اپنی زندگی آسان فرمائیے ۔۔۔ شاد مردانوی

میری درسِ نظامی سے فراغت سن دو ہزار پانچ میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ہوئی ہمارے ہم درس ساتھی آج پاکستان اور بیرون ملک پھیلے ہوئے دین و دنیا کے مختلف شعبوں میں مصروفِ عمل ہیں کچھ ساتھی عصری تعلیم کے تقاضوں کو پورا کرکے مختلف سرکاری عہدوں تک پہنچ گئے کچھ ایسے ہیں جو اصلاح و تبلیغ سے وابستہ ہوئے اور کسی نہ کسی سطح پر جانے مانے چہرے بنے ہیں اور کچھ علماء کرام تنگی ء معاش جیسے دیرینہ مسئلے سے لڑنے میں جت گئے ۔

سالہا سال بیت گئے ہم درس لڑکے جو اب مرد اور کچھ دادا نانا بن گئے تھے ،انفرادی طور پر کبھی آپس میں رابطہ رہا، یاد اللہ ہوگئی دوسرے ساتھیوں کی کبھی رسمی یا غیر رسمی خبر لی گئی تو ٹھیک وگرنہ زندگی نہ پہلے کبھی کسی کے لیے رکی نہ آئندہ رکنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ یوں ہی ہر ایک اپنی اپنی زندگی کے مسرتوں اور مصیبتوں سے اپنے اپنے تاب کے بقدر لطف اندوز یا یاسیت آمیز ہورہا تھا ۔۔۔

کہ پھر دو ہزار پندرہ کا سال آگیا اور اسی جماعت کے کچھ ساتھیوں نے بیٹھ کر ایک خاکہ بنایا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ دوسرے دوستوں کے ملنے سے نت نئے رنگ بھرتے رہیں ۔ اور آج اس نقشے کی رنگینی آنکھیں خوش کیے دیتی ہے ۔ اب گروپ سال میں ایک بار کراچی کے مضافات میں واقع کسی فارم ہاؤس میں تمام ساتھیوں کی شرکت یقینی بناتا ہے شب و روز اکٹھے گزرتے ،ہنستے کھیلتے ایک دوسرے کے احوال سے واقفیت لیتا ہے۔۔

نصف درجن یا ایک آدھ کم ہم جماعت ساتھیوں نے سوچا کہ مواصلاتی زمانے کی خوبیوں سے استفادہ کیا جائے اور کیوں نہ ایک وھاٹس اپ گروپ تشکیل دیا جائے جس میں کہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر جامعہ بنوری ٹاؤن کے دو ہزار پانچ کے فضلا کو ایڈ کیا جائے اور یوں ایک دوسرے کے حال احوال سے بھی آگاہ رہا جائے اور خوشی غمی میں ایک دوسرے کے کاندھا بننے کا بھی آغاز ہو ۔۔۔
پہلا سال گروپ کی ترتیب و تدوین کی نذر ہوا ملک اور بیرون ملک بکھرے ہوئے ساتھی تلاش کئے گئے ان کو گروپ میں ایڈ کیا گیا شکرییے اور شکوے ادا ہوئے ,قضا ہوئے اور فنا ہوئے ، مردہ دلوں کو زندہ کیا گیا اور بڑھاپے کی کگار پر کھڑی جوانیوں کو ایک ولولہ انگیز مصروفیت میسر ہوئی ۔۔۔

دوسرے سال کچھ ساتھی جو مدارس اور مساجد سے وابستہ تھے معاش کی تنگیوں سے دوچار تھے ،کچھ قرضوں اور بیماریوں کا سامنا کررہے تھے ،کچھ دوست کم سرمائے کے ساتھ کچھ ذاتی ذریعہ معاش کا شروع کرنا چاہ رہے تھے لیکن سرمایہ کم کیا سرے سے موجود ہی نہ تھا ، اور اپنی سفید پوشی کا بھرم جن کو عزیز تھا ان کا حال اپنا حال سمجھتے ہوئے ایک مشترکہ فنڈ قائم کیا گیا ،گروپ کے تمام ساتھیوں سے درخواست کی گئی کہ ہر ماہ کم از کم دو سو کا صوابدیدی تعاون کیا کریں ۔ امکان میں ہو تو جتنا بسہولت ہوسکے ۔۔۔
تیسرا سال ابھی شروع نہ ہوا تھا کہ دو لاکھ روپے کا فنڈ اکٹھا ہوکر مختلف دوستوں کو قرض حسنہ کی مد میں فراہم کیا گیا اور حسب سہولت قسط وار یا یکمشت اس کی ادائی کی ترتیب طلب کرنے والے کی رعایت رکھتے ہوئے بنائی گئی ۔۔
تیسرے سال یعنی سال رواں اہداف و مقاصد میں شاندار توسیع کرکے عملی جامہ پہنانے کی طرف پہلا قدم اٹھایا گیا ۔ گروپ کے منتظم ساتھیوں نے ایک مشکل لیکن قابل عمل عزم کو ترجیحی بنیاد پر اپنا ہدف بنایا کہ ہم جماعت ساتھیوں میں جن کا ذاتی گھر نہ ہو ان کیلیے استحقاق کی اولویت پر ذاتی گھر کا انتظام ہم سب کی ذمہ داری ہے اسی سال فنڈ میں جمع شدہ رقم اتنی ہوگئی تھی کہ ہم یہ خواب کچھ رد و کد کے بعد پورا کرسکتے ہیں۔۔

اس کے علاوہ رمضان المبارک میں بڑھتے ہوئے اخراجات ، اچانک آنے والے مصائب ، بڑی بیماریوں اور اس قسم کے ابتلاءات سے مل جل کر نمٹنے کیلئے کئی بار ہنگامی امداد کے عنوان سے یہ گروپ متحرک رہا اور سال بھر کی کار گزاری سب کے سامنے رکھی گئی ۔۔۔

سرِ دست گروپ کے ایک ساتھی کی بیوی کینسر سے جنگ لڑ رہی ہے جس کا حل گروپ کے ساتھیوں نے مشترکہ دعا کے ساتھ ساتھ علاج کی صورت میں گروپ کے ذمہ لیا ہوا ہے ہمارے اس دوست کو علاج کی مد میں تیس لاکھ کی رقم کی ضرورت ہے اور ہم نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اللہ کی ذات پر توکل کرتے ہوئے اس دوست کی بیماری میں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیا ۔۔
اور ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف اور مقاصد میں متوقع میعاد سے پہلے کامیاب ہوں گے ۔۔۔

پچھلے سال اس سلسلے کی ابتدائی تعارف پر مبنی تحریر پوسٹ کی تھی جس سے تحریک پاکر اسی خدو خال پر مشتمل مدارس اور یونیورسٹی کے مختلف بیجز پانچ ایسے ہی گروپ بناچکے ہیں جو بحمدہ تعالیٰ فعال ہیں اور اپنا کام بہترین طریقے سے کررہے ہیں ۔۔

ہمارے گروپ کے ساتھ اگر کوئی ساتھی تعاون کرنا چاہے تو انبکس رابطہ فرمائیں انتظامیہ سے رابطہ نمبر مہیا کردوں گا ۔

 

نوٹ: محترم شاد مردانوی سے رابطے کے لیے ان کاُ پروفائل لنک درج ذیل ہے۔

https://www.facebook.com/profile.php?id=100006821505376

شاد مردانوی
شاد مردانوی
خیال کے بھرے بھرے وجود پر جامہ لفظ کی چستی سے نالاں، اضطراری شعر گو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *