افغانستان میں ہو کیا رہا ہے؟۔۔۔۔۔عارف خٹک/قسط 2

آچین پر بم گرانے کی کارروائی براہ راست نشر کی گئی۔اور بتایا گیا،کہ عراق کے بعد دوسری بار اس بم کا استعمال کیا گیا ہے۔جو شدید مُہلک اثرات رکھتا ہے۔عینی شاہدین کے مُطابق اس بم کی آواز تو کافی گُونج دار تھی۔مگر جس تباہی کا دعوٰی امریکہ نے کیا۔وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ آچین کے جس حصے پر بم گرایا گیا۔وہ روس افغان جنگ کے دوران مُجاہدین کا ٹھکانہ تھا۔ اور آج کل اُن کی چھوڑی ہوئی سُرنگیں پاکستان سے اغوا شدہ افراد کو وہاں رکھنے کےکام آرہی تھی۔آچین کے مغرب میں واقع دیہہ بالا کے اندر داعش بھرپُور طریقے سے افرادی قوت بڑھانے پر اپنی توجہ مرکُوز کئے بیٹھی تھی۔ افرادی قوت میں ان کو پاکستان کے وہ طالبان ہاتھ آرہے تھے۔جو انتقام کی جنگ میں حد درجہ جذباتی ہوئے جارہے تھے۔

2015ء تک لشکِر جھنگوی داعش سے نظریاتی طور پر بہت دُور تھی۔مگر 29 جولائی 2015ء کو ملک اسحاق اور اس کے بیٹوں کے پولیس کے ہاتھوں مبیّنہ ہلاکت نے لشکر جھنگوی کو انتقام کی آگ میں جکڑ لیا۔اور وہ کسی بھی قیمت پر پاکستان کے اداروں کو ٹارگٹ کرنے کی خواہش میں وہ داعش کے بچھائے ہوئےجال میں آگئے۔بلوچستان کے بعد اپنا دوسرا ٹھکانہ اُنھوں نے ننگرہار کو بنا ڈالا۔ دیہہ بالا جو بُلند و بالا پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے،اور پاڑا چنار کے بالکل قریب واقع ہے۔ سو لشکر جھنگوی کی نظریں اب پاڑا چنار پر ٹِک گئیں۔مگر تب تک پاکستان نے اپنی سرحد کافی حد تک محفوظ کرلی تھی۔اور داعش کےلئے پاڑا چنار میں کارروائی کرنا اتنا آسان نہیں رہا۔لشکِر جھنگوی کا رُخ اب افغانستان کے شعیوں کی طرف موڑنے کی کوشش شروع ہونے لگی۔مگر اسی اثناء داعش نے ننگرہار میں موجود لشکر جھنگوی کے کچھ ارکان کو مارڈالا۔جواباً لشکِر جھنگوی نے داعش کے چھ سرکردہ ارکان کو بلوچستان میں قتل کردیا۔ جس کی وجہ سے ان دونوں کا مُختصر سا ہنی مون پیریڈ اپنی اختتام کو پُہنچ گیا۔
2015ء کے اواخر میں پکتیا اور خوست کے علاقوں میں افغان طالبان پر داعش کے حملوں میں شدت آگئی۔ جس میں افغان طالبان کو شدید جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔افغان طالبان ذرائع کے مطابق وہ حیران تھے۔کہ داعش کے جنگجوؤں کے پاس جدید خودکار ہتھیار کہاں سے آئے۔جو اُنھوں نے صرف امریکی فوجیوں کے پاس دیکھےتھے۔جن ہتھیاروں سے افغانستان کی اپنی آرمی بھی بے خبر تھی۔ ہتھیاروں کی اس برتری نے افغان طالبان کے اس شک کو یقین میں بدل دیا۔کہ داعش جنگجوؤں کی پُشت پر بین الاقوامی طاقتیں موجُود ہیں۔

2015ء میں طالبان نے قندوز پر بھرپُور حملہ کیا۔اور اپنی طاقت کا بُہت بھونڈے انداز کا استعمال کیا۔حیرت انگیز طور پر قندوز میں طالبان کو کوئی سرکاری یا امریکی مزاحمت نہیں ملی۔اور باآسانی وہ قندوز شہر پر قابض ہوگئے۔ مگر یہ ان کی تاریخی غلطی تھی۔ پوری دُنیا کی نظروں قندوز پر مرکُوز ہوگئیں۔کُچھ دن بعد سرکاری اور امریکی بمباری سے عوام کا کافی جانی نقصان ہوا۔اور قندوز کے ہی ایک ہسپتال پر امریکی فرینڈلی ہوائی حملے نے سینکڑوں جانیں ضائع کردیں۔ افغان آرمی اور طالبان کی دُو بدُو لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان عوام کو اُٹھانا پڑا۔ لہٰذا ایک عام افغانی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا۔کہ اگر طالبان اس قسم کی حرکت نہیں کرتے،تو عوام کا اتنا نقصان نہ ہوتا۔قندوز پر قبضے سے طالبان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا،بلکہ اُلٹا اُنھیں عوام کے غم وغصے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ افغانستان میں یہ ایک عمومی تاثر ہے،کہ امریکہ جو غیر مسلم ہے ۔اُس کے کسی بھی عمل کی ستائش نہیں کی جاسکتی۔ مگر طالبان تو افغانستان کے ہیں۔سو ان کو اپنے عوام کا سوچنا چاہیئے۔ حیرت انگیز طور پر قندوز حملے کے بعد جہاں پوری دنیا کی توجہ افغان طالبان پر مرکوز ہوگئی۔ وہاں کابل میں عوامی حملوں کا ایک نیا کلچر متعارف کرایا گیا۔ یاد رہے طالبان کبھی بھی عوامی جگہوں پر کُھلم کُھلا حملوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے۔ یہ ایسے منّظم حملے تھے،جس میں کابل کے گردونواح میں ہزارہ شعیہ کے مساجد اور ان کے اجتماعات کو چُن چُن کر نشانہ بنایا گیا۔ اب کابل میں داعش کی گُونج سنائی دینی لگی۔ طالبان نے ہر موقع پر ان حملوں سے بری الّذمہ ہونے کا اعلان کیا۔اور ان دا ریکارڈ مذمت بھی کی۔

کابل میں واقع ریڈ زون وزیر اکبر خان میں واٹر ٹینکر دھماکے نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔کہ ایک ایسے علاقے میں بارُود سے بھرا ٹینکر کیسے آسکتا ہے؟جہاں عام بندے کا جانا بھی مُمکن نہ ہو۔ کابل میں فرانسیسی ہسپتال پر خودکش حملے نے جلتی پر تیل کاکام کیا۔پہلی بار امریکی فوج اور اس کے جنوبی ایشیاء کے اہم پارٹنر پر اُنگلیاں اُٹھنی شروع ہوگئیں۔ حالانکہ اس سے پہلے پاکستان کا نام دھڑلے سے لیا جاتا تھا۔
گزشتہ تین سالوں میں سوائے ایک ڈرون حملے کے داعش کے کسی بھی ٹھکانے پر کوئی امریکی حملہ نہیں ہوا۔ صرف ننگرہار میں داعش کے بندے ضرور مرے ہیں۔جو اپنی من مانیاں کرتے تھے۔ ان سب باتوں کے باوجود امریکیوں نے داعش کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ اور آہستہ آہستہ داعش اپنی موجودگی ننگرہار سے باہر شمال کے تاجک علاقوں میں دینے لگ گئی۔

(جاری ہے)

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *