ریڈیائی شعاعوں کا راز جاننے کیلئے دوربین تیار

جنوبی افریقہ کے اس شمالی علاقے میں سائنسدانوں نے ایک ایسی انتہائی حساس اور گرانقدر دوربین تعمیر کرلی ہے ، جسکا مقصد زمین سے تقریباً روزانہ ہی خارج ہونے والی تیز رفتار ریڈیائی لہروں کے اسرار کو سمجھنا ہے۔ ماہرین ان لہروں کو زمین کے اندر انتہائی گہرائی میں واقع وسیع و عریض خلا کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ حصول مقاصد کیلئے ہائی ریکس پروجیکٹ نامی اس منصوبے کیلئے تقریباً ایک ہزار ایسی سیٹلائٹ ڈشیں نصب کی جارہی ہیں جن میں سے ہر ایک کی چوڑائی 6میٹر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنس کی ترقی اور نمایاں پیش قدمی کے باوجود بہت سے سائنسدان یہ سمجھتے ہیں کہ زمین سے خارج ہونے والی تیز رفتار ریڈیائی لہریں حقیقت میں نامعلوم دنیا کے لوگوں کی طرف سے بھیجے گئے پیغامات ہیں جنہیں انسان اب تک سمجھ نہیں سکا ۔ اس حساس دوربین کی تعمیر کا منصوبہ 2001 میں پہلی بار زمین سے نکلنے والی پراسرار شعاعوں اور ریڈیائی لہروں کا سراغ ملنے کے بعد ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ ایسی شعاعیں اور لہریں زمین سے نکل پر پورے آسمان پر محیط ہوجاتی ہیں، تاہم بہت سارے سائنسدان ایسے بھی ہیں جو ان شعاعوں کو دوسرے عوامل کا نتیجہ بھی سمجھنے اور قرار دینے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس دوربین کو زیادہ موثر اور کارآمد بنانے کیلئے ان سب کو ایک خاص برقیاتی ترسیلی نظام سے منسلک کر دیا جائیگا۔ منصوبے کے تحت آزمائشی بنیاد پر سب سے پہلے جنوبی افریقہ کے کارو شہر میں ڈشیں لگائی گئی ہیں ، جبکہ 3ڈشیں حال ہی میں مغربی آسٹریلیا میں بھی نصب کی جاچکی ہیں ، جو 400میگا ہرٹز سے لیکر 800میگا ہرٹز طاقت تک کی ہیں۔ منصوبے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اب سے 7ارب سال سے لیکر 11ارب سال قبل تک دنیا میں پائے جانے والے ہائیڈروجن کا اندازہ لگایا جاسکے۔

خبریں
خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *