صحافت کے نیم حکیم ۔۔۔۔۔محمدعبدالصبور ملک

بنی نوع انسان کی اس کائنات میں آمد کے بعد سے ہی ابتدائی دور میں ذرائع ابلاغ کا آغاز ہو گیا تھا،ایک انسان کے دوسرے انسان سے پیغام رسانی کے لئے جو بھی ذریعہ اختیار کیا گیا وہ صحافت کی ابتدائی شکل تھی،جرنلزم کیا ہے؟لفظ صحافت صحیفہ سے نکلا ہے،جو عربی زبان کا لفظ ہے۔اسی لئے آج بھی عرب میں قرآن کو محصف کہا جاتاہے،جس کے معنی کتاب،رسالہ جلد یا کاغذکے صفحے کے ہیں،جو فرانسیسی لفظ جرنل سے اخذ کیا گیا ہے،جس کے معنی روز نامچہ،روزنامہ،بہی کھاتہ یا ڈائری کے ہیں،جس میں اخبارا ورمیگزین وغیرہ بھی شامل ہیں،ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی ایجاد کے بعد اس میں الیکٹرانک میڈیا بھی شامل ہو گیا،ابلاغ کیا ہے نہایت سادہ لفظوں میں ایک انسان اپنی بات دوسرے انسان تک پہنچاتا ہے،جسے باہمی رابطہ بھی کہتے ہیں،اس باہمی رابطے میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے،اس کو آج کے دور میں میڈیا اور پریس بھی کہا جاتا ہے،جنرنلزم کا مطلب کمیونیکیشن آف انفامیشن ہے،جس میں روزمرہ کے واقعات کو تحریر،آواز،تصاویر اور ویڈیو ز کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے،صحیح،درست اور سچائی پر مبنی معلومات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا جنرنلزم کہلاتا ہے۔

ا بتدائی دور سے لے کر چھاپہ خانے کے ایجاد ہونے تک صحافت نے بہت سے ارتقائی مراحل طے کیے ،چھاپہ خانے کی ایجاد گویا صحافت کے لئے ایک اہم موڑ ثابت ہوا،اور دنیا بھر میں اخبارات کا آغاز ہوا،دنیا کا پہلا باضابطہ اخبار1609میں جرمنی سے شائع ہوا،برصغیر میں منورج کے دور سے پہلی باقاعدہ حکومت کے آغاز کے بعد اشوک کے زمانے میں خبروں اور وقائع نویسی کا محکمہ قائم ہوا،شیر شاہ سوری کے دور میں ڈاک کا اعلیٰ  نظام بنایا گیا،جبکہ اورنگ زیب عالم گیر کے دورمیں صحافت کی آزادی تھی،برصغیرکا پہلا مطبوعہ اخبار 29جنوری 1780کو کلکتہ سے انگریزی زبان میں جاری ہوا،1823میں فارسی میں شائع ہونے والے اخبار جام جہاں نما نے اُردو کا پہلا ضمیمہ جاری کیا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے دہلی اُردو اخبارکے نام سے اُردو کا پہلا اخبار جاری کیا، 1857کی جنگ آزدی کے بعد مسلمان او ر ہندؤ ہر دو نے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالا اور کوئی شک نہیں کہ تحریک آزادی میں اخبارات نے کلیدی کردار ادا کیا،مسلم اخبار نویسوں جن میں ابتدائی دور میں سرسید احمد خان اور بعد ازاں حمید نظامی اور ظفر علی خان جسے صحافت کے نابغہ روزگار ہستیوں نے اس پیشے کی اپنے لہو سے آبیاری کی،یہ تہمید اور مختصر تاریخ بیان کرنے کا مقصد ایک اہم نکتے کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے۔

صحافت موجودہ دور میں اس قدر اہمیت اختیار کر چکی ہے،کہ اسے عدلیہ،مقننہ،اور انتظامیہ کے بعد مملکت کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے،لیکن اس چوتھے ستون کا جو حشر ہمارے ہاں ہو رہاہے،اس سے الاامان الحفیظ،جیسے کسی ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے پاس کچھ عرصہ کام کرنے والا کمپوڈر خود کو کبھی بھی ڈاکٹر نہیں کہلا سکتا،جیسے ایک وکیل کے پاس منشی کے طور پر کام کرنے والا وکیل نہیں کہلا سکتا،کیونکہ ڈاکٹر ہو یا وکیل،ہر دو بننے کے لئے عمر کا بہترین حصہ کالجز اور یونیورسٹیز میں حصول علم کے لئے گزارنا پڑتا ہے، بالکل اسی طرح شعبہ صحافت میں بھی دنیا بھر کی جامعات اور کالجز میں تعلیم دی جاتی ہے،جسے ماس کمیونیکیشن،جنرنلزم یا ابلاغ عامہ کہا جاتا ہے،معاملہ صحت کا ہو تو ہم اپنی بساط کے مطابق بہترین ماہر صحت کو ترجیح دیتے ہیں،اسی طرح اگر کوئی قانونی معاملہ ہو تو منشی کے بجائے کسی لائق وکیل کو ترجیح دی جاتی ہے،لیکن دنیا کا اہم ترین شعبہ اور ریاست کا چوتھا ستون اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے میڈیاکی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے،خبر اور تصاویر کی ترسیل اب بہت سہل ہو چکی ہے،لیکن کیا کیجیے اس کا کہ اس ترقی نے شعبہ صحافت میں بہت سی قباحتوں کو بھی جنم دے دیا ہے،ریاست کا چوتھا ستون جس میں کسی زمانے میں پڑھے لکھے،سلجے ہوئے،باذوق اور معیار ی لکھنے والے لوگ آتے تھے اب وہاں ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے در آیا ہے،کوئی شک نہیں کہ اس میں صحافتی اداروں کا بھی بہت ہاتھ ہے،کیونکہ کمرشل ازم اور گلیمر کی اس دنیا میں اعلی صحافتی اقدار اب قصہ پارینہ بنتی جارہی ہیں،افسوس سید احمد خان، حمید نظامی اور ظفر علی خان کی روایتوں کی امین ہماری صحافت اس وقت سرمایہ داروں اور چاپلوسوں کے حصار میں ہے،کسی بھی چھوٹے شہر یا قصبے میں چلے جائیں،رنگ برنگے پریس کلب اور کم پڑھے لکھے انڈر میڑک،پرائمری پاس لوگ اخبار کے نامہ نگار بنے نظر آتے ہیں،چند ایک کو تو میں بھی جانتا ہوں جو خبر لکھنا تو درکنار پڑھنا تک نہیں جانتے،اور اپنی اخبار کے لئے خبر بھی کسی دوسرے سے لکھوانے پر مجبور ہیں،لیکن ایس کئی حضرات کی گاڑیوں،موٹرسائیکلز او ر دکانوں کے باہر بڑے بڑے جہازی سائز بورڈزپر کسی نہ کسی اخبار اور چینل کا نام لکھا ہوتا ہے۔

ایک اور صحافتی قباحت جس کو ذکر نہ کرنا موضوع سے بدیانتی ہوگئی وہ آج کل کھلنے والی نیوز ویب سائیٹس ہیں،جن کے مالکان نے بھی اخباری اداروں اور نیوز چینلز کی دیکھا دیکھی بنا کسی معیار کے ہر ایک کو نامہ نگار،ویڈیو رپورٹر،اور تجزیہ کار بنا دیا ہے،جس سے صحافتی معیار،صحافتی اخلاقیات اور اقدار کا جنازہ نکل کر رہ گیا ہے،رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے،بلا تحقیق جھوٹی خبروں کی بھرمار،اور کسی بھی سیاسی،مذہبی شخصیت کی کردار کشی صحافت کے ان نیم حکیموں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،اور اگرکبھی غلطی سے ان سے کسی پڑھے لکھے اور پیشہ ور صحافی کا واسطہ پڑ جائے تو آگئے سے جو مغلضات سننے کو ملتی ہیں،اس سے ایک شریف آدمی کان پکڑ کر صحافت سے یا توہمیشہ کے لئے توبہ کرلیتا ہے،یاکسی کونے میں دروٹ کے سو جاتا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ڈاکٹر اور وکیل کی طرح شعبہ صحافت میں بھی کسی نامہ نگار،کسی رپورٹر کو بھرتی کرنے کے لئے ایک معیار اور طریقہ کار بنایا جائے،خدارا اس مقد س پیشے کو ان کالی بھیڑوں سے نجات دلائی جائے،وگرنہ اپنی عمر کا بہترین حصہ کسی جامعہ سے صحافت کی اعلی تعلیم حاصل کرنے والوں کی حق تلفی اسی طرح ہوتی رہے گئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *