نواز شریف کا استعفا اور عمران خان کی سیاست

مجھے پاکستان کی دو اہم شخصیات سے شدید اختلاف ہے. میرے نزدیک انہوں نے اپنے منصب سے انصاف نہیں کیا. اِن میں ایک سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف جبکہ دوسرے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری ہیں. ایک نے کراچی امن کے نام پر مہاجروں کی نمائندگی کے کھیر بکھیڑے کردیے. آج اُن کی وجہ سے کراچی کا محب وطن مہاجر کیا ذہن رکھتا ہے میرا نہیں خیال مجھے کچھ بتانے کی ضرورت ہے. نمائندگی بھی چھینی اور قوم کو بےیارومددگار بھی چھوڑا. بیشک ملک دشمن عناصر کو سولی پر لٹکا دیتے لیکن قوم کی محرومی تو دور کرجاتے.  اتنا نہ ہوا کہ لوکل گورنمنٹ سطح پر ہی اختیارات دیکر زخموں پر مرہم رکھ دیا جاتا.  یہ بات کرو تو کہا جاتا ہے یہ ہمارا کام نہیں. ارے صاحب جو کیا، کام تو آپ کا وہ بھی نہیں تھا. اگر مخلص ہوتے تو درد کی کچھ تو دوا کرتے. لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا بلکہ تقسیم در تقسیم کا فارمولا اپنایا گیا. اور قوم کو قیادت کے بھوکے ایسےسپوتوں کے حوالے کر دیا گیا. جو ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں.

اِسی طرح دوسرے نے مشرف دور میں جب ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن تھا اور حقیقی جمہوریت کی داغ بیل ڈالی جارہی تھی. عین اُس وقت اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر اِس سارے عمل کو سبوتاژ کرنے کا باعث بنے.ایک عرصے بعد حقیقی جمہوریت کا قیام ممکن ہوا تھا.  ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن تھا.  ایک عام آدمی لاشعور  سے نکل کر شعور کی دنیا میں داخل ہورہا تھا.  پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی جانب رواں دواں تھی. یہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا دور تھا. جسے ایک سازش کے تحت حقیقی جمہوریت کو آمریت کا لبادہ پہنا کر لپیٹ دیا گیا تھا.

اِس سارے کھیل میں سابق چیف جسٹس کو حق و سچ کا داعی بناکر پیش کیا گیا. میاں صاحب سمیت تمام جمہوری حسن پرست ان کے پیچھے کھڑے ہوئے. چور مچائے شور والے اِن کرداروں نے ایسا واویلا مچایا کہ بالآخر مشرف کو استعفا دینا پڑا. بس پھر کیا تھا پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہونا تھا. اُس وقت میاں صاحب بڑے خوش تھے. کیونکہ وہ اپنی باری کے لیے لائن میں لگنے کو بےقرار تھے.جیسے تیسے کرکے میاں صاحب کی باری آئی. اب اِسے ماضی سے سبق سیکھنا کہیں،  عوام میں شعور کی بیداری کہیں یا آزاد میڈیا کا کردار کہیں کہ میاں صاحب نے اپنے حالیہ دورِ حکومت کو پچھلےدو حکومتی ادوار کے مقابلے کافی بہتر انداز میں چلایا. لیکن خالی میاں صاحب کے سبق سیکھنے سے کیا ہونا تھا. جب تک اسٹیبلشمنٹ بھی ماضی سے کچھ نہ سیکھے.

مجھے نہیں معلوم پاناما سیاسی اسکینڈل ہے یا مالی بدعنوانی پر مبنی حقیقی مقدمہ. لیکن ایک بات طے ہے وہ یہ کہ آج میاں صاحب اپنا بویا کاٹ رہے ہیں. جس طرح کی سیاست وہ ماضی میں کرتے آئے ہیں. جن بے ساکھیوں پر چل کر وہ اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں. آج وہی اولے اُن کے سر پر پڑ رہے ہیں.
“بوئے بیج ببول کے آم کہاں سے کھائے”.اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی صورت میں جو ڈبہ میاں صاحب کے پیچھے پچھلے چار سال سے باندھ رکھا ہے.  میاں صاحب کے لیے پریشانی کا باعث اِس لیے بھی نہیں ہے کیونکہ میاں صاحب خود ایک عرصہ اِسی ڈبے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں.لہذا پاکستان کے ایک عام شہری کو یہ بات اب واضح طور پر سمجھ آجانی چاہیے کہ 2014ء کے دھرنے سے لے کر پاناما کی جے آئی ٹی تک کا جتنا بھی ہنگامہ ہے.  اُس سے غریب آدمی کا مفاد وابستہ ہے نہ کرپٹ عناصر سے ملک کو چھٹکارا دلانا مقصود ہے.  یہ سارا کھیل ہے جمہوری نظام کو کمزور کرکے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو مضبوط بنانا ہے.  جبکہ عمران خان کی صورت میں ایک نیا نوازشریف قوم کے پلے باندھ دینا ہے.

لہذا میرا میاں صاحب سے لاکھ سیاسی اختلاف سہی.  لیکن جمہوریت کے استحکام کےلیے میں میاں صاحب کے ساتھ کھڑا ہوں.  اور پاکستان کے عوام کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ عمران خان کی شکل میں ماضی کے اناڑی نوازشریف کے ساتھ کھڑا رہنے سے بہتر ہے ماضی سے سبق سیکھے ایک سیاسی تجربے کار نوازشریف کے ساتھ کھڑا رہا جائے.  تاکہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے. اور شفاف الیکشن کے تحت اقتدار جمہوری انداز میں آگے منتقل کیا جاسکے. اب حکمرانوں کو ملک کے لیے کام کرنے دیا جائے جس کےلیے ڈبہ سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے کچلنا ہوگا.

علی راج
علی راج
سوشل میڈیا بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *