کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

کچھ دنوں سےخاموشی کے ساتھ محو تماشا ہوں۔مگر اب دل اس تماشے کی تماش بینی سے اکتا گیاہے۔دماغ کے اندر تاویلوں کی کھچڑی اس قدر پک چکی ہے کہ لگتا ہے کچھ دن یہی صورتحال رہی ,تو جینا محال ہو جائے گا۔آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کیسا تماشہ اور کیسی تاویلیں۔۔جناب پانامہ لیکس کے تماشے کی بات کر رہا ہوں۔کیا مین سٹریم میڈیا ,کیا پرنٹ میڈیا اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا ,سب کے سب پانامہ لیکس میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔اس پانامہ لیکس نے تو عاجز کر چھوڑا ہے۔سوشل میڈیا سے شگفتگی روٹھ چکی ہے۔ہر شخص کی زبان شعلے الگ رہی ہے۔سنجیدگی کے ساتھ سب پانامہ لیکس کے مسئلے میں سر پھٹول میں غرق ہو چکے ہیں ۔
رواداری, محبت ,شائستگی اور باہمی تعلقات کج بحثی میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔مکالمہ کی جگہ مباحثہ لے چکا ہے۔بڑے بڑے نابغے , دانشور اور تجزیہ نگار بے نقاب ہو چکے ہیں ۔ گنتی کے چند دانشوروں کو چھوڑ کے اکثریت اس سیدھے سے معاملہ میں دلائل اور تا ویلیں تراش کر عوام کے دماغ کو چاٹنے میں مصروف ہیں۔حاکم وقت پر الزام لگا تفتیش کا آغاز ہوا اب فیصلے کی گھڑی قریب ہے۔جب دامن صاف ہے تو ڈر کاہے کا؟بھونپو ہمارے اعصاب پر کیوں سوار ہیں ۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کے لیے کوئی بے تکی سازش جس کے وجود کازمینی حقائق سے تعلق نہیں اس سے ڈرا یا جارہا ہے۔حیرت کا پہاڑ تب ٹوٹا جب صاحبان علم ،اسلام کو بھی پانامہ لیکس کے ہنگامے میں کھینچ کر تاویلوں میں مصروف ہو گئے۔عبداللہ بن ابی جیسے منافق کے کارناموں میں سے سیاسی عصبیت کشید کر کے ہم نا سمجھوں کے دماغ میں اسلام کو استعمال کرتے ہوئے پھیکی کھچڑی گھسیڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تازہ خبر آئی ہے کہ سیاسی عصبیت کا حامل شخص ہر قسم کے محاسبہ سے بالاتر ہے کوئی صاحب علم حضرت کو سمجھائے کہ سیاسی عصبیت کو اگر معیار مان لیا جائے تو عزیر بلوچ کو رہا کرنا ہو گا ۔ایم کیو ایم کو کھلی آزادی دینی ہو گی اور تو اور اب خادم حسین رضوی بھی سیاسی عصبیت کا حامل ہو چکا موصوف کی گرفتاری کے خلاف پورے تھانے کا گھیرائو کر کے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حکمرانوں کو بچانے کے لیے قوم کو نیا راستہ دکھایا جا رہاہے کہ سیاسی جتھہ بنا کر عصبیت اکٹھی کرو اور پھر موجاں ای موجاں ۔اس کچھڑی سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔مگر صاحبان علم اپنے گلشن کا کاروبار چلانے کے لیے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہیں ۔خدا کے لیے اب بس کر دیں قوم کو اپنی فہم بھی استعمال کرنے دیں۔سیاسی عصبیت کو اگر معیار مقرر کر لیا جائے تو پھر عدل و انصاف کا لفظ لغت سے نکالنا ہوگا۔پہلے ہی قوم شخصیت پرستی کے حصار میں قید ہے۔
اب سیاست دان کو بھی پوچنے کی ترغیبات دی جا رہی ہیں ۔کہانی گر چوہدری صاحب بھی اپنی پٹاری سے روز نیا سانپ نکال کر بیچ چوراہے اپنی مداری شروع کر دیتے ہیں ۔حکمرانوں پر لگنے والے الزامات کا جواب تو موصوف کے پاس ہوتا نہیں مگر جناب دوسری معمولی مچھلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔فلاں فلاں چور ہے۔تو حاکم وقت کے پاس تمام اختیارات گزشتہ چار سال سے موجود ہیں ۔کیوں کر احتساب نہیں کیا۔نذر گوندل کے مقدمہ میں عدالت کی آبزرویشن موجود ہے کہ حکومتی عدم توجہی کے کارن عدالت کچھ نہیں کر سکی۔الغرض کس کس کا رونا رویا جائے۔عطاء الحق قاسمی نصرت جاوید مجیب الرحمن شامی سے لے کر انصار عباسی تک سب کے سب صبح سویرے تازہ دم ہو کر تاویلوں کا جمعہ بازار لگا لیتے ہیں ۔ہمارے دماغ کی دہی بنانے کے لیے ۔ اب جی چاہتا ہے کوئی ساون رت کی پون چلے آم کی مٹھاس کا تذکرہ ہو کانوں میں رس گھولتی موسیقی ہو تاکہ دماغ کو سکون ملے ۔سو صاحبان علم سے دست بستہ گزارش ہے کچھ دن آرام کر لیں تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مقولے پر عمل پیرا ہو جائیں خود بھی پرسکون رہیں اور ہمیں بھی سکون کرنے دیں۔چند دن کے بعد بلی خود ہی تھیلے سے باہر آ جائے گی۔اور گلشن کا کاروبار بھی چلتا رہے گا ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *