اے چارہ گراں اک نظر۔۔۔۔۔ عظمت نواز

ہم الحضرت بانی فیسبک و شیخہائے کھوپچہ شریف کے سامنے اپنے گوڈے تہہ کرتے ہوئے شکر گزاری کی کیفیت میں ڈبکی لگاتے ہیں کہ اس محسن دانشوران عالم و ٹھرکیان ملت کی جان گسل سعی سے ہم یہ جان پائے ہیں کہ اس مملکت خدا داد کو مملکت ضیاء داد بنانے والوں کےفکری و عملی مورچے اب تک قائم ہیں اور روزی روٹی کا بندوبست بھی جاری ہے-

مزید برآں یہ کہ یہاں نہ کوئی دایاں وجود رکھتا ہے نہ کوئی بایاں وجود رکھت ہے البتہ میں کامل و اکمل ہوں ‘کا مسئلہ ہر بھائی و انکی بہن کو در پیش ہے – ساتھ ہی ساتھ ہمارے کم فہم دماغ پر یہ بھی وا ہوا کہ تفریق دنیا کے کسی مذہب میں اتنی نہیں جتنی ہمارے مومنین میں ہے اور کوئی شک بھی نہیں کہ سبھی برحق ہیں- میرے گھر کھانے کو کچھ ہے یا نہیں مگر مجھے پڑوسی کے ایمان کو کامل کرنے کی کوشش کرنی ہے بھلے اپنے ہاں بھوک سے چار چھ بچے علم کی دولت سے محروم رہیں.

اسی بدولت مجھ پر ایک اور الہام بھی ہوا کہ عقیدتوں کے اسیر تا دم مرگ ان سے رہائی نہیں پاتے اور نہ وہ ایسا کوئی نیک ارادہ رکھتے ہیں – مجھے جو دانشور و نظریہ پسند نہیں اسکا وجود ہی مجھے اپنی موت نظر آتا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا سچ مان لیں بجائے اسکے کہ میں اپنا سچ کہہ کر وہاں سے نکل جاؤں اور دوسرے کو سانس لینے کا موقع دوں
یہ بھی واضح ہوا کہ میں جسے پسند کرتا ہوں آپ اسے نہ صرف پسند کریں بلکہ میرے جتنا احترام و القابات بھی عنایت فرمائیں تب ہی ہمارا گزارا ساتھ میں ممکن ورنہ اس دشت میں رہنا ممکن نہیں.

میں اسی نعمت ہاے فیسبک سے اس حقیقت سے بھی روشناس ہوا کہ نہ ریاست کچھ معنی رکھتی ہے اور نہ کوئی دوسری شے ، معنی فقط میری پسندیدہ شخصیات و نظریات کے ہیں بھلے اسکی بدولت مجھے وطن عزیز کے وجود پر ہی سوال اٹھانے پڑیں ۔۔

یہ میڈیم جو کہ دانشوری کی نظر ہو چکا اور وہ بھی بقول ہمارے ممدوح کے دانشوری نہیں دانش گردی کی نظر ہو چکا ، جبکہ یہاں فراغت کے اوقات میں احوال دوستاں کی خبر، شعر سخن کی محافل، طنز و مزاح سے گندھے قہقہے، مسرتوں کے لمحات کی تقسیم، دکھ میں دوسرے کا سہارا چند گھڑیوں کے لیے ہوتا تو کیا ہی اچھا ہوتا مگر وائے حسرتا۔۔۔۔۔

آئیے نفرتوں کی فزا میں محبتوں کی خوشبو بکھیریں، دوسرے کو اپنے سے زیادہ مسلمان بنانا چھوڑ دیں، اپنی بات کہیں کھل کر پھر تضحیک کے نشتر چلانے سے گریز کرتے ہوئے وہاں سے نکل جائیں، کسی کے زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک چھڑکنے سے بھی پرہیز کیجیے، زندگی کتنی طویل ہے ؟ کتنا اورجئیں گے؟ ایک نارمل اوسط عمر تک بھی رب جانے پہنچنا ہے ہم نے یا اس سے پہلے ہی مالک کا حکم آ جانا ہے تو سب دھرا رہ جانا ہے، بقاء صرف محبتوں کی ہے نفرتوں کی نہیں، یاد محبت کے دو بول ہی رہتے ہیں نفرت کے تیر تو موت کا سامان بن جایا کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *