قطر سعودی تنازعہ کی جدلیات

قطری حکومت نے خلیجی جنگ میں امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد العدید بیس کی تعمیر پہ ایک ارب ڈالر خرچ کیے تھے. جب امریکہ نے عراق پہ حملہ کیا تو اپنے فضائی جنگی آپریشنوں کا ہیڈکوارٹر سعودی عرب سے العدید بیس پہ منتقل کر دیا، اور شام میں امریکی فضائی حملوں کے لیے بھی العدید بیس کو ہی ہیڈکوارٹر رکھا گیا ہے. گیس کے بےپناہ ذخائر اور امریکہ کے لیے اِس کی اسٹریٹیجک اہمیت نے قطر کو اِس قابل بنا دیا کہ سعودیوں سے آزادانہ طور پر اپنے سیاسی وزن کو منوا سکے.عراق جنگ اور خصوصاً 2011ء میں شروع ہونے والی عرب بہار کے بعد جب سعودی عرب اندرونی طور پہ کمزور ہوا اور خطے میں ایرانی اثررسوخ میں اضافہ ہوا تو قطر کو اپنا آزادانہ کردار ادا کرنے کا موقع مل گیا. قطر کا آزادانہ سیاسی کردار اُس وقت کھل کر سامنے آ گیا تھا جب اُس نے مصر میں محمد مرسی کی حکومت کی مکمل تائید جبکہ سعودی عرب نے شدید مخالفت کی تھی. یہاں سے پہلے ہی لرزتے ہوئے سعودی اقتدار کے لیے قطری خطرے کا آغاز ہوتا ہے جبکہ الجزیرہ نیٹ ورک اور مڈل ایسٹ آئی اِس “خطرے”کے حق میں پروپیگنڈہ مہم شروع کر دیتے ہیں.

قطری اور سعودی تنازعہ کو ہوا اُس وقت ملی جب رواں سال قطر اور ایران ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے حتی کہ دنیا کے سب سے بڑے گیس فلیڈ شمالی پارس پہ دونوں نے گیس نکالنے کا مشترکہ آپریشن شروع کیا. جب قطر پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو سعد الکعبی سے اِس معاملے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا “ہم اس وقت بالکل جدید عہد میں ہیں، لہذا ہمیں بھی نئے اقدامات اٹھانے ہوں گے، مستقبل میں ایران کے ساتھ مزید بہتر معاملات طے ہوں گے.”
ایران کا خطے میں بڑھتا ہوا اثرورسوخ سعودی عرب کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، اِن حالات میں قطر ایران یارانہ یقیناً عرب ممالک کے بیچ تناؤ کا سبب بن گیا ہے. شامی خانہ جنگی کے دوران ایران خطے کا ایک مضبوط فوجی کردار بن کر ابھرا ہے جبکہ مغربی دنیا کے ساتھ نئے تجارتی تعلقات بھی امکانات میں ہیں.

پاسداران انقلاب نے یقیناً النصر، داعش اور القاعدہ کے خلاف اچھی کامیابیاں حاصل کی ہیں. اِن سارے حالات میں قطر اور ترکی نے ایران کو شامی قضیے میں مضبوط شراکت دار تسلیم کرتے ہوئے اُس کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں. اگر شام کی تعمیر نو کے لیے ایران، قطر اور ترکی کے مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو سعودی عرب کو شدید معاشی، سیاسی اور جغرافیائی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے. کیونکہ ایران کا عروج سعودی عرب کو نہ صرف خطے میں اس کے سامراجی عزائم کے لیے ایک مستقل خطرے کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ تیل سے مالا مال مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی شیعہ تحریک کو مالی، سیاسی اور فوجی حفاظت بھی میسر آئے گی. یمن کی بیوقوفانہ جنگ اور اپنے ہمسائیوں کو دھمکانے کی بچگانہ حرکات سے آل سعود کی جھنجھلاہٹ صاف ظاہر ہے.

قطر نے ترکی کے ساتھ بہت قربت داری شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے بھی سعودی عرب قطر سے نالاں ہے. ترکی نے قطر میں ایک مضبوط ائیربیس بھی بنا لی ہے اور مشترکہ فوجی مشقیں بھی کی ہیں. مشرق وسطی میں سعودی اثررسوخ مسلسل کم ہو رہا ہے جبکہ ترکی اپنی معاشی ترقی اور فوجی طاقت کی وجہ سے مسلسل مضبوط ہو رہا ہے. خلافت کے اختتام کے بعد سعودی عرب کو خطے کا سلطان مانا جاتا تھا مگر اب یہ سلطانی اُس کے ہاتھوں سے نکل کر ترکی کے ہاتھ واپس جارہی ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران، ترکی اور مصر ہی خطے کی اصل قومیں ہیں، جبکہ سعودی عرب تو ایک سامراجی سلطنت ہے جس کی بنیاد تیل کے ذخائر پہ مبنی ہے. خطے کے انقلابی حالات، سرمایہ دارانہ بحرانات، ترقی پسند جمہوری نوجوان اور مختلف قبائل اِس سلطنت کو دن بہ دن کمزور کر رہے ہیں.

قطر کی معیشت کی اکثریتی بنیادیں اُن معاہدوں پر ہیں جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہیں. قطر اِن معاہدوں پہ بلیک میل ہو کر سعودی عرب کی کچھ شرائط مان کر مسئلہ حل کر لے گا مگر اصل شکست سعودی عرب کو ہی ہو گی کیونکہ حالیہ تنازعہ میں سعودی عرب کی کمزوریاں کھل کر سامنے آئی ہیں. ایران اور ترکی کے ساتھ قطر کے تعلقات اس علاقے میں حقیقی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں سعودی عرب کی طاقت میں کمی جبکہ ایران اور ترکی خطے میں اہم طاقت بن رہے ہیں.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *