سوانح عمریاں ۔۔۔ عنبر عابد

ادیب دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک ہوتے ہیں وہ ادیب جو ناول،افسانے اور کالم وغیرہ لکھتے ہیں،دوسرے وہ جو صرف اور صرف اپنی سوانح عمری لکھتے ہیں۔
سوانح عمریاں بھی دو طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جو ادب کا مرقع ہوتی ہیں دوسری وہ جو ادب کا مربہ ہوتی ہیں۔باالفاظِ دیگر جن میں ادب کا اچار ڈالا گیا ہوتا ہے۔مذکورہ بالا دونوں تقسیم میں ہمارا موضوعِ سخن ثانی الذکر قسم ہے۔
سوانح عمری لکھ کر ادب کی خدمت کرنے والے ادیب اپنی سوانح کے بل پر جیتے ہیں اور اسی امید پر نہایت جوش وخروش سے پوری زندگی گزار دیتے ہیں کہ عمر کے آخری ایام میں اپنی سوانح لکھیں گے۔بعض جلد باز ادیب اس مقصد کیلئے دھوپ میں بال بھی سفید کرلیتے ہیں۔ثانی الذکر طریقہ ہمیں زیادہ سہل لگتا ہے کہ اس میں بندہ کم عمری ہی میں اپنی سوانح لکھ مارتا ہے یوں بڑھاپے میں نصیب ہونے والی شہرت و ذلت وقت سے پہلے حاصل ہوجاتی ہے۔جدید دور نے تو دھوپ میں بال سفید کرنے کی مشقت سے بھی نجات دلا دی ہے۔اب آپ آسانی سے بال رنگنے والے پاؤڈروں سے اپنے بال سفید کرسکتے ہیں۔ہمارے پڑوس میں رہنے والے ایک کھوسٹ سوانح نگار نے ان پاؤڈروں کا غلط استعمال کرکے نہایت چابکدستی سے اپنے سفید بال سیاہ کرکے “سیاہ کو سفید“ بنایا اور ایک خوبصورت لڑکی سے شادی رچائی۔موصوف نے اپنے تئیں ہم جیسے ہمسایوں کے سینوں پر مونگ دلا تھا لیکن بعد از شادی یہ عقدہ وا ہوا کہ لڑکی نے بھی ان پاؤڈروں کا استعمال کیا تھا!

ہمارے دوست مرزا فرماتے تھے کہ “گمنام ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ آپ اپنی سوانح نہیں لکھ سکتے اور اس نقصان کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ آپ کی کتاب پڑھنے کی زحمت سے بچ جاتا ہے“
ہم نے آگاہ کیا۔” معاشرہ پہلے ہی کتاب سے کوسوں دور ہے“
سنجیدگی سے بولے”سوانح لکھ کر صاحبِ کتاب سے بھی دور ہوجاتا ہے“

سوانح عمریاں لکھنا آج کل حد درجے آسان ہوگیا ہے۔گوگل میپ کے ذریعے آپ دنیا جہاں کی سیر کرکے ایک عدد سوانح عمری لکھ سکتے ہیں بلکہ ایڈوب فوٹوشاپ کے ذریعے پیرس،لندن وغیرہ بھی اپنے گھر منگواسکتے ہیں بشرطیکہ “بیچ“ پر لیٹی نیم عریاں لڑکیوں کے ساتھ آپ کی لی گئی سیلفیز آپ کی بیگم نہ دیکھ پائے۔بصورتِ دیگر وہ بیڈروم کو ہی بیچ بنا کر آپ کو لمبا لٹا سکتی ہے!
بعض سوانح عمریوں میں فاضل ادیب رومانوی فلموں کا ہیرو بن جاتا ہے۔ہر صفحے پر کوئی نہ کوئی لڑکی اس سے ٹکرا جاتی ہے۔کبھی کبھار تو رش کی وجہ سے ایک ہی سطر میں کئی کئی لڑکیاں سنبھالنا پڑجاتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکیاں مصنف کو جہاں کے تہاں چھوڑ کر ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہوجاتی ہیں۔یہ دیکھ کر فاضل مصنف پتلی گلی سے نکل جاتا ہے اور ان لڑکیوں کو قارئین کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتا ہے!

بعض سوانح پڑھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مصنف پابندِ صوم و صلاۃ اور نہایت باکردار شخص تھے۔ کبھی کسی غیر محرم تو کجا اپنی بیگم کو بھی نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔صفحے پر جہاں بیگم کا لفظ لکھا تھا وہاں نمی سی نظر آرہی تھی جس سے اس صورت حال کا بخوبی اندازہ ہورہا تھا جس میں بیچارے مصنف نے اپنی سوانح لکھی تھی۔نیز ان سوانح میں یہ بھی ثابت کیا گیا ہوتا ہے کہ مصنف وقت کے ولی تھے لیکن قدر ناشناس زمانے نے انہیں جوتے کی نوک پر رکھا۔ایسے مصنف احتجاجاً اسی جوتے کی نوک کو قلم میں ڈال دیتے ہیں اور معاشرے کو اس پر رکھ دیتے ہیں!
ایک کرپٹ سیاست دان کی سوانح پڑھ کر انکشاف ہوا کہ موصوف نے اپنی زندگی نہایت کسمپرسی میں گزاری۔بیچارے کے پاس اپنا ذاتی ملک بھی نہیں تھا جہاں وہ تادمِ مرگ حکومت کرتے۔نیز اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ایٹم بم کا لائنسس الاٹ نہ کرکے اپنے سیاسی حریفوں کے سامنے نہتا کردیا تھا۔بس موصوف کی صرف ایک ذاتی بیوی تھی جسے اس کے میکے والوں نے ایٹم بم بنا کر اس پر چھوڑ دیا تھا!
ایک بوڑھی گھوڑی لال لگام کی مصداق مصنفہ کی سوانح نظروں سے گزری جس میں جابجا اس نے پاکستانی نوجوان کی ہوس اور ٹھرک پن کی شکایت کی تھی۔موصوفہ رقم طراز تھی۔”میں نیوریاک میں نہایت مختصر لباس پہنے گھومتی رہتی لیکن مجال ہے جو کسی مرد نے آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو۔یہاں پاکستان میں برقع اوڑھ کر بازار جاتی ہوں تو کئی نوجوان پیچھے لگ کر گھر تک چھوڑ آتے ہیں“ ہم نے اسی اقتباس کے ساتھ مصنفہ کو ای میل کیا۔”محترمہ کبھی پاکستان میں بھی مختصر لباس ٹرائی کریں نا شاید حقیقت کھلنے کے بعد نوجوان آپ کو گھر تک چھوڑنے کے بجائے مسجد جانے کو ترجیح دے“
ایک ایسی سوانح پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کے سرورق پر جلی الفاظ میں “اردو“ لکھی تھی باقی سوانح تصویروں سے بھری پری تھیں۔ہم نے اور ہمارے بچوں نے ان تصویروں میں کتنے ہی تاریخی مقامات کا نظارہ کرکے علمی پیاس بجھائی۔البتہ ہر تصویر میں مصنف کا چہرہ دیکھ کر کوفت ضرور ہوتی جو ان کے پہلو میں کھڑی ان کی بیگم دور کردیتی۔ بعد ازاں ہماری بیگم نے اس سوانح کے ذریعے چولہے کی پیاس بھی بجھائی اور ہمیں گرما گرم روٹی مہیا کی!
ہمیں بھی سوانح عمریاں پڑھنا پسند ہیں بشرطیکہ صنف نازک کے ملائم ہاتھوں سے لکھی گئی ہو اور اس میں ہنی مون منانے کا تفصیلی ذکر بھی ہو۔ہماری دلچسپی تب مزید بڑھ جاتی ہے جب آخر میں فاضل مصنفہ نے کمال وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کرکے اپنا موبائل نمبر بھی درج کیا ہو!
ایک دفعہ ہمیں اپنی سوانح لکھنے کا بھوت چڑھا تو مرزا سے مشورہ مانگا جس کے غلط مشوروں نے ہمیں ہمیشہ سیدھی راہ دکھائی ہے
عرض کیا۔”ہم اپنی سوانح لکھ رہے ہیں“
فوراً بولے۔”آپ کی کل زندگی کسی سانحے سے کم نہیں آپ کس کس سانحے پر روئیں گے؟ پہلے اپنی شکل دیکھیں پھر سوانح عمری لکھیں“
ہم نے جھٹ سے آئینے میں خود کو دیکھا اور سوانح لکھنے کا ارادہ ترک کردیا۔
ہم نے تو قلم روک دیا لیکن مرزا خود کو نہ روک سکے اور ہم سے بالا ہی بالا ایک مشہور ادیب کو پیسے دے کر اپنی سوانح لکھ ڈالی۔
ہمارے مشاہدے کے مطابق یہ پہلی سوانح عمری ہے جو کسی دوسرے کے ہاتھوں زیب قرطاس ہوئی۔اس سوانح کی وجہ سے مرزا آج تک اپنے محلے داروں سے گالیاں کھا رہے ہیں کیونکہ ناہنجار مصنف نے اس میں مرزا کے کرتوتوں کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں اپنے ناگفتہ بہ کرتوت بھی بیان کردئے تھے۔یہ دیکھ کر مرزا نے ایک دوسرا ادیب ہائر کیا اور اپنی ایک عدد مزید سوانح لکھی۔مرزا نے اپنے تئیں ایک ٹکٹ(زندگی) میں دو مزے لئے تھے لیکن ہم نے آگاہ کیا
مرزا! جانتے ہو دو دو سوانح لکھنے کا کیا نقصان ہوتا ہے؟“
“کیا نقصان ہوتا ہے؟“ اس نے پوچھا
ہم نے خود پر رقت طاری کرتے ہوئے فرمایا۔”زندگی ایک ملتی ہے لیکن حساب دو زندگیوں کا دینا پڑتا ہے“
یہ سن کر مرزا بھی خوفِ خدا سے تھر تھر کانپنے لگے۔ اس نے حساب کتاب میں پیچیدگی سے بچنے کیلئے فوری ایک تیسری سوانح لکھی جس میں اس نے پچھلی دونوں سوانح سے برأت کا اظہار کرکے انہیں ہماری طرف منسوب کردیا تھا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *