• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آئینی ترامیم اور پاکستان کے آئینی حدود اربعہ کا تعین ۔۔۔۔ ایڈووکیٹ محمد علی جعفری

آئینی ترامیم اور پاکستان کے آئینی حدود اربعہ کا تعین ۔۔۔۔ ایڈووکیٹ محمد علی جعفری

آئین پاکستان 1973 میں اب تک کی گئی 25 ترامیم آسان اردو زبان میں اختصار کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔

پہلی ترمیم 1974
آئین پاکستان 1973 کی پہلی ترمییم میں پاکستان کے حدود اربع کا دوبارہ تعین کیا گیا

دوسری ترمیم 1974
احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا

تیسری ترمیم 1975
اس ترمیم میں
Preventive Detention
کی مدت کو بڑھایا گیا۔
Preventive Detention
کا مطلب ہے کسی ایسے شخص کو نامعلوم مقام پر رکھنا جو ریاست پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔(یہ آئین کا چہرہ مسخ کرنے کے مترادف تھا کیونکہ اس ہتھیارکا استعمال ارکانِ پارلیمان کے خلاف کیا گیا اور نامور بزرگ سیاستدان اس کا شکار بنے)

چوتھی ترمیم 1975
اقلیتوں کو پارلیمنٹ میں اضافی سیٹیں دی گئیں۔

پانچویں ترمیم 1976
ہائی کورٹ کا اختیار سماعت وسیع کیا گیا

چھٹی ترمیم 1976
ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرڈمنٹ کی مدت بالترتیب 62 اور 65 سال کی گئ۔

ساتویں ترمیم 1977
وزیر اعظم کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان کی عوام سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکتا ہے۔

آٹھویں ترمیم 1985
پارلیمانی نظام سے سیمی/نیم صدارتی نظام متعارف کروایا گیا اور صدر کو اضافی اختیارات دیے گئے۔

نویں ترمیم 1985
قانونِ شریعت/شریعہ لاء کو لاء آف دی لینڈ یعنی قانونِ ارضی کا درجہ دیا گیا۔

دسویں ترمیم 1987
مجلسِ شوریٰ/پارلیمنٹ کے اجلاس کا دورانیہ مقرر کیا گیا کہ دو اجلاس کا درمیانی وقفہ 130 دن سے نہیں بڑھے گا

گیارھویں ترمیم 1989
دونوں اسمبلیوں(ایونِ بالا و زیریں یعنی نیشنل اسمبلی و سینیٹ) میں سیٹوں کی
Revision
کی گئ۔

بارھویں ترمیم 1991
سنگین جرائم کے تیز ترین ٹرائل کے لئے خصوصی عدالتیں عرصہ 3 سال کے لئے قائم کی گئیں

تیرھویں ترمیم 1997
صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے اور وزیر اعظم کو بیک جنبشِ قلم فارغ کرنے کے اختیار کو ختم کیا گیا۔

چودھویں ترمیم 1997
ممبران پارلیمنٹ میں اپنی جماعت سے
Defect
یعنی کوچ کر کے دوسری جماعت کی جانب دورانِ مدتِ رکنیت جانے کی صورت میں ان کو عہدوں سے ہٹانے کا قانون وضح کیا گیا(ہارس ٹریڈنگ کے خلاف قانون، اب دیکھئے کہ آزاد امیدوار کی وفاداری تبدیل کرانے کے خلاف ترمیم کب ہوتی ہے)۔

پندرھویں ترمیم 1998
شریعہ لاء کو لاگو کرنے کے بل کو پاس نا کیا گیا۔(اس ترمیم میں مملکت چلانے والے کو امیر المومنین کے نام سے پکارنا تجویز کیا گیا تھا)

سولہویں ترمیم 1999
کوٹہ سسٹم کی مدت 20 سے بڑھا کر 40 سال کی گئ

سترھویں ترمیم 2003
صدر کیے آئینی اختیارات میں اضافہ کیا گیا

اٹھارویں ترمیم 2010
اس ترمیم میں
NWFP
کا نام تبدیل کر کے خیبرپختونخوا کیا گیا اور آرٹیکل 6 متعارف کروایا گیا،اور اس کے علاوہ صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے کی پاور کو ختم کیا گیا۔

انیسویں ترمیم 2010
اسلام آباد ہائی کورٹ قائم کی گئ،اور سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے قانون وضح کیا گیا۔

بیسویں ترمیم 2012
صاف شفاف انتخابات کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تبدیل کیا گیا۔

اکیسویں ترمیم 2015
سانحہ
APS
کے بعد ملٹری کورٹس متعارف کروائ گئیں۔

بائیسویں ترمیم2016
چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اہلیت کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا کہ بیورو کریٹس اور ٹیکنو کریٹس بھی ممبر الیکشن کمیشن آف پاکستان بن سکیں گے۔

تئیسویں ترمیم 2017
سال 2015 میں قومی اسمبلی نے اکیسویں ترمیم میں 2 سال کے لئے ملٹری کورٹس قائم کیں۔ یہ دوسال کا دورانیہ 6 جنوری 2017 کو ختم ہو گیا،اس تئیسویں ترمیم میں ملٹری کورٹس کے دورانیے کو مزید 2 سال کے لئے 6 جنوری 2019 تک بڑھایا گیا۔

چوبیسویں ترمیم 2017
مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔

پچیسویں ترمیم 2018
فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنےکے لئے صدر نے 31 مئ 2018 کو سمری پر دستخط کئے..

واضح رہے کہ 1973 کا آئین تمام جماعتوں کی مشاورت سے معرضِ وجود میں آیا اور اسے اپریل 1973 میں لاگو ہوجانا تھا لیکن نامعلوم وجوہ کی بناء پر ایسا نہ ہوسکا تو آئین میں موجود شق نے اسے خود بخود طے شدہ مرقوم تاریخ یعنی 14اگست 1973 کو پورے ملک میں نافذ کردیا۔
بلاشبہ یہ آئین ہماری جمہوری روایات کا بہترین امین و علمبردار ہے لیکن اس آئین کو برخود یک دم منسوخ تو نہیں کیا گیا لیکن اس میں کی گئی کچھ آمرانہ و غیر جمہوری ترمیمات نے ضرور اس کنول کی آبیاری کی ہے جو عوام کے خون کی کیچڑ میں کھلا!!
لیکن ہر اعتبار سے یہ آئین جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں، بہترین ہے،بس اس میں تجاوزات کا خاتمہ ہوجائے۔

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *