تجزیہ زبان و لسان۔ ۔۔۔۔ایم عثمان/قسط3

سابق دو تجزیوں میں حقیقت کا ادراک اس قدر ضرور ہو جاتا ہے کہ زبان انسانوں کا ذریعہ ابلاغ ترسیل اور فہم ہے۔ جس کے سبب سے ہم اپنے فہم کا ابلاغ کر کے مخاطب سے مقصود حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی ضرورت یا علت غائی ہے جس کے باعث زبان کی تخلیق ہوئی اور کوئی قوم و ملت ایسی نہیں رہی جس  کی کوئی زبان نہ ہو یا نہ رہی ہو۔۔ الہامی ساختیں بھی کسی نہ کسی زبان کا جزء   بن کر منزل ہوئی اب ہمارے درمیان منزل ساخت قرآن کریم ہے جو جزء زبان ہونے کے اعتبار سے عربی کہلاتی ہے اور اور نوع ہونے کے اعتبار سے ایک خطاب ہے جو مخاطب کو ہدایت کا علم دیتی ہے۔ اس میں غور طلب اس کا زبان ہونا ہے جو ابلاغ و ترسیل اور افہام و تفہیم کا ذریعہ ہے جس کے بغیر نہ یہ سمجھی جا سکتی ہے اور نہ اس کا ابلاغ ہو سکتا ہے۔ اس میں موجود ہدایت اس کی زبان فہمی میں مخفی ہے ۔ لیکن اس زبان کا بھی وہی قواعد بناء ہیں جیسے دیگر زبانوں کے شعریات ہیں۔ کہ ہر زبان کوئی ساختی علامت ہے یا کسی تصور کی صورت ہے۔جس کی بنیاد پر وہ قابل فہم ہے تو الہامی ساخت کو اس مسلم و انسانی اجتماع کے خلاف تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بلا تصور ہی کوئی زبان ہے جسے بلا مفہوم و تصور کے سمجھا جا سکے۔۔

تجزیہ زبان و لسان۔ ۔۔۔۔ایم عثمان/قسط2

جب یہ بات طے شدہ اور معقول و مسلم ہے تو الہامی ساخت کو اس سے مستثناء قرار نہیں دیا   جا سکتا۔۔ جیسے یہ کہا جائے، حج یا زکٰوۃ اور صلوت ایسے اسم ہیں جن کا کوئی تصور اور مفہوم عرب میں نہیں تھا۔۔ یہ بات خود مستعمل اسم کے خلاف ہونے کے ساتھ غیر معقول نظریہ ہو گا۔ کیونکہ عرب میں کئی مذاہب اپنی عباداتی ثقافت کے ساتھ پروان چڑھ کر ختم ہوتے رہے اور بطور تاریخ یا تصور مسمی یا کسی نہ کسی صورت میں قابل عمل تھے۔ جن سے عبادتی تصور کا حصول ہر عام و خاص کو حاصل تھا۔۔ یا اسماء و مقامات اور تاریخ کا بیان ایسی ساختوں کے ساتھ ہوا جنہیں مخاطب سن کر سمجھ لیتا کیونکہ یہ وہ اشیاء و اسماء تھے جو خاص و عام تصورات کے ساتھ عرب معاشرے میں موجود تھے۔۔

اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے  کہ الہامی ساخت ہر زبان کی طرح کی عمل کیا جیسے دیگر زبانیں عمل کرتی رہی اور کر رہی ہیں۔ اس مماثلت سے الہامی ساخت کی شان میں کوئی کمی نہیں آتی۔ الہامی ساخت قابل ترجمانی۔ جیسے دیگر زبانیں قابل ترجمہ و ترجمانی ہیں اسی طرح الہامی ساخت بھی قابل ترجمانی ہے۔۔ جس تصور و مفہوم کے لیے الہامی ساخت نے لفظ ذکر کیا وہ ان مفاہیم کا ایک استعمال ہے۔ جو اس ساخت کے ذریعے کیا گیا۔ اس سے ان مفاہیم کے لیے دیگر ساختوں کے نہ ہونے پر دلیل نہیں ہے۔ اور دیگر ساختوں کا مفردات کی صورت ذکر ہونا۔ ساختوں کے ہونے پر دلیل ہے۔۔ یہاں تک اتنی بات ثابت ہوتی ہے۔ کہ الہامی ساخت قابل ترجمہ و ترجمانی ہے۔ کیا الہامی ساختوں کا ترجمہ کرنا۔ بدل ساخت ۔ یا تبدل وحی ہے؟

جاری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *