• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط2

بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط2

تبدیلی کے یوں اچانک آجانے پر اقبال دیوان کا مضمون،

اقبال دیوان ہمارے مومن مبتلا،ایک فقیر راہ گزر ہیں ۔سندھ سرکار کے سابق سیکرٹری اور فورتھ کامن کے افسر ہیں۔ہماری طرح یہ بھی عمران خان کے فدائیان خلق میں شمار ہوتے ہیں
: ایڈیٹر ان چیف۔۔۔انعام رانا
کل اقساط۔ پانچ
موجودہ قسط۔دوسری
عمران خان۔۔۔۔شخصیت
بطور وزیر اعظم۔۔۔۔۔۔مشورے۔جن پر عمل درآمد ہونے کے امکانات بہت کم ہیں
قسط دوم
ا ٓئیں ذرا منظر نامہ بدلتے ہیں۔

جولیٹا ساؤ پاولو برازیل میں ہماری ترجمان تھی۔اس نے گو ہمیں پہلی ہی ملاقات میں سکھادیا تھا کہ برازیل میں جو بھی لڑکی من کو بھائے اس خوب صورت لڑکی کو بونیتا (پرتگالی زبان میں خوب صورت) ضرور کہو ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ آپ کی تعریف کی قطعی مستحق نہیں۔وہ جب یہ سن کر مسکرانے لگے تو شکریہ کے لیے اوبری گاڈا کے الفاظ کہتے ہیں۔یہ دو الفاظ سیکھ جانے پر ہماری خود اعتمادی اسحق ڈار کے بیٹے اور نانی مریم کے بہنوئی علی ڈار جیسی ہوگئی تھی جسے وزیر خزانہ باپ نے اپنے ہی جمع شدہ مال کو ٹھکانے لگانے، نیب کی بری نظر سے بچانے کے لیے قرض حسنہ ہی کی مد میں کروڑوں روپے دان کردئیے تھے اور دوبئی میں اربوں کی جائداد بھی خرید کے دے دی تھی۔

جنرل پرویز مشرف پرتگال اور برازیل کے سرکاری خرچے پر ایام عیش و عشرت گزار کر آئے تھے۔ان کی لٹی محفلوں کی دھول سمیٹنے کے لیے پس  ماندہ اقدامات کے تسمے باندھ کر انہیں عملی جامہ پہنانا تھا اس کے لیے ایک وفد جوڑا گیا، ہم اسٹیبلشمنٹ کے بدکارحصے کو قابل لگتے تھے سو ہمیں بھی وفد میں نظر بٹو کے طور پر شامل کرلیا گیا۔ وہاں انگریزی بولنی ہوگی۔مجالس کی کارروائی کی دستاویزات بنیں گی۔ برازیل میں ہماری بے پناہ میزبان کمپنی کا خیال تھا کہ ساؤ پالو کے بے راہ رو معاشرے میں ہمارے جیسے پاکیزہ صوم و صلوۃ کے پابند اپنی ہی عصمت کے محافظ، جواں امنگوں والے لیونارڈو ڈی کیپرئیو جیسے مرد کا یوں بغیر ترجمان گھومنا درست نہیں۔ سو دفتری امور میں ناکارہ مگر زندگی کی چلت پھرت سے آشنا، اپنی ایک رواں انگریزی اور اسٹریٹ اسمارٹ سیکرٹری جولیٹا کو ہمارے ساتھ نتھی کردیا۔

پرویز مشرف اور برازیلین صدر

 

لیونارڈو ڈی کیپریو

آپ اُسے ہمارا زنانہ کیون کاسٹنر(اگر آپ نے وہٹنی ہیسٹون کی باڈی گارڈ دیکھی ہے) سمجھ لیں ۔عجب Punk (وہ لوگ جو فیشن کے معاملے میں بہت غیر روایتی ہوں) سی عورت تھی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کا طرح اپنے سر پر ہر وقت کوئی نہ کوئی رنگولی رچا کے رکھتی تھی۔گلے میں بڑے منکوں کی مالا،کان، ناک، زبان سب ہی چھدوارکھے تھے اور اس پر ٹریکٹر کے پہیؤں جتنے آویزے۔گردن پر ایک آدھ ٹیٹو بھی تھا اور کلائی میں پاکستان کا اور برازیل کا وقت ایک ساتھ بتانے والی گھڑی۔ پاؤں میں پازیب بھی پہنتی تھی جو اسے کبھی یہاں وفد پر آنے والی کسی خاتون نے دی تھی۔چہرے کے نقوش کچھ کچھ جاپانی تھے مگر قد و قامت بالکل برازیلین افراد جیسی۔بدن مضبوط اور لچکیلا اور اس پر تائی کینڈو کی براؤن بیلٹ۔اسکرٹ اس قدر مختصر پہنتی تھی کہ ہم نے اندازہ لگایا کہ یہ اس کے بچپن کے کپڑے ہیں اور اس کم بخت نے بھی کونسلیٹ کے سپرنٹنڈنٹ نذر الحسن کی طرح پچھلے بیس برسوں میں کوئی نیا  لباس نہیں بنوایا۔۔

کیون کوسٹنر باڈی گارڈ

اس دن جب ہم وہاں ساؤ پالو میں تھے آسٹریلیا اور برازیل کا میونخ والے ورلڈ کپ میں میچ تھا۔ جیولیٹا نے تجویز دی کہ یہ میچ ہوٹل کے کمرے کی بجائے پبلک پارک کے جہازی اسکرین پر دیکھا جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ میچ برازیل جیت جائے گا۔ یہ ہوگا تو وہاں جیت کا ایسا جشن ہوگا کہ وہاں موجود سب ہی جام گھٹکا کر ناچیں گے،۔نیاز و ناز کا ایسا حسین منظر ہوگا کہ غریب اور غریب نواز سب ہی ایک دوسرے کی با نہوں میں ڈول رہے ہوں گے۔شراب کا ذمہ ریاض ملک جیسے سرکار کا مال ہڑپ کرکے کار خیر میں حصہ لینے میں مددگار کئی کالے دھندے اور روشن ضمیر سرمایہ دار وں کا ہوگا۔ وہ وہاں بیئر کے کینز کے کریٹ   والدین کے ایصال ثواب اور تشنگان لب کے لیے تحفتاً پہنچا دیں گے۔میچ کے بعد مجھ سمیت جس دریا پہ ہونٹ رکھو گے تو دریا تمام شد ہوجائے گا۔
اس دعوت مئے نوشی کی وجہ سے ان پاس پڑوس کے فقرا اور مساکین کی Good will بھی حاصل ہوجاتی ہے۔غریب کی دعا بھی مل جاتی ہے ۔ہم سب جانتے ہیں کہ غریب کا حلق تر ہوجائے اور پیٹ بھر جاتے تو دونوں سے نکلی ہوئی دعا سیدھی عرش تک جاتی ہے۔آپ نے تو اشتہار دیکھے ہیں نا کہ بحریہ ٹاؤن کیسے غریب غربا کی دعاؤں کے نقارے بجاتی ہے۔دہلی کی عورتین کہتی تھیں کہ حلوائی کی دکان پر دادا جی کا فاتحہ۔یعنی جہاں مٹھائی رکھی ہو،چپ چاپ کھڑے ہو کر دادا جی کی فاتحہ پڑھ لو۔کھانے والوں کی برکت اور دعائیں خود ہی دادا کو پہنچ جائیں گی۔یہاں حلوائی کی دکان،سندھ سرکار اور فوج کی فیاضی اور زمینوں کو سمجھیں۔

بحریہ کا دستر خوان
ساؤ پالو کا میچ
جیت کا جشن

یہ قبضہ گروپ اور مافیا والے خوب جانتے ہیں کہ سی۔پیک سے پہلے بھی قدیم چینی دانشور کہتے رہے ہیں کہ گھر کے باہر کچھ اناج اور راشن ضرور پھینک دیا کرو تاکہ چوہے باورچی خانے کی
اشیا پر حملہ آور نہ ہوں۔
جولیٹا نے انکشاف کیا کہ ایسے معاملات میں یوں ہوتا ہے کہ برازیل جیت جائے تو ،  ہم بھی انضمام الحق کی طرح سلپ کے فیلڈر ہیں۔نیند کے درمیان کوئی کیچ ہاتھ آجائے تو بلے بلے ورنہ عمران خان کو بھی جتانے سے نہیں چوکتے کہ ایک کیچ چھوٹ گیا تو کیا قیامت آگئی اسکپر جی آپ دیکھو میں نے اسکور کیسا کیا ہے۔

پارک کے گیٹ پر جولیٹا کو اپنے فے ولا(جھونپٹر پٹی۔کچی آبادی) کی دو عدد لڑکیاں مل گئیں۔جولیٹا کو ہمارے ساتھ دیکھ کران لڑکیوں نے ہماری جانب اشارہ کرکے پوچھا کہ”como se diz ele é a Índia? ” (کیا یہ بھارت کے ہیں) تو وہ مسکراکر جواب دیتی” Não ele é de Pakistani” (نہیں یہ پاکستانی ہے)۔ جس پر صرف ایک جواب آتا.” oh Oh ele é da terra de Imran Khan ” (اوہو، یہ عمران خان کی سرزمین سے ہیں) خاکسار کو بڑی حیرت ہوئی کہ کرکٹ کو برازیل میں اتنا ہی جانا جاتا ہے جتناپاکستان میں برازیل کے مارشل آرٹس Capoeira کو۔یقین جانیے اپنے اس ہم وطن کا نام ان تلنگی لڑکیوں کی زبان سے سن کر ہمیں بہت فخر محسوس ہوا کہ ایک ہم وطن وہاں پر اپنے ملک کی شناخت بن گیا تھا۔۔یہ واقعات ہم نے اپنی کتاب جسے رات لے اڑی ہوا میں بیان کیے تھے۔

فے والا
کیپو ایرا
جسے رات لے اڑی

سن تھا 2009ہمارے محسن و مربی ڈاکٹر ظفر الطاف کو ہم نے صرف تین آدمیوں کی Awe میں دیکھا۔ انگریزی زبان کی Awe میں اس لحاظ میں احترام، پسند،سکوت،اعتراف کیا کیا نہیں ہوتا تھا۔
جنر ل مشرف،صدر لغاری،بے نذیر بھٹو جن کے ساتھ وہ بطور بیوکریٹ کام کرچکے تھے۔ان کو تو وہ مذاق میں  اڑا دیتے تھے۔ اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر صاحبہ کی ایک ذاتی دوست اور کیبنٹ سیکرٹری سمیعہ ظفر نے جب لاؤنج میں ڈاکٹر صاحب کو بے نظیر صاحبہ کی آنکھ کے اشارے پر اپنی سیٹ آفر کی تو ڈاکٹر صاحب نے بے نظیر صاحبہ کی طرف مسکراکر دیکھا اور کہا Maam Your seat is bit hot for me قریب ہی پڑا چھوٹا سا اسٹول کھینچ کر یہ کہہ کر بیٹھ گئے کہ
A good bureaucrat always know how to maintain the balance.
ڈاکٹر ظفر الطاف کی اس Awe والی فہرست میں صرف ڈاکٹر اجمل ،عبدالحفیظ کاردار اور عمران خان تھے۔اول الذکر دو افراد آپس میں لاہور کے دوست تھے۔لاہور اور گورنمنٹ کالج کے ساتھی کہیں مل جائیں تو پھر کیا کہنے۔

ڈاکٹر اجمل
عبدالحفیظ کاردار صاحب

جب ڈاکٹر اجمل ،عبدالحفیظ کاردارڈاکٹر صاحب کے گھر لنچ پر آجاتے تو گفتگو کا لیول بہت اونچا ہوجاتا ایسے میں ہم افسر مہمان داری ہوتے۔۔ضیا الحق کا زمانہ تھا ۔ڈاکٹر صاحب ان دنوں کیبنٹ سیکرٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری تھے۔اعجاز نائیک جن کا تعلق 1946 کے آئی سی ایس افسران کے بیچ سے تھا وہ ان کے سیکرٹری تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی قابلیت کی وجہ سے کیبنٹ کے سیکرٹری کنٹونمنٹ سروسز کے نیازی صاحب کو کوئی ایسی خاص اہمیت نہ دی جاتی تھی۔ اسے آپ ایک طرح کا سی ایس پی برہمن ازم بھی سمجھ لیں کہ وہ اپنے گروپ کے علاوہ ہر سرکاری ملازم کو شودر کا درجہ دیتے تھے۔

ایسا ہی ایک لنچ تھا ڈاکٹر اجمل جو وزیر اعظم بھٹو کے سیکرٹری تعلیم تھے وہ اور کاردار صاحب بھی موجود تھے۔ ماش کی دال، آلو گوشت، رائتہ اور تلی ہوئی بھنڈیاں چپاتیوں والا مینو۔غالباً ڈاکٹر اجمل کو بھٹو صاحب کی کاردار صاحب سے ناراضگی والا واقعہ معلوم تھا۔یہ واقعہ ہم نے آگے اسی مضمون میں تاریخی ریکارڈ کے لیے ڈاکٹر صاحب کی زبانی سن کر بیان کردیا ہے۔
کاردار صاحب نے ڈاکٹر اجمل سے پوچھا کہ بطو ر سیکرٹری تعلیم وزیر اعظم بھٹو ان سے کیوں ناراض ہوئے۔یاد رہے کہ ڈاکٹر اجمل ایک نامور academic psychologist تھے۔انہیں فلاسفی کے شعبے میں گورنمنٹ کالج لاہور میں نفسیات کا استاد مقرر کیا گیا تھا۔اس وقت نفسیات کا علیحدہ شعبہ نہ ہوتا تھا۔ڈاکٹر اجمل نے ہی گورنمنٹ کالج میں علیحدہ سے شعبہء نفسیات قائم کیا۔ 1973 میں وہ وزار ت تعلیم میں سیکرٹری مقرر ہوئے تھے۔ فوج میں psychological warfare کا شعبہ بھی انہوں نے ہی قائم کیا تھا اور وہ پنجاب یونی ورسٹی کے وائس چانسلر بھی تھے۔

سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ

ڈاکٹر اجمل کہنے لگے۔ ا فغانستان کے وزیر اعظم سردار د اؤد کو سن 1974, میں سرکاری دورے کے اختتام پر ائیر پورٹ چھوڑ کر واپس آرہےکہ بھٹو صاحب نے مجھے کار میں زبردستی بٹھالیا کہ کچھacademic گفتگو کرنی ہے۔ بھٹو صاحب نے ان کی تحلیلی نفسیات (Analytical Psychology)(،Everyday Psychology)نامی د وکتابوں کا بہت شہر ہ سن رکھا تھا۔پوچھنے لگے کہ ”سردار داؤد گفتگو میں انگریزی کا لفظ ڈی سینٹ (decent) بہت استعمال کرتے ہیں.۔۔میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی فرد اپنی بات چیت میں کسی خاص لفظ کا استعمال بار بار کرے تو وہ تحلیل نفسی کی رو سے اس کی شخصیت کا Key-Word ہوتا ہے۔اس کلیے کی رو سے کیا یہ سمجھنا درست ہوگا کہ وہ بہت نفیس یعنی decentانسان ہیں؟“۔ مجھے ان کی ذہانت اور علمیت پر بڑا پیار آیا کہ وہ کس قدر باریک بیں اور علم دوست رہنما ہیں۔ میں نے کہا ”نہ صرف یہ درست ہے بلکہ میں آپ کی اس کھوج سے بہت متاثر ہوا ہوں“۔ میرے جیسے گنی سے یہ تعریف سن کر بھٹوصاحب کا چہرہ تفاخر اور خوشی سے تمتما اٹھا مگر پھر ذرا توقف کے بعد پوچھنے لگے کہ”آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ میں”آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ میں اپنی بات چیت میں سب سے زیادہ کون سا لفظ استعمال کرتا ہوں۔؟“
عبدالحفیظ کاردار صاحب نے اس پر کہا ”تے فیر تسی چک کے روڑا اودے سر تے دے ماریا“۔
ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ”آہو جی۔ میں  آکھیا سر آپSadist (اذیت پسند )کا لفظ بہت استعمال کرتے ہیں۔ لو جی ایس گل تے میں  اودا تراہ کڈ دتا۔ بس جناب ان کا چہرہ اتر گیا۔جو تھوڑا بہت راستہ تھا اس میں نہ میری طرف دیکھا نہ کوئی بات کی۔پورچ میں گاڑی رکی تو ایک دم ہاتھ ملائے بغیر اندر چلے گئے۔

سردار داؤد

فیصل مسجد کے پاس اس گھر میں ہم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ہمارا اور عبدالحفیظ کاردار کا روم ساتھ ساتھ ہوتا ۔وہ تہجد کے لیے اٹھ جاتے تو ڈاکٹر صاحب خود ان کے اور ہمارے لیے اپنے ہاتوں سے چائے بنا کر لاتے۔اس گھر میں سبھی سحر خیز تھے۔
یاسمین راشد صاحبہ بھی وہاں بیگم صاحبہ کی موجودگی میں کئی مرتبہ آئیں تھیں۔سیدھے لمبے سیاہ ریشمی بال اور حیرت میں ہمہ وقت مبتلا آنکھیں۔ پر اعتماد چہرہ۔وہ اس وقت شاید ڈاکٹری کی تعلیم کے آخری سال میں تھیں۔آتش دان کے پاس بیٹھ کر تب بھی وہ بہت درد مندانہ گفتگو کرتی تھیں۔ان کی شادی ایک ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جس کے ڈاکٹر صاحب کے گھرانے سے دیرینہ تعلقات تھے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد

ایک محفل میں بہت دنوں بعد ہم نے انہیں اور ڈاکٹر صاحب کو دیکھا تو ایسا لگا  کہ ہم کوئی مونالیزا ہیں اور وہ مجسٹریٹ کی موجودگی میں مزار سے نکالے ہوئے لیونارڈو ڈا ونچی۔جنہیں ایک دوسرے کو پہچاننا ممکن ہی نہیں ۔عمران خان نے انہیں پنجاب کا چیف منسٹر نہ بنا کر بڑی غلطی کی۔وہ ہندوستان کی چار صوبائی وزرائے اعلی اور گورنر یعنی ممتا بینر جی (بنگال) مایا وتی (یوپی) جے للتا (تامل ناڈو) اور شیلا ڈکشٹ (گورنر یوپی)جیسی کڑاکے دار اور نو نان سینس وزیر اعلی ہوتیں۔پنجاب میں Crime Against Body بہت ہے۔پاکستان کے ہر صوبے سے بے توقیر پنجاب کی عورت ہے،سب سے غیر محفوظ پنجاب کے بچے ہیں۔ یاسمین راشد کو اگنور کرکے وزیر اعظم نے بہت مناسب فیصلہ نہیں کیا۔جنوبی پنجاب کو اگر ایسا ہی  خوش رکھنا مْقصود تھا تو وہ زر تاج گل وزیر کو اسپیکر بنادیتے وہ بہر حال اسد قیصر سے زیادہ خوش گفتار معاملہ فہم،دلیر، روایت دشمن اور ذہین ہیں۔

مایا وتی
جے للیتا

 

ممتا بینرجی
شیلا ڈکشٹ
زرتاج گُل شوہر کے ہمراہ

مقرر شدہ عثمان بزدار کا مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور ہارڈ کاپی والی سب ڈکشنریاں مک جائیں گی مگر سیکرٹری اور چیف سیکرٹری کی بھیجی ہوئی انگریزی سمری نہیں مک پائے گی۔
اب بیوروکریسی کا عالم یہ ہے کہ جنرل ضیا الحق نے ایک درخواست جنرل ملک غلام جیلانی کے حوالے کی جس پر ان کے انگریزی مین آرڈر درج تھے۔اردن میں فلسطینیوں کے قتل عام کی وجہ سے جنرل ضیا کی انگریزی بہت چست تھی اسی لیے حبیب جالب نے کہا تھا۔ع
فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا
انگریزی میری بلا کی چست ہوتی
بھلا سے میں ا ردو دان ہوتا

عثمان بزدار

یہ ان کے کسی دیرینہ دوست کے پروموشن اور بہتر پوسٹنگ کی درخواست تھی۔موصوف نے اری گیشن کے محکمے میں جنرل ضیا کی سابقہ مداخلت پر بڑا لمبا مال کما لیا تھا۔صدر ضیا کو اس کی اطلاع تھی۔وہ جس پر مہربانی کرتے اس کے پیچھے خلائی مخلوق اور محکمہء زراعت کے لشکر لگا دیتے تھے تاکہ اس کی سرگرمیوں کی پل پل اطلاع ان کو ملتی رہے۔
بہت کم لوگ اس راز سے آگاہ تھے کہ جنرل ضیا کی منافقت اور مفاہمت اس بلند معیار کی تھی کہ کسی دعوت میں اگر آپ انہیں مرتے وقت کلمہ اور کفن نصیب  نہ ہونے کی دعا کرتے تو وہ بھی آپ کی دل جوئی کے لیے اس دعا میں ہاتھ اٹھا کر خشوع و خضوع سے سے شریک ہوجاتے۔بعد میں آپ کو جنگلی سور کی کھال میں زندہ سی کر چولستان کے صحرا میں ہیلی کاپٹر سے پھینکنے میں بھی انہیں کوئی تا مل نہ ہوتا۔یاد رکھیں تمام کامیاب انسان ُPsychopath ہوتے ہیں۔بس جرائم کے لیے میدان اور پیشوں کا انتخاب جدا ہوتا ہے اور جرائم کی نوعیت بھی بڑی ہوتی ہے۔
صدر کے درخواست دہندہ دوست مطمئن تھے کہ اس دستی درخواست پر عمل درآمد کی عجلت میں گورنر جیلانی بھی اپنے باقی ماندہ بال نوچ لیں گے۔انور زاہد چیف سیکرٹری نے یہ درخواست سیکرٹری سروسز کو دی تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ان کی انگریزی کے دانے بھی مک گئے۔ پروموشن اور بہتر پوسٹنگ کی اس درخواست پر لکھا تھا Put him on two horns of the bull and report compliance.اسے بیل کے دو سینگوں پر بٹھا کر عمل درآمد کی رپورٹ کرو

ڈاکٹر ظفر الطاف کہیں قریب ہی پائے جاتے تھے۔احتیاط کے مارے سیکرٹری سروسز نے مطلب سمجھنے کے لیے بہت پڑھے لکھے ڈاکٹر صاحب سے پوچھ لیا کہ Put him on two horns of the bull کا کیا مطلب ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کھڑکی سے ایک بیل گاڑی دکھائی جس میں ایک تنومند نوکیلے سینگوں والا سانڈ جتا ہوا تھا۔ اس کی جانب اشارہ کرکے کہنے لگے”چل میں تینوں اوہدے سینگاں تے بٹھاندا ہاں تے فیر تو ایدا مطلب آسانی نال سمجھ لوے گا“۔اس باتصویر مثال کے سمجھ میں آنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بے مروت،درد نا آشنا، نیم خواندہ بیوروکریسی نے حاکم دوست اری گیشن انجنیئر کو ایسی  جگہ بھیج دیا کہ جہاں رشوت تو کیا وضو کا پانی بھی ڈھونڈنا پڑتا تھا۔وہیں سے ریٹائر ہوا۔ کھاٹ پر لیٹا حقہ گڑ گڑا کر گاتا تھا۔۔دوست، دوست نہ رہا، پیار،پیار نہ رہا۔۔زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا۔

بیل کے سینگ

جنرل ضیا نے پھر اپنے اس دوست سے ملاقات سے ایسے ہی پرہیز کیا جیسا مولانا فضل الرحمن سنی لیونے سے کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن
سنی لیونی

ذرا سوچیں کہ سول سروس کے نسبتاً بہتر علم رکھنے والے افسروں کو جب ضیا جیسے جرنیل کی بی اے پاس کی انگریزی سمجھ نہ آتی تھی تو پنجاب کے اندھیروں کے پروردہ چیف منسٹر کو جن کو پنجاب کی سرکش پولیس اور حسینہ چار سو بیس والی ڈی ایم جی سے صرف اردو زبان میں میز کے دوسرے طرف وقت مانگ کر ملنے کا موقع ملا  ہوگا وہ جب اپنی سمریوں میں Notwithstanding، Albeit or might not conform to the wishes reposed by the electorate and twice removed from ground realities in their present deformity۔double jeopardy, finer sensibilities or miscarriage of justice
جیسی چمتکار والی انگریزی سے واسطہ پڑے گا تو سر پیٹ لینے کی نوبت آئے گی۔گوندل۔ مانیکا گھاؤ ابھی تازہ ہے۔ اس میں ٹی وی کے ایک اینکر جوڑے کے انکشافات کو سچ مان لیا جائے تو معاملات اور مداخلت کے ڈانڈے پردہ بہ پردہ پنہاں، پردہ نشین کے راز عشق تک معاملات جاپہنچتے ہیں۔

سندھ میں تو ممتاز بھٹو اور جتوئی صاحب کے بعد سے ایسے چیف منسٹر لگانے کا رجحان عام ہے جو ریلوے پلیٹ فارم پر گھٹری میں لپٹے بن ماں کے بچے کی صورت میں پڑے ہوئے ملے ہوں۔یہ وہی بچے ہیں جنہیں اسلام آباد ملک بھر کے ریلوے پلیٹ فارموں پر ایسے ہی ڈھونڈتا تھا جیسے رکشے والا اداکار محمود فلم کنوارا باپ میں ایک اندھیاری رات مندر کے باہر پڑے بچے کو دیکھ کر اٹھالاتا ہے ور پھر جھونپڑ پٹی میں جشن کھسرہ ہوتا جس میں صدر غلام اسحق خان سے لے کر بعد کے تمام اہلیان اختیار مل کر گاتے تھے۔۔سج رہی میری اماں جان،سنہری گوٹے میں روپہلی گوٹے میں۔

کنوارا باپ

اب بزدار صاحب کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شہباز شریف کی روح اب بھی ایوانوں میں بھٹک رہی ہے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ اب صرف بڑے بھائی کی بجائے سندھ کی طرح یہاں بھی کہیں انور مجید ٹپی اور آفتاب پٹھان یوں حکم چلاتے دکھائی دیں گے کہ چیف سیکرٹری کو ایئر ٹو ایئر میزائل جیسی فائلوں کو منظور کرانے کے لیے وزیر اعلی اور لرزاں عہدے کی محبت میں لتھڑے ہوئے چیف سیکرٹری کے ناتواں کندھوں پر ہاتھ مار کر کہیں گے۔سائیں ابھی بڑے صاحب کی مرضی والی فائل بھی آپ پڑھیں گے تو سندھ کیسے ترقی کرے گا۔بس چڑیا بٹھائیں مجھے صاحب کے مہمانوں کو بھی ایئر پورٹ سے لینا ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *