عدلیہ کے حق میں ایک کالم

عدلیہ کے حق میں ایک کالم
عمار مسعود
ہماری عدالتیں بہت اچھی ہیں۔ ہماری عدالتیں بہت پیاری ہیں۔ ہمارے ہاں ہر وقت انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔ ہر مجرم کی گرفت ہوتی ہے۔ ہر ملزم کو انصاف ملتا ہے۔دنیا بھر کے عدالتی نظاموں سے بہتر ہمارا نظام ہے۔ہماری عدالتوں میں کوئی بھی مقدمہ زیر سماعت نہیں رہتا ۔ ادھر مقدمہ درج ہوا ادھر انصاف کا طبل بج جاتا ہے۔انصاف دینے والے سار دن عدالتوں کے باہر کھڑے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی شکایت کنندہ آتا ہے۔ عدالتوں میں انصاف دینے کے لیئے دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ہر طرف سے صدا بلند ہونا ہو تی ہے کہ پہلے انصاف میں دوں گا ۔ پہلے میں وغیرہ وغیرہ۔۔
ہماری تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے ہم نے ہمیشہ انصاف کیا۔ عدل کا جھنڈا بلند کیا ہے۔قانون کے ترازو کے دونوں پلڑے اتنے برابر رکھے ہیں ہ حالت توازن کی وجہ سے منجمد ہو گئے ہیں۔ اب کوئی ترازو کے پلڑے میں وزن ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو ترازو ٹوٹ سکتا ہے جھک نہیں سکتا۔انصاف دینے وقت ہم بینائی کے بھی کچھ اتنے قائل نہیں اس لیئے ہم نے عدل کی آنکھوں پر پٹی بھی باندھ رکھی ہے۔ہمارے سب منصفین عدل و انصاف کا پیکر ہیں۔ سب عدل کے اعلیٰ ترین رتبے پر فائزہیں۔ دنیا کی عدالتوں سے ہمارا کسی بھی وقت موازنہ کیا جائے تو ہم انصاف میں سب سے آگے پائے جائیں گے۔انصاف کے عالمی اداروں میں ہمارے منصفیں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔دنیا بھر میں ہمارے عدل کا شہرہ ہے۔ ہمارے عدالتی فیصلوں پر نوجوان طلبہ پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔ ہمارے منصفین کی فکر اور فلسفے پر مقا لے پڑھے جاتے ہیں۔ کئی ایک پر تو فلموں کے سکرپٹ بھی لکھے جا رہے ہیں، الغرض دنیا بھر میں ہمارے ہاں رائج نظام عدل کی مثالیں دی جاتی ہیں۔
ہمارے ہاں ہر مجرم اور ملزم سے یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ قانون کی نگاہ میں سب برابر تصور کیئے جاتے ہیں۔ کسی کو فضیلت حاصل نہیں ۔ ہماری عدالتوں میں دھونس ، دھاندلی نہیں چلتی۔ رشوت ستانی کے خلاف ایک نفرت پائی جاتی ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں انصاف کا چرچا ہے۔ مجرم ، جرم کرنے سے ڈرتے ہیں۔ چوری چکاری ہمارے ہاں نام کو نہیں ہے۔ ظلم عدالتوں کے خوف سے ہی ختم ہوگیا ہے۔زور زبر دستی کی اب ہمارے ہاں کوئی روایت ہی نہیں بچی۔ جرائم کی تعداد کم ہوتے ہوتے ختم ہو گئی ہے۔بڑے بڑے مجرم عدالتوں کے خوف سے تھر تھر کانپتے ہیں۔ کسی ملزم کو عدالت میں فلمی تقریر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔انصاف کی زریں مثالوں کی بدولت کبھی بھی گواہوں پر کوئی دباو نہیں ہوتا۔
پولیس بھی عدلیہ سے تعاون کرتی ہے۔ ہر مجرم کے خلاف جلدی جلدی ثبوت فراہم کر کے اگلے مجرم کے انتظار میں بیٹھ جاتی ہے۔تھانے بھی عدالتوں کے بے مہر خوف سے انصاف کی فراہمی میں پہل کرتے ہیں۔ڈرائنگ روم کلچر اب ختم ہو چکا ہے۔ہر شکائیت کنندہ کو پہلے سرکاری فنڈ سے چائے پیش کی جاتی ہے پھر اس کی اشک شوئی کی جاتی ہے۔ایف آئی آر اتنی جلدی درج کی جاتی ہے کہ بعض اوقات تو شکایت کنندہ کی ابھی بات مکمل نہیں ہوتی کہ ایف آئی آر کی نئی نوکور فل اسکیپ کاپی شکایت کنندہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔مقدمہ درج ہوتے ہی انصاف کے ہرکارے دوڑے چلے آتے ہیںَ غریب مدعین کو وکیل بھی سرکار مہیا کرتی ہے۔ یہ سارے وکیل ملک بھر کے فہیم ترین لوگ ہوتے ہیں۔ عدالت میں اپنے موکل کے لیئے بے جگری سے لڑتے ہیں۔اقرباء پروری کی سخت ممانعت ہے
ہمارے ہاں بچہ بچہ عدالتوں کے انصاف کے گیت گاتا ہے۔ عورت ، مرد ، بوڑھے اور جوان سب عدلیہ کے ترانے گاتے ہیں۔ شیر اور بکری نہ صرف ایک ہی گھاٹ میںپانی پیتے ہیں بلکہ پانی پینے کے بعد اسی ندی ے کنارے ایک ساتھ امن اور چین کی بانسری بھی بجاتے ہیں۔ہمارے منصفین کی تصاویر لوگ فریم کروا کر اپنے گھروں میں لگاتے ہیں۔ ہر عید، بقر عید پر ان پر پھول بھی چڑھاتے ہیں۔انصاف کے خوف سے ملک میں جرائم اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس شخص کے دل میں جرم کا خیال آتا ہے اس کو اسی وقت کڑے انصاف کا خوف کرنٹ مارتا ہے اور اسی لمحے وہ جرم سے تائب ہو جاتا ہے۔حالات کچھ بھی ہوں انصاف اس دھرتی پر ہو کر ہی رہتا ہے۔مصلحت کوشی ہماری عدالتوں کا شعار نہیں ہے۔ اقرباء پروری ہماری ریت ہی نہیں ہے۔ہم اگر چہ دنیا میں کئی لحاظ سے بہت پیچھے ہیں لیکن مجھے کہنے دیجئے کہ ہم انصاف میں سب آگے ہیں۔ دنیا میں ہمارا نام اونچا ہے۔ ہم اس عالم ناتمام میں اپنی عدلیہ کے منصفانہ فیصلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ہمارے منصفین کی نگاہ ہمیشہ آئین اور قانون پر ہوتی ہے۔ قانون کے دائرے سے باہر ہر چیز مانند گناہ سمجھی جاتی ہے۔ہمارے منصفین نے اپنی منصفانہ فیصلوں سے ہمیشہ تاریخ رقم کی ہے۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی کڑا نصاف کیا ہے۔عدلیہ کا نام روشن کیا ہے۔ کئی ممالک میں قانون کے طالبعلم ہمارے فیصلے پڑھ کر ہی امتحان پاس کرتے ہیں۔ہماری عدالتیں ہمارے سینوں میں دھڑکن کی طرح رہتی ہیں۔ ساری قوم انہی کی مالا جپتی ہے۔ سب اسی پر نازاں دکھا ئی دیتے ہیں۔قوم کو جتنا اپنی عدالتوں پر فخر ہے اتنا کسی اور چیز پر نہیں۔
انصاف اس ملک کے عوام کے لئے کبھی بھی مسئلہ نہیں رہا۔غیر ترقی یافتہ ممالک کے غریب عوام کی طرح ہماری عوام انصاف کی متلاشی نہیں رہتی۔ بلکہ ہمارے ہاں تو انصاف اور عدالتیں خود سائلین کی تلاش میں رہتی ہیں کہ جہاں کوئی ضرورت مند نظر آیا وہیں انصاف کا جھنڈا بلند کر دیا۔عدل کا ہمارے ہاں وہ معیار قائم ہے کہ دنیا بھر میں ہماری نظام انصاف کی مثالیں دی جاتیں ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد اگر ہم نے کچھ کمایا ہے تو وہ یہی نظام انصاف ہے۔نہ اس ملک میں زراعت نے کوئی ترقی کی ، نہ صنعت میں نام بنایا نہ برامدات میں اضافہ ہوا نہ درامدات میں کوئی کمی ہوئی، نہ معدنیات دریافت ہوئیں، نہ لوگوں کو ملازمتیں ملیںنہ سکول کھلے نہ ادارے مستحکم ہوئے نہ معیشت نے ترقی کی نہ جمہوریت چلی ۔لیکن اس سب کے باوجود عدلیہ نے اپنا وقار قائم رکھا۔ کبھی ملکی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دی۔ کبھی قانون اور آئین پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
ہماری عدالتوں نے ہمیشہ استعماری قوتوں کے خلاف جنگ کی ہے ، جمہوریت کا بول بالا کیا ہے۔اسی وجہ سے ہمارے ہاں نہ کوئی نظریہ ضرورت ہے ،نہ آمروںکی حمائت کا کوئی قصہ، نہ پی سی او کے ججز ہیں نہ سیاستدانوں کے عدالتی قتل کی کوئی روایت ،نہ توہین عدالت پر وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا کوئی قصہ۔ اور مزید یہ کہ نہ کبھی کسی عدالتی کمیشن کی کوئی رپورٹ چھپائی جاتی ہے نہ کسی جے آئی ٹی کی کارروائی خفیہ رکھی جا تی ہے۔ تایخ گواہ ہے کہ ہمارے منصفین نہ کسی کا اثر قبول کرتے ہیں نہ کسی کے کہے پر چلتے ہیں۔کیونکہ ہماری عدالتیں بہت اچھی ہیں۔ ہماری عدالتیں بہت پیاری ہیں۔ ہمارے ہاں ہر وقت انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔ ہر مجرم کی گرفت ہوتی ہے۔ ہر ملزم کا انصاف ملتا ہے۔دنیا بھر کے عدالتی نظاموں سے بہتر ہمارا نظام ہے
نوٹ ۔ مجھے یہ کالم لکھنے کے لیئے کسی نے نہیں کہا دراصل یہ میرے ضمیر کی آوازہے۔ مزید براں :اس کالم کا اس بیان سے قطعا ًکوئی تعلق نہیں ہے کہ جس میں کہا گیا تھا کہ حکومتیں اپنے حق میں آرٹیکل لکھواتی ہیں۔

Avatar
عمار مسعود
عمار مسعود معروف مصنف، کالم نگار اور سماجی کارکن ہیں۔ آپ دنیا ٹی وی سے بطور ہیڈ آف پراجیکٹس وابستہ ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *