شکیرہ نے کبھی فون تک نہیں کیا حالانکہ ہم  نے اس سے اور شیخ احمد دیدات صاحب سے ملنے جنوبی افریقہ اور شکیرہ کا گانا And my hips dont lieلائیو دیکھنے کے لیے میونخ کا سفر کیا تھا۔

شکیرہ
ایشوریا

دنیا بھر کے Psychopaths میں یہ امر بہت عام ہوتا ہے کہ انہیں لوگوں کو رجھانا آتا ہے۔ان کی نگاہ ہر وقت اپنے ہی مفاد اور ترقی کے اہداف پر رہتی ہے۔فیصلہ کرتے وقت انہیں غیر ضروری بوجھ کو اتار کر ایک طرف رکھنا بہت عمدہ طریقے سے آتا ہے۔ آپ نے حلف برداری والے دن جس طرح نعیم الحق اور عون چودھری دھبڑ دھوس ہوئے وہ سب نے مختلف کلپس کی صورت میں دیکھ لیا۔ایسے ہی وزیر اعظم بننے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے جس طرح اپنے معتمد رفقائے کار جے اے رحیم،معراج محمد خان،حیات محمد خان شیر پاؤ کو کونے میں ڈالدیا اس کا حوالہ بھی عجیب ہے۔ بنگلہ دیش کے مجیب اور اسٹالن کو جب ان کے صاحبزادگان کے زخمی ہوکر مرنے کی خبر دی گئی تو وہ ان سے اتنے نالاں تھے کہ انہوں نے کہا مرنے دو سالوں کو۔
ورلڈ کپ 1992 کی جیت عمران کے کرکٹ کے کئیریر کا نقطۂ عروج تھی۔ذہین تھے۔ جان گئے کہ اب کرکٹ کھیلی تو ایک تو چار برس سے پہلے اتنا بڑا کوئی ایونٹ نہیں۔جس کو جیت کر یہ اپنا مزید لوہا منواسکیں۔ویسے بھی وہ چالیس برس کے ہوگئے ہیں تو کرکٹ اب ان کا میدان عمل تو نہیں رہی۔ اس سے مزید وابستگی باعث جگ ہنسائی ہوگی۔ سو یہ philanthropyیعنی خدمت خلق کی طرف مائل ہوگئے۔

یہی ایام تھے کہ ان کی ملاقات کرسٹینا بیکر سے ہوئی جو رچاؤ اور گلیمر کا ایک پیکج تھیں،ایم ٹی یورپ کی ناچتی،تھرکتی، دلوں کی دھڑکن وی۔جے۔۔۔۔عمران خان نے ان دنوں اپنا مغرب میں پروردہ عیش و عشرت کی زندگی سے ذرا دور کھڑے رہ کر اسلام کو بطور دین ہدایت دوبارہ کھوجنے کا سفر شروع کردیا تھا۔

کرسٹینا بارکر

مذہب دنیا کی ایک غالب اکثریت کے لیے حادثہ ء پیدائش ہے۔ جب کہ کوئی بھی مذہب بشمول اسلام کے عقیدہ بالعمل اس وقت تک نہیں بن سکتا جب تک وہ Faith due to Accident of Birth عقیدہ بال حادثہ سے شعوری فیصلہ ( Conscious Choice) نہ بنے۔
کرسٹین بیکر کی کتاب From MTV to Mecca پڑھیں ۔ان کی باتیں سنیں تو لگتا ہے کہ عمران خان سے ایک دعوت میں ملاقات کیا ہوئی ۔ان کی فلسفے کی سابقہ دل چسپی ، مشرقی موسیقی،صوفی تعلیمات اور زندگی کے عظیم حقائق سے لگاؤ کو ایک نیا رفیق سفر مل گیا ۔گیانی کہتے ہیں کہ لڑکیوں سے پہلی دوسری ملاقات میں شبھ شبھ باتیں کیا کرو۔Sweat Nothings قسم کی جن میں ساؤنڈ ایفیکٹ تو بہت سارا ہو اور مطلب کم کم۔یہ کپتان ، کیا اسلام،رقص بسمل،تم ایک گورکھ دھندا ہو رومی،انا الحق قسم کے دفتر گنجلک کھول کے بیٹھ گئے تھے۔ تب ہمیں ایک فلمی شعر یاد آگیا کہ ع
زمانے میں اجی ایسے کئی نادان ہوتے ہیں
وہاں لے جاتے ہیں کشتی،جہاں طوفان ہوتے ہیں

کرسٹینا بیکر۔۔۔۔ ایامِ وابستگی

ان ملاقاتوں کا دائرہ مسافت پاکستان کے جنوبی علاقوں تک پھیل گیا جن سے کپتان کو خصوصی عشق ہے۔ وہ دو تین مرتبہ پاکستان عمران خان کی رفاقت میں پاکستان گھوم چکی تھیں۔ممکن ہے آپس میں آئندہ زندگی کے عہد و پیماں بھی ہوئے ہوں۔ع
کس کو خبر ہے میر سمندر پار کی۔ مگر ایک عجب حادثہ ہوا۔۔1993 کرسٹین بیکر کو لندن میں گلوکار پرنس کا انٹرویو کرنا تھا۔پرنس کا ان دنوں طوطی بولتا۔آسانی سے ہاتھ نہ آتا تھا،بمشکل ایم ٹی وی لندن والوں  نے گھیرا تو ضد لے کر بیٹھ گیا کہ انٹرویو کرسٹین بیکر لے گی۔کرسٹین کا اپنا اپارٹمنٹ ان دنوں کوئی دوست Re-Model کررہی تھی۔یہ لڑکیاں بھی نا۔یہ پیدائشی سنڈریلا ہوتی ہیں۔کدو جیسی سبزی کو لیم بو رگھینی اور فراری سمجھ کر شہزادوں کے چکر میں برباد ہوجاتی ہیں۔اس وجہ سے یہ بی بی بھی عمران خان کے بیچلر پیڈ میں قیام پذیر تھیں۔ہر طرف عمران کی جوانی کی یادیں، تصویر بتاں، حسینوں کے خطوط پاکستانی کلچر کے نایاب نمونے۔ورلڈ کپ سے جڑی یادوں کے جذباتی شہ پارے۔

پرنس
سنڈریلا کی کدو کار
سنڈریلا کی کدو کار

پرنس نے ملاقات پہلے سے طے شدہ نہ رکھی تھی۔اصولی منظوری تھی وقت طے نہ تھا۔پورا اسٹوڈیو رات بھر سے اسٹینڈ بائی اور بک تھا۔اس کی آمد کا دار و مداراس کی رات کی مصروفیات پر مبنی تھا مگر کرسٹین کو لینے اعلی الصبح ایم ٹی وی والوں کی پک اپ آگئی۔

جلد بازی میں شاید کافی کے چکر میں کرسٹین سے چولہا ٹھیک سے بند نہ ہوا۔دسمبر کی اس سرد شام جب وہ واپس آئیں اور چولہا جلانے کی کوشش کی تو ایک شعلہء ایسا بلند ہوا کہ وہ اگر بالکونی سے نہ کودتیں تو جان بچانا مشکل ہوجاتا۔ذرا  دیر میں پورا آستانہء جوانی خاکستر ہوگیا۔ فائرفائٹرز کی مدد سے آگ بجھی تو جائزہ لینے پر کرسٹین کو قرآن العظیم کا نسخہ محفوظ ملا تو وہ ہل گئیں۔وہ بہت دیر تک اس بات پر حیران ہوتی رہیں کہ اس کے ارد گرد کی ہر چیز جل گئی تھی۔اس اپارٹمنٹ کا سامان ہی کپتان کا کل اثاثہ تھا۔باقی سب کچھ تو وہ ہسپتال کو دان کرچکے تھے۔ماضی کی ہر یاد جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئی تھی۔حواس مجتمع کر کے   اگلے دن جب کرسٹین بیکر نے یہ معاملہ عمران خان کے گوش گزار کیا توان کا جواب صرف اتنا تھا

‘al hamdulillah, my sins have been burned! Come to Pakistan quickly[…]
(الحمد و للہ میرے گناہ جل گئے۔جلدی سے پاکستان آجاؤ۔)

عمران کا اپارٹمنٹ

ہمیں اورنگ زیب کی صا حب زادی زیب النساء کا قصہ یاد آگیا،حسین تھیں،شاعرہ بھی تھیں۔مخفی تخلص۔عمر کے آخری بیس سال بادشاہ نے قید کرکے رکھا تھا۔ سی پیک کے چکر میں چی نے ان دنوں بھی لگے تھے سری لنکا ملائشیا کی طرح ہمیں بھی ماموں بنا رکھا ہے سستی سستی چیزوں پر ٹالتے ہیں۔ ایسے ہی سلک روٹ کے کسی قافلے نے بہت قیمتی آئینہ لاکر دیا تھا۔چین کا بنا ہوا۔کنیز زیب النساء شہرزادی کے بناؤ سنگھار کے لیے لاتی تھی کہ ہات سے چھوٹ کر گرا اور پاش پاش ہوگیا۔استفسار پر کنیز نے کہا از قضا آئید چوں آئینہ شکست۔۔۔
جس پرزیب النساء نے مصرعہ موزوں کیا
خو ب شد اسباب خود بینی شکست
اچھا ہوا خود کو ہر وقت تکتے رہنے کا سبب غارت ہوگیا۔
نفسیاتی طور پر سوچیں تو یہ غیر جذباتیت اور عدم ندامت
Psychopath کا خاصہ ہوتی ہے۔نہرو،گاندھی،اسٹالن، عمران خان مادیت سے ماروا ہیں اسی وجہ سے وہ جذباتی بندھنوں سے بہت جلد آزاد ہوجاتے ہیں۔اسی دوران جب یہ سب کچھ چل رہا تھا
عمران خان نے مئی 1995 پیرس میں جمائما گولڈ اسمتھ سے شادی کرلی۔جسے ایک ماہ بعد رچمنڈ لندن میں رجسٹر کرادیا گیا۔یہ ازدواجی بندھن نو سال بعد جمائما کے مطالبے پر ختم ہوگیا۔جمائما نے اپنے اس تعلق ختم کرنے کا سبب پاکستان طرز حیات اختیار کرنے میں ناکامی کو بتایا۔

جمائما اور عمران

امریکی اور برطانوی قانون مین طلا ق دینے والے کو اپنی آدھی دولت سے ہاتھ سے دھونا پڑتا ہے۔اس سے ان کے چہیتے امام بھی بچ نہیں پائے پرنس کریم آغا خان کو اپنی دو عدد بیگمات سلیمہ اور انارہ کو ان سے طلاق کے وقت کروڑوں پاؤنڈز ملے ایسا ہی معاملہ گلوکارہ مڈونا کا ہوا جس نے اپنے برطانوی شوہر کو دو کروڑ بیس لاکھ پاؤنڈ کا چھٹکارا الاؤنس بھی عطا کیا۔
جمائما بھی پشتینی رئیس ہے۔ہم نے پیر مسعود چشتی سے پوچھا جو عمران کے پرانے دوست تھے کہ عمران نے ایک اندازے کے مطابق سن 2004 میں پاکستان کے حساب سے ایک ہزار کروڑ روپے سے بھی زائد کی رقم طلاق کے وقت کیوں چھوڑ دی وہ چاہتا تو جمائما سے یہ رقم باآسانی اسے مل جاتی۔ پاکستانی تو مسجدوں کے لوٹے گلاس نہیں چھوڑتے تو وہ کہنے لگے کہ”عمران بہت نوبل آدمی ہے۔ وہ Elitist(امارت پسند) ضرور ہے مگر لالچ،ہوس اور پاکستانی مزاج کی عام کمزوریوں سے وہ بہت پرے ہے۔ممکن ہے اس نے سوچا ہو کہ جب یہ بیٹے بڑے ہوجائیں گے تو ان کے دل میں یہ خیال آجائے کہ باپ پاکستانی لالچی مرد تھا۔شاید اسی لیے اس نے ہماری ماں کو اتنی بڑی رقم ہڑپ کرنے کے لیے چھوڑا۔ایسا خیال عمران کے لیے موت کا سامان ہوتا۔
ان دونوں میں طلاق کی ایک وجہ سے عمران خان کی سیاست میں بڑھتی ہوئی دل چسپی تھی2002 میں جب عمران خان کو ویسی کامیابی حاصل نہ ہوپائی جس کے وہ خواہشمند تھے تو ازدواجی تعلقات میں اس دباؤ کی وجہ سے دراڑیں پڑنے لگیں جنہوں نے دو سال بعد طلاق کا دکھ بھرا روپ دھار لیا۔

اس کی صورت بھی دھیان سے اتری

جمائما کو پاکستان کے سیاسی ماحول کا تب تک بخوبی اندازہ ہوچلا تھا۔ انہیں خیال ہوا کہ ایسے ماحول میں عمران خان کا سیاست میں کامیاب ہونا ناممکن ہے ۔یہاں خاندان،جاگیردارانہ نظام،بے اصولی اور تشدد کا بہت اہم کردار ہے وہ لوگ جو عمران خان کے کردار کی توانائی، اس کی ثابت قدمی اور دھن کا پکا ہونے کے اوصاف سے واقف نہیں وہ ان دوجوابات سے جو انہوں نے  اپنی اہلیہ جمائما کو دیے ان سے ان کے شوق ،لگن ،مقصدیت اور جنون کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے ۔عمران خان سے منسوب کرکے وہ یہ کہتی ہیں کہ اس سوال کے جواب میں کہ وہ اپنے کامیاب ہونے کو کتنا وقت دیتے ہیں اور مسلسل ناکام ہونے کی صورت میں کس وقت میں اس سے کنارہ کش ہونا پسند کریں گے تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو ایک خواب ہے اور خواب کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہوتا۔۔

دوسرا سوال ایک بہت بڑا خدشہ تھا جو ان کی جانب سے ظاہر کیا گیا وہ یہ تو جانتی تھیں کہ پاکستان بننے کے بعد ان کے سسرال میں فوجی اور بیورکریٹ ڈاکٹر وغیرہ تو دکھائی دیتے تھے مگر میدان سیاست میں اس گھرانے کا کوئی فرد ا دور دور تک دکھائی نہ دیتا تھا۔جمائما پریشان تھیں کہ ایسی صورت میں عمران خان درپیش رکاوٹوں کو کیوں کر عبور کرپائیں گے۔عمران کا جواب حیران کن اور بہت ہی دل کو باندھ کر رکھنے والا تھا۔ وہ کہنے لگے یہ جو ہمالہ کا ماؤنٹ ایوریسٹ ہے یہ اس وقت سے زمین پر موجود ہے جب سے یہ کائنات وجود میں آئی تھی۔اس پہاڑ کی چوٹی کو تب سے 29 مئی1953 تک کسی نے سر نہیں کیا تھا۔کائنات میں کوئی مثال ہی نہ تھی مگر نیوزی لینڈ کے سر ایڈمنڈ ہلری نے اسے اس دن سر کیا۔کسی بھی مہم کو پہلی دفعہ سر کرنا ہی سب سے بڑی جرات مندی اور دانائی ہے سو مجھے اس حوالے سے پرانی مثالوں کا نہ ہونا پست حوصلہ نہیں کرتا

ماؤنٹ ایورسٹ
سر ایڈمنڈ ہلاری ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے پہلے انسان جو عمران خان کے لیے مثال بنے

جمائما جنہیں وہ پیار سے Jem پکارا کرتے تھے کہنے لگیں چلو مجھے یقین ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے۔
ہم نے جب ڈاکٹر کلور لی سے پوچھا کہ تمہاری دوست جمائما اب بھی انسٹا گرام اور ٹوئٹر پر خان کا لاحقہ (Handle) کیوں استعمال کرتی ہے تو وہ اس نے عمران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جمائما کے نزدیک یہ شادی Workableنہ سہی مگر ان کا رشتہ ہمیشہ سے بہت Loveable ہے۔اس دن ہم نے بہادر ظفر کا وہ شعر کئی مرتبہ آئینہ دیکھ دیکھ کر پڑھا کہ ع

خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاکِ در ِجانانہ بنایا ہوتا۔۔۔
کوئی محرومی سی محرومی ہے

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط3

  1. محمد اقبال دیوان صاحب! ابھی ابھی میں نے تینوں حصے ایک ساتھ پڑھے ہیں۔ سچ کہوں تو حسد بھی ہوا ہے اور احساسِ کمتری بھی۔ مداح تو میں پہلے سے ہوں۔ آپ میں بہت سے کمال یک جا ہیں جو خود آپ کو بھی ایک سائیکوپیتھ کا روپ دیتے ہیں۔ میں ان کالموں کو ایڈٹ کرتا تو شاید کچھ اشعار اور محاورے نکال دیتا تا کہ کچھ زیادہ کا تاثر کم ہو جائے۔ لیکن یہ خیال بھی آتا ہے کہ اسے اسلوب کے خانے میں کیوں نہ رکھوں۔ جو بھی ہو چسکے کا جوہر تو پکّا ہے، اب میں بھی انتظار میں رہوں گا۔ Inam Rana شکریہ، آپ توجہ نہ دلاتے تو شاید میں متوجہ نہ ہو پاتا

Leave a Reply