یاد آئے گر کبھی دل اداس ہو۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

SHOPPING
SHOPPING

کچھ اپنے بچپن کے قصے
داستان دل سب سے پرانی ہے مگر
کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے
مصطفے زیدی مرحوم

ہماری تعلیم و تربیت میں خواتین کا بہت حصہ رہا۔۔
سب سے پہلے تو ہماری جنت مکانی اماں جی تھیں۔ٹھیٹ میمن گجراتی خاتون۔میکہ بھی پشتینی رؤسا کا اور سسرال بھی ویسا ہی لدا پھندا۔ولبھ بھائی پٹیل،جناح صاحب،مرارجی ڈیسائی اور گاندھی کی ان کے میکے اور سسرال میں آوک جاوک رہتی تھی۔اسی آوک جاوک میں اداکارہ پروین بابی کی دادی جمال بخت بیگم کی سواری بھی کبھی کبھار چلی آتی۔وہ نواب آف جوناگڑھ کی عزیزہ تھیں۔

پروین بوبی

ان کی  آمد سے پہلے خواتین ملازمائیں آتی تھیں۔چیک کرنے کہ کوئی مرد تو گھر میں موجود نہیں۔گجراتی اور میمن گھرانوں میں پردے کا رواج نہیں۔ اس وجہ سے غیرت قتل (Honor Killing) اور قتل و غارت گری اور انتقام کے واقعات ان کے ہاں نہیں پائے جاتے۔حیرت ناک طور پر ان کے ہاں جسمانی بے راہ روی بھی بہت کم ہے۔ نسوانی انسانی جسم سے وابستہ غیرت کے معاملات غربت اور ڈومیسائل کا مسئلہ ہیں۔ان کا وقار اور نسلی تحفظ سے کوئی علاقہ نہیں۔ اس لیے کہ پختون، بلوچ، سندھی کراچی لاہور اور اسلام آباد میں بھی بستے ہیں۔ان شہروں میں ان کی خواتین اتنی ہی آزاد گھومتی ہیں جتنی دیگر اقوام کی۔پردے کا پوچھیں تو وہ بھی چہرے کے بجائے ایسا ہی ہے جو اردو کے کسی شیطان طالب علم نے کہا تھا کہ ع
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ، وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ قبر پہ دادا کی پڑ گیا

ہمارے محسن مربی اور سی ایس پی سیکرٹری زراعت ڈاکٹر ظفر الطاف کے گھرانے سے میل ملاپ والی ایک دُرن پختون بی بی ان کی برطانیہ کی پڑوسن تھیں۔ ہم سرکاری دورے پر پشاور تھے کہ حکم ملا کہ واپسی پر انہیں بھی ساتھ لے آئیں۔ پہلے انہیں اپنی گاڑی میں مردان کے نزدیک ایک قبائیلی روایات کے حامل علاقے سے لینا ہوگا۔بعد میں اسلام آباد اور کراچی میں بھی وہ ہم سفر رہیں گی۔ بیگم صاحبہ نے ہمیں مسافت کی احتیاط و اجتناب والی آپٹکس سمجھادی تھیں۔ا ہتمام یوں تھا کہ اٹک تک وہ چادر میں لپٹی پچھلی سیٹ پر  سر جھکائے تسبیح پھراتی رہیں۔فیضان ذکر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہم نے ایک تو Rear View Mirrorکے زاویے ان کے رخ روشن پر جمالیے۔ستوان ناک  کے پل پر پیشانی اور چہرے پر سجی بوسکی کی چادر سے صندلی آنکھوں کے دو اداس چراغ دھیمے دھیمے روشن تھے۔ہم نے بھی احترام حسن و تقدیس ذکر سے مغلوب ہوکر دل ہی دل میں کئی من عود و بخور جلا ڈالا۔

صندلی آنکھیں

بہت دن بعد حساب کرو تو ایک چوتھائی صدی گزرگئی۔وقت کی دھند میں ہمارے Guardian Angelڈاکٹر ظفر الطاف کا گھرانہ اور وہ بی بی بھی کہیں گم ہوگئے۔ہم نے وہ نیرو باجوہ کا لونگ لاچی  والا گانا سنا تو چنبے کی شام اور صندلی صندلی نینا ں وچ تیرانام وے منڈیاکو سمجھنے کے لیے صرف کار کے عقبی منظر والے شیشے میں جھانکنا پڑا۔
اسلام آباد سے پہلے اٹک کا پل آیا تو کار کی سیٹ پر سونے کی اشرفیاں اچھل گئیں اور ہم نے سنا کہ? Isn’t it bit hot۔مڑ کر دیکھا کہ چادر تہہ ہوچکی تھی اور پچھلی نشست پر ایک ڈیزائنر ٹی شرٹ اور لی وائے کی جینز میں جو بی بی مسکرارہی تھی وہ مردان سے یقیناً  سوار ہونے والی  مسافر نہ تھی۔ ان کی دعوت پر ہم نے محمود غزنوی کی طرح اٹک کے پل پر پڑاؤ ڈالا اور پچھلی نشست پر براجمان ہوگئے۔ہمیں بیگم ظفر نے بتایا کہ بی بی مہر بانو کئی گورے مردوں کی دل کی دھڑکن ہے اور برطانیہ میں ویسے ہی منی سکرٹس پہنتی ہے جیسی نسلی گوریاں پہنتی ہیں۔

آئیے اداکارہ پروین بابی کی دادی کی طرف چلیں جنہیں آپ مہر بانو کے چکر میں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔بیگم جمال بخت کو جب یہ اطمینان دلا دیا جاتا کہ ان کی آمد پر گھر میں کوئی مرد موجود نہ ہوگا تو وہ بصد تکلف ہماری ڈیوڑھی میں قدم رنجہ فرماتیں۔ پوتی پروین بابی کی نجی زندگی سے گریز کرکے ہم اس تکلیف دہ الزام کا ضرور ذکر کریں گے جو کسی پروڈیوسر نے انہیں فلم کی کاسٹ سے علیحدہ کرتے وقت لگایا تھا کہ پروین کو تو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ سویرے کب اور کس کے بستر سے اٹھیں گی اس لیے انہیں فلم میں رکھنا میرے لیے ممکن نہیں۔

اماں جی نے پاکستان آکر ہماری خاطر الف بے پے سے اردو سیکھی اور جتنا غالب ہم نے اپنی والدہ سے زبانی سنا اتنا اب تک ملنے والی تمام خواتین سے ملا کر نہیں سن پائے۔وہ برطانوی شاہی خاندان، اسماعیلی تاریخ،واقعات کربلا اور اسلامی امامت پر بڑا وسیع مطالعہ رکھتی تھیں۔کتب بینی کا شوق ہمیں اپنی والدہ سے ملا ہے۔
حیدرآباد سندھ میں  جہاں ہمارا جنم ہوا ۔ وہاں بچّوں کی تعلیم کے ذمہ دار چار قسم کے ادارے تھے۔پہلے سرکاری اسکول جہاں فیس برائے نام،مگرتعلیم و تربیت کا معیار عمدہ، میٹرک کے امتحانات میں پوزیشن انہی اسکولوں کے طالب علم لیا کرتے تھے۔اسکول کے اساتذہ، ہیڈ ماسٹر سے، ہیڈماسٹر، نظامتِ اسکول کے افسروں سے،وہ ڈپٹی کمشنر سے اور یہ سب مل جل کر کچھ کچھ خدا سے بھی ڈرا کرتے تھے۔

دوسری قسم کے اسکول،مختلف اقسام کی برادری کی بنیاد پر قائم جماعتیں اور رفاعی انجمنیں چلاتی تھی،اُس وقت تک انہیں کوئی این۔ جی۔ اوز نہیں کہتا اور نہ ہی اس وقت تک خاکسار کی ملاقات، اوکاڑہ کے مہاجر جاگیردار راحیل بخاری سے ہوئی تھی جو اکثر این۔جی۔او ز کی تعریف یہ کہہ کر بیان کرتے تھے کہ . پاکستان میں این۔ جی۔ او سے مراد ہے کہ وہ، لمبی ہو، گوری ہو، اور فر فر انگریزی بولتی ہو۔

ان اداروں کی تیسری قسم، اسکولوں کی فہرست میں تو نہ آتی تھی کیوں کہ یہ مساجد سے ملحق مدّرسے تھے۔ان میں،پہلی اور دوسری قسم کے اسکولوں میں پڑھنے والے طالب علم شام کو قرآن مجید اور اردو پڑھنے جاتے،دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے مُدّرسین اُنہیں،محلے کی اُنہی لڑکیوں کے سامنے جن پر وہ اسکول اور محلّے میں شودکھاتے تھے، ان لڑکو ں کو معمولی غلطیوں پر بھی بید کی پتلی قمچیوں سے مارتے تھے۔ راحیل بخاری، ہمارے مہاجر جاگیردار دوست۔اس بے وجہ پٹائی کے  باعث کہا کرتے تھے کہ اُنہیں زِنّا کی سزا فعل سر زد ہونے سے پہلے ہی ایڈوانس میں مل گئی تھی۔

اسکولوں کی چوتھی قسم کے دو درجات تھے۔ایک انگلش میڈیم اور دوسرے نیم اردو نیم پنجابی میڈیم اسکولز۔
ہم آج بھی نیم خواندہ ،جب پڑھنے لکھنے سے بے نیاز،چھ برس کے ہوگئے تو تعلیم کی از حد شوقین ا ماں جی کو اسکول بھیجنے کی یکایک فکر لاحق ہوگئی۔ پڑوس میں تیرہ برس کی شین قاف کی فکر سے بے پرواہ گجراتی بولنے والی شیرین سبزِعلی سے رابطہ کیا گیا جو عین پڑوس میں  اپنی بیوہ ماں اور دو بدمعاش بھائیوں،فیروز اور طاہر،کے ساتھ رہا کرتی تھی، شیرین یوں تو خیر سے بارہ تیرہ برس کی تھی پر ڈیل ڈول کے حساب سے سترہ برس سے کم کی ہر گز نہ لگتی تھی ایک ہی کلاس میں دوسال گذارنااُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا مگر اسکے باوجود ،وہ گلی کے آوارہ بچّوں کی تعلیم کے معاملے میں بالکل اسی طرح فکرمند رہتی تھی جس طرح جنگ ِ آزادی کے بعد سر سّید احمد خان مسلمانانِ ہند کی جدید مغربی تعلیم کے بارے میں سرگرداں و ہلکان رہتے تھے۔

صبح سویرے محلے میں ٹاٹ کے پردوں، لکڑی کے ٹوٹے کواڑوں کے پیچھے اسکول نہ جانے کی تگ و دو میں لگے اور ماؤں کے دامن سے لپٹے بچّوں کو کھینچ تان کر کے، گلی سے کچھ دور واقع اس نیم اردو نیم پنجابی میڈیم مشنری اسکول کے الاؤ میں بے دردی سے جھونکنا اور واپسی پر گِن کر اُن کی ماؤں کے حوالے کرنا،اس فعل میں اسے ایک ملکہ اور اس سے وابستہ ایک احساس تفاخر تھا۔

اماں جی نے جب اُس سے ہمارے اسکول لے جانے کا تذکرہ کیا تو اُس نے خالص گجراتی انداز میں یقین دہانی کرائی کہ آنٹی جی’آ ماں پھکر نی کوئی وات نتھی،تمے منے ہمنا سوا ترن روپیا آپی دوؤ، ایک روپؤ داکھلا نو، ایک روپؤ پھیس نو، ایک روپؤ کھبر نئی سینو، چار آنہ گریب بچاّووء نا پھنڈ نو، کال سوارے سی ہوں اینے لئی جاوانی(آنٹی جی، اس میں فکر کی کوئی بات نہیں، آپ مجھے اسی وقت سوا تین روپے دے دیں، ایک روپیہ داخلے کا، ایک روپیہ فیس کا، ایک روپیہ پتہ نہیں کس چیز کا اور چار آنے غریب بچّوں کے فنڈ کے، کل صبح میں اس کو ساتھ لے جاوئیں  گی) امّاں جان نے فٹ سے پیسے اسکے حوالے کیے تو اس نے غڑاپ سے انہیں اپنے گریباں میں کہیں انڈیل لیا۔ عدنان نے کھلے منہ اور بند آنکھوں سے یہ منظر دیکھا۔ بہت دنوں بعد عدنان کو خیال آیا کہ یہ لوئی وٹاں، فینڈی، گوچی، ڈولسے اینڈ گبانا(بالترتیبdolce and gabbana, gucci, fendi, louis vitton,) قسم کی فیشن پیٹی کمپنیاں عورتوں کو بلاوجہ لوٹتی ہیں،ورنہ جب تیسری جماعت پاس شیرین سوا تین روپے اطمینان کے ساتھ اپنے گریبان میں سنبھال کر رکھ سکتی ہے تو اُ ُنہیں اتنے قیمتی پرس خریدنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر ہر گریبان تو وہ نہیں کہ جسکے بارے میں غالبؔ خستہ جان کہے کہ ؎
حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قیمت غالبؔ
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

فینڈی کا بیگ

یہ فیلڈ مارشل ایوّب خان صاحب کے نافذ کردہ مارشل لاء سے چند ماہ قبل کی بات ہے۔ آپ غور فرمائیں۔ تعلیم کا حصول کس قدر سہل تھا۔شیرین سبزِ علی جو خود بھی محض چوتھی جما عت کی طالب علم تھی، نہ کوئی بڑی بزنس مین کہ  جسکے عطیات پر اسکول پل رہا ہو، نہ کوئی ٹریفک کی ڈی، آئی، جی، کہ جو ان ٹونی Tony اسکولوں کے باہر ٹریفک اور گاڑیاں پارک کرانے کی خصوصی نگرانی کرتا ہو، نہ کوئی وزیر با تدبیر کہ جو بے شرمی سے چار  ماہ کے عرصہ عدت نما کے حوالے سے ایک عہدے سے رسوا ہونے والے پروفیسر حسن عسکری کی نگراں وزارت اعلی میں اپنی مالدار ساس کے تعلقات کے سہارے پنجاب کا وزیر تعلیم لگ گیا ہو۔شیرین کسی چنتا اور سفارش کے بغیر ہی اسکول میں د اخلہ دلواسکتی تھی،بقول شیرین۔آج کل جیسی کہ ہڑا ہوڑی(افراتفری کا گجراتی ترجمہ) نہ تھی۔

اب تو کچھ ایسا عالم ہوگیا ہے کہ نکا ح نامہ کا جہاں ایک لازمی جز و تو اس پر date of expiry کا اندراج ہونا ہے وہاں اس اہم دستاویز کا ایک لازمی جزو  اسکول کا داخلہ فارم کا اسکے ساتھ منسلک ہونا ہے اس دوسری اہم شرط سے گلو خلاصی کی اب صرف ایک ہی صورت ہے کہ منکوحین باہمی رضامندی سے اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ اسکول کے داخلوں کے بکھیڑووں سے ہمیشہ ہمیشہ کے بچنے کہ وہ اس ازدواجی تعلق کو قیمتی دواؤں کی طرح، بچّوں کی پہنچ سے دور اور ٹھنڈی جگہ پر رکھیں گے۔ آپ زیادہ تردّد میں  نہ پڑیں، یہ pre-nupitals(شادی کی ابتدائی شرائط کا قانونی معاہدہ) کا دور ہے۔جس کا اب اعلیٰ گھرانوں کی شادیوں میں خاصا رواج ہو چلا ہے۔

شیریں سبزِ علی اگلی صبح ٹھیک پونے سات بجے پہنچ گئی، خاکسار ابھی بستر سے اٹھا ہی تھا اور والدہ صاحبہ ناشتہ بناتی تھیں، لہذا اسکول کیلئے ہمیں تیار کرنے کی ذمہ داری بھی اس ایمرجنسی میں ایک فرض شناس co-pilot کی طرح خود ہی سنبھال لی، منہ دھلاتے ہوئے پانی کے  چھینٹے، چھپاکے شیرین کی یونی فارم پر بھی پڑگئے تو عدنان کی امّی سے کہنے لگی ۔ . تمارو ڈیکرو آنٹی بؤج لچّو چھے،ماری اونی پھارم بھیگی گئی۔ (آنٹی آپ کا بیٹا بہت لُچّا ہے، میری یونیفارم گیلی ہوگئی) ہمیں پہلی دفعہ اور آخری دفعہ کسی نے لُچّا کہا،جس بیوروکریسی کے ہم بعد میں ممبر بنے، اسے رفتہ رفتہ انواع اقسام کی گالیاں پڑنے لگیں،کچھ نے اس کے ممبر صاحبان کو لُچّا بھی کہا۔اسی لفظ لُچاّ میں دلی سے آئے ہوُئے کرخنداری مہاجروں نے لفظ لفنگے کا اضافہ کر کے  اُسے لُچّا لفنگا بنا دیا اور یوں بیچارے کاٹھیاواڑی گجراتیوں سے لفظ لُچّ پن کارہا سہا لوُچ بھی چھین لیا۔

اماں جی نے جب اپنے اس لخت جگر ٹام کروز کو اسکول کے لیئے پہلے دن بنا سنورا دیکھا توگندھا ہوا آٹا اپنی دیورانی کے حوالے کر کے کھڑی ہوگئیں، جلدی سے سات عدد ثابت مرچیں توا ہٹا کر دہکتے ہوئے کوئلوں پر ہماری نظر اتارنے کے لیے وار ڈالیں، جلتی ہوئی مرچوں کی اس دُھونی کی وجہ سے تازہ تازہ حاملہ ہوئی دیورانی کو اور والد صاحب کو جو گجراتی اخبار کے مطالعے میں مصروف تھے، اچانک کھانسی کا ایک دورہ پڑا،جس پر انہوں نے خفگی کا اظہار بھی کیا،مگر ماں نے اسے یکسر نظرانداز کرکے کہا ” بیٹے کو اسکول کے لیے خرچی تو دو، آج اسکا پہلا دن ہے، دیکھنا میرا بیٹا کیسا میرا نام روشن کرے گا۔  پولیس کا آئی۔جی۔ بنے گا” شعیب سڈل بنے گا۔ارسلان افتخار کو ریاض ملک اور ایان علی والے کے مناکو والے دوروں سے کرپشن کی کلین چٹ دے کر ہر حکومت میں گھس جائے گا ۔مرتضی بھٹو ڈی آئی جی ہاؤس کے باہر ٹپک جائے گا دیکھنا میرا بیٹا کچھ بھی نہیں بولے گا۔میرا بچہ اسٹیبلشمنٹ کی ڈارلنگ بن کر ساری عمر اچھی اچھی پوسٹوں پر بیٹھے گا۔

ٹام کروز

قناعت پسند بیوپاری باپ نے کہا “بھلی مانس ہمارے لئے توDSP بھی بہت ہے”۔ وہ اماں اور پولیس سے ڈرتے تھے۔گلی میں آتے وقت پولیس کا اے ایس آئی بھی دکھائی دے جائے تو وہ کسی ناخوشگوار مطالبے اور مڈبھیڑ سے بچنے دکان پر واپس گھاس منڈی چلے جاتے تھے۔اماں جی نے جب یہ کہا کہ آپ کے لئےDSP بھی بہت ہے میری تو دعا  ہے یہ آئی جی بنے ” تو ابا جی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ انہیں لگا کہ لذت کی دنیا کے بے تاج بادشاہ فجے پائے والے نے اپنے شاہی محلے اندرون لاہور والے ڈھابے سے بنا سوچے سمجھے  گلّے کو تولے بغیر ہی گوگل کمپنی خریدنے کا بھاؤ لگادیا ہے۔

پھجا پائے والا
گوگل ہیڈ کوارٹر ،یو ایس اے،کیلیفورنیا

مان لیجیے کہ دنیا کی ہر ماں چاہے خود ملک کینیا کی کسی چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتی ہو مگرچاہتی یہی ہے کہ بیٹا عمران خان بنے اور بیٹی کے پاس بحریہ ٹاؤن والے ملک ریاض جتنی دولت ہو۔
“باپ نے جھٹ سے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک روپے کا نیا نکور نوٹ ماں کو مزید تقسیم کے لیے دیا۔ سامنے وہ تاریخی فقرہ دہرایا جو مولانا الطاف حسین حالیؔ نے سر سیدّ خان کے معترضین کو کہا تھا کہ” ہم تو صرف باتیں کرتے ہیں اور سّید کام کرتا ہے، ” پگٹ میموریل اسکول ہمیں بالکل پسند نہ آیا،شیرین اسے ہیڈمسٹریس کے دفتر کے  باہر کھڑا کرکے خود اندر داخلے کے مراحل طے کرنے چلی گئی،اسی اثنا میں ایک کالی بھجنگ موٹی سی استانی آئی اور پیچھے سے اسے بلاوجہ بید جڑ دی اور پنجابی میں کہنے لگی ” دس، یونی پھارم کیوں نئیوں پایا ”

پگٹ ممیموریل سکول

عورتوں سے جسمانی مار صرف اسکول میں پڑی تھی ۔اس کے بعد کا ہر زخم،ہر خراش جو اُن کے ہاتوں لگی، وہ تو بس اک زخم نہاں تھی۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں ایسی ہر چوٹ آئینہ دل کو یوں ملول کرگئی کہ جلد ہی پاش پاش ہوگیا اور اک خراش بھی نہ رہی۔
عورتوں کی دیگر باتوں کی طرح اس مارکھانے کا سبب سمجھ آیا ،نہ ہی  اسکا پنجابی والا جملہ پلے پڑا۔گو محلے کے دیگر پنجابی بچوں سے ہمارے مراسم گہرے تھے اور بے بے،سٹ دے، چک لے۔ٹر جا قسم کے الفاظ ہم سیکھ گئے تھے۔اس پہلی مار پر آنسو ایسے ہی بہنے لگے جیسے کسی پاکیزہ عبائے اور نقاب میں لپٹی اردو میڈیم لڑکی کے،غیر متوقع پہلے بوسے پر ٹپ ٹپ بہتے ہیں، ایک عظیم نقصان کا احساس، ہائے میں لٹی گئی قسم کی کیفیت۔ ایک ایسی violation جسکے لیے دل اور دماغ دونوں ہی تیار نہ ہوں۔
ہمیں مارنا تو دور کی بات ہے، آج تک کسی نے ڈانٹا تک نہ تھا۔

شیرین نے کمرے سے باہر آتے ہی پہلے تو اسکے آنسو اپنے یونی فارم کے دوپٹے سے پونچھے، پھر رونے کی وجہ پوچھی پھر اسے تسلی دی کہ” توُ پھکر مت کر شام کو میں ابراہیم کو بولونگی وہ اسکو ایک جور(زور) کا پتھرا (پتھر) مارے گا، یہ روج (روزانہ) اپن کی گلی سے  جاتی ہے، اب تیرا داخلہ ہوگیا ہے، بس آنٹی کو یہ پھارم سائن کرنا ہے۔ “تب خاکسار کو معلوم ہوا کہ شیرین گلی میں بچّوں کے کتنے بڑے مافیا کی ڈان ‘Don’ ہے۔وہ پہلی حسینہ پارکر تھی (داؤد ابراہیم کی ہمشیرہ جن پر اس نام کی فلم بھی بنی ہے) جس سے ہمارا واسطہ پڑا۔
اسکول کی استانیوں کی بڑی تعداد سیالکوٹ اور ڈسکے کی میٹرک پاس غیر مسلم خواتین کی تھی، جنہیں یہاں سندھ کے اس شہر میں ملازمت اور تبلیغ عیسائیت کے لئے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت آباد کیا گیا تھا۔اسکے علاوہ انہی میں کچھ پاس پڑوس کے ہسپتالوں میں پیرا میڈیکل سٹاف کے طور پر کام کرتی تھیں اسکول کے ساتھ ہی بڑا سرکاری لیاقت میڈیکل ہسپتال تھا۔ایوب مارشل لاء میں پوسٹ ہوکر آنے والے ایڈمنسٹریٹر کرنل نجیب کی شان میں ڈاکٹر کامل کی سربراہی  میں جیئے سندھ والوں نے باہر کی دیواروں پر ان کی شان میں طرح طرح کے نعرے درج کروا دیے تھے۔ان دنوں یہ خیال عام تھا کہ مارشل کی وجہ سے پنجابی سندھ کی ملازمتوں اورزمینوں پر قابض ہورہے ہیں۔وہ اردو مہاجرین سے پہلے ہی تنگ تھے۔ اب پنجابی مہاجرین کی دوسری لہر نے انہیں اور بھی تاؤ دلادیا تھا۔

آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ بچّوں کو بورڈ اور دیواروں پر لکھی تحریریں پڑھنے کی بہت عادت ہوتی ہے،اس سے ان کی زبان دانی کی صلا حیت میں اضافہ تو ہوتا ہے مگر والدین کے لئے یہ عادت بڑی خفت کا باعث بنتی ہے، بالخصوص جب دیواروں پر لکھا ہو کہ” مردانہ کمزوری کا شرطیہ علاج ” یا ” صرف ایک تعویذ اور آپ کا محبوب آپکے قدموں میں ” بچّے ایسے اشتہارات کا مطلب بے دھڑک سب کے سامنے پوچھ لیتے تھے۔ مائیں جنہیں نہ تو اس قسم کی کسی کمزوری کا سامنا کرنا پڑا تھا نہ ہی ان کے شوہر محبوب نما کوئی چیز تھے اب بھلا ان اشتہارات کی کیا تشریح کر پاتیں، لہذا بچّوں  کی جانب سے پوچھے جانے والے ان سوالات کا انجام یا تو محبت بھری تلقین کہ  ایسی باتیں  نہیں کرتے، یا توجہ ہٹانے کے لئے کوئی جیب خرچی یا اگر وہ تنگ ہوتیں تو  ڈانٹ یا ہلکی سی  دھول دھپے کی صورت میں نکلتا۔


مغربی دنیا میں دیواروں پر لکھنا ایک آرٹ کا درجہ کا درجہ اختیار کر گیا ہے اور اسے وہ Graffiti کہتے ہیں۔
دنیا میں ہم جہاں کہیں بھی گئے دیواروں پر لکھی تین تحریریں یاد رہیں جن میں دو تو ہم نے امریکہ کے شہر نیویارک میں  دیکھیں اور ایک کراچی کے کسی بلڈنگ کمپلیکس کی بیرونی دیوار پر درج تھی ان میں سے اول الذکر تو اختصار اور نسلی شرارت کے اعتبار سے معرکتہ الآرا تھی اور دوسری اپنی اثر انگیزی کے اعتبا ر سے پڑھنے والے پر، ایک خوفناک لرزہ طاری کردیتی تھی، پہلی تحریر یہ تھی۔”God is Black” جسکے نیچے درج تھا”Yes. She is. ”

graffiti

البتہ دوسری تحریر سے پہلے اس کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔
مغرب میں بہت دنوں سے اس نکتے پر سیاسی اور اخلاقی حوالوں سے دو واضح گروپ بن گئے ہیں کہ کیا اسقاطِ حمل جائز ہے یا نہیں، جو اسے جائز قرار دیتے ہیں وہPro-Choice کہلاتے ہیں جو لوگ اسے نا جا ئز اور قتل عمد گردانتے ہیں انہیں Pro -Life کہا جاتا ہے۔ خاکسار کی نظر نیو یارک کی ایک دیوار پر پڑی یہ کسی کیتھولک چرچ کی دیوار تھی جس پر ایک بندوق سے نکلتی ہوئی گولی سے کوئی چھوٹا بچہّ مر رہا تھا اور اس کے نیچے درج تھا۔۔۔” آپ اسے یقینا قتل کہیں گے You will certainly call it Murder ” اگلے حصّے میں ایک آلہء جراحت سے پیٹ میں سے بچّے کو کھینچ کر نکالا جارہا تھا اور نیچے لکھا تھا
” اور وہ اسے یقینا اسقاطِ حمل. And they will call it choice ”
لیکن معصومیت اور شرارت کے اعتبار سے کراچی والی تحریر حرف آخر تھی جو کسی نے انگریزی میں  لکھی تھی، اوپر کی سطر میں درج تھا۔ “ثناء جانو آپ تو لاکھوں میں ایک ہو۔” Sana Janu u r one among millions کسی اور حسد کے مارے نے دوسرے رنگ کے اسپرے سے نیچے لکھ دیا تھا۔ “آپ کی کامیابی کے مواقع بھی ایسے ہی ہیں۔So are your chances۔

حیدرآباد کے مشنری اسکول اور شفاخانوں میں اطالوی اور آئرش راہباؤں Nuns کی بہتات تھی۔ ان کا سراپا سب کو ایک پیکرِ شفقت دکھائی دیتا تھا۔ دراز قد، گوری اور اور ہمہ وقت مسکراتی ہوئی پاکیزہ بیبیاں۔یہ جب بازار جانے کے لیے ہماری گلی سے گزرتی تھیں، تو انہیں گلی کے مختلف مقامات، تھڑوں پر اور ادھر اُدھر براجمان مردوں یا کھیل کود میں مصروف بچّوں میں سے کوئی بھی تنگ نہ کرتا نہ فقرے کستا تھا، حالانکہ یہ اردو اور پنجابی دونوں زبانیں خوب سمجھتی تھیں۔
یہ ننز کبھی کھبار گلی کے کونے پر واقع راحت ہوٹل پرریڈیو سے نشر ہونے والی کرکٹ کی کمنٹری سننے کے لیئے مردوں سے ذرا دور ہٹ کر کھڑی ہوجاتی تھیں،ایسے میں ہوٹل کا مالک عمادّالدین جس کو سب لوگ حمایت  بھائی کہتے تھے، اُنہیں بلا قیمت ملائی والی چائے پیش کرتا تھا۔ یہ چائے حیدرآباد دکن کی طرح اسکے ہوٹل پر بھی” برقع پوش چائے” کہلاتی تھی۔ان دنوں صرف ٹیسٹ میچ ہوا کرتے تھے۔

ننز

حمایت بھائی کے ہوٹل کا ریڈیو ایسے موقعوں پر باہر ایک ٹیبل پر رکھ دیا جاتا تھا، یہ مرفی کمپنی کا الیکٹرک ریڈیو تھا۔ بجلی سے چلتا تھا اور ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا کہ اس دوران کبھی بجلی چلی جائے۔یہ وہ دور تھا کہ ٹی۔وی، ون ڈے میچ اور ٹوئنٹی۔ٹوئنٹی کے بارے میں کوئی سوچتا بھی نہ تھا۔ کرکٹ کے کھلاڑی اپنی شہرت، ملک کی عزت اورکھیل سے لگاؤ کی خاطر کھیلا کرتے تھے، کرکٹ کھیلنے کے لیے انہیں ایک میچ کا جو معاوضہ ملا کرتا تھا وہ آجکل انہیں ملنے والے لانڈری کے بل سے بھی کم ہوتا تھا اور اگر آپ انگریزی زبان کی ریشہ دوانیوں سے واقف ہیں تو آپ کو یہ جان کر یقیناً ہنسی آئے گی کہ ٹیسٹ میچ میں پہنے جانے والی سفید یونیفارم کے معاملے میں جب کھلاڑیو ں نے کرکٹ بورڈ سے جو ان دنوں بورڈ آف کرکٹ کنٹرول آف پاکستان کہلاتا تھا اور کھلاڑیوں اور کرکٹ دونوں کو کامیابی سے کنٹرول کرتا تھا جب کھلاڑیوں  کے اس مطالبے پر کہ  انہیں ایک عدد اضافی یونیفارم کی سہولت دی جائے تو بورڈ نے جواباً تار بھیجا کہ ”

Request accepted. An extra pair of white trousers sanctioned.”

جس پر ملک کے ایک مایہ ناز کھلاڑی محمد حسین نے اپنے ساتھیوں سے کہا ” لو جی اسی ایک پتلون منگی سی بورڈ نے دو پتلوناں دی منظوری دے دتی” ریڈیو کے ساتھ ہی ایک بلیک بورڈ پر حمایت کا بھائی بّبو،جو پچھلے تین برسوں سے میٹرک میں مسلسل فیل ہو رہا تھا، انگریزی میں نشر ہونے والی کمنٹری کا اسکور اردو میں لکھتا رہتا تھا اور پیرو پکوڑے والے کے پکوڑے بلا تکلف اسکی توجہ ادھر اُدھر ہونے کی صورت میں منہ میں  ڈال لیتا تھا۔ ٹیسٹ میچ مین  کبھی ایسا مرحلہ ہوتا کہ پاکستان جیت رہا ہوتا تو وہ ان پاکیزہ بیبیوں کو کیک پیس بھی پیش کرتا تھا۔ یہ ننز جب اس خدمت کا معاوضہ دینے کی کوشش کرتی تھیں تو حمایت بھائی کا ایک ہی جواب ہوتا We win you my sister ۔۔۔ “یہ پیاری پیاری ننز اپنے ملک کی ہار، اس کی انگریزی اور اس کی اس مہمانداری پر شرم سے سرخ ہوجاتی تھیں ” O!Jesus Christ, Himat my brother, may our lord bless you, your hotel and your team ”
حما یت بھائی، ان کے چلے جانے کے بعد دوبارہ اپنے کیش رجسٹر جسے ہوٹل کے ویٹر(جنہیں باہر والاکہتے تھے اور جو انگریزی کے لفظ BAR (سے نکلا تھا)اور باقی لوگ بھی گلَّہ کہتے تھے، جو بھی قریبی ٹیبل پربیٹھا ہوتا اس سے اپنی مدہم آواز میں کہتے” کیسے نرم،کتنے گورے اور پیار سے بات کرنے والے لوگ ہیں اور ایک ہمارے پٹھان حافظ جی ہیں، لاٹھی،ڈنڈے سے نیچے بات ہی نہیں کرتے۔ مجال ہے کیک کھاکے یا روز مفت کی چائے پی کے شکریہ تک ادا کیا ہو۔دین ان کم بختوں کی وجہ سے کیا خاک پھیلے گا۔۔ ” سعید چھوٹو جو اپنے کیبین کی کھڑکی سے جہاں سے وہ چائے کی پیالیاں بناکر دیتا تھا سب خاموشی سے سن رہا ہوتا۔آہستہ سے کہتا تھا۔”حما یت بھائی! اگر اپنے  حافظ جی  بھی کوئی جوان گوری عورت ہوتے، انگریزی بولتے توآپ لپک لپک کر انہیں مفت میں چائے کیک دیتے،”اسکی یہ بات سن کر آدم پوپل ٹیبل والا ویٹر کہتا ” ابے چھوٹو تو پیالیاں بھر،حما یت بھائی کے منہ مت لگ نہیں تو نوکری سے جائے گا۔اسکے بعد سونٹا لگا،اسکا باپ نہ ہوتا تو یہ سسٹرمارتھا سے شادی کرکے عیسائی بن جاتا۔ ” آدم پوپل کی یہ بات سن کر حما یت بھائی تلملا کر رہ جاتا۔مگر آدم کو کچھ کہنے کی مجال نہ ہوتی۔ وہ اسکے والد صاحب کا پسندیدہ ملازم تھا اور اسکا بھائی بھی علاقے کا بدمعاش تھا۔
البتہ کسی پرائیوٹ اسکول میں اردو کا استاد اور شاعرِبے نوا ساغر ؔدہلوی جو اسکول سے چھٹی کے بعد سیدھا ہوٹل پر آکر اس ٹیبل پر بیٹھ جاتا جو سعید چھوٹو کے کیبین سے لگی تھی اور جس پر کوئلوں کی انگار کی گرمی کی وجہ سے بیٹھنا پسند نہ کرتا تھا اردو کے اخبار سے نظریں اٹھاکروضاحت کرتا تھا کہ” ارے چھوٹو میاں!یہ عورتیں شادی نہیں کرتیں ” جس پر آدم پوپل لقمہ دیتا کہ ” شادی تو ہمارے ساغر بھائی نے بھی نہیں کی، ان کو بھی عیسائی بنا کر ان کے ساتھ ٹانک دیتے ہیں “۔جس پر ایک قہقہہ بلند ہوتا تھا۔
سعید چھوٹو سے اسکی بہت دوستی تھی اور یہ دونوں روز رات کو گیارہ بجے کوہلیوں کی بستی میں شراب پینے اور  گانا سننے جاتے تھے، جہان ان ہی کی کوئی عورت پی پلا کر ناچنے کھڑی ہوجاتی اور یہ اپنی دن بھر کی کمائی اس پر لٹا کر آجاتے تھے۔رزق کے معاملے میں ایسے اللہ توکل اور مذہبی رواداری رکھنے والے لوگ اب کہاں۔

اسکے برعکس جب کبھی گلی سے سیالکوٹ اور ڈسکہ کی استانیاں، یا طوائفیں یا پھر وہ ہندو خواتین جن کا تعلق جوتے بنانے والی برادری یا کوہلی اور بھیل برادری سے تھا اور جو کھلے ُ ہوئے چھینٹ کے گھاگرے اور ننگی کمر والی پتلی ڈوریوں سے بندھی چولی پہنتی تھیں اور جن کے بازو ہاتھ دانت کی رنگت والے پلاسٹک کی چوڑیو ں سے لدے پھندے ہوتے تھے اور ان کی پائلیں ہر وقت چُھن مُن کرتی دھیمے قدموں کے ساتھ ایک عجب سی موسیقی چھیڑ تی تھیں، انکا گذرنا گلی سے ایک عجب جاں گُسل مرحلہ ہوتا،ان پر مرد فقرے کستے تھے اور لڑکے ان کے گھاگرے پیچھے سے اُٹھا کر دوڑ لیتے تھے۔ اس حرکت پر ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ ضرور مچتا تھا۔ اس بھاگ دوڑ میں انکے احتیاط سے چنُے ہوئے دوپٹے ادھر اُدھر ہو جاتے جو ذوْق نظارہ سے لبریز مردوں کے لئیے دیدنی ہوتا جب کوئی لڑکا انکے ہاتھ لگ جاتا تھا تو وہ اس کی مل جل کرخوب دھنائی کرتی تھیں، اسے گجراتی اور مارواڑی زبان میں ننگی ننگی گالیاں دیتی تھیں،مگر ایسا شاذو نادر ہی ہوتا، ان شیطان لڑکوں کو اس گلی میں پکڑنا کچھ آسان نہ تھا۔اس گروپ کو محلے کے لڑکے دنگا فساد گروپ کہتے تھے اور اس کی ہر شام آمد کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے۔آپ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ سب اس گلی سے گذرنے سے اجتناب کیوں نہیں کرتی تھیں۔ جان لیں کہ یہ گلی در حقیقت شہر کے جغرافیائی نقطہء نظر سے مختلف کاروباری اور رہائشی علاقوں  کے درمیان ویسا ہی شارٹ کٹ تھی جیسا کہ بحری جہازوں کے حوالے سے سوئز کنال ہے۔جو دو اہم سمندروں کو ملاتی ہے

گلی سے گزرتی خواتین

گلی سے گزرنے  والی  طوائفوں کو لڑکے تنگ نہیں کرتے تھے، اُنہیں اس بات کا بہ خوبی  علم تھا کہ ان طوائفوں کی ناراضگی اگر انکی برداشت کی حد سے تجاوز کرگئی تو ان کے مرد اور لڑکے چاقو اور کلپ knuckle- duster لے کر لڑنے پہنچ جائیں  گے۔ ان طوائفوں پر البتہ مردوں کی فقرہ بازی کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا تھا۔یہ عام طور پر کلینک جانے کی جلدی میں ہوتی تھیں اور انکے گروپ میں کوئی نہ کوئی ضرور حاملہ ہوتی، البتہ واپسی پر اگر انکا علاج ٹھیک ہوگیا ہوتا تو یہ ایک آدھ کسے گئے فقرے کا مناسب جواب بھی دیتی تھیں جس پر بیٹھے ہوئے مردوں میں خوشی کی چنگاریاں بھڑک اٹھتی تھیں۔
سیالکوٹ اور ڈسکہ کی استانیوں کا معاملہ کچھ ذرا مختلف تھا۔یہ انکے اس سلوک پر بھی منحصر ہوتا تھا جو ان میں سے کسی نے گلی کے اسکول میں پڑھنے والے بچّے سے اس دن روا رکھا ہوتا تھا، مردوں کی جملے بازی کا یہ بھرپور لطف اُٹھاتی تھیں، ان کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھ بھی لیتی تھیں اور جملے کے ردِعمل کے طور پر ایک دوسرے کو خود بھی ” نی ایلس، نی گریس، ہائے نی جوڈی کہہ کر ایک دوسرے کو چھیڑتی بھی تھیں ”
اُن کے نام سب مردوں کو معلوم تھے اور اس کے ذمہ دار اسکول میں زیرِتعلیم گلی کے  بچّے تھے۔جیسے ہی ان استانیوں کا غول گلی کے نکڑ پر نمودار ہوتا  بّچے زور سے کہتے” اوئے ٹیچریں “۔ اور پھر بہ آوازِ بلند ایک کورس کی صورت میں گانے لگتے تھے۔
اے۔بی۔سی۔ڈی، توکِتھّے گئی سی
نی ایڈور ڈ مرگیا تے پِٹّن گئی سی
(اے۔بی۔سی۔ڈی، آپ کہاں گئی تھیں
ایڈور ڈ مرگیا ہے تو اس کے پُرسے کے لیئے گئی تھی

ان دنوں ٹی۔وی کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔ سنیما کا بڑا زور تھا،ہندوستانی فلموں کا پہلا شو ٹکٹ کی لا ئن میں عام طور پرایک آدھ قتل سے شروع ہوتا تھا۔ ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے اور چھ آنے اور بارہ آنے کے ٹکٹ پہلے شو کے لئے پچاس روپے تک بلیک میں فروخت تھے یہ وہ دن تھے جب یہ رقم سرکاری اداروں کے کلرک کی ڈیڑھ ماہ کی تنخواہ کے برابر ہوتی تھی۔ ان دنوں  بکرے کا گوشت اور خالص گھی اور مٹھائی سب کے سب چار روپے سیر کے حساب سے ملا کرتے تھے، ہندوستانی اداکاردلیپ کمار کی تصاویر صدرِ پاکستان سے زیادہ دکھائی دیتی تھیں۔لوگ مدھوبالا کو تب بھی بّرِصغیر کی سب سے حسین اداکارہ سمجھتے تھے اور آج بھی۔

 

دلیپ کمار
مدھو بالا

ان استانیوں میں جوُڈی (Judy)سب سے پیاری تھی، بالوں کی دو لٹیں ہر وقت اسکی گوری پیشانی پر لا پروائی سے جھولتی رہتی تھیں اور خوابیدہ آنکھوں میں ہر وقت نرمی کی ایک حلاوت تیرتی رہتی تھی۔ بوٹا سا قد اور بھرا بھرا بدن، رشید مکینک جو بالکل ہالی  ووڈ کے اداکار کرک ڈگلس کا انداز اپنائے رہتا تھا۔

کرک ڈگلس

رشید میکنک اسے دیکھ کردلیپ کمار کی تازہ لگی ہوئی فلم ” سنگدل” کا یہ گانا ضرور گنگناتا تھا

ع یہ ہوا، یہ رات، یہ چاندنی تیری ایک ادا پہ نثار ہے،

حالانکہ ان استانیوں کے اس کے گیرج سے گزرتے وقت یا تو سہ پہر ہوتی یا شام کا وقت ہوتا تھا۔
پھر ہوا یوں کہ رشید مکینک کی زبان سے فلم ” سنگدل ” کا یہ گانا سنتے سنتے جوڈی اپنا دل ہار گئی اور اس سے بیاہ کرکے جمیلہ رشید بن گئی اوراسی محلے میں آن بسی۔ سنا ہے اُس کی شادی پر کچھ ہنگامہ بھی ہوا مگر ع اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔
ہیڈمسٹریس کے دفتر سے لاکرشیرین نے اسے ایک کلاس میں  لے جا کر بٹھا دیا، راستے میں اپنی کلاس بھی بتادی اور اسے تسلی دی کہ جو ایک روپیہ اسکے ابوُّ نے دیا ہے اس سے بہت ساری چیزیں آدھی چھٹّی میں کھائیں گے۔
کلاس کی مانیٹر نے اسے ایک دن پہلے داخل ہوئی بلقیس کے ساتھ بینچ پر بٹھادیا، جو شیرین کی طرح کی گجراتن تھی اور چند دن پہلے ہی راجکوٹ (ہندستان) سے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں آئی تھی۔بلقیس کی آنکھیں  سبز قنچوں جیسی تھیں  اور بالوں کا رنگ سنہرا تھا۔لگتا تھا کہ اسکے کسی بزرگ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے گجرات کی بندرگاہ سورت پر قدم رنجہ فرمانے والی کسی گوری سے فی الفور شادی کر لی تھی اوربلقیس کئی نسلوں کے بعد اس کی گواہی کی مجرم ٹھہری تھی۔

بلقیس کے سامنے اردو کی پہلی کتاب اور سلائیوں میں اون کی بنائی کا نمونہ رکھا تھا، اس نے بینچ پر بیٹھتے ہی عدنان سے دو سوال کر ڈالے، ایک تجھے اردو آتی ہے اور دوسرا تیری اون کا گولا اور سلائیاں کہاں ہیں۔عدنان کو اردو تو خوب آتی تھی،والدہ صاحبہ نے اسے کہانیاں سناتے سناتے، اردو پڑھنا لکھنا بھی سکھا  دیا تھا اور وہ اب مشکل کہانیاں بھی بہ آسانی پڑھ لیتا تھا،پر یہ اون کا گولہ اور سلائیاں، یہ اسکی سمجھ میں نہ آیا کہ ان کا اسکول میں کیا کام۔

اردو کی پہلی کتاب کی جلد بے کیف، اوراق میلے،لکھائی مدھم اور کہانیاں جاندار تھیں، اور خاصی سبق آموز بھی، شیریں نے اسکے بستے میں کہیں سے اپنی پرانی کتابوں میں سے کلاس میں پڑھائی جانے والی اردو کی پہلی کتاب سرِشام ہی اسکے حوالے کر دی تھی اسی لیئے تو اس کی امّی جان نے شریں کے لیئے مولانا حالیؔ کا وہ شہرہ آفاق جملہ کہا تھا ” ہم تو صرف باتیں کرتے ہیں اور سّید کا م کرتا ہے، ”
کتاب کی چار کہانیاں تو اس نے اپنی امّی کی مدد سے رات ہی میں پڑھ ڈالی تھیں، پہلی کہانی حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے بچپن کے سچ بولنے کے ایک واقع سے متعلق تھی، دوسری کہانی محمود غزنوی کے والد سبکتگین کی ہرنی پر رحم کھانے کے بارے میں تھی،والدہ صاحبہ نے اسے بتایا تھا کہ محمود غزنوی اور حضرت داتا گنج بخشؒ افغانستان کی  ایک ہی بستی میں رہتے تھے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے محلے کا نام ہجویر تھا، اور یہ دونوں مقتدر ہستیاں، افغانستان سے ہندوستان ایک ہی سال میں تشریف لائی تھیں۔تیسری کہانی ایک اندھے اور ایک لنگڑے دوست کے بارے میں تھی جو اپنی بستی میں آگ لگ جانے کے باعث پیچھے رہ گئے تھے اور باقی تندرست لوگ اُنہیں پیچھے چھوڑ کر خود بھاگ لیئے تھے۔کس طرح انہوں نے ایک دوسرے کی مدد سے اپنی جان بچائی، چوتھی کہانی ایک بارہ سنگھے کے بارے میں  تھی جسے اپنے سینگوں کے حسن پر بڑا غرور تھا اور جو اپنی ٹانگوں کی بدصورتی پر اسے ہی فکرمند تھا جیسے بین الاقومی مقابلہء حسن کے”SWIM- SUIT EVENT “میں حصہ لینے والی مسلمان ملکوں کی حسینائیں ہوتی ہیں۔ان چار کہانیوں میں ہی شخصیت کی تعمیر سازی کے لیئے راست گوئی، رحمدلی،باہمی مدد اور اللہ کی عطا کردہ نعمتون پر شکر اور قناعت کرنے کے اہم اور شخصیت کی تعمیر کرنے والے پیغامات تھے۔

ہمارے کلاس میں بیٹھنے کے  کچھ دیر بعد ہی ایک ٹیچر آگئی، اور کلاس جو اب تک دھیمی آوازوں کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کا چھتہ لگ رہی تھی ایک دم بستی سے دور کا قبرستان بن گئی،اپنے سکوتِ بے کراں میں حکمِ الہی کا منتظر۔ ہم نے محسوس کیا کہ اسکی آمد کے ساتھ ہی پڑوسن بلقیس کی رنگت کا دھوپ جیسا سنہراپن یکایک خوف کے بادلوں میں چھپ گیا ہے،یاد رہے کہ بلقیس کو آج اسکول میں دوسرا دن تھا۔
کلاس کا جائزہ لینے کے بعد ا ستانی جی نے ہم سے بالکل ویسے ہی انداز میں پوچھا جیسا ایک مشہور پنجابی فلم “مولا جٹ” کا ہیرو  علاقے میں تعینات ہوکر آنے والے نئے ایس۔ایچ۔او سے پوچھتا ہے”, نواں آیا ہے سوہنیا ” بس اس نے سوہنیا کا لفظ اس میں ماحول کی رعایت سے حذف کردیا تھا۔
ٹیچر کا نام کیتھرئین مسیح تھا اور چہرہ ہر قسم کے ترّحم سے عاری،وہ اردو اور سوئیٹر کی بنائی سکھاتی تھی۔اردو تو ہمارے لئے کچھ مسئلہ نہ تھی پر یہ اون کی بنائی یہ ہمارے بس کی بات نہ تھی۔جب تک ٹیچر اردو پڑھاتی رہی ہم سوالات کے جواب دیتا رہے، اس دوران ہم نے محسوس کیا کہ بلقیس کی نظریں ہم پہ جمیں رہیں، اور جب اون سے سوئیٹر بننے کا مرحلہ آیا تو معاملہ الٹ ہوگیا اب ہماری نگاہین بلقیس کے ہاتو ں پر سے نہ ہٹتی تھیں ایسا لگتا تھا وہ ننھے خوب صورت ہاتھ کوئی Loro Piana کی نٹنگ اور ہوزری کی فیکٹری ہوں۔ خیال رہے کہLORO PIANA کے سوئٹرز مہنگے اور اعلی معیار کے تصور ہوتے ہیں۔

سویٹر بنائی

کلاس کے اختتام پر ٹیچرکیتھرئن خاص طور پرہمارے پاس آئی، ہماری اردو کی تعریف کی اوربلقیس کی کاپی سے ورق پھاڑ کر اس پر بنائی کے لیے آٹھ سے بارہ نمبر تک کے اون کی سلائیوں کے نمبر لکھے اور آسٹریلیا کی اون گولڈن فلیس کے دو گولے لانے کو کہا ایک نیلا اور دوسراسفید،یہ لڑکوں کے رنگ ہیں اور وہ لڑکوں  کے لئیے سویئٹر بنے گا۔ ٹیچر کی گفتگو کے دوران ہی آدھی چھٹی کی گھنٹی بج گئی ہم نے کمالِ بے تکلفی سے بلقیس کا ہاتھ پکڑااور اسے شیرین کی کلاس کے باہر لے گئے۔اور شیرین ان دونوں کو کینٹین۔ جب تک ہم اس اسکول میں رہے ہم نے آنکھ بھر کے بلقیس کے علاوہ کسی اور لڑکی کو کبھی نہیں دیکھا۔شیرین تو اس دوران زیادہ رتر کھانے پینے میں مصروف رہی۔البتہ بلقیس   نے یہ راز ہائے نہاں کھول دیئے کہ اس کا گھر ہمارے غریب خانے سے کتنا قریب ہے۔اور گھر میں سب لوگ اسے بلّی کہہ کر پکارتے ہیں۔ وہ پوچھنے لگی کہ ہمیں اقبال کے علاوہ کیا کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ جب ہم نے بتا یا کہ ہمیں گھر میں اور باہراقبال ہی کے نام سے پکارا جاتا ہے تو ہمارا یہ جواب سن کر بلقیس نے بہت آہستگی سے کہا،” تیرے گھروالوں کے پاس بہت پھالتو ٹائم ہے “۔

اگلے چند دنوں میں بلقیس، جسے وہ اب خود بھی بلّی ہی کہنے لگا تھا اس بات پر رضامند ہو گئی کہ وہ اس کا اردو میں مددگار ہوگا اور وہ اس کو سوئیٹر بننے میں مدد کیا کرے گی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ جب استانی کیتھرئین ہم دونوں کو کلاس میں یا تو اردو پڑھنے کے کہتی یا سوئیٹر بننے کو تو اپنی کم مائیگی کے باعث بلقیس بے چاری اردو میں اورہم اون کی بنائی کے معاملے میں تقریباً ہر مرتبہ اسکے ہاتوں پٹتے تھے۔ ہماری پٹائی میں اسوقت اور بھی اضافہ ہوگیا، جب کلاس ٹیچر جوڈی نے یہ نوٹ کرلیا کہ ہم اسکول کی اسمبلی میں اسوقت بالکل خاموش رہتے ہیں اور دعاکے وقت ہاتھ بھی نہیں اُٹھاتے، جب وہاں یہ نوحہ گایا جاتا ہے کہ۔۔

یسوعؔ چالیس دن ا ور رات
پتھر تیرا تکیہ تھا، آنسو تیرے،موتی تھے
بعد میں جب ہم نے کسی تصویر میں بیت اللحم۔فلسطین میں عیسائیوں کی وہ خانقاہ دیکھی تو اپنے ایام اسکول کو بہت یاد کیا اسے اب دیئر القرنطلMonastery of the Temptation کہتے ہیں۔ہاں حضرت عیسیؑ نے چالیس دن چلہ کاٹا تھا

وہ حجرہ جہاں سیدنا عیسی نے چالیس روز چلہ کیا
دیر ال قرن طل
Monastery of Temptation

کلاس ٹیچر نے اسے کلاس میں بلا کر پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے تو اس نے اپنی امّی جان کی سکھائی ہوئی یہ بات بلا خوف بتادی کہ” ہم مسلمان ہیں اور ہم صرف اللہ سے دعا مانگتے ہیں،ہم حضرت عیسٰیؑ کو خدا نہیں مانتے “۔اسکی اس گستاخانہ جسارت پر کلاس ٹیچر غّصے سے لال ہوگئی، پوچھنے لگی اور گیت کونسا گاتے ہو، جس پر ہم نے اسکی تصحیح کی کہ ہم گیت نہیں گاتے بلکہ نعت ِرسول ِمقبول ﷺپڑھتے ہیں کہ۔۔
خلق کے سرور،شافعء محشر،صلی اللہ و علیہ و سلم
. مرسلِ داور، خاص پیمبر، صلی اللہ و علیہ و سلم

ہماری اس وضاحت پر کلاس ٹیچر جوڈی نے زناٹے کا ایک تھپڑ گال پر جڑدیا اور کہا ” جا دفع ہوجا!”،ہم چپ چاپ واپس آکر اپنی بنچ پر بیٹھ گئے، جیسے ہی ٹیچر بلیک بورڈ پر حساب کا سوال لکھنے کے لیے مڑی،بلقیس نے اپنے بستے میں سے ململ کا سفید رومال نکالا اس پر، منہ میں دباکر ایک زور کی بھاپ والی پھونک ماری اور آہستہ سے وہ رومال اس کے گال پر رکھ دیا جس پر ٹیچر کی تین انگلیوں  کے نشان تثلیث کی علامت بن کر رہ گئے تھے۔
بہت دنوں بعد جب جوڈی شادی کر کے جمیلہ رشید بن گئی اور مکینک عبدالرشیدکے گھر ان کے محلے میں  رہنے آگئی تو ہر جمعرات کو نیاز ضرور دلاتی تھی۔ سب بچے جمع کرتی، اگر بتیاں جلاتی دعا مانگتی اورہم سے نعت پڑھواتی تھی ۔ہم بھی لہک لہک کرامیر مینائیؔ کی وہی نعت پڑھتے تھے ع

خلق کے سرور،شافعء محشر،صلی اللہ و علیہ و سلم
. مرسلِ داور، خاص پیمبر، صلی اللہ و علیہ و سلم
نورِمجسم، نیرّاعظم، سرورِعالم، مونسِ آدم
نوح کے ہمدم،خضر کے رہبر،صلی اللہ و علیہ و سلم
کچھ دیر بعد وہ خود بھی اس نعت گوئی میں سب بچوں  سمیت شریک ہوجاتی،سر پر سفید دوپٹہ، عقیدت سے بوجھل بڑی بڑی آنکھیں،پانی کا گلاس، پلیٹ میں بچوں میں تقسیم ہونے والی مٹھائی اور گھر میں ہر طرف مقدس مقامات کی تصاویر،مانو کہ علامہ اقبا ل کے ایک مشہور شعر کا وہ مصرعہ گویا لکھا ہی سابقہ جوڈی اور موجودہ جمیلہ رشید کے لیے گیا تھا کہ۔۔
پاسبان مل گئے کعبے کو، صنم خانے سے

بعید نہ تھا کہ ہمارا سلسلہ تعلیم اسی اسکول میں تیسری جماعت سے آگے بھی جاری رہتا، اب اون کے سوئیٹر کی بنائی کے دن ختم ہوگئے تھے، امریکہ سے پرانے کپڑوں  کی درآمد بھی عام ہوگئی تھی اور ملک کے غریب عوام کے بدن ایمان کی حرارت کے علاوہ ان کپڑوں  کی وجہ سے بھی سردی سے محفوظ رہنے لگے تھے،انہی دنوں   امریکہ سے طے ہوئے ایک معاہدے PL-480کی وجہ سے امداد میں خشک دودھDry -Milk بھی آنے لگا تھا، جو ہر ہفتے اسکول کے بچّوں  میں مفت تقسیم ہوتا تھا، جس کی تھیلیاں وہ اسکول سے چھٹی کے وقت ایک دوسرے پر اڑاتے ہوئے اور شیرین کی ڈانٹ کھاتے ہوئے گھر لے جاتے تھے۔اسی امداد کا ایسا اثر ہوا کہ ملک سے دودھ اپنی اصل شکل میں رفتہ رفتہ غائب ہوگیا اور اب ہر جگہ  خشک دودھ ہی استعمال ہونے لگا ہے۔اللہ نے بڑا کرم کیا کہ کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ وہ سترھویں صدی کے میڈیکل پروفیسر فرانسس ڈی لا بوئی کی تیار کردہ شہرہ آفاق شراب ” Dry Gin “کو بھی ڈرائی مِلک کی طرح، معاہدے میں شامل کرلیتے ورنہ سارا ملک ٹُن پڑا ہوتا۔
القصہ مختصر، خاکسار خیر سے تیسری جماعت میں پہنچ گیا تھا،بلقیس اب بھی اسی کے ساتھ بیٹھتی تھی مگر اسکی اردو کی کمزوری میں اب وہ شدت نہ تھی ،جوڈی کو البتہ جرم اُلفت کی پاداش میں اسکول سے فارغ کردیا گیاتھا۔ایک شام کی بات ہے کہ خاکسار گلی میں کرکٹ کھیل رہا تھا اور اسکی بیٹنگ تھی کہ گلی میں معصومہ داخل ہوئی،معصومہ ایک بڑے اسکول میں پڑھاتی تھیں۔وہ بڑا سا سیاہ کھلا برقع جو آگے سے کھلا ہوتا، پہنا کرتی تھیں۔

خاکسار نے جو زور کا شارٹ مارا تو گیند،سیدھی معصومہ کے کوہلوں پر ایک زناٹے سے جاکر لگی،معصومہ غصے سے پلٹی،باقی لڑکے توانضمام الحق کی طرح انگلستان میں اوول کا ٹیسٹ چھوڑ کر میدان سے بھاگ لیے مگر یہ پُر تقصیر امپائر ڈیریل ہیر کی سی بیباکی اور ڈھٹائی سے کھڑا رہا۔معصومہ کو اسکی یہ جرات مندی اچھی لگی،سیدھی اسکے پاس آئی اورکان پکڑ کر پوچھا،کہاں رہتے ہو جس پر ہم نے وکٹوں کے عین سامنے اپنے گھر کے دروازے کی جانب اشارہ کیا۔ وہ اسے سیدھی گھر کے اندر لے گئی جہاں  اسکی والدہ صاحبہ بڑے سے صحن میں، الگنی پر کپڑے سکھا رہی تھیں اور انکی دیورانی باورچی خانے میں ماش کی دال کو بگھار دے رہی تھی۔
گلی سے گھر کے اندر داخل ہونے تک، معصومہ نے اس سے صرف دو سوال کیے تھے، اس کا نام کیا ہے اور اس کی امّی کا نام کیا ہے۔نہ اپنی چوٹ کاواویلا مچایا نہ ہی اسے ڈانٹا۔اسے پہچاننے میں  کوئی تردد نہ ہوا کہ سامنے کھڑی خاتون ہی اسکی گوش بر تحویل مجرم کی والدہ ہیں۔ان کی شخصیت کے رعب سے استانی صاحبہ نے فوراً ہی ہمارے کان چھوڑ دیئے، اور صرف اتنا ہی کہا کہ یہ بہت اچھا بچہ ہے مگر کھیلتا گلی کے گندے بچوّں کے ساتھ ہے، جس پر اسکی والدہ نے مسکراتے ہو ئے کہا “تو آپ اس کے ساتھ کھیلا کریں نا. ”
باورچی خانے سے اٹھنے والی شامی کبا ب کی مہک اور دال پر اصلی گھی،مرچوں اور پیاز کے تڑکے سے معصومہ کی بھوک اسکی خالی آنتوں کے درمیان سے ایسے ہی اچھلی جیسے بعض واٹر پارکس میں سنہرے بالوں والی چست wet-suit میں  ملبوس ڈولفن ٹرینئر کے ہاتھ میں مچھلی دیکھ کر کوئی شرارتی ڈولفن پانی کے اندر سے شڑاپ سے باہر اچھلتی ہے۔ امی نے انہیں کھانے کی دعوت دی تو وہ جھٹ سے راضی ہوگئیں۔دورانِ طعام یہ فیصلہ ہوگیا کہ ہمارا اسکول بدل دیا جائے گا۔ ہم کل صبح معصومہ کے ساتھ جائیں گا  ، اسکول سے واپسی کے بعد وہ دونوں گھر پر کھانا کھائیں گے اور پھر استانی جی معصومہ کے ساتھ ان کے گھر جائے گا، جہاں وہ کچھ دیر آرام کرے گا، پھر انکے پڑوس کی خالہ بی سے قرآن مجید کی پڑھے گا، پھر اسکول کا ہوم ورک،پھر کچھ دیر معصومہ کے بھانجوں کیساتھ کرکٹ کھیلے گا اور پھر گھر آجائے گا۔یہ سارا عمل شام چھ بجے تک مکمل ہو جائے گا۔

ڈولفن اور ٹرینر

اگلے دن جب معصومہ اسے نئے اسکول میں داخلے کے لئے لے جانے پہنچی توہم نے دیکھاکہ مافیا ڈان شیرین سبز علی کی آنکھیں اپنے کاپوCapo(مافیا میں کیپٹن کا عہدہ) یعنی ہماری اس ناگہانی جدائی پر نمناک تھیں، معصومہ نے اپنے خوشبو دار ملائم ہاتھ میں ہمارا ہاتھ تھاما او رچل پڑیں ۔اسکے مہکتے ہوئے برقعہ جو بار بار بادِصبح کے جھونکوں  سے ہمارے گالوں کو چھورہا تھا، ایک طرف سے ہم نے تھام رکھا تھا۔چلتے چلتے ہم نے اپنا چہرہ گھما کر ،گلی کے نکڑ پر ، ایک بے چارگی کی نظر شیرین پر  ڈالی، جو اپنے جلو میں بچوں کی ایک ” M-13″(امریکہ کی ایک خطرناک، بین الاقوامی گینگ)لئیے دوسری طرف مڑ رہی تھی، آج فرق صرف اتنا تھا کہ ایم۔13 کے ممبر آگے اور شیرین پیچھے تھی، آنکھوں میں حسرت کا طوفان لیئے اسکی نگاہیں یہ شعر پڑھ رہی تھیں کہ ع
وہ بے خیال مسافر، میں راستہ یارو
کہاں تھا، بس میں میرے ،ا سکو روکنا یارو

اپنی ہمرکابی میں خلل محسوس کرنے پراستانی معصومہ نے اسے ٹوکا کہ چلتے ہوئے ہمیشہ سامنے دیکھتے ہیں،تب اچانک ہمیں احساس ہوا کہ عورتوں کے نزدیک مرد محض، تانگے کے وہ گھوڑے ہیں جنہیں خود سے اپنی آنکھوں  پر چمڑے کے دو ایسے نقاب “Flaps” ڈال لینے چاہییں جو ان کی نگاہوں کو صرف سامنے کا منظردیکھنے کی اجازت دیتے ہوں، مگرعورتیں ہر وقت یہ بات بھول جاتی ہیں کہ گھوڑوں کی آنکھیں انکی سائیڈ پر کانوں کے نیچے ہوتی ہیں اور اسکے برعکس مردوں کی آنکھیں انکی
پیشانی کے نیچے سامنے کی جانب۔اسی لئے تو بابا عبدالحق ماہر نجوم، اکثر کہا کرتا تھا کہ جو پیش آنی ہوتی ہے وہ پیشانی پرپہلے ہی لکھی ہوتی ہے۔ عدنان کو دوسرا خیال جو دل میں گزرا وہ یہ تھا کہ اسکی تعلیم کی تمام ذمہ داری ان عورتوں نے خود سے کیوں سنبھال لی ہے جن کا اس کی زندگی سے براہ راست کوئی تعلق نہ تھا۔

دو اور خواتین جنہیں ہماری تعلیم سے بہت دل چسپی رہی ان میں ایک ہمیں فی سبیل اللہ حساب پڑھاتی تھی۔ انہیں نے ہمیں صحیح سے اریتھ میٹک کہنا سکھایا۔گلی میں جب بڑے لڑکے کرکٹ کھیلتے تھے تو یہ بی بی جو خاصی مالدار تھیں ان کے گلی کی طرف جھانکنے والے گھر کے برآمدے کی چھ سات کھڑکیاں تھیں۔ ان کا عمران خان ایک لڑکا ہوتا تھا۔چلیں ہم اسے رضوان کا نام دے لیتے ہیں۔ نسلاً کنگلا۔باقی سب کچھ شعیب اختر جیسا۔ہماری ریاضی دانی میں جو ایسا بڑا سقم ہے کہ ہمSrinivasa Ramanujan نہیں بن پائے۔ غیر منقسم ہندوستان مین مدراس کے ساڑھی شاپ کے کلرک سری نواسا نے اپنی مختصر زندگی میں برطانوی راج کے زمانے میں mathematical analysis, number theory, infinite series, continued fractions, i بڑا نام پیدا کیا۔ان کی کوئی تعلیم ریاضی کے حوالے سے نہ تھیں۔

سری نواسن

ہماری یہ استانی جی جب گلی میں کرکٹ ہوتی ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی کی طرف لپکتیں۔والد کا حکم کھڑکیاں بند رکھنے کا تھا مگر دراڑیں اور جھریاں۔رضوان میاں پڑھائی سے فارغ تھے۔ پینٹر کے ہاں ملازم تھے۔ ان دنوں سنیما اور بل بورڈز ہاتھ سے پینٹ ہوتے تھے۔ یہ حضرت آرٹ پر دھیان دیتے تو ایم ایف حسین بن سکتے تھے۔ وہ بھی تو الور اور ممبئی۔ ہندوستان میں سنیما گھروں کے پوسٹر بناتے تھے ہماری نوجوان استانی کو آغوش میں لیے ایک رات سیڑھیوں پر بیٹھے تھے۔باپ کی آنکھ کھلی تو دروازہ ٹھیک سے بند نہ تھا۔دالان کی روشنی ادھ کھلے دروازے کی جھری سے سیڑھیاں اترتی تھی۔جھانکا تو بیٹی کو اس حالت میں دیکھا۔رضوان کی پولیس نے رات بھر کٹ لگائی۔استانی جی کی آنکھیں ان کی ریاضی سے بھی اچھی تھیں۔لکھنو کی تھیں تو گفتگو بھی شیریں تھی۔اس پر آواز جیسے چوٹ پر گرم ٹکور۔ٹیلی ویژن کے مدھیم سے بہت جلد پورے پاکستان کے دلوں کی دھڑکن بن گئیں۔ اس زمانے میں ایک خاتون کی ہنسی، انکل عرفی کی ہیروئن بینا یعنی شہلا احمد کا حسن سوگوار اور استانی جی کی آنکھوں سب نے مل کر بڑا اودھم مچا رکھا تھا۔جلد ہی پی ٹی وی سے جڑے ایک مشہور شاعر ان کے دام الفت میں گرفتار ہوگئے۔کو بہ کو پھیلنے گئی بات شناسائی کی۔ شاعر دانشور تھے اور شادی شدہ بھی،مسلک کا ایک جھگڑا اور عمر کا بھی کے۔ ٹو آڑے آرہا تھا۔

گرم ٹکور
شہلہ احمد

ہم افسر عالی مقام بننے کی تیاریوں میں تھے۔مقابلہ کے امتحان کی تیاریوں میں مصروف اور آدمجی کالج میں انگریزی پڑھاتے تھے۔
جوبلی سنیما کے پاس ایک اپارٹمنٹ میں تنہا رہتے تھے۔پڑوسن پرمیلاہندو تھیں۔پھوپھی کی دوست۔اس کی صاحبزادی اوشا ہمارے بچپن کی دوست تھی۔ اس نے بمشکل میڑک اور انٹر کیا تھا۔اوشا کو ماں نے یہ ذمہ داری سونپی کہ ہم کوئی ملازم نہیں رکھیں گے۔وہ ہمارا اپارٹمنٹ سنبھالے گی۔ اماں ابا کے اپارٹمنٹ میں کم اور ہمارے ہاں زیادہ پائی جاتی تھی۔ کھانا، استری،جھاڑو، مہمانداری سب بے  چاری اس کنواری کنیا کو سونپ دیا۔اوشا کو اگر آپ نگاہوں میں بسانا چاہتے ہیں تو جے جے شیو شنکر والی اداکارہ ممتاز کا اسکین کرلیں۔اپنی دبلی پتلی اماں کی ساڑھیاں پہننے کا بہت شوق تھا۔ اُمگے ہوئے تراشیدہ جواں سال انٹر کمپارٹمنٹل پاس بدن پر بلاؤز آئس کریم میں اسٹرابیری کے قتلوں کی مانند کھب جاتا تھا۔دیکھو تو یقین آجاتا تھا کہ ع

یہ جو دہشت گردی ہے
اس کے پیچھے درزی ہے
ہمارا ہاں فون بھی تھا۔۔ٹی وی بھی تھا مگر وی سی آر نہ آیا تھا۔

ممتاز

عشق کی ماری استانی جی ملنے آئیں تو ہم کالج سے کلاس لے کر لوٹتے تھے۔نیچے زینے پر ہی ملاقات ہوئی۔اوپر آئیں تو اوشا بیگم نے انہیں اور برنس روڈ سے منگوا کر چاٹ ا ور سعید منزل والی کھیر ہاؤس کی کھیر کھلائی۔کہتی تھیں اوشا مجھے دے دو۔شاعر کے حوالے سے مشورہ مانگتی تھیں۔انگلستان میں مقیم ایک پرانا عاشق بھی لوٹ آیا تھا۔وہ شادی کا خواہشمند تھا۔ان سے بیاہ کر انگلستان لے جانا چاہتا تھا۔فیصلہ نہیں کرپارہی تھیں۔ ہم نے کہا وفاداری کتوں کا وصف ہے۔ اولیا اس کو اپنانے کے لیے کلپتے رہتے ہیں۔یہ مواء اللہ مارا مشتاق جفا لوٹ کے آیا ہے نئے موسموں کے ساتھ تو  سمے دی قدر کرو اپنے ہات پیلے کرو اور برطانیہ سدھار جاؤ۔حیدرآباد میں تم اسے کتا کرکے رکھتی تھیں۔

یوں تو ہماری باتوں پر بہت کم عورتیں دھیان دیتی ہیں۔پرانا پڑوس اور استاد شاگرد کا یہ اہم رشتہ جس میں ریاضی کے گنے چنے اسباق سکھانے کی کوئی فیس نہ تھی اس کی لاج رکھتے ہوئے ہم کم عمر ناعاقبت اندیش کا مشورہ مان لیا گیا اور یہ پیا دیس سدھارگئیں۔اوشا کو ہم نے افسری کے زور پر بطور فضائی مہربان ایک ائیر لائن میں رکھوادیا۔آتے جاتے خوبصورت آوارہ مسافتوں میں وہ کسی کو ایسی اچھی لگی کہ وہ اسے بیاہ کر تنزانیہ جابسا۔اداکارہ ممتاز بھی اب خیر سے ستر برس کی ہوچلی ہے۔ اوشا بھی نانی اماں بن چکی ہے۔ بلا کے حافظے اور مطالعے والے شاعر اور لندن جانے والی دلہنیا کی رخصتی کا

SHOPPING

نوحہ تو آپ نے سنا ہی ہوگاع
بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں
شہر کے سارے تہمت گر خاموش ہوئے!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”یاد آئے گر کبھی دل اداس ہو۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

  1. دلفریب، دلکش اور دل نواز تحریر پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیکھنے کے لئے بھی بہت کچھ ہے ۔۔۔ اور ہاں صندلی آنکھیں دکھانے کا بہت شکریہ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *