متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (آخری حصہ)

نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت کے متعلق ہندوستان بھر میں پائی جانے بے چینی ، افواہوں اور اس ضمن میں پھیلی سازشی تھیوریوں کو تقویت آزادی کے بعد ہندوستانی حکومت کے اقدامات سے ہی ملی۔ آزادی کے بعد ہندوستانیوں کو یہی باور کرایا گیا کہ یہ آزادی صرف مہاتما گاندھی اور نہرو کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ نیتا جی کے بھتیجے “سیسر بوس” نے ان کی اہلیہ اور اپنی چچی ایملی شینکل کو 1955 میں لکھے گئے خط میں تحریر کیا تھا کہ اگر آج آپ ہندوستان میں ہوتیں تو یہی محسوس کرتیں کہ یہ ملک صرف گاندھی اور نہرو کی وجہ سے آزاد ہوا۔ ان کے سوا باقی تمام لوگوں کی حیثیت غیر ضروری (ایکسٹراز) کی تھی۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد بھی بوس کے خاندان کی کڑی اور خفیہ نگرانی کی گئی۔ 2015 میں مغربی بنگال کی انٹیلیجنس برانچ کی ڈی کلاسیفائی کی گئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بوس فیملی کی 1948 سے لے کر 1968 تک خفیہ نگرانی کی گئی تھی اور اس کی رپورٹ آئی بی براہ راست وزیر اعظم کو دیتی تھی۔ یاد رہے کہ نہرو اپنی وفات 1964 تک وزیر اعظم رہے تھے۔ یعنی کامل سولہ برس سبھاش چندر بوس کے خاندان کی خفیہ نگرانی نہرو کراتے رہے اور اس کے بعد بھی چار برس تک دوسرے وزرائے اعظم نے یہ عمل جاری رکھا۔ سب سے زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ ہندوستانی انٹیلیجنس کا اس سلسلے میں برطانوی خفیہ ایجنسی “ایم آئی فائیو” سے مسلسل رابطہ تھا۔ انگریز سامراج کی جانب سے بوس کو باغی یا دہشتگرد سمجھا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن ہندوستان میں کانگریس کی حکومت جو خود کو سامراج مخالف اور آزادی کی چیمپئن ظاہر کرتے نہیں تھکتی تھی، اسے نیتا جی کے بعد ان کے خاندان سے کیا خطرہ تھا؟ نیز کیا یہ کانگریسی حکومت اور نہرو، نیتا جی کو دہشت گرد سمجھتے تھے؟ یہ سوال گاندھی اور نہرو کے ان حامیوں سے بھی پوچھا جا سکتا ہے جو یہ ثابت کرتے نہیں تھکتے کہ بوس کا گاندھی جی کے ساتھ اختلاف محض طریقہ کار پر اور نہایت معمولی نوعیت کا تھا۔ اگر یہ اختلاف اس قدر معمولی تھا تو برسوں تک نیتا جی کے خاندان کو کڑی نگرانی میں کیوں رکھا گیا اور تمام خفیہ اطلاعات برطانوی خفیہ ایجنسی تک کیوں پہنچائی جاتی رہیں؟

اس سلسلے میں “انوج دھر” کی کتاب India’s Biggest Cover-Up میں ان دستاویزات کے متعلق کافی تفصیل موجود ہے۔ افسوس کہ میں یہ کتاب حاصل نہیں کرسکا تاہم اس کے متعلق “ہندوستان ٹائمز” میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل کا لنک تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا جس میں کئی اہم سرکاری خطوط اور دستاویزات کی نقول بھی موجود ہیں۔ اس کا لنک قارئین کے لیے یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگا۔
http://www.hindustantimes.com/india/documents-reveal-nehru-govt-shared-information-on-netaji-s-family-with-mi5/story-ITBOB2mIlEXIDe8YdJoITL.html

انوج دھر نے بجا طور پر تحریر کیا ہے کہ گاندھی اور نہرو، بوس کے متعلق 1939 ہی سے “شکوک” رکھتے تھے۔ آسان الفاظ میں اس بات کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ گاندھی اور نہرو انگریز سامراج کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے اور اگر ایسا نہیں تھا اور بوس کے ساتھ اختلاف صرف جدوجہد آزادی کے طریقہ کار تک محدود تھا تو نیتا جی کی شہادت اور آزادی کے بعد ان کے خاندان کی خفیہ نگرانی اور تمام معلومات برطانیہ کے ساتھ شئیر کرنے کا کیا مقصد تھا؟ یاد رہے کہ نیتا جی کے متعلق ان خفیہ فائلز کو ڈی کلاسیفائی کرنے کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا لیکن کانگریس کی حکومت نے ہمیشہ اس مطالبے کو رد کیا۔ ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت نے “رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ” کے تحت یہ فائلز ڈی کلاسیفائی کیں تو کانگریس پارٹی نے اس اقدام پر شدید تنقید کی۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ اب بھی اس سلسلے کی کم از کم پانچ فائلز خفیہ ہیں جن کے متعلق اس قدر راز داری رکھی جا رہی ہے کہ کسی کو ان کے عنوان تک معلوم نہیں۔ بعض میڈیا ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی 150 سے زائد فائلز ڈی کلاسیفائی نہیں کی گئیں۔

جیسا کہ اس مضمون کے آغاز میں عرض کیا تھا کہ ہندوستان کی مٹی میں خصوصیت ہے کہ یہ ہر چیز کو اپنے اندر جذب کرکےاس کا وجود تقریباً ختم کر دیتی ہے۔ یہی کچھ نہرونے جدوجہد آزادی کے ہر اہم رہنما کے ساتھ کیا۔ ہر سرکاری عمارت میں بھگت سنگھ اور بوس جیسے شہدا کی تصاویر تو لگوا دیں لیکن ان کی اصل خدمات کو چھپا کر ہندوستانی قوم کو یہی سبق پڑھایا گیا کہ تحریک آزادی کے اصل اور حقیقی رہنما اگر تھے تو صرف گاندھی اور نہرو ۔۔۔ باقی سب ایکسٹراز ! یہ بات اگر ہم کہیں تو ہندوستانی کانگریسی ہی نہیں، پاکستانی کانگریسی بھی غضب ناک ہوجائیں گے، اس لیے یہ بات ان کی زبان سے سنیے جو نہ پاکستانی ہیں اور نہ مسلم لیگی۔ اوپر دیئے گئے حوالے بھی انوج دھر کی کتاب سے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان ایم جے اکبر کا کہنا تھا کہ نہرو نے یہ خفیہ نگرانی اس لیے کرائی کہ اگر نیتا جی واقعی زندہ ہوئے اور واپس آگئے تو ان کی حکومت کے لیے زبردست خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ کانگریس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خفیہ نگرانی نہرو کے حکم پر نہیں کی گئی تھی اور امکان ہے کہ یہ مغربی بنگال حکومت کی معمول کی کارروائی کا حصہ ہو جس کے تحت تمام سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کی نگرانی کی جاتی تھی۔ اس موقف کو اس لیے درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ نیتا جی کےبھتیجے امیا بوس کی جاپان میں سرگرمیوں کی کھوج بین کے متعلق نہرو کا دستخط شدہ خط بھی ان دستاویزات میں شامل ہے۔ یاد رہے کہ امیا بوس بھی مغربی بنگال کے نمایاں سوشلسٹ رہنماؤں میں شامل تھے۔ اس بارے میں انوج دھر نے واضح طور پر لکھا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں ماضی کے مردے اکھاڑنے کی بجائے مستقبل پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ اس لیے یہ خفیہ ایجنسیاں نہرو کے اس خوف کے باعث نیتا جی کے خاندان کی نگرانی کر رہی تھیں کہ بوس واپس آکر حکومت کے لیے مشکل نہ پیدا کر دیں۔

http://www.hindustantimes.com/ht-view/netaji-bose-vs-nehru-political-rivalry-or-historical-myth/story-Q1WLMf7ZA1BfNOQXyixbRJ.html

سبھاش چندر بوس نے ہندوستان کی آزادی کے لیے کیا کیا تھا، اس کی اہمیت کا ایک بڑا ثبوت ہندوستان کے ممتاز ترین دلت رہنما بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کا 1955 میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو ہے جس کا یوٹیوب لنک آخر میں دیا گیا ہے۔ امبیڈکر جنہیں دلت یعنی نیچ ذات ہندو کمیونٹی کے لیے بے مثال خدمات کی بنا پر بابا صاحب کے نام سے جانا جاتا ہے، کولمبیا یونیورسٹی اور لندن سکول آف اکنامکس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں رکھنے والے ماہر معاشیات، قانون دان، ایک بڑے مصلح اور سیاستدان تھے۔ انہوں نے دلت یعنی اچھوت طبقے کے حقوق کے لیے بے مثال جدوجہد کی۔ وہ 1942 سے 1946 تک وائسرائے ایگزیکٹیو کونسل کے رکن بھی رہے۔ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر قانون مقرر ہوئے اور 1951 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بھارتی آئین کا مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی کے چئیرمین بھی ڈاکٹر امبیڈکر ہی تھے۔

فروری 1955 میں بی بی سی کے لیے فرانسس واٹسن کوانٹرویو دیتے ہوئے بابا صاحب نے جو باتیں کیں، وہ واقعی قابل توجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے انگریز راج ختم کرنے کا سہرا گاندھی نہیں، سبھاش چندر بوس کے سر ہے۔ امبیڈکر کی اس بات کی تصدیق سابق برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی نے بھی 1956 میں کی تھی جب انہوں نے تسلیم کیا کہ بوس کی آزاد ہند فوج نے جاپانیوں کے ساتھ شکست کھانے کے باوجود انگریز راج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ یہ نقصان کیا تھا؟ تقریباً ایک صدی سے انگریز آقاؤں کے حکم پر لڑنے والی رائل انڈین آرمی کے ہندوستانی افسروں اور جوانوں کے دلوں میں وطن کی محبت اور آزادی کی شمع روشن ہوگئی تھی اور جب آزاد ہند فوج کے گرفتار کیے گئے ارکان پر دہلی میں بغاوت کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی گئی تو انڈین آرمی میں شدید بے چینی پھیل گئی۔ بمبئی میں انڈین نیوی میں ہوئی بغاوت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ انگریزوں نے صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے بغاوت کا یہ کیس ختم کر دیا لیکن انہیں اندازہ ہوگیا کہ اب ہندوستان کو ہندوستانی فوج کے ذریعے غلام رکھنے کا وقت گزر چکا ہے۔ انگریزوں کو 1857 کی بغاوت یاد آنے لگی۔ اس خدشے کی تصدیق برطانوی انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر سر نارمن سمتھ نے نومبر 1945 میں بھیجی گئی اپنی خفیہ رپورٹ میں بھی کی۔

فروری 1946 میں برطانیہ کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم ایٹلی سے مسئلہ ہند کے متعلق ملاقات کی اور صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے دو آپشن وزیراعظم کے سامنے رکھے:
ہم ہندوستان کے مسئلے سے ازخود باہر نکل آئیں یا
اس سے بزور بازو نکالے جانے کا انتظار کریں
ان ارکان پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ دوسری صورت میں انڈین آرمی کی وفاداری ہمارے نہیں، اپنے ملک کے ساتھ ہوگی کیونکہ بوس کی فوج اب ہندوستانیوں کے لیے ہیرو کا درجہ رکھتی ہے۔
اسی باعث وزیراعظم ایٹلی نے ہندوستان کو آزادی دینے کا فیصلہ اس قدر عجلت میں کیا۔
(اختتام)
حوالہ جات:
Brothers Against Raj: A Biography of Indian Nationalists Sart and Subhas Chandra Bose
By: Leonard A. Gordon
The Talwars of Pathan Land and Subhas Chandra’s Great Escape
By: Bhagat Ram Talwar
Subhas Chandra Bose: A Biography
By Marshall J. Getz
http://biggchat.com/congress-president-and-boses-conflict-with-gandhi/
http://www.ibtl.in/news/rashtra-vandana/1700/subhash-chandra-bose-and-congress-movement/
http://www.hindustantimes.com/india/documents-reveal-nehru-govt-shared-information-on-netaji-s-family-with-mi5/story-ITBOB2mIlEXIDe8YdJoITL.html

http://www.hindustantimes.com/ht-view/netaji-bose-vs-nehru-political-rivalry-or-historical-myth/story-Q1WLMf7ZA1BfNOQXyixbRJ.html

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *