• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بدلے بدلے میر ے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

بدلے بدلے میر ے سرکار نظر آتے ہیں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/پہلی قسط

تبدیلی کے یوں اچانک آجانے پر اقبال دیوان کا کئی اقساط پر مشتمل ایک طویل مضمون!
اقبال دیوان ہمارے اپنے
مومن مبتلا ایک فقیر راہ گزر ہیں
سندھ سرکار کے سابق سیکرٹری اور فورتھ کامن کے افسر ہیں۔
ہماری طرح یہ بھی عمران خان کے فدائیان خلق میں شمار ہوتے ہیں
: ایڈیٹر ان چیف۔۔۔انعام رانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پانچ اقساط کی پہلی قسط

tripako tours pakistan

عمران خان۔۔۔۔شخصیت


ہماری عمران خان سے کبھی بھی ملاقات نہیں رہی۔دیکھا کئی بار ، وہ بھی دور دور سے۔ایسے کئی مواقع آئے۔ ہم ان سے مل سکتے تھے۔پہلے پاکستانی کرکٹ سے جڑے ڈاکٹر ظفر الطاف، عارف عباسی، صلاح الدین لاکھوں دلوں کی دھڑکن صلو میاں اور عبدالحفیظ کاردار جیسے باثر افراد کی رفاقت میں۔بعد میں ایک ایسے دفتر اور گھر میں جہاں کراچی آمد پر وہ اکثر ہی تشریف لاتے رہے۔ ہم مل لیتے۔ملاقات کا یہ بالواسطہ طریق کار ہمارے مزاج اور انا پر گراں ضرور ہوتا مگر عملاً چندے دشوار نہ تھا۔ایسا کیوں۔آپ اسے حسد مان لیجئے۔اپنے علاوہ کوئی ہینڈ سم آدمی ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔اداکارہ زینت امان ہمیں بھی بہت پسند تھی۔ مجال ہے کم بخت نے دو منٹ مڑ کر ہمیں دیکھنے کی زحمت کی ہو۔عمران خان سے ملنے کے لیے جل(پانی)بن مچھلی کی طرح تڑپتی تھی۔لندن کا بگ بین کلاک لیٹ ہوسکتا تھا وہ نہ ہوتی۔

زینت امام

رولس رائس میں لوئی وٹان کے ٹریول لگیج لیے ان کے پیچھے پیچھے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی پوری پوری سیریزمیں گھومنے والی اشرافیہ کی بیٹیاں۔ وہ دل فریب گوریاں۔۔

نشانیاں وہ ان کےا پنے ہی اسلاف کی۔

کہ دیکھیں جنہیں یورپ میں تو دل ہو سی پارہ۔

وہ ایک علیحدہ سلسلہء فدائین تھا۔ہم نے چاہا تھا کہ مرجائیں سو وہ بھی نہ ہوا۔۔۔

لوئی وٹان کا سامانِ مسافت

طبقہء نسواں میں ا ن کی یعنی کپتان کی بے پایاں مقبولیت کا یہ دوسرا قصہ ان کے ایک گالیاں کھاکر بے مزہ نہ ہونے والے دوست کے حوالے سے ہمارے مرحوم دوست منیر مسوٹے نے سنایا۔سو دروغ بر گردن صافی یامسوٹہ۔ ایک بھارتی اداکارہ تعلق یوپی سے کپتان پر ہاتھ پیر چھوڑ کر عاشق تھیں۔۔ چلتے چلتے شادی کا ذکر آگیا تو بی بی سیرئس ہوگئیں ۔ ہر وقت ہوک اٹھتی تو پیغام بھیج دیتیں کہ سلگتے سینے سے دھواں اٹھتا ہے لو اب چلے آؤ کہ دم گھٹتا ہے ۔۔  منیر مسوٹہ آخر ہے کون؟
۔۔۔مسوٹہ (مسوٹا۔ بمعنی صافی،کچن میں صفائی کا کپڑا) یہاں جوڑیا بازار میں  ہلدی،گرم مسالوں چھالیہ سونف کا ہول سیل بیوپاری ہوا کرتا تھا۔ اب اس دنیا میں موجود نہیں۔اللہ مغفرت فرمائے عجب آزاد مرد تھا ۔ اور ہر وقت کے داغ دار لباس کی وجہ سے اس کا نام ہی مسوٹہ پڑگیا تھا جیسے کہ ایک مشہور اینکر کا نام سلیم صافی ہے حالانکہ ان کے کپڑے تو اکثر بہت اجلے ہوتے ہیں۔

جوڑیا بازار

عمران خان کے ہر قریبی رفیق کو چونکہ مریم اورنگ زیب اور طلال چوہدری،نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کی طرح غیر ضروری گفتگو کا بہت ہڑکا ہے لہذا انہوں  نے یعنی اسٹینڈ بائی نوشے میاں نے یہ بات ہمارے منیر مسوٹے کو خود بتائی تھی۔
نوشے میاں،منیر مسوٹے اور عمران خان کے مشترکہ دوست ہیں۔ان کا نام چلیے جانے دیں۔ ہر وقت پراڈو کے پچھلے دروازے پر لگا اسپئیر ٹائر بنے اعلان کرتے ہیں کہ ’میرا عمران، مہان ہے‘۔خوش شکل بھی ہیں  اور خوش گفتار بھی۔ بس ذرا جارحیت پسند ہیں۔دوسروں کو بے وقوف کہنے سے اس وقت بھی نہیں چونکتے جب کیمرے ان پر مرکوز ہوں۔اداکارہ کا کپتان سے شادی پراصرا ر، کپتان کی اس مؔعاملے میں روایتی سرد مہری اور اداکارہ کی جانب سے انتظامات کا سنا تو محمد بن قاسم کی  روح ان میں گھس آئی۔ اس کی طرح ان سے بھی عورتوں پر مظالم برداشت نہیں ہوتے تھے۔ مچل گئے۔کہنے لگے”کپتان تسی پرمیشن دؤو تے میں ایہدے  نال ویاہ کرلیاں؟
،ہمیشہ کے فراخ دل اور گریزاں دامن، عمران خان نے کہا ”دا گز دے دا میدان دے“
آگے کا بیان بھی منیر مسوٹے کا ہے۔
اس عشق کی ماری اداکارہ کی جانب سے عروسی انتظامات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ مہندی والی تک سے ٹائم لے بیٹھی تھی۔ایک مہینے سے مایوں ابٹن پیلے جوڑے اور گیندے کے پھول اپارٹمنٹ میں جابجا دکھائی دیتے تھے۔ لگتا تھا ممبئی کے جوہو بیچ کو یرقان ہوگیا ہے۔عمران خان اس وقت لونگ لاچی والے کڑی کچ دی کی طرح کنوارے تو نہ تھے مگر کسی کے دامن مناکحت سے نہ بندھے تھے۔
۔ منیر مسوٹے نے بیان جاری رکھا۔۔۔
عمران بھائی سے این او سی ملا تو بس پھر کیا تھا حضرت ممنون حسین کی برنس روڈ پر پتلون سینے والے درزی سے شیروانی سلواکر سہاگ رات ہے گھونگٹ اٹھا رہا ہوں میں گاتے ہوئے ممبئی اس اداکارہ کے آستانہ ء فیض رساں پر پہنچ گئے۔

صدر ممنون حسین

سنا ہے اس مہذب اداکارہ نے جو بارات کی آمد کے انتظار میں ایک ماہ سے مایوں میں بیٹھی تھی انہیں پردیسی پیامبر جان کر بہت مان سے پلنگ کے ساتھ والی کرسی پر بٹھایا حضرت گھگھیا کر فرمانے لگے۔”وہ رکمنی بائی ایسا ہے کہ ہمارے کپتان صاحب کینسر ہسپتال کی تعمیر کے  سلسلے میں برطانیہ چلے گئے ہیں۔ You know na how big a challenge it is for him, specially in Pakistan(آپ تو جانتی ہیں  نا  کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ کتنا بڑا چیلنج ہے) مجھے  آپ سے بیاہ کرنے بھیجا ہے۔خاکسار ان کا لڑکپن کے دنوں کا ساتھی ہے۔دوست ہی دوستوں کے کام آتے ہیں۔سو ہو نگاہ کرم ،ہم غریبوں کے دن بھی بدل جائیں گے“
۔یوپی کی اس نستعلیق اداکارہ نے بہت تحمل سے ان کی بات سنی۔ڈانگ دوسرے کمرے میں باپ کی کھآٹ (پلنگ) کے نیچے تھی ورنہ وہ مار مار کے ان کی کٹھیا کھڑی (جنازہ نکال دینا )کردیتی ۔ماسی کی ٹھوکر سے اس کی اپنی چپل بھی پلنگ کے نیچے جاگھسی تھی ورنہ اس نے لترول میں  بھی کوئی کسرنہ چھوڑی تھی۔
بھارت سے واپس آنے والے ناکام نوشے میا ں کو چند برس ہوچلے تھے ۔منیر مسوٹے کے پینٹ ہاؤس پر محفل شبینہ برپا ہوئی تھی،یوکرین کی بیلی ڈانسر کے پہلے جھٹکے اور میکسکو کی ٹکیلا کے دوسرے تیسرے پیگ پر پیٹ پکڑ اپنی اس رسوائی کا قصہ اسٹینڈ بائی نوشے میاں نے میمن سیٹھ منیر مسوٹے کو سنا دیا۔میمن سیٹھو ں کو باتیں  اور ویڈیو وائرل کرنا نہیں آتا پھر بھی گٹکا منہ  میں ٹھونس کر ہمیں ضرور بتادیا۔۔۔۔

ہم نے  کڑک کر پوچھا” سچ بول کیا یہ سچا قصہ ہے؟ تو گھبراگیا۔ ہمارے افسرانہ قہر کی جوڑیا بازار میں دھاک تھی۔ ضیاالحق کے ریفرنڈم میں مارکیٹ کے صدر نے ہمارے نام سے اعلان کیا تھا کہ ایس ڈی ایم صاحب کے کہنے پر فوج کو ووٹ نہیں دیا اور اپنی چلائی تو ملک میں ادرک،لہسن، چھالیہ،پان سمجھو امپورٹ بند ہوجائے گی۔بیوی کو منہ  دکھانے جیسے نہیں رہو گے۔ ریفرنڈم والے دن ووٹوں کے ڈبے ختم ہوگئے۔میمنوں کے ڈر کے مارے ووٹ ختم نہیں ہورہے تھے۔الیکشن کمیشن کی اجازت لے کر ایس ایچ او نے آدھے ووٹ تو لیاری ندی کے گندے پانی میں پھینک دیے۔
کاروباری مصلحت اور معاملہ فہمی کو بروئے کار لاکر کہنے لگا ”اقبال بھائی ایمان کی بات۔ جھوٹی سچی کی تو اب اللہ کو کھبر (خبر)۔ لوگ پھینکتے بھی بہت ہیں ۔مہاجر پنجابی تو یوں بھی بہت چھوڑو ہوتے ہیں۔ سچی پوچھو تو میرے کو بھی چڑھیلی تھی اس کو بھی ٹھوک کے چڑھیلی تھی(ہم دونوں کو نشہ چڑھا ہوا تھا۔)،ہوسکتا ہے میرے سے سننے میں گلطی(غلطی) ہوئی ہو مگر میرا ٹپوڑی(ممبئی میں لفنگے کو کہتے ہیں) ماموں جمال گواسکر کہتا تھا کہ میمن کبھی، میمن سے اور شرابی کبھی شرابی سے جھوٹ نہیں بولتا۔آپ میمن ہو اور وہ سالا شرابی۔میں تو آپ سے سیکریٹ شئیر کرکے پھنس گیا ہوں“۔اسٹینڈ بائی نوشے میاں کو اپنی دوستی نبھانے دیں ہم عمران خان اور ایما سارجنٹ جیسی Touch of Class رکھنے والی اشرافیہ گوریوں کا ذکر کرتے ہیں ۔

ایما سارجنٹ

اس سے قطع نظر ایک ہمارے نااہل وزیر اعظم نواز شریف تھے ۔سندھ کے ڈائریکٹر پروٹوکول ہونے کی وجہ سے کئی دفعہ ہاتھ ملانے اور دوسروں کو ملوانے کا اتفاق ہوا۔عالی مقام کا پرچی پکڑ کر انگریزی میں ا مریکی صدر اوباما سے گفتگو کا دریا بہانا تو سمجھ میں آتا ہے مگریہ فخر جاتی امرا تو نیپال کے بزرگ وزیر اعظم تک سے کاغذ  پڑھ پڑھ گفتگو کرتے تھے کہ مبادا ک   کسی قسم کی  لفظی بداحتیاطی سے انیس ٹھیس نہ لگ جائے آب گینوں کو۔ ایسے میں کسی نے انہیں ”طالبان ری شفل“ والی صحافی کم بارکر کے سامنے لائن اپ کردیا۔حضرت پرچی اور حواس دونوں ہی گم کر بیٹھے۔کیہڑا انٹرویو،کتھے دی انگریزی،کتھے شان تیری، کتھے میں کملا (معصوم،انیل،) ، میں کی ساں، کی بنادیا وے اس سے گا کر کہنے لگے کہ میری دوست بنو گی۔مجھ سے شادی کرو گی؟

اوباما کے سامنے
نیپال کے وزیراعظم
کم بارکر

ڈاکٹر ظفر الطاف سناتے تھے کہ وزیر اعظم ایک مرتبہ ازبکستان کے سرکاری دورے میں اسٹیٹ ڈنر والی اپنی تقریر میں ازبکستان کو تاجکستان کہہ کر پکارتے رہے جس کا وہاں کے صدر اسلام کریمو نے برا بھی مانا مگر جب وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ عالی مقام تسی تاجکستان وچ نئیں ازبکستان  وچ پائے جاندے ہو(آپ اس وقت تاجکستان میں نہیں ازبکستان میں ہیں)تو پوچھنے لگے کہ”چنگا او کوئی ہور ملک ہے۔سفیر نوں آکھیں یار میرے ولوں معافی منگ لوئیں (اچھا وہ کوئی اور ملک ہے یار تو سفیر کو کہنا کہ میری جانب سے صدر سے معافی مانگ لے)

ہم نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ”آپ خود پنجابی ہوکر ایک پنجابی وزیر اعظم کے کمزور پہلو اتنے کیوں اجاگر کرتے ہیں۔بے نظیر اور پرویز مشرف کے آپ نے کبھی ایسے کوئی قصے عام نہیں کیے تو ہنس کر کہنے لگے مولانا عورتوں کو عورتیں اور پنجابیوں کو ہم پنجابی ہی پورے پڑسکتے ہیں۔بے نظیر کی  دیگر کمزوریاں اپنی جگہ مگر اس کاFormal Conduct بڑا ہیUp to the mark۔جنرل پرویز مشرف البتہ جب بوتل کو گلے لگا کر سر پر جام سوار کرلیتا ہے تو لگتا ہے کہ پاکستان کا ممبئی پر قبضہ ہوگیا ہے اور خوشی سے جی ایچ کیو جھوم اٹھا ہے۔

بات ہو رہی تھی عمران خان اور ہم کہاں سے کہاں نکل گئے اصل میں ہم بھی جنوبی پنجاب کے اس محروم مولوی کی طرح ہیں جس سے آپ اپنی ننانوے ناٹ آؤٹ کی عمر رسیدہ تازہ بیوہ ہونے والی نانی کی عدت کا مسئلہ بیان کریں تب بھی وہ کہیں نہ کہیں سے درمیان میں حور کا ذکر ضرور کھینچ کر لائے گا،یاد رکھیں جتنے بھی مذہبی عالم ہوتے ہیں۔ یہ سب بہت Sexy ہوتے ہیں۔مذہب ایک طاقت ہے اور دیگر طاقت کی طرح مذہب کا بھی سیکس سے بڑا گہرا تعلق ہے گو خود سیکس، مذہب کو کوئی خاص گھاس نہیں ڈالتی۔
معترضین کا ارشاد ہوتا ہے کہ عمران خان   تمام عمر کسی Formal عہدے پر فائز نہیں رہے۔ ہم انہیں جتاتے ہیں کیا کہتے ہیں مفتیاں سیاست بیچ اس مسئلے کے کہ محترم جناح صاحب،مرحومہ بے نظیر، زرداری صاحب اور چوہدری شجاعت بھی تو ایسے کسی عہدے پر نہیں رہے تھے۔ وہ کہیں گے آپ کی ساری عقیدت ان کی کرکٹ کی کپتانی سے جڑی ہے۔میچ کی ہار جیت،سیریز کا ہارنا جیتنا۔یہ کوئی ایسا کمال نہیں۔ہم انہیں کہتے ہیں کہ معین قریشی کو بطور وزیر اعظم پاکستان میں خوش آمدید کہنے کا ناخوش گوار فریضہ ہم نے سرانجام دیا تھا۔سنگاپور میں ہمارے پاکستانی سفارت خانے کا جاری کردہ پاسپورٹ ایسا لگتا تھا گھونگھٹ میں لپٹی دلہن ہے۔اللہ مارا ٹھیک سے کھلنے کا نام بھی نہ لیتا تھا۔ جہاز میں سرزمینِ منتظر پر قدم رنجہ فرمانے سے پہلے ہم سے پہلا سوال اپنی شیروانی کے بارے میں تھا۔

معین قریشی

کہہ رہے تھے کہ بھائی کا اور میرا ناپ یکساں ہے سو میں نے سفید اور سیاہ دونوں ہی منگوالی ہیں۔حلف اٹھاتے وقت کس رنگ کی پہنی جاتی ہے ۔ہم نے مسکرا کر کہا وزارت عظمی کو اگر ولیمہ مانتے ہیں تو سفید ،دل میں  آیا کہ جتادیں کہ ؎ملک کے حالات تو ایسے ہیں کہ عمارتوں تک کا رنگ سوگ میں کالا ہونا چاہیے۔امریکہ نے ان کی حس مزاح کو تھام کر رکھا تھا۔ ہماری شرارت پر گڈ ون کہہ کر سیاہ شیراونی پر اکتفا کیا۔

۔ہم ان نکتہ چینوں کی اعانت کے لیے جتلاتے ہیں کہ شوکت خانم میموریل ہسپتال اور نمل جیسی یونی ورسٹی بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھے۔ وہ انہوں نے قائم کرکے دکھائی کہ نہیں۔اداروں اور افراد سے شکایت کسے نہیں ہوتی۔

 

شوکت خانم ہسپتال
نمل یونیورسٹی میانوالی

ہمیں اصرار ہے کہ عوامی مقبولیت اور بین الاقوامی شناخت میں کسی پاکستانی ماں نے ایسی اولاد پیدا نہیں کی جو اس باب میں ان کے  پاسنگ ہو۔ہم قیام پاکستان سے پہلے اور ذرا بعد کے نام نہیں لیتے ورنہ آپ کی دل آزاری ہوگی۔
ہم ایسے دو واقعات کے خود گواہ ہیں جن سے ان کی بین الاقوامی حیثیت مسلم ہے۔جنوبی افریقہ میں ڈربن کے ایرپورٹ پر ہمیں لینے والوں میں زرعی ادویات کی کمپنی کے چیف کمیسٹ ڈ اکٹر آرتھر آئے تھے۔ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ابتدائی رسمی جملوں کے بعد ان سے مزید گفتگو کیوں کر ہو کہ انہوں نے خود ہی مہر سکوت یہ کہہ کر  توڑ دی کہ پاکستان کیسا ہے۔عمران خان کیسا ہے؟
پاکستا ن کے بارے میں ہم نے گفتگو سے اجتناب کیا۔ان دنوں جابجا دھماکے ہوتے تھے، کراچی میں  لاشوں کے لیے بوریاں کم پڑگئیں تھیں۔ کہنے سے ہو ملال تو ہم کیا جواب دیں۔
پہلو بچا کر عمران خان کے بارے میں جواباً سوال کرلیا کہ کیا وہ انہیں بہت پسند ہے؟
آپ کو یہ تو یاد ہے نا کہ ڈاکٹر آرتھر۔ گورے آسٹریلوی، ساٹھ سالہ، معتبر اور پر وقار تھے۔میزبان کمپنی کی جانب سے مقرر کردہ ہمارے افسر مہمانداری تھے پھر سب سے بڑھ کر ان کی کمپنی کے سی ای او اختر گجراتی تھے،ہمارے ممنون و ممدوح بھی۔یہ بات ڈاکٹر آرتھر کے علم میں بھی تھی۔

ڈاکٹر آرتھر کی فیکٹری


یہ سوال کا سننا تھا کہ جواب میں ایک دھماکہ سا ہوا۔عمران خان کی شان میں انگریزی میں جواباً ایڈی وڈی گالی سنائی دی ۔ ہمیں فوری طور صدر غلام اسحق خان کا وہ جملہ یادآگیا کہ صدر کا جہاز ہوا میں پٹ گیا ہے۔ایسا ہی معاملہ کچھ ہمیں اس ہفتے طلال چوہدری کی توہین عدالت والی سزا سن کر مریم اورنگ زیب کے چہرے کے تاثرات میں بھی دکھائی دیا کہ منہ ہی نہیں ناک بھی کھلی رہ گئی تھی۔

ڈاکٹر ظفر الطاف کے ان دنوں بھی چئیرمن پی سی بی بننے کے معاملات چل رہے تھے۔ ہم نے تلخیوں کو ہوا دینے کی بجائے اسباب جاننا چاہے۔یہ خیال بھی دامن گیر رہا  کہ اعتراض اگر درست ہے تو ڈاکٹر صاحب کے ذریعے شکوہ عمران کو پہنچ جائے گا کہ ’وے چنگا نیؤں کیتا بی با‘(بچو!ّ تم نے اچھا نہیں کیا)۔ڈاکٹر آرتھر کہہ رہے تھے ان کی تین عدد صاحبزادیاں میلبرن۔ آسٹریلیا میں ہیں۔ عمر سولہ سے چوبیس برس کے لگ بھگ۔یہ عمران جب وہاں کھیلنے آیا تو ان کی تینوں دختران نیک اختر اس کی ایک جھلک د
یکھنے اس سے ملنے کے لیے ہوٹل کے باہر بیٹھی رہتی تھیں۔
ہائے کم بارکر پھر سے کہو نا اس نے اپنی پینڈو انگریزی میں شاہ رخ خان کی طرح کیسے کہا تھا کہ۔۔۔ کہ۔۔۔۔کرن۔۔ سوری ۔۔کہ۔۔ کہ۔۔ کم۔۔ول یو بی مائی فرینڈ۔دس نی ۔۔کم مو ڈارلنگ۔ول یو بی مائی فرینڈ؟

Advertisements
merkit.pk
ک ک کرن

(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply