عمران کے خلاف ملا، سیکولر اتحاد/ثاقب ملک

فیس بک ہو یا پاکستانی میڈیا، ملا اور سیکولر، لبرل حضرات عمران مخالفت میں بوس و کنار میں مشغول دکھائی دیتے ہیں. اس رومانس کی جڑیں کافی گہری ہیں. صحافت اور میڈیا میں دیکھ لیں تو خورشید ندیم، عطاء الحق قاسمی، مجیب الرحمٰن شامی، انصار عباسی جیسے دائیں بازو کے کالم نگار ہوں یا وجاہت مسعود، سہیل وڑائچ، نصرت جاوید، امتیاز عالم، نجم سیٹھی جیسے سیکولر لبرل ہوں یا جاوید چوہدری، طلعت حسین، سلیم صافی جیسے سنیٹر والے، عمران خان کا”اوئے” انھیں گالی لگتا ہے تو اس کی کچھ بنیاد تو ہوگی. فیس بک پر اگر محترم رعایت اللہ فاروقی، زاہد مغل، محمد زاہد، حافظ صفوان، قاری حنیف ڈار، سید طفیل ہاشمی جیسے مذہبی پس منظر اور فکر والے لوگ ہوں یا ید بیضا، فرنود عالم، عدنان کاکڑ، وصی بابا، اور دیگر سیکولر دونوں ہی عمران کی مخالفت اور اچانک اس کی مبینہ ناجائز بیٹی ٹیریان کے حقوق کے لئے بے چین ہیں تو اس کی بھی کچھ تو وجوہات ہوں گی.

میں نے فیس بک دوستوں اور بزرگوں کے نام صرف اپنی بات واضح کرنے کے لئے لکھے ہیں. ان تمام حضرات کو اپنی پسند نا پسند کا حق حاصل ہے. ہر کسی کی اپنی اپنی وجوہات ہیں. ذرا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں. یاد رہے کہ تقریباً ہر کالم نگار کسی نہ کسی پارٹی کا ترجمان یا اس کے نظریہ کا حمایتی ہے. اس لئے سیاسی لوگوں اور میڈیا کو اکٹھا کر کردیا گیا ہے. دائیں بازو والے تو عمران سے اس لئے چڑتے ہیں کہ عمران کی وجہ سے مذہبی جماعتوں کے ووٹ بینک کو دھچکا لگا ہے. آپ ذرا تحقیق کریں اور پچھلے دو الیکشنز میں پڑنے والے مذہبی جماعتوں کو پڑنے والے ووٹوں کی اوسط چیک کر لیں اندازہ ہوجائے گا. دوسری وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے” بد تمیزانہ”انداز نے پاکستانی سلیپنگ ممی ڈیڈی اور مڈل کلاس نوجوان کو سیاست میں متحرک کر دیا ہے اور یہ نوجوان روایتی مذہبی فکر اور ان کے طور طریقوں سے نالاں ہیں اور اسی بناء پر مدارس کے نوجوانوں کے برعکس ان کے اثر سے آزاد ہیں.

تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ عمران روایتی سیاست اور اسٹائل کے برعکس چلتا ہے.”سینئر”تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں کی بیس، تیس ، چالیس برس کی تھیوریز کو عمران نے ملیا میٹ کر دیا ہے. سینئر کالم نگار پچھلے بیس سال سے یہ لکھ لکھ کر تھک گئے کہ عمران خان پاکستانی سیاست میں کامیاب نہیں ہوسکتا. اس کے ساتھ کبھی کوئی بڑا نام نہیں آئے گا. اسے پاکستانی سیاست کی سمجھ نہیں. اس کا انداز روایتی پاکستانی سیاست دانوں والا نہیں ہے. پاکستان میں ہمیشہ بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ ہی چلے گا. یہاں الیکٹ ایبلز کے بغیر سیٹ لینا ممکن نہیں. پھر عمران صحافیوں کی”مہمان نوازی”بھی نہیں کرتا. لیکن عمران نے یہ دلائل ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دئیے. یاد رہے کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے تقریباً 70 فیصد ایم این اے پہلی بار اسمبلی میں داخل ہوئے تھے. آج بھی دوسری پارٹیز کی بہ نسبت تحریک انصاف میں روایتی سیاستدانوں کی تعداد کم ہے. مجھے تو عمران کی الیکٹ ایبلز کی تھیوری کو اپنانے کے موجودہ فیصلے سے سخت اختلاف ہے. فردوس عاشق اعوان، نذر محمد گوندل، بابر اعوان جیسے لوگ عمران خان اور تحریک انصاف کی نہ ضرورت تھے نہ ہیں اور نہ ان کا کوئی فائدہ ہوگا. یہ صرف مخالفین کے طعنوں کے لئے استعمال ہوں گے.

سیکولر حضرات کا المیہ یہ ہے کہ عمران خان نے سیکولر نوجوانوں کو بھی اپنا ہمنوا بنا رکھا ہے. لیکن ایشو یہ ہے کہ عمران اعلانیہ سیکولر نہیں ہے. سیکولر لوگوں کو فوج سے بیر ہے کیونکہ یہ جمہوریت کے خلاف سرگرم رہتی ہے لیکن عمران جمہوریت کا نمائندہ بن کر ابھرا تو ا ن کی دکانداری کو دھچکا پہنچا.
دوسری وجہ یہ ہے کہ عمران نے اے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جیسی سیکولر جماعتوں کی کھل کر اور ڈٹ کر مخالفت کی اور ان کے سب سے زیادہ ووٹ توڑے ہیں. سیکولر اور مذہبی دونوں جماعتوں کے سیاسی فیصلوں، اور نظریات میں تضادات کو نمایاں کیا. پچھلے الیکشن میں کے پی کے میں اے این پی کا صفایا، پنجاب میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک اڑانا اور کراچی میں آٹھ لاکھ ووٹ لینا اس بات کا واضح ثبوت ہے.
تیسری وجہ یہ ہے کہ سیکولر حضرات کے فکری قائدین کو عمران چنداں اہمیت نہیں دیتا. یہ وجہ دائیں اور بائیں دونوں بازوؤں کو شدید تکلیف دیتی ہے. عمران کا فکری رہنما اقبال اور سیاسی رہنما مہاتیر اور قائد اعظم ہیں. یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مذہبی طبقے اور سیکولر طبقے دونوں کو اقبال اور قائد سے چڑ ہے. اقبال کی منتخب شدہ شاعری مذہبی طبقہ اپنے فائدے کے لئے ضرور استعمال کرتا ہے.

یہ چند چیدہ چیدہ وجوہات ہیں. اکثریت کی سیاسی منجن کاری، فکری چورن فروشی کو عمران خان سے زک پہنچی ہے. لیکن دونوں طبقات میں کچھ ایسے خالص لوگ بھی ہیں جو عمران خان کے متعلق اپنی فکر اور سوچ کے مطابق اختلاف رکھتے ہیں اور وہ کئی حوالوں سے حق بجانب ہیں. جیسے عمران کے بودے سیاسی فیصلے، ہر بات پر بیان بازی، وژن، بصیرت کی کمی، پارٹی کی بد نظمی وغیرہ.
میں عمران کی حمایت کیوں کرتا ہوں؟. میرا ایک ہی استدلال ہے کہ عمران کی آمد سیاسی جمود توڑے گی. عمران خان میری نظر میں ایک محدود لیڈر ہے. اس کی خامیاں اسے پاکستان کے لئے بہت کچھ مثبت نہیں کرنے دیں گی لیکن کچھ اچھائیاں وہ ساتھ لازمی لائے گا. جس میں نمایاں اس کی آزادانہ فکر، نسبتاً بہتر مالی دیانت اور دو ٹوک رائے ہے. اسٹیٹس کو کو اس سے دھچکا پہنچے گا. پچھلے تیس برس کا اسٹیٹس کو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ہی ہیں. فوج تو ہمیشہ سے موجود ہے. عمران کے ساتھ کم از کم 40 فیصد نئے لوگ فیصلہ سازی میں شریک ہونگے. یہ ایک بہت بڑا سیاسی اور جمہوری کنٹریبیوشن ہے. سیاسی مافیا کی کرپشن کی چھان بین کے بعد پریشر فوجی مافیا پر پڑے گا. مسلہ سیلکٹو احتساب کا نہیں ہے بلکہ کبھی بھی تسلسل کے ساتھ احتساب ہوا ہی نہیں. ہمیشہ ڈرانے اور اپنے مفادات نکلوانے کے لئے احتساب کا ڈرامہ اسٹیج کیا گیا.

یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ سارا اسکینڈل ہی باہر سے آیا. اس بات کو جھٹلانا ممکن ہی نہیں. ویسے کوئی جے آئی ٹی میں شریف فیملی کے بیانات میں پائے جانے والے برہنہ تضادات کی ہی وضاحت کردے. ؟ ۔۔۔ہاں میں مبینہ ناجائز بیٹی والے عمران کو ممکنہ ناجائز آمدنی والے نواز شریف، زرداری، اسفند یار ولی، فضل الرحمن، الطاف حسین، یا کسی فوجی جرنیل پر ترجیح دوں گا. آپ کی اپنی ترجیحات ہیں. یہ بات لکھ لیں کہ احتساب جاری رہا تو سب کی باری آجائے گی. جہاں تک مارشل لاء کی بات ہے تو حسن نثار نے سچ کہا ہے کہ میں دیکھتا ہوں مارشل لاء لگنے کے بعد جمہوریت کے مامے چاچوں میں سے کون ٹینکوں کے آگے لیٹتا ہے. ہم بھی دیکھیں گے اس وقت کتنے جمہوریت پسند نظر آتے ہیں.

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *