• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (پانچواں حصہ)

متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس (پانچواں حصہ)

سب سے پہلی عرض تو یہ ہے کہ مضمون کی طوالت کے باعث واقعات کے بیان میں مزید اختصار سے کام لینا ہوگا کیونکہ سبھاش چندر بوس کی ذات اور کردار کا مکمل احاطہ کرنے کے لیے تو کئی کتب بھی ناکافی ہیں چہ جائیکہ ایک مضمون۔ ہم میں سے اکثر لوگ سبھاش چندر جی کو آزاد ہند فوج کے بانی کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس فوج جس کا اصل نام انڈین نیشنل آرمی تھا، حقیقتاً جاپانی انٹیلیجنس یونٹ” فیوجی وارا کیکان” کے بانی میجر ایوائچی فیوجی وارا کے ذہن کی پیداوار تھی۔ فیوجی وارا نے یہ فوج بنانے کی تجویز بنکاک میں انڈین انڈیپنڈنس لیگ کے سربراہ پریتم سنگھ ڈھلوں کو دی تھی تاکہ مشر قی ایشیا میں اسے جاپانی فوج کے ساتھ اتحادیوں کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ اسی دوران جاپانی فوج نے ملایا سے رائل انڈین آرمی کے کیپٹن موہن سنگھ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور یوں جنوری 1942 میں اس فوج کی بنیاد رکھی گئی۔ تاہم موہن سنگھ اور جاپانی انٹیلی جنس کے درمیان اختلافات رونما ہونے کے بعد اسی برس دسمبر میں اس فوج کو غیر منظم کر دیا گیا۔ اس و قت انڈین انڈی پینڈنس لیگ کی سربراہی جلا وطن قوم پرست رہنما راس بہاری بوس کر رہے تھے۔ دسمبر 1942 میں پہلی انڈین نیشنل آرمی کو ختم کیا گیا کیونکہ کیپٹن موہن سنگھ سمجھ رہے تھے کہ جاپانی انہیں اور آئی این اے کو ایک مہرے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ چنانچہ ہندوستانی فوجیوں کو واپس جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں بھجوا دیا گیا اور موہن سنگھ کو حراست میں لے لیا گیا۔

1943 کے تقریباً وسط میں سبھاش چندر بوس جزائر شر ق الہند پہنچے توانہوں نے اپنا منصوبہ جاپانیوں کے علاوہ مشر قی ایشیا میں آباد ہندوستانیوں کے سامنے بھی پیش کیا۔ اس انقلابی منصوبے کو دیکھتے ہوئے راس بہاری بوس نے جولائی 1943 میں انڈین انڈی پینڈنس لیگ کی سربراہی سبھاش چندر کے سپرد کر دی۔ اس تنظیم کی سربراہی سنبھالنے کے بعد سبھاش چندر نے پورے مشر قی ایشیا میں آباد ہندوستانیوں کے ساتھ رابطہ مہم شروع کی اور انڈین نیشنل آرمی کو ازسرنو منظم کیا۔ اسی عوامی رابطہ مہم کے دوران انہوں نے ہندوستانیوں کو وہ نعرہ دیا جس کی گونج لندن تک سنائی دی ۔۔۔ “تم مجھے خون دو، میں تمہیں آزادی دوں گا”۔ اسی آزاد ہند فوج نے سبھاش چندر بوس کو “نیتا جی” کا خطاب دیا جو ان کی خاص پہچان بنا۔ جنوب مشر قی ایشیا میں آباد ہندوستانیوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لیے نیتا جی پر مال ہی نہیں جان بھی فدا کردی۔

سبھاش چندر بوس نے آزاد ہندوستان کی عبوری حکومت قائم کی جسے جاپان، جرمنی اور اٹلی کے علاوہ محوری طا قتوں کے زیرنگین ممالک نے بھی تسلیم کرلیا۔ اس حکومت کا صدر دفتر بحر ہند میں جاپان کے مقبوضہ جزائر انڈمان و نکوبار میں قائم کیا گیا۔سبھاش جی نے ان جزائر کا نیا نام شہید اور سوراج رکھا اور جاپانی حکومت کی اجازت سے کرنل لوگاناتھن کو یہاں کا گورنرجنرل مقرر کیا گیا ۔ لوگاناتھن کا تعلق بنگلور سے تھا اور وہ رائل انڈین آرمی کا ڈاکٹر رہ چکا تھا۔ اگرچہ آزاد ہند عبوری حکومت کا صدر مقام یہ جزائر تھے تاہم نیتا جی کو یہاں آنے کا موقع صرف ایک بار ہی مل سکا کیونکہ وہ برما میں ہندوستان پر حملہ کرنے والی آزاد ہند فوج کی تنظیم میں مصروف تھے۔ برما کے راستے ہندوستان پر حملہ کرنے والی افواج میں جاپانی دستوں کے ساتھ آزاد ہند فوج کے دستے بھی شامل تھے۔ آزاد ہند فوج نے منی پور، امپھال اور کوہیما کے علاقوں میں کچھ کامیابیاں بھی حاصل کیں اور بوس کی فوج نے پہلی بار منی پور ہی کے علاقے میں ہندوستانی سرزمین پر آزاد ہندوستان کا ترنگا لہرایا۔ جب منی پور، کوہیما اور امپھال کے علاقوں میں جاپانی افواج کو اتحادیوں نے پیچھے دھکیلا تو آزاد ہند فوج کو بھی پیچھے ہٹنا پڑا۔ نیتا جی کے بے لوث ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ انہوں نے آزاد ہند فوج کے مختلف یونٹوں کے نام اپنی بجائے گاندھی اور نہرو کے نام پر رکھے تاکہ ہندوستان کے عوام کو اتحاد کا درس دیا جاسکے تاہم ان کے جذبے کی حقیقی معنوں میں قدر نہ کی گئی۔

1944 کے اواخر تک جنگ کا پانسہ پلٹنے لگا اور جاپانی افواج کو برما سے پسپائی اختیار کرنا پڑی تو آزاد ہند فوج کو بھی اسلحے اور سپلائی کی شدید کمی کا سامنا درپیش تھا۔ اس تنگدستی کے باوجود نیتا جی اپنی فوج کی ہمت بندھاتے رہے یہاں تک کہ رنگون پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا اور آزاد ہند فوج کے متعدد افسر اور سپاہی برطانوی فوج نے گرفتار کر لیے، بقیہ کو تھائی لینڈ اور ملایا کی جانب فرار ہونا پڑا۔ دوسری جانب اتحادی افواج جزائر انڈمان اور نکوبار پر بھی قابض ہو گئیں اور اس طرح آزاد ہند حکومت عملی طور پر ختم ہوگئی۔ جنگ میں جاپان کی مکمل شکست کے بعد تھائی لینڈ اور ملایا سے سے آزاد ہند فوج کے متعدد ارکان کو گرفتار کرکے ہندوستان لایا گیا جہاں ان پر غداری کا مقدمہ چلنا تھا۔

سبھاش چندر بوس جاپانی فوج کے ساتھ تائیوان میں موجود تھے جب امریکا نے دو جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرائے۔ 6 اور 9 اگست کے ان حملوں کے بعد جاپانی شہنشاہ نے 15 اگست کو ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر دی۔ اس خبر کے بعد جاپانی افواج کو تمام مقبوضہ علاقوں سے واپسی کا حکم ملا۔ کہا جاتا ہے کہ 18 اگست 1945 کو دن کے اڑھائی بجے تائیوان میں “تائی ہوکو” کے ہوائی اڈے سے ایک جاپانی طیارے نے اڑان بھری جس میں نیتا جی، ان کے ایک قریبی ساتھی حبیب الرحمٰن اور فارموسا میں جاپانی فوج کے وائس چیف سوناماسا شیڈی سوار تھے۔ اس طیارے کی منزل چینی منچوریا تھا جہاں غالباً بوس کو سوویت افواج کے سپرد کیا جانا تھا۔ طیارے کے ٹیک آف کرتے ہی، اس کے بائیں انجن میں آگ لگ گئی اور طیارہ زمین پر آرہا۔ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق جب بوس کو جلتے طیارے سے نکالا گیا تو ان کا جسم”تھرڈ ڈگری برنز” سے مکمل طور پر جھلس چکا تھا تاہم وہ زندہ تھے۔ انہیں فوری طور پر دستیاب ایک ٹرک میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی زندگی کی امید نہ ہونے کے باوجود علاج شروع کیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور رات نو اور دس بجے کے درمیان ان کا انتقال ہوگیا۔ اس طرح ہندوستان کی سرزمین کا ایک مخلص اور بے لوث سپوت اپنے وطن کی آزادی پر قربان ہوا۔ بوس کی آخری رسومات تائی ہوکو میں ہی 20 اگست کو ادا کی گئیں جبکہ جاپانی نیوز ایجنسی نے بوس اور جنرل سوناماسا شیدی کی موت کی خبر 23 اگست کو نشر کی۔ 7 ستمبر 1945 کو جاپانی فوج کے لیفٹننٹ تاتسو ہایاشیڈا نے بوس کی راکھ ٹوکیو پہنچائی جسے 8 ستمبر کو انڈین انڈی پینڈنس لیگ ٹوکیو کے سربراہ راما مورتی کے سپرد کیا گیا۔ انڈی پینڈنس لیگ نے 14 ستمبر کوٹوکیو میں بوس کی یاد میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی اور چند روز بعد یہ راکھ ٹوکیو کے رینکوجی بدھ مندر کے سپرد کردی گئی جہاں یہ آج تک محفوظ ہے۔

بوس کی زندگی میں ان کی موت کو سب سے زیادہ پر اسراریت حاصل ہے اور یہی اکثر موضوع بحث رہتی ہے۔ ان کی موت کے اعلان کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک بہت سے لوگ اس حوالے سے شبہے میں رہے۔ بہت سوں کو یقین تھا کہ وہ زندہ اور کہیں روپوش ہیں اور جلد منظر عام پر آئیں گے۔ ایسے توہمات کوئی انوکھی بات نہیں۔ دوسری جنگ عظیم کت بعد ہٹلر کے متعلق بھی ایسی ہی افواہیں زبان زد عام رہی ہیں اور بہت سے لوگ برسوں تک ہٹلر کا انتظار بھی کرتے رہے۔ اسی طرح بوس کی موت کے بعد ان کے اکثر حامی صدمے یا غیر یقینی کی حالت میں تھے۔ اسی غیر یقینی نے ان بے بنیاد داستانوں کو جنم دیا جن کے مطابق بوس بہت جلد واپس آنے والے تھے۔

تاریخ کے طالبعلم کے طور پر ہمارے لیے بوس کی موت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ ہندوستان کی آزادی میں ان کا کردار کیا تھا اور کس نے اس کردار کو عوام سے چھپانے کی کوشش کی اور کیوں؟
(جاری ہے)

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *