مکالمہ کی روایت۔۔۔۔خرم شہزاد(سالگرہ ویک)

زیادہ نہیں بس پندرہ بیس سال اُدھر کی بات ہے کہ ہر بندے کے پاس موبائل فون ہمراہ دیگر لوازمات و خرافات،جیسے کہ فیس بک، ٹویٹر، گوگل اور یو ٹیوب وغیرہ سے لیس، تو ہوتا نہیں تھا، سو، لوگوں کے پاس وافر فارغ وقت بھی موجود رہتا تھا، اور اس فارغ وقت کا سب سے بہترین استعمال انکے پاس تھا، اپنے آس پڑوس والوں کے ساتھ مکالمہ۔
مکالمے کی روایت اتنی ہی پرانی ہے، جتنا حضرت انسان خود۔ انداز، سلیقہ، جگہیں بدلتی رہیں لیکن مکالمہ وہیں کا وہیں رہا، گاؤں میں اگر دائرے اور بَڑ کی چھاؤں کے نیچے ہوتا تو شہروں میں دکانوں کے تھڑوں اور ٹی ہاؤسز میں، کھانے، پینے سونے جیسی ضرورتوں کے بعد کہ جن پر زندگی کا انحصار تھا، انسان کی سب سے بنیادی ضرورت مکالمہ تھی اور رہے گی۔ کیونکہ معاشرت، معیشت، مذہب،تعلیم، تربیت، کچھ بھی تو اسکے بغیر چل نہیں پاتا، مکالمہ ہی نسلِ انسانی کےارتقا کا ضامن ہے اور مکالمہ ہی عقلِ انسانی کی معراج ہے۔
ایک ایسے دور میں، جب ہر انسان اپنا ارد گرد بھُلا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے “بالشت بھر کے کھلونے”کوہی ساری دنیا سمجھ کر کھویا ہوا،اپنے گرد و پیش موجود لوگوں سے بے خبر، اپنی ہی بسائی دنیا میں مست،خود کوعقلِ کُل سمجھتے ہوئے دوسروں پر تبرّا بھیجنے میں مصروف، ہر ایک اپنی ایک ڈیڑھ انچ کی مسجد میں مقیّد، اپنے ہی نظریات کو حرفِ آخر کہنے پر مُصر، ساری معاصر ویب سائٹس اپنے اپنے بُت بغلوں میں دبائے ،اپنے اپنے ممدوحین کی عظمت کے گُن گاتے ہوئے مکالمے کی بجائے معتوبین کے مواخذے کی راہ پر تھیں، برابری کی سطح پر ہم عصروں کے ساتھ مکالمے کی روایت سِرے سے دم توڑ رہی تھی،ایک اللہ کے بندے نے “مکالمہ” کی داغ بیل ڈالی، “مکالمہ” کو اسی بالشت بھر کے کھلونے میں گھسیڑ کر لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا کہ لو پترو، ہُن کتھے جا سَو، کرو مکالمہ اور کھولو اپنے دماغ۔
مکالمہ کو صرف یہی اعزاز حاصل نہیں رہا کہ اس پر کسی بھی طرح کبھی بھی جانبدار ہونے کا الزام نہیں لگایا جا سکا، اسکو کسی مخصوص مکتبہ فکر، کسی خاص جماعت، کسی خاص مسلک، بلکہ کسی خاص مذہب کے ساتھ بھی نتھی نہیں کیا جا سکا بلکہ اسکو ایک ایسے ایڈیٹر انچیف کی سرپرستی میں ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے جو اپنی پسندیدہ پارٹی کی انتخابی مہم چلانے کے لئے مکالمہ کو ہی استعمال کرنے کی بجائے خود ادارے سے ہی عارضی علیحدگی اختیار کر لیتا ہے تاکہ ادارے کو جانبداری کا الزام نہ دیا جا سکے۔
مکالمہ کیجئے حضرات، کہ اسی میں عقل و فکر کی بقا کا راز مضمر ہے۔
والسّلام،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *