بین الاقوامی برادری اور پاکستان و ایران۔۔۔۔نذر حافی

حالات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، تحریک لبیک پاکستان نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، یہ مارچ داتا دربار بھاٹی چوک سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچے گا، تحریک لبیک پاکستان کے قافلے راستے میں مرکزی قافلے کا حصہ بنیں گے۔ یہ مارچ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف کیا جا رہا ہے، گذشتہ روز تحریک لبیک پاکستان کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف روانہ ہونے والا تھا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور پیرنورالحق قادری کی سربراہی میں حکومتی وفد صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور دیگر افسران تحریک لبیک پاکستان کی قیادت سے مذاکرات کیلئے پہنچے اور انہوں نے بانی تحریک لبیک پیر محمد افضل قادری سے مذاکرات کئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ کے وزیر خارجہ کو فون کرکے اس حوالے سے مسلمانوں کی تشویش سے آگاہ بھی کیا ہے، تاہم تحریک لبیک پاکستان کے رہنما پاکستان میں تعینات ہالینڈ کے سفیر کو ملک بدری کے مطالبے پر ڈٹے رہے، جس کے نتیجے میں مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یاد رہے کہ اس معاملے پر او آئی سی کا اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ غزہ کے محصور عوام پر عائد کردہ پابندیاں مکمل اور غیر مشروط طور پر ختم کی جائیں، انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام پر پابندیاں تاریخ کا بدترین ظلم ہیں۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بدستور جاری ہیں، قابض فورسز نے آج صبح ضلع باندی پورہ کے علاقے حاجن کا محاصرہ کیا اور ایک کشمیری کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔ مقبوضہ وادی میں حریت قیادت کی اپیل پر آج مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور غزہ کی طرح یمن کی صورتحال بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے، گذشتہ ہفتے سعودی اتحاد نے حملہ کرکے 22 بچوں اور چار عورتوں کو شہید کر دیا تھا۔

یہ سب کچھ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے، جب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف 2 روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان اور ایران نہ صرف دو برادر ہمسایہ اسلامی ملک ہیں بلکہ دونوں بین الاقوامی برادری کے درمیان ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے، ایرانی وزیر خارجہ کی وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوگی، سیاسی اور عسکری رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ نئی حکومت کے بعد کسی بھی وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہماری خواہش ہے کہ اس ملاقات میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، افغانستان میں داعش کی موجودگی اور طالبان کا ازسر نو فعال ہونا، دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و سائنسی میدان میں ہمکاری، گیس لائن کا ایران سے پاکستان منتقل ہونا، دہشت گردی کی روک تھام، روزگار کے نئے مواقع، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ یمن نیز غزہ کے مسئلے کو بھی زیرِ بحث آنا چاہیے۔

یوں امت مسلہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پاکستان اور ایران کے پاس اتفاق رائے کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ اس وقت ساری دنیا پاکستان کی نئی حکومت کے بارے میں مثبت تاثرات رکھتی ہے، پاکستان کو اس مثبت فضا سے استفادہ کرتے ہوئے بنیادی اور اساسی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ بلا تردید عالم اسلام کی اس وقت جو توقعات پاکستان اور ایران سے وابستہ ہیں، وہ کسی اور سے نہیں۔ لہذا اس دورے کی کامیابی سے پاکستان و ایران کے علاوہ عالمی برادری پر بھی مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں اور عالمی مسائل کے بارے میں بھی پاکستان و ایران کے مابین مشترکات پر ٹھوس کام کی ابتدا ہوسکتی ہے۔ اگر پاکستان اور ایران باہمی تعلقات کو فروغ دیں تو جہاں دونوں ممالک کے مابین اقتصاد، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، روزگار اور دیگر کئی شعبوں میں پیشرفت ممکن ہے، وہیں مشترکات پر توجہ مرکوز کرکے عالمی مسائل کی گرہ کھولنے میں بھی مدد کی جا سکتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *