ہیڑ اور کَس

ہیڑ اور کَس
جاوید خان
چیت کی بارشیں ہم پہاڑیوں کے لیے ہمیشہ خطرے کی گھنٹی ہوتی تھی۔سرمائی خطوں میں سکول کالج جنوری فروری میں بند رہتے ۔بھاری برف باری معمولات زندگی معطل کردیتی تھی۔مارچ میں برف کاسلسلہ ختم ہو کر سخت بارشوں کی شکل اختیار لیتا ۔لوگ تب عربستان سے ناواقف تھے۔یوں چھوٹی چھوٹی پہاڑی کھیتیوں پر ہی انحصارتھا۔بیل ،گائے ،بکریاں رَکھنا عزت و افتخار کی نشانی تھی۔کھیتوں کو لہلہاتی فصلوں کے قابل بنانا ہی کام تھا۔بچہ بچہ کسان تھا۔یوں زمین ہی سب کُچھ تھی۔بازار اورزہریلی کھاد کے بجاے قدرتی کھاد کھا کر فصلیں جھومتیں ۔فصلوں اور فطرت کا جوبن دیکھ کر زندگی مُسکراتی ۔
پہاڑئیے اپنی باڑی (قابل کاشت زمین)کی ہر دم دیکھ بھال کرتے ۔چیتر (چیت)سخت غصیلہ ثابت ہوتا۔گرجتا ،چمکتا ،کڑکتا پھر زوردار برستا۔جتنا غصہ چیت میں ہے اتنا کسی دوسرے موسم میں نہیں۔بارشوں کا سیلابی پانی قابل کاشت رقبوں پر چڑھ دوڑتا ۔مِٹی کی اُوپری سطح کی ساری قدرتی کھاد بہالے جاتا۔زرخیز مٹی کا یوں بہہ جانا کسانوں کا سارا سرمایہ ضائع ہوجانے کے برابر تھا۔چیت کی سرکشی سے ندی نالے اُمڈنے لگتے۔بعض اوقات تو بپھر جاتے اور کھیتوں کو تباہ کردیتے ۔ان ندی نالوں کو پہاڑئیے ’’کَس ‘‘کہتے ہیں۔لفظ کشمیر کی تسمیات میں ’’کَس میر ‘‘ سے مراد ندی نالوں کی سرزمین ہی ہے۔چیت میں کَس (نالے )دشواریاں پیدا کردیتے ۔شوریدہ سر نالوں کو پار کرتے کرتے اچھے اچھے لوگ بہہ جاتے۔لکڑی کے پُل منہ زور پانی کو سہہ نہ پاتے اور وہ بھی سرکش دھاروں کی نذر ہو جاتے۔
فصل ربیع اور حریف میں پانی کھیتوں میں کُود آتا اور بیج بہا کر لے جاتا ۔یوں کسانوں کو دوبارہ مشقت کرنی پڑتی۔کھیتوں کو اس بلا سے بچانے کیلیے ایک سر ے سے دوسرے سرے تک گہری نالیاں کھودی جاتیں۔اضافی پانی ان نالیوں کے ذریعے نکل جاتا ۔ان نالیوں کو پہاڑی زبان میں ’’ہیڑ ‘‘کہتے ہیں۔ہیڑ کھیتوں کو بے رُخے اور فالتو پانی سے ہمیشہ محفوظ رکھتے تھے۔ان ہیڑئوں (نالیوں )میں بعض جگہ ہمہ وقت بہنے والا پانی سبزی ،ٹماٹر، مرچ کی پنیریوں کو سینچنے کے کام آتا تھا۔ہیڑ (نالیاں ) صرف کھیتو ںکو ہی نہیں گھرئوں پہ کودآنے والے پانی کو بھی روکتے تھے۔ہر پہاڑی کسان کی زمین میں ہیڑ ضرور نظر آتے ۔ہیڑ ایک اور مقصد کے لیے بھی کار آمد تھے۔پڑوسی کسان اپنی زمینوں کی سرحد کا تعین ہیڑ نکال کر ،کرلیتے تھے۔مارچ میں ہیڑئوں سے مٹی نکالی جاتی تاکہ اُن کی گہرائی قائم رہے ۔گویا ہیڑ قائم رہیںکیونکہ کسانوں کی آئندہ نسلوں کو انہی سرحدوں کا پابند رہنا تھا۔اگر کہیں ہیڑ مِٹ جاتے تو ڈھیروں خرابیاں نکل آتیں اول سرحد کا تعین کرنے میں دُشواریاں پیش آتیں اور تنازعے کھڑے ہو جاتے ۔دوسرا زمینوں پہ سیلاب آنے سے ذرخیز مٹی بہہ جاتی تھی۔کسان سال بھر کا اناج حاصل نہ کرپاتے ۔
’’ہیڑ لَنگنا‘‘ پہاڑئیے بطور محاورہ بھی استعمال کرتے آئے ہیں۔اگر کسی آدمی کی جمع پونجی ،زرخیزی ،سرمایہ ڈوب جائے اور اس عمل میں سراسر اُسکی بیوقوفی اورنااہلی کادَخل ہو تو تب ’’ہیڑ لَگنا ‘‘ کا محاورہ چُست کیا جاتا ہے۔مُسلم دُنیاء کے پاس قدرتی وسائل سے مالا مال زمین ہے ۔دُنیا بھر میں تیل و گیس پیداء کرنے والے ممالک میں یہ سر فہرست ہیں۔افرادی قوت ، شفاف پانیوں کے دریا، گہرے سمندر ،ہر طرح کی آب و ہوا،دولت کی فراوانی ،تجارتی گُزرگاہیں۔مذہبی نصاب جو ہمیشہ نظم و ضبط ،ایثار ،بھائی چارے ،انسانیت کی تعلیم دیتا ہے۔مگر ساری مسلم دنیا بنجر پڑی ہے۔ان بنجر زمینوں پہ جگہ جگہ کانٹے دار جھاڑیاں کھڑی ہیں۔جن کے کانٹے جہالت اور فساد کے زہر سے بھرے ہیں۔
معصوم ذہنوں میں انتشار کے بیج بونے کے بعد جب یہ فصل پک کرتیار ہوتی ہے تو کبھی اپنی اور کبھی پرائی درانتی اس پہ چلتی ہے فرقہ واریت کے کالے دھوئیں نے آلودہ کر دیا ہے۔علم دوستی کے بجائے تنگ نظری در آئی ہے۔شعو ر و فہم کے بجائے جذباتیت نے لے رکھی ہے ۔اس بنجر پن کی ذمہ دار مُلوکیت ، آمریت ، ڈکٹیٹر شپ اوران کی کوکھ سے جنم لینے والی جمہوریتیں ہیں۔اور ان سب پُرزوں کی چابی عالمی سرمایہ کے ہاتھ ہے۔لاوارث زمینوں میں جھاڑ جھنکاڑ اُگ آتے ہیں تو زمینیں فصلوں کے قابل نہیں رہتی۔وہاں زہریلے حشرات ،کالے سانپ رینگنے لگتے ہیں۔زمینیں دو طرح سے لاوارث ہوتی ہیں۔ایک جب ان کے مالک نہ رہیں۔دوسرا مالک ہوں مگر انہیں ان سے کوئی غرض نہ رہے۔وہ اپنی عیاشی میں مست رہیں ۔تب ایسی زمینوں میں ہیڑ ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں غیر ضروری پانی زرخیزی بہا لے جاتا ہے۔چیت میں کَس باقی ماندہ زمینوںپہ چڑھ دوڑتے ہیں۔پاکستان میں آمریت ،ڈکٹیڑ شپ ،آمریت زدہ جمہوریت کے سرکش پانیوں نے ساری زرخیزی توکب کی بہالی ہے اب زمین اصل مالک کی محتاج ہے۔فی الحال مون سون ہے ہیڑ اور کَس بپھرے بپھرے اور سرکشی پہ ہیں۔

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *