اگر اچھے حکمران چاہییں تو تعلیم ضروری ہے

نوٹ: یہ مضمون پہلی مرتبہ 23 جنوری 2013کو شائع ہوا تھا، اس وقت پیپلز پارٹی ملک کی حکمران جماعت تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مضمون کی افادیت شاید ہمیشہ برقرار رہے گی ۔ ویسے تو پاکستان میں بہت سارے مسائل ہیں لیکن تعلیم کا مسئلہ اس ملک میں ہمیشہ سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علم یعنی تعلیم انسان میں شعور پیدا کرتی ہے ، لہذا اس کے بار ے میں ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد (صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا تھا “علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے”۔ میدانِ عرفات میں 25 اکتوبر 2012کو مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے تعلیم کی بابت فرمایا:”مسلمانوں کو چاہیے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ٹیکنالوجی کی طرف جائیں، مسلمانوں کی بقاء کیلئے ایسا کرنا بہت ضروری ہے”۔ تعلیم کے بغیرانسان بے شعور ہوتا ہے اور اُسں کا عمل بےمقصد ہوتا ہے اوروہ جانے انجانے میں غلطیاں کرتا ہے- بدنصیبی سے ہمارا ملک تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہے- ہمارے صاحِب اقتدار تو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے لیے ترقی یافتہ ممالک میں بھیج دیتے ہیں اور ان کے بچے وہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور واپس آکر ہمارے حکمراں بن جاتے ہیں ، لیکن آج تک پاکستان میں عام آدمی کےلیے تعلیم کی ترقی کے لیے کچھ نہیں ہوا- آج حالت یہ ہے کہ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 51 لاکھ بچے اسکول ہی نہیں جاتے، جن میں 27 فیصد لڑکے اور 63 فیصد لڑکیاں ہیں۔

شرم آنی چاہیے ہمارے حکمرانوں کو، بدنصیبی سے آج ہمارے صدر صاحب بھی صرف انٹرکیے ہوئے ہیں، اور چونکہ عام لوگوں میں تعلیم کی کمی ہے یعنی شعور کی کمی ہے اس لیے یہ احساس ہی نہیں کہ صدر جیسے عہدے پر ایک انٹر پاس کیسے؟ ہمارا تعلیمی نظام ناکارا ہے۔ یوں تو بہت سی دجوہات ہیں مگر ان میں خاص وجہ ہمارا تعلیمی بجٹ انتہائی قلیل ہوتا ہے۔ مرحوم بھٹو بھی قومیانے کے نام پر اسکول اور کالجوں کو سرکاری سرپرستی میں دے گئے، جس کی وجہ سے آج اسکول اور کالج کے ہر استاد کو پتہ ہے کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہے لہذا پڑھاؤں یا نہ پڑھاؤں ۔۔تنخواہ ملے گی- آج جہاں حکومت کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے لوگوں کو نوکریاں دینی ہوتی ہیں تو وہ سب سے زیادہ تعلیم کے شعبے میں ہی دیتی ہے۔ کرپشن پر تو اب کچھ کہنا ہی بیکار ہےمگر تعلیم کے شعبہ کو پاکستان کا سب سے کرپٹ شعبہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔

سقراط نے کہا تھا کہ”جب ہمیں لکڑی کا کام ہوتا ہے تو ہم ایک اچھے لکڑی کا کام کرنے والے کا انتخاب کرتے ہیں، اور جب ہمیں لوہے کا کام ہوتا ہے تو ایک اچھے لوہار کا انتخاب کرتے ہیں، تو پھر جب ہمیں کسی کو حکمراں بنانا ہو تو ہم اچھے حکمراں کا انتخاب کیوں نہ کریں؟”- مگر افسوس ہمارا سیاسی نظام اس طرح ترتیب کیا گیا ہے کہ عام لوگوں میں تعلیم کی کمی رکھی جائے تاکہ شعور کی کمی کی وجہ سے عام لوگ گھوم پھر کر انہی جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سیاستدانوں کا انتخاب کریں۔ پیپلز پارٹی کی یہ چوتھی حکومت ہے جو “روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگاکر ہماری درگت بنارہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس پارٹی کے پاس ایک بھی معیشت داں نہیں ہے۔ گوہر ایوب صرف انٹر پاس ہیں مگر پاکستان کے وزیر خارجہ بھی رہے اور قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی- اس وقت جو ہماری صف اول کی لیڈر شپ ہے اس میں نواز شریف ایم اے ہیں کسی بھی فیلڈ میں مہارت نہیں، زرداری صرف انٹر کیے ہوئے ہیں، وزیراعظم صرف بی اے ہیں، عمران خان یورپ میں پڑھے ہیں ، اچھے بولرتھے مگر کسی بھی فیلڈ میں مہارت نہیں، الطاف حسین نے کراچی یونیورسٹی سے بی اے فارمیسی کیا ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے دینی مدرسے سے پڑھا ہے، منور حسن نے کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ایم اے کیا ہے، اسفندر یار ولی کا معلوم نہیں برحال بی اے تو ہوں گے، حنا ربانی کھر نے ایم بی اے کیا ہے مگر پاکستان کی وزیر خارجہ ہیں، دیکھ لیں کس قدر ماہر ہمارے رہنما ہیں۔

تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، وہ اپنے اچھے برے کی تمیز کرتا ہے، اس لیے عرض ہے کہ موجودہ یا آنے والوں میں کوئی تعلیم پر توجہ دے گا ایسا ممکن نظر نہیں آتا، یہ بات اور ہے کہ کوئی مہاتیر محمد کی طرح ہمارا رہنما بن جائے جس نے 20 سال تک بجٹ کا 30 فیصد تعلیم پر خرچ کیا اور ملیشیا کو ایک پڑھا لکھا ملک بنادیا- ہمیں اس گندے سسٹم میں رہتے ہوئے خود ہی کوشش کرنی ہوگی کہ ہماری آئندہ نسلیں تعلیم یافتہ ہوں تاکہ ہمارا ہر بچہ اور بچی باشعور ہوں۔ تاریخ کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے ادوار آتے ہیں جن میں ان کے یہاں مختلف علوم میں بے مثال ترقی ہوتی ہے۔ ہم اس دور کا جائزہ لے کرمعلوم کرسکتے ہیں کہ وہ کونسی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے علمی ترقی کا یہ دور شروع ہوا اور اس علمی ترقی کے اختتام کی کیا وجوہات تھیں۔ گیارہ ستمبر کو امریکہ پر حملے کےچند دن بعد صدر جارج بش نے دہشتگردوں اور اپنے درمیان فرق وضح کرنے کے لئے انجیل سے ایک حوالہ دیا کہ”ہمارا خدا وہ خدا ہے جس نے ستاروں کو ان کے نام دیے۔”جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ستاروں کے جھرمٹوں کے نام تو یونانی اور لاطینی میں ہیں لیکن جن ستاروں کو نام دیے گئے ہیں ان کی اکثریت کا نام عربی زبان میں ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ستاروں کے نام عربی میں کیوں ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں سن آٹھ سو عیسوی سے گیارہ سو عیسوی تک کا دور علمی لحاظ سے انتہائی ترقی یافتہ دور تھا، اس تین سو سالہ دور میں جب پورا یورپ مرتدوں کو ٹھکانے لگانے میں مصروف تھا، بغداد دنیا بھر میں مرکزِ علم و دانش تھا۔

سن آٹھ سو عیسوی سے گیارہ سو عیسوی صدی کا بغداد دنیا بھر میں علم ودانش کا مرکز کیسے بنا اس کی وجوہا ت جاننے کے لئے جب ہم اس دور کا جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتاہے کہ اس دور میں بغداد بلاتفریقِ رنگ و نسل ہر موضوع پر علم رکھنے والوں کے لئے کھلاتھا، مسلمان، عیسائی ، یہودی سب ایک ہی شہرمیں علم اور نظریات کا تبادلہ کررہے تھے۔ یہ وہ دور تھا جس میں بنی نوع انسان نے انجینئرنگ، حیاتیات، طب اور ریاضی میں ذبردست ترقی کی، آج ہم جو ہندسے 1, 2, 3 کااستعمال کرتے ہیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ انہیں کیا کہا جاتا ہے؟ انہیں عربی ہندسےکہا جاتاہے، آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ ہندسے جنھیں روز ہم استعمال کرتے ہیں عربی ہندسے کہلاتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ اس دور کے مسلم ریاضی دانوں نے صفر کی ایجاد سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاضی کی ایک نئی شاخ الجبراء تخلیق کی، خود الجبراء ایک عربی نام ہے، الگورتھم ایک عربی نام ہے۔ آج کے کئی جدید علوم مثال کے طور پر ریاضی اور فلک پیمائی کی جڑیں اس دور سے جاملتی ہیں۔لیکن اس سنہری دور کے بعدکچھ ایسا ہوا جس نے اسلامی دنیا کی ترقی کو تنزلی کے راستے پر ڈال دیا، ویسے تو اس تنزلی کی وجہ سقوطِ بغداد کو بھی کہا جاتا ہےلیکن سقوط بغداد کے بعد اسلامی تہذیب پھر کھڑی ہوئی لیکن اس بار علمی ترقی بغداد کےان تین سوسال کے مقابلے میں کچھ نہیں تھی۔

ایسا کیوں ہوا؟ جبکہ علمی ترقی مسلمانوں کا تہذیبی ورثہ تھا تو کیوں وہ دوبارہ ایسا کرنے میں ناکام رہے؟ اس لیے کہ انہوں نے علم سے منہ موڑ لیا تھا۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہودیوں نے آج تک کتنے نوبل انعام برائے سائنس جیتے ہیں؟ یہ تعداد سائنس پر دئیے گئے کل نوبل انعاموں کا ایک چوتھائی ہے اور دنیا میں زیادہ سے زیادہ پندرہ ملین یہودی ہوں گے۔ مگر اسلامی دنیا میں صرف ایک پاکستانی سائنسدان ڈاکٹرعبدالسلام کو نوبل انعام ملا۔ دنیا میں ایک ارب تیس کروڑ سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں، ذرا تصورکیجئے کہ اگر آج مسلمانوں میں علمی ترقی کا سفر جاری رہتا تو آبادی کے تناسب سے اگر دیکھا جائے تو آج سائنس کا ہر ایک نوبل انعام کسی مسلمان کو ملتا۔۔۔۔بات کہیں سے کہیں جاپہنچی بس اتنی سی گذارش ہے کہ تعلیم کا مطلب حصول علم سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ تعلیم سے نہ صرف شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ انسان کو سیاسی طور پر بھی سرگرم رکھتی ہے اور یہ بات حکمرانوں کے مفاد میں نہیں۔ تعلیم اقتصادی اور سیاسی ترقی، جمہوریت اور سماجی انصاف کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ اس لیے ہمیں ضرور تعلیمی، سائنسی، عسکری، معاشی ترقی کےلیے بھی کچھ سوچنا چاہیے۔

سید انورمحمود
سید انورمحمود
سچ کڑوا ہوتا ہے۔ میں تاریخ کو سامنےرکھ کرلکھتا ہوں اور تاریخ میں لکھی سچائی کبھی کبھی کڑوی بھی ہوتی ہے۔​ سید انور محمود​

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *