نیلسن، اردوان اور عمران۔۔۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا کے آٹھ احکامات نے جنوبی افریقہ کو قوم بنا دیا۔نیلسن منڈیلا مئی 1994ء کو ایوان صدر میں داخل ہوئے تو انہوں نے پہلا آرڈر دیا کہ ایوان صدر اور آفس میں موجود تمام گورے افسر اپنے پرانے عہدوں پر کام کریں گے، کسی گورے کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا۔دوسرا آرڈر تھا میری سکیورٹی کی ذمہ داری انہی گورے افسروں کے پاس رہے گی جو انگریز صدر کی حفاظت کرتے تھے۔تیسرا آرڈر تھا ”میں اپنے مہمانوں کو خود چائے بنا کر دوں گا‘ کوئی ویٹر مجھے اور میرے مہمانوں کو سرو نہیں کرے گا“۔چوتھا آرڈر تھا ”میں اپنے ذاتی گھر میں رہوں گا اور شام کے وقت نائٹ اسٹاف کے سوا کوئی میری ڈیوٹی نہیں دے گا“۔ پانچواں آرڈر تھا”ملک میں موجود تمام گورے جنوبی افریقہ کے شہری ہیں اور جو انھیں تنگ کرے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی“۔ چھٹا آرڈر تھا ”آج سے میرا کوئی سیاسی اور ذاتی مخالف نہیں ہوگا‘ میں اپنے تمام مخالفوں کے پاس گارڈز کے بغیر جاؤں گا“۔ساتواں آرڈر تھا”ملک کی سرکاری میٹنگ میں میرے خاندان اور میرے دوستوں میں سے کوئی شخص شامل نہیں ہوگا“۔ اور آٹھواں حکم تھا کہ میں اس ملک کا ایک عام شہری ہوں چنانچہ میرے ساتھ وہ قانونی سلوک کیا جائے جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے“۔یہ آٹھ احکامات تھے جنھیں جاری ہونے میں چند منٹ لگے اور بدترین خانہ جنگی کے شکار جنوبی افریقہ کو پہلے ہی دن اپنی منزل کا تعین ہو گیا۔ 1994ء تک ساؤتھ افریقہ دنیا کا خطرناک ترین ملک تھا مگرنیلسن منڈیلا کے اقتدار سنبھالنے کے محض ایک سال بعد 1995ء میں ساؤتھ افریقہ میں رگبی کا ورلڈ کپ اور 2003ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ منعقد ہوا اور یہ آج دنیا کے ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک میں شمار ہوتا ہے۔یہ درست ہے منڈیلا کے ابتدائی آٹھ احکامات سے جنوبی افریقہ میں نہ دیوار چین بنی‘ نا یہ برطانیہ بنا‘ نا ہی یہ واشنگٹن بنا اور نہ ہی ان احکامات سے ان کا ریلوے‘ اسٹیل مل‘ ائیر لائین‘ واپڈا اور معیشت ٹھیک ہوئی مگر ان آٹھ احکامات نے جنوبی افریقہ کو قوم بنا دیا اور چار سال بعد جنوبی افریقہ کے 80 فیصد مسائل حل ہوگئے یا پھر یہ حل ہوناشروع ہوگئے۔نیلسن مینڈیلانے کہ تھا کہ سیاستدان اگلے لیکشن کا سوچتا ہے،جبکہ لیڈر اگلی نسل کا سوچتا ہے۔

سن 2013 میں ترکی کی کل ملکی پیداوار ایک ٹریلین سو ملین ڈالر تھی جو کہ مشرق وسطی کی مضبوط ترین تین اقتصادی قوتوں یعنی ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ اردگان نے سالانہ تقریبا 10ً  پوائنٹس کے حساب سے اپنے ملک کی معیشت کو 111 نمبر سے 16 نمبر پر پہنچا دیا، اور ترکی دنیا کی 20 بڑی طاقتوں (G-20) کے کلب میں شامل ہوگیا ہے۔ استنبول ایئرپورٹ یورپ کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے۔ اس میں یومیہ 1260 پروازیں آتی ہیں۔ مقامی ایئر پورٹ کی صبح کی 630 فلائٹس اس کے علاوہ ہیں۔ ترک ایئر لائن مسلسل تین سال سے دنیا کے بہترین فضائی سروس ہونے کا اعزاز حاصل کر رہی ہے۔ اپنے اس دور حکومت میں ترکی نے پہلا بکتر بند ٹینک، پہلا ایئر کرافٹ، پہلا ڈرون اور پہلا سیٹلائٹ بنایا ہے۔ اردگان نے 10 سالوں کے دوران 125 نئی یونیورسٹیاں، 189 سکول، 510 ہسپتال اور 1 لاکھ 69 ہزار نئی کلاسیں بنوائیں۔ 10 سال پہلے ترکی میں فی فرد آمدن 3500 ڈالر سالانہ تھی جو 2013 میں بڑھ کر 11 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح فرانس کی فی فرد شرح آمدن سے زیادہ ہے۔ اس دوران ترکی کرنسی کی قیمت میں 30 گنا اضافہ ہوا۔ ترکی میں تنخواہوں اور اجرتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ 340 لیرہ سے بڑھ کر 957 لیرہ ہوگئی ہے۔ترکی میں تعلیم اور صحت کا بجٹ دفاع کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ مسلم ترکی میں 35 ہزار ٹیکنالوجی لیب بنائی گئی ہیں۔ اردگان نے 47 ارب کا بجٹ خسارہ پورا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ جون میں ورلڈ بینک کے قرضے کی 300 ملین ڈالر کی آخری قسط بھی ادا کردی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ترکی نے ورلڈ بینک کو 5 ارب ڈالر قرضہ دیا۔

مزید برآں ملکی خزانے میں 100 ارب ڈالر کا اضافہ کیا۔10 سال قبل ترکی کی برآمدات 23 ارب ڈالرتھیں، اب اس کی برآمدات 153 ارب ڈالر ہیں جو کہ دنیا کے 190 ممالک میں پہنچتی ہیں۔ ان برآمدات میں پہلے نمبر پر گاڑیاں اور دوسرے نمبر پر الیکٹرانک کا سامان آتا ہے۔ یورپ میں بکنے والی الیکٹرانک اشیاء میں ہرتین میں سے ایک ترکی کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ ترکی کے شہری اور دیہی علاقوں کے 98 فیصد گھروں میں بجلی پہنچ چکی ہے۔
نیلسن، اردوان، سویڈن اور ملایشیا کے مہاتیر محمدکے نقش پا پر چلنے کا اعلان کرنے والے نئے وزیر اعظم عمران خان کو حقیقی معنوں میں مذکورہ ممالک کے حکمرانوں کے افکار و اعمال سے سیکھنا ہو گا اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے نہ صرف پاکستانی معیشت پر مثبت نتائج مرتب ہوں بلکہ عدالتی نظام قوم کو عدل وانصاف فراہم کرنے کی حقیقی نوید سنائے۔اور خداراہ عمران خان صاحب ”شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار“ والا کلچر تحریک انصاف سے ختم کریں ورنہ پہلے دس دنوں میں دس اختلافی مسائل کو جنم دینے والی سیاست تبدیلی کے نعرے کو شرمندہ کررہی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *