وہی بچہ ۔۔۔۔داؤد ظفر ندیم

گارڈن میموریل سکول کے چھوٹے گیٹ کے ساتھ دائیں طرف ایک کمرہ تھا جسکے باہر ایک برآمدہ تھا اور پھر اس کے باہر ایک بڑی گراؤنڈ تھی۔ یہ ہماری دوسری کلاس تھی یہ کلاس اپریل 1973 سے شروع ہوئی اور مارچ 1974 تک جاری رہی۔
یہ سکولوں اور کالجوں کی نیشنلائزیشن کا دور تھا بھٹو حکومت نے اس دور میں بہت سے تعلیمی ادارے قومی تحویل میں لئے تھے۔ اور ہمارے سکول کی انتظامیہ اپنے ادارے کو بچانے میں کامیاب رہی تھی تاہم یہ سال ان کی پریشانی اور جدوجہد کا سال تھا۔ محسن کے والد کو ان باتوں کے بارے کافی معلومات ہوتی تھیں اس لئے محسن مجھے اس بارے میں کافی باتیں بتاتا تھا۔
یہ میری زندگی کے یادگار دن تھے۔ کلاس میں چار رویہ تھی میں کلاس میں ٹیچر کی سب سے بائیں والی رو میں دوسرے بنچ پر بیٹھا کرتا تھا ہم تین لڑکے اس بنچ پر بیٹھا کرتے تھے میرے ساتھ ایک لڑکا بیٹھا کرتا تھا جس کا نام بعد میں مَیں بھول گیا ایک پیارا سا دل میں اترنے والا لڑکا، وہ بہت میٹھی باتیں کرتا تھا اور مجھے بہت پسند تھا۔ اس کے بال باقی بچوں کی نسبت بڑھے ہوئے تھے اور اس زمانے میں ہمارا گھر محلے کے ان دو گھروں میں سے ایک تھا جہاں ٹی وی تھا جموں میں دور درشن کا چینل اور پنڈی ٹی وی کا چینل انٹینا کی مدد سے دیکھا سکتا تھا، محلے کے اکثر لوگ ٹی وی دیکھنے ہمارے گھر آتے تھے۔ میں نے دیوآنند کی فلم ہرے کرشنا ہرے رام دور درشن پر دیکھی تھی۔ اس فلم میں پہلی بار ہیپی کا نام سنا تھا اور میں نے سمجھا تھا کہ جس کے بال بڑھے ہوں اسے ہپی کہتے تھے اس لئے میں اسے ہپی کہتا تھا اور وہ کبھی اس بات کا برا نہیں مناتا تھا۔
ہماری کلاس میں اردو بولنے کی پابندی تھی ہم پنجابی ملی اردو بولتے تھے اور اس میں بھی اکثر اٹک جاتے تھے گھروں میں پنجابی بولنے والے آخر کتنی اردو بول سکتے تھے اور ایسے میں یہ دو بچے اتنی اردو بولتے تھے کہ ہم اتنے بہت مہذب اور پڑھا لکھا خیال کرتے تھے اور پوری کلاس میں دو لڑکے تھے جو اچھی طرح اردو بول سکتے تھے ایک یہ ہپی تھا اور دوسرا نجمی تھا۔ اس لئے یہ دونوں بچے اساتذہ کو بہت پیارے تھے اور ہم ان دونوں بچوں کو رشک یا حسد بھری نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔
ہپی ایک طرف شرمیلا سا لڑکا تھا اور دوسری طرف ذرا سی بے تکلفی پر کھل جاتا تھا۔ بڑے مزے کی باتیں کرتا تھا پوری کلاس اس کی باتیں بڑے شوق سے سنا کرتی تھی ہم کو اتنی باتیں اس دور میں کب آتی تھی میرے خالو خالہ کویت ہوتے تھے وہاں میرے خالو سٹیزن گھڑی کے ایک شو روم میں بطور میکینک کام کرتے تھے اور ان کو بہت سی ایسی گھڑیاں مل جاتی تھیں جن کو مرمت کے بعد کوئی لینے نہیں آتا تھا یا جو کمپنی اپنے ملازمیں میں مفت تقسیم کرتی تھی خالہ کا بیٹا میرا گہرا دوست تھا اور میں خالہ کا سب سے چہتا بھانجا تھا اس لئے اس دور میں میری خالہ نے کسی کے ہاتھوں کویت سے مجھے ایک نئی گھڑی تحفے کے طور پر بھجوائی تھی جو میں بڑے فخر اور شوق پہن کر جاتا تھا۔اس گھڑی کا شیشہ اسی ہپی نے توڑ دیا تھا۔ جو بعد میں والد صاحب نے عنایت واچ کمپنی سے ٹھیک کروا دیا۔ اس نے بتلایا کہ یہ تو بڑی مہنگی گھڑی ہے سٹیزن کی اصل برانڈ کی گھڑی ہے۔ اس دن سے میں زیادہ فخر سے گھڑی پہن کر جاتا تھا۔

اس زمانے میں ہم کو انگلش کی ایک عام کتاب کے علاوہ ایک چھوٹا سا ناول بھی پڑھنے کے لئے ملا تھا ہمارے والدین اس کو اعزاز سمجھتے تھے کہ ہمارا بچہ دوسری کلاس میں انگلش ناول پڑھ رہا ہے،اور میرے لئے یہ ایک بوجھ تھا کہ بغیر کسی مناسب طریقے سے مجھ کو بیک وقت دو اجنبی زبانیں اردو اور انگلش سکھائی جا رہی تھیں میرے لئے تو بہت بڑا مسئلہ تھا کہ میں ایک خالص پنجابی بوالنے والے گھر اور محلے سے تعلق رکھتا تھا ہمارا خاندان پنجابی کتابیں چھاپنے والا خاندان تھا جو ملک کی تقسیم سے پہلے کا پنجابی کتابیں چھاپ رہا تھا اور ہمارا گھر پنجابی کتابوں سے بھرا ہوتا تھا۔۔۔ایسے میں اردو اور انگلش دونوں میرے لئے اجنبی زبانیں تھیں اس زمانے میں اردو میڈیا اتنا طاقت ور نہیں تھا وی سی آر بھی نہیں آیا تھا اور ہم لوگ صرف شام کو ٹی وی دیکھتے تھے وہاں بھی کارٹون پروگرام کے بعد ایک پنجابی ڈرامہ آتا تھا اس کے بعد اردو نشریات شروع ہوئیں بیچ میں اس زمانے میں دی سینٹ نام کی ٹی وی سیریل آتی تھی راجر مور کی ٹی وی سیریل ہمیں بہت پسند تھی۔یہ وہ دور تھا جب ٹی وی پر پاپائے دا سیلر کارٹون آرہے تھے۔

اپریل 1973اپریل 1973 میں ہماری دوسری کلاس کا آغاز ہوا جو مارچ 1974 تک جاری رہا۔10 اپریل 1973 کو پاکستاان کا آئین منظور کیا گیا
مجھے یاد ہے ہمارے گھر میں اس وقت دادا ابو اور ابو اور بڑے چچا کے درمیان کافی بات ہوئی تھی ان کے منہ سے پہلے بار بھٹو کی تعریف سنی تھی۔
مئی 1973ایک اور فلم مجھے یاد ہے وہ بادل اور بجلی تھی ندیم اور شبنم کی، یہ بھی میں نے سینما میں جا کر دیکھی۔ارشد اور ندیم اسلم محلہ دھارووال سے میرے کلاس فیلو تھے ایک دن وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے ارشد کے گھر میں مجھے اس کی دادی نے السی کی پنی کھانے کو دی جبکہ ندیم اسلم کے گھر میں اس کے بہن بھائی کھانا کھا رہے تھے محلے میں بندر تماشا والے آدمی آیا اور بعد میں سب نے اسے آٹا دیا ندیم اسلم کی ماں نے مجھے بھی آٹا دیا اور میں اسے دے کر آیا واپسی پر مجھے گھر کا راستہ بھول گیا اور میں ایک طرف بیٹھ گیا لیڈی اینڈرسن سے دو لڑکیاں آرہی تھیں انھوں نے مجھے روتے دیکھ لیا اور پوچھا کیا ہوا میں گھر کا راستہ بھول چکا تھا مگر مجھ سے بات بھی نہ ہوئی انھوں نے جان لیا کہ میں گھر کا راستہ بھول گیا ہوں انھوں نے کہا کہ ہم کبوتروں والی مسجد کی طرف جا رہی ہیں وہاں سے گھر کا راستہ آتا ہے میں نے کہا ہاں، وہ مجھے ساتھ لے گئیں جونہی ہم گلی کے آخر میں پہنچے تو سنہری مسجد کو دیکھ کر میں نے گھر کی طرف دوڑ لگا دی انھوں نے بتیہرا آوازیں دیں کہ کبوتروں والی مسجد دوسری طرف ہے مگر میں کہاں سنتا تھا۔

میں ایک دن امجد پرویز اور ذوالفقار دو کلاس فیلو مجھے گرین وڈ سٹریٹ لے گئے جہاں ان کا گھر تھا مگر ان کی گلی میں جاتے ہی میں نے دوڑ لگادی مجھے خیال آیا تھا کہ میں کافی دور آگیا ہوں اور واپس گھر کی طرف آگیا۔
اس مہینے دو اہم واقعات مجھے یاد ہیں ایک ارشد، میں اور ندیم اسلم گیراج والے کمرے کے باہر ڈھلوان بنی تھی اس پر کھیل رہے تھے تو ارشد نے مجھے کہا کہ میں نے تمہارے دوست محسن سے بدلہ لینا ہے، میں نے پوچھا کہ وہ کیوں اس نے کہا کہ اس نے یہاں کھیلتے ہوئے مجھے دھکا دیا تھا اور میری نکسیر جاری ہو گئی تھی، میں نے کہا کہ اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا ہوگا مگر ارشد بضد تھا کہ اس نے بدلہ لینا ہے۔۔
دوسرا واقعہ یہ تھا کہ ہمارے ایک نئے استاد سر امین آئے تھے جو ہمیں ریاضی پڑھاتے تھے وہ ایک سخت گیر استاد تھے۔ ہمارے سکول میں جسمانی مار پر پابندی تھی مگر سزا دینے کے بہت سے طریقے تھے۔ سر امین نے محسن کو کلاس کا مانیٹر مقرر کیا تھا وہ ان کی غیر حاضری میں باتیں کرنے والے بچوں کے نام نوٹ کر لیتا تھا۔ ایک دن سر امین 16 کا پہاڑا یاد کرنے کے لئے دے گئے میں اور یاسر حمید ساتھ بیٹھے تھے یاسر حمید کی عادت تھی کہ وہ منہ ہلا کر پہاڑا یاد کرتا تھا وہ میری طرف دیکھ کر منہ اور سر ہلا کر پہاڑا یاد کر رہا تھا، محسن نے سمجھا شاید ہم آپس میں باتیں کر رہے ہیں اس نے ہم دونوں کا نام لکھ لیا، چنانچہ سر امین نے آکر ہم دونوں کو ساری کلاس کے سامنے ڈیسک پر کھڑا ہونے کا حکم دیا۔ یہ میرے لئے بہت شرمندگی کا موقع تھا مجھے دو وجوہات سے انتہائی دکھ ہوا، میرا خیال تھا کہ محسن میرا نام کسی صورت نہیں دے گا مگر اس نے میرا نام بغیر قصور کے دے دیا تھا مجھے اس بات کا بہت عرصہ ملال رہا۔
بعد میں میں نے محسن سے اس کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میرے لئے بہت ضروری تھا کہ تمہارا نام دیتا تاکہ کلاس کے دوسرے بچوں کو معلوم ہوتا کہ میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، مگر مجھے اس دلیل نے مطمن نہیں کیا میں تو بے قصور تھا اور پھر میں محسن کا دوست تھا اس کی دوستی کا تقاضا یہی تھا کہ وہ میرا نام نہ لکھتا۔
اس کلاس میں میں نے پہلی بار لنگڑا شیر کھیلا، اس سے پہلے میں نے کبھی یہ نہیں کھیلا تھا اس میں ایک ٹانگ اٹھا کر دوسروں کو پکڑنا ہوتا ہے اور سب ٹانگ اٹھا کر بھاگتے تھے جس کی ٹانگ زمین پر لگ جاتی یا جو پکڑا جاتا اس کی باری آجاتی۔ پہلے مجھے یہ ایک مشکل کھیل لگتا تھا مگر جب کھیلنا شروع کیا تو بہت لطف آیا اس سے پہلے میں بچوں کے ساتھ چور سپاہی اور کونے قبضہ کرنے والی کھیلیں ہی کھیلتا تھا۔ اسی کلاس میں برف پانی اور بندر قلعہ بھی پہلی بار کھیلے تھے۔
جون 1973یکم جون سے گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو جاتی تھیں ہمارے لئے چھٹیاں ایک لمبے عرصے کی بوریت کا باعث ہوتی تھیں،
جولائی 1973اس مہینے میں بروس لی انتقال کر گیا مجھے بروس لی کے بارے زیادہ پتہ نہیں تھا مگر محسن کو کافی باتوں کا علم تھا اس نے مجھے کافی کچھ بتایا۔

اگست 1973 14اگست میں بھٹو وزیر اعظم بن گئے اور فضل اللہ چوہدری صدر بن گئے۔ حمود الرحمن چیف جسٹس بن گئے،محسن کو سیاسی معاملات کا مجھ سے کہیں زیادہ پتہ تھا وہ مجھے اس بارے میں کافی باتیں بتاتا تھا ہم شام کو اپنے چھت پر ملتے تھے اور وہ مجھے اس بارے میں باتیں بتاتا تھا۔مجھے یاد ہے ہاکی کے ورلڈ کپ میں کتنا جوش و خروش تھا 24 اگست سے شروع ہوا اور اس ٹورنامنٹ میں پاکستان سیمی فائنل میں انڈیا سے ہار گیا تو کتنا دکھ ہوا تھا۔۔۔

ستمبر 1973اگرچہ مجھے محسن پہلے بھی بتا چکا تھا چھٹیوں کے بعد مجھے یہ ہپی نے دوبارہ بتلایا کہ 20 جولائی 1973 کو بروس لی 32 سال کی عمر میں انتقال کرگیا تھا۔ وہ زبردست ایکٹر اور جوڈو کراٹے کا ماہر تھا۔ جب چھٹیوں کے بعد میں سکول گیا۔ تو ہماری کاپیوں پر بروس لی کی تصویر بنی ہوئی تھی اور ہپی نے مجھے بتایا کہ بروس لی کی بیوی نے شراب میں اسے زہر دیا تھا۔

اکتوبر 1973اکتوبر میں عربوں اور اسرائیلیوں کی جنگ شروع ہوگئی جس میں مصری افواج نے کچھ کامیابیاں حاصل کیں اور اس پر بہت خوشی منائی گئی مجھے یاد ہے کہ خاندان، محلے اور شہر میں لوگ خوش تھے اگر ہمارا سکول مسیحی مشنری کا تھا مگر وہ لوگ بھی اسرائیل کے خلاف تھے۔ اس جنگ میں پاکستان فضائیہ بھی شامل تھی ہمارے لوگ خبریں سن کر نعرے لگاتے تھے جیسے کوئی میچ ہو رہا ہو۔ اس بارے میں بھی محسن کی معلومات بہت زیادہ ہوتی تھیں ہم شام کو اس بارے باتیں کرتے تھے جبکہ صبح میں اس موضوع پر ہپی سے باتیں کرتا تھا وہ بھی بڑی دلچسپ باتیں کرتا تھا۔اس بار رمضان میں میں نے پہلی بار روزہ رکھا تھا یہ کافی سخت دن تھا مجھے بہت بھوک پیاس لگی تھی۔

نومبر 1973عید الاالضحی کی چھٹیاں ہو گئیاں تھیں۔ عید کی چھٹیاں ہوگئیں،اس سال بنارسی ٹھگ بھی میں نے سینما میں چچا کے ساتھ دیکھی جو کہ پنجابی فلم تھی
دسمبر 1973یہ پاکستان فلموں میں رنگیلے اور منور شریف کے عروج کا دور تھا اس سال جس فلم کے بارے میں ہم بچوں میں گفتگو ہوئی وہ رنگیلا اور منور شریف تھی میرے منجھلے چچا کو سینما جا کر فلم دیکھنے کا شوق تھا وہ مجھے ساتھ لے جاتے اور میں نے یہ فلم سینما میں دیکھی اس فلم کا گانا کیسا جادو کردیا مستانی آنکھوں والے نے بہت مشہور ہوا تھا۔ یہ دسمبر 1973 کی بات ہے۔
مجھے یاد ہے کہ میرے دادا کو سینما میں جا کر فلم دیکھنا سخت ناپسند تھا وہاں سینما میں بازر کے ایک شخص محمود عرف پاہ مودا نے ہمیں دیکھ لیا چچا نے اس سے بہت درخواست کی کہ دادا جاں کو نہیں بتانا کہ فلم دیکھنے گئے تھے اس نے وعدہ کیا کہ نہیں بتاؤں گا۔ دوسرے دن میں دکان پر بیٹھا تھا دادا جی کے پاس، ایٹ مور کی آئس کریم کا انتظار کر رہا تھا۔ اس زمانے میں چار بجے کے قریب آئس کریم کی ریڑھی والا آتا تھا۔ یہ ہمارے شہر کا مشہور برانڈ تھا
اس پاہ مودے نے دادا جان سے پوچھا یہ مستانی آنکھوں والا گانا کیسا ہے دادا جان نے کہا کیا مطلب، اس نے کہا کہ حافظ صاحب پروانے میں فلم لگی ہے اس فلم کا گانا ہے، دادا جان نے کہا نالائق ہمارے خاندان سے کبھی کوئی شخص سینما گیا ہے جو تم مجھ سے کسی فلم کے گانے کے بارے پوچھ رہے ہو، پاہ مودے نے کہا حافظ صاحب ویسے ہی ناراض ہو رہے ہیں میں نے کل آپ کے پوتے کو سینما میں دیکھا تھا میں نے سوچا شاید یہی گانا سننے آیا ہے تو پوچھ لیا۔ دادا جان کا پارہ چڑھ گیا مجھ سے پوچھا کس کے ساتھ گئے تھے مجھ سے بات نہیں ہو رہی تھی انھوں نے شعلہ باز آنکھوں سے ساتھ چچا کی طرف دیکھا، چچا نے کہا کہ ہم ڈالو والی باجی کے گھر جا رہے تھے راستے میں سینما کے پاس سے گزرے تو سینما کے مالک حاجی اکرم صاحب سینما کے اندر جا رہے تھے ان کی نظر ہم پر پڑگئی وہ ہمیں زبردستی اندر لے گئے اور کہا یہ گانا بہت زبردست ہے یہ گانا دیکھ لو، میں تو نہیں مان رہا تھا انھوں نے زبردست بٹھا دیا۔ وہاں پاہ مودا بھی مل گئے،

جنوری 1974 1973سے 1974 کا سن تبدیل ہوا تھا اور مجھے کئی دفعہ اساتذہ اور دوستوں نے نشاندہی کی تھی کہ میں غلط سن لکھ گیا ہوں،
اسی مہینے محمد علی کلے اور جولیس فریزے کا مقابلہ ہوا تھا ہمارے گھر، سکول اور شہر میں یوں سمجھا جاتا تھا جیسے کوئی کفر اور اسلام کا معرکہ ہو، محمد علی کلے سے ہر کوئی ذاتی لگائو محسوس کرتا تھا محمد علی کلے اس سے پہلے ایک میچ فریزے سے ہار گیا تھا اس لئے اس میچ میں بڑی دلچسپی تھی اور اس میں محمد علی کلے کی فتح پر بڑی خوشی منائی گئی۔ اس فائٹ کے بارے مجھے محسن اور ہپی نے کافی معلومات دی تھیں

فروری 1974 دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس 1974ء میں پاکستان میں منعقد ہوئی۔ اس کے روح رواں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ 22 فروری بروز جمعۃ المبارک 1974ء بعد نماز جمعہ اس عالمگیر اہمیت کی تقریب کا افتتاح ہوا، جس میں 50کے لگ بھگ سربراہوں نے شرکت فرما کر تقریب کو رونق بخشی۔
اسلامی سربراہی کانفرنس کا ایک ترانہ بھی بنایا گیا ۔ عند اللہ عند اللہ ہم مصطفویٰ ، ہم مصطفوی، ہم مصطفوی ہیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر ۔
یہ ترانہ مجھے بہت پسند آیا تھا اور میں بڑے شوق سے یہ ترانہ سنتا تھا
اسی دوران بہت سے لوگ یہ کہتے تھے کہ بنگلہ دیش کو بہانے سے تسلیم کر لیا گیا ہے جماعت اسلامی بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک چلا رہی تھی جاوید ہاشمی جمیعت کا کوئی لیڈر مشہور ہوا تھا مگر لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ یہ جماعت والے یہودی ایجنٹ ہیں یہ مسلمانوں کے اتحاد کو پسند نہیں کرتے اور بنگلہ دیش بن گیا اب کیا لینا ہے اسے تسلیم کر لیا جائے

مارچ:اس دور میں موبائل اور کمپوٹر یا وڈیو گیمز کہاں ہوتی تھیں اس دور میں پی ٹی وی ہی تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ہم بچے ٹی وی بڑے شوق سے دیکھتے تھے اس وقت سچ گپ، شیشے کا گھر، شہزوری ،کرن کہانی، آپ کا مخلص کمال احمد رضوی کا ڈرامہ محفوظ ماموں اور موسیقی کا سہیل رعنا کا پروگرام جس میں ارونا لیلی آتی تھیں
سنڈے سنڈے عالمگیر، پاپ موسیقی کا پہلا پروگرام تھا جس میں عالمگیر پہلی دفعہ آیا اس پروگرام میں ایک گانا بڑا مقبول ہوا تھا جو شہناز بیگم نے گایا تھا جس میں چھایاں چھایاں جیسے لفظ کے لئے ایک عجیب آواز نکالتی تھی ہپی وہ گانا کلاس میں بہت شوق سے سناتا تھا اور ہم سب بچے ہنس پڑتے تھے۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *