• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کافرستان کی بریر وادی کی ایک دلچسپ اور حیرت انگیز رسم ”بودلک“ کا احوال ۔۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

کافرستان کی بریر وادی کی ایک دلچسپ اور حیرت انگیز رسم ”بودلک“ کا احوال ۔۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

چترال سے یہ میری تیسری ملاقات تھی۔ پوڑ (ستمبر کے آخرمیں بالائی چراگاہوں سے مال مویشیوں کا نیچے وادی میں آنے اور اخروٹ وانگور پکنے کی خوشی میں منایا جانے والا تہوار) دیکھنے کی حسرت بھی اندر سے نکل کر آنکھوں میں ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی۔ تاج محمد فگار صاحب سے جو چترال کی بڑی علمی ادبی اور سماجی شخصیت ہیں فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ اس تہوار کے لیے تاریخ کے تعین کا جان کر مجھے مطلع کریں گے۔ میری ممیری بہن کوثر جمال اس بار میری ساتھی تھی۔ وہ یقیناً اپنے بچپن کے فوکر طیاروں میں جیالے پائلٹوں کے سنگ کیے گئے سفروں کے کسی ایسے عکس کو جو ابھی بھی اُسکی ذہنی دیواروں سے چمٹا ہوا تھا کو دیکھنے کے لیے چترال جانے کی آرزو مند تھی۔
ستمبر کے اوائل کی اس گرم دوپہر میں تاج محمد فگار صاحب کی چترال سے آنے والی آواز نے مجھے پندرہ ستمبر کو پوڑ کے میلے کی خبر سنائی۔
سفر دونوں ہی بڑے مزے کے تھے۔ زمین کے سینے پر گڑگڑاتی سیٹیاں بجاتی اور چھک چھک کرتی نے جیسے طوالت کو بھی عین راحت میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ اور ہواؤں سے گتھم گتھاہونے والے نے تو پل جھپکتے میں جیسے عرش سے اٹھا کر فرش پر مارا تھا۔
ویٹنگ لاؤنج کے شیشوں والے دروازوں کے پیچھے تاج محمد فگار کا محبت بھرا چہرہ جھانکتا تھا۔ اس چہرے سے بالمشافہ ٹکراؤ پر سفر کے خیریت سے کٹنے جیسے اطمینان بھرے اظہاریہ کے بعد گھر کے لیے اصرار تھاجب کہ میری ہوٹل کے لیے تکرار تھی۔ پر جب انہوں نے کہا۔
”یہ کیسے ممکن ہے آپ اپنے بھائی کے شہر میں ہوں اور ہوٹل میں ٹھہریں۔“
تو سامان اُٹھا کر اُنکے پیچھے چلنا بے حد ضروری ہو گیا تھا۔
زرگراندہ گاؤں میں نالے کے قریب گھنے درختوں کے جھنڈوں میں وہ گھر تھا جس کا وسیع ڈرائنگ روم صوفوں اور قالینوں سے اور ملحقہ گیسٹ روم آرام واستراحت کے ضروری لوازمات سے سجا تھا۔ مسز تاج بڑی بُردبار کم گو اور متین سی خاتون تھیں۔ چترال شہر کی لیڈی کونسلر بھی تھیں اور سیاسی سوجھ بوجھ کی مالک بھی۔ دوپہر کے کھانے کے لیے بائی پٹتس(چترالی نشست گاہ) میں جانا تھا۔ عقبی گھر میں چنار کے بے حد قدیمی درخت کی شاخوں کو تیز ہواؤں میں جھولتے انار کے سرخ پھل کو ٹہنوں پر جھومتے اور سیبوں کو بل کھاتے دیکھتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے کمرے کی پور پور میں صدیوں پرانی کہنہ سالی رچی ہوئی تھی۔ دھواں خوردہ چھت یوں چمکتی تھی جیسے اس پر ابھی تازہ سیاہ پینٹ کیا ہو۔ چوبی کڑھائی دار ستون تاج صاحب کے دادا پردادا کے زمانوں کی کہانیاں سناتے تھے۔ چوبی تختوں سے حد بندی کیا ہوا وسطی حصہ جس پر بچھی دسترخوان پر اعلیٰ درجے کی کراکری سجی تھی اور تاج صاحب کی چوتھے نمبر والی خوبصورت بیٹی اپنی دلنشین سی مسکراہٹ کے ساتھ ہمیں سروس دیتی تھی۔
چترال کے میٹھے اور صحت بخش پانیوں کی پیدا کردہ اور مسز تاج کے سلیقہ مند ہاتھوں کی تیار کردہ بھنڈی حد درجہ ذائقہ دار تھی کہ نصف لمبوترہ نان تو صرف اسی ذائقہ کی بھینٹ چڑھ گیاتھا۔ اور جب افراد خانہ کے بارے میں غائبانہ تعارف ہوتا تھا میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”تاج صاحب آپ تو بادشاہ ہیں۔“
چشمہ پہنے اُس چہرے پر ناقابل فہم سے تاثرات اُبھرے جنہیں محسوس کرتے ہوئے میں بولی۔
”دراصل ہماری ہر لوک کہانی کا بادشا ہ یا سات بیٹیوں کا باپ ہوتا ہے یا پھر بے اولاد۔ آپکی بھی سات بیٹیاں ہیں لہٰذا آپ بھی بادشاہ ہوئے نا۔“
بڑا بھرپور اور جاندار قہقہہ تھا۔ جو اُنکی بیگم بیٹی اور خود انکے اپنے اندر سے نکلا تھا اور جس نے ماحول کو پھلجھڑی سا بنا دیا تھا۔
ہمیں آرام کرنے کا کہتے ہوئے وہ پرنس اسدالرحمٰن سے قلعہ دیکھنے کی اجازت لینے چلے گئے۔
چترال کا موسم ابھی گرم تھا۔ میں لیٹی ضرور پر بے چین ہو کر اُٹھ بیٹھی۔ کوثر ابھی جاگن میٹی میں تھی۔ اُسے سُناتیہوئے کہ میں ذرا پتہ تو کر آؤں پوڑ کس وادی میں ہو رہا ہے۔ کب اور کیسے جانا ہے کہتے ہوئے باہر نکل آئی۔
تاج صاحب کے گھر کی بلند وبالا سیڑھیاں اُتر کر نشیب میں واقع کریانہ کی دوکان پر آئی تو تھوڑی سی رہنمائی وہیں سے مل گئی۔ نالے کے ساتھ ساتھ چڑھائی چڑھتا راستہ سیدھا اتالیق بازار میں نکلتا ہے وہیں کالاشیوں کا مرکز ہوٹل ہے۔
پر جب کالاشیوں کے اس مرکز میں پہنچی تو وہاں اماں نہ پونیاں والی بات تھی۔ بہرام شاہ اور چند دیگر کالاشیوں سے ملاقات ہوئی۔ پر پوڑ کے بارے میں تقریباً سبھی لا علم۔ پوڑ تو یوں بھی بریر وادی کا تہوار ہے کہ انگور کی پیداوار ٹنوں کے حساب سے وہیں ہوتی ہے۔ کسی نے کہا تھا۔
میرا دل اپنا آپ پیٹ لینے کو چاہا۔ بہرام شاہ نے وہیں گھاس پر مجھے بٹھاتے ہوئے چائے کا آرڈر دیا۔ چائے کے کپ میں چینی نہیں زہر گھلا ہوا تھا جس کا ہر جرعہ حلق سے اُترتے ہی مجھے چیرتا چلا جا رہا تھا۔ تاج صاحب نے ہمیں کیسے بُلا لیا۔ انہیں کس نے پندرہ سولہ کا کہا تھا۔ میں خود سے اُلجھتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھتی تھی۔
واپس آ کر جب تاج صاحب پر سردی گرمی جھاڑی تو انکی شان استغنا دیکھنے کے قابل تھی۔ آدھا نزلہ آیون چیک پوسٹ والوں پر اور آدھا ہمارے اوپر گراتے ہوئے گویا ہوئے۔
”ہمیں تو سمجھ نہیں آتی کہ آخر آپ نیچے والے لوگوں کی مت کیوں ماری ہوئی ہے؟ بھاگے چلے آتے ہیں۔ ہے کیا ان کے تہواروں میں ڈھول کی ڈھما ڈھم اور آگے پیچھے کی چلت پھرت۔“
گرمی سے بھری ہوئی سہ پہر میں نے مرحوم راجہ کرنل مطاع الملک کے سوگوار خاندان کے ساتھ افسوس میں گزاری۔ سال بھر گزر جانے کے باوجود انکی بڑی بہو کے آنسو انکی یاد میں ابھی بھی روانی سے بہتے تھے۔
باہر تاریکی تھی ہواؤں کے جھکڑ تھے۔ دریائے چترال کے پار پہاڑوں پر گھرو ں میں روشن بجلی کے قمقمے جگنوؤں کی طرح ٹمٹماتے اس ڈر کو کچھ کم کرتے تھے جو پرائے گھر جاتے ہوئے میرے اوپر طاری تھا۔
سہج سہج قدم اُٹھاتی اونچی نیچی جگہوں پر کمال احتیاط سے پاؤں دھرتی میں عقبی آنگن میں نمودار ہوئی۔ جہاں تاج صاحب کرسی پر فکر مند بیٹھے میرے ابھی تک گھر نہ پہنچنے پر کوثر سے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے تھے۔
کمال ہے تاج صاحب یہ چترال ہے چترال۔ اکیلی عورت کو یہاں کیا خطرہ ہے۔
رات کے کھانے پر فیملی کے بقیہ افراد بھی موجود تھے۔ نویں کلاس میں پڑھنے والی ان کی گول مٹول سی پرکشش بیٹیحنا اور سویٹی۔ فہد احمد انکا بیٹا جو اکلوتا ہونے کے باوجود حد درجہ مودب اور بیبا سا تھا۔
چاولوں کا خشکہ مرغی کا شوربہ اور نان کے ساتھ پشور برٹھ خاص چترالی ڈش موجود تھی۔ پیاز اخروٹ قیمے آٹے اور ہری مرچ پودینے دھنیے کے ساتھ تیار کردہ یہ آئٹم بے حد ذائقہ دار تھا۔ ہم نے تو اسے ہی رغبت سے کھایا۔ گھر کے درختوں سے اُترے سیبوں کے بعد قہوہ پیتے ہوئے تاج صاحب کو سُنا جنہوں نے کل دس بجے شاہی قلعہ اور محل دیکھنے کا بتایا۔
یہاں برق گرانے والی ایک اور خبر تھی کہ ”شاہی محل کی وہ مہ لقا جسے دیکھنے کی میں آس لیے پھرتی تھی عرصہ سات سال سے زمین کا رزق ہو چکی تھی۔“
مسز تاج کے یہ الفاظ آتش شوق پر تیل اور تیلی گرانے کے مترادف تھے۔
چترال میں اُس جیسی حسین اور طرحدار عورت کب دیکھنے میں ملے گی۔ اُسے تو گھنٹوں دیکھو اور جی نہ بھرے والی بات تھی۔
اس ڈیپریشن کو کم کرنے میں بیچارے قہوے کی شامت جو آئی سو آئی تاج صاحب سے بھی اُلجھ پڑی جو بڑی معصومیت سے پرنس اسد کے اس استفسار کا تجزیہ کرنے میں مصروف تھے کہ ”آخرانہوں نے آپکی عمر کے بارے میں کیوں پوچھا۔ کہ آپ اُن سے بڑی ہیں یا چھوٹی۔“
”تاج صاحب آپ تو بھولے بادشاہ ہیں۔ انکے گہرے تفکر پر میری ہنسی چھوٹ گئی تھی کم عمری کی صورت میرے ساتھ بات چیت کو وہ انجوائے کریں گے۔ انکا وقت اچھا گزرے گا۔ دوسری صورت میں مجھے ٹرخایا جا سکتا ہے۔ ان کے لیے یہ وقت کا ضیاع ہے۔“
”نہیں نہیں آپ بالکل غلط سمجھیں۔ ہمارا پرنس اس مزاج کا نہیں۔“
”آپ واقعی بہت سیدھے اور بھولے ہیں۔“ میں نے کوثر کو اُٹھنے کا اشارہ کیا۔
اس روشن صبح بالکونیو ں کی بیرونی دیواروں پر ٹنگے مارخوروں اور ہمالیائی آبیکس کے سر پرانی زنگ آلود تلواریں توپیں اور جنگی آلات حرب ایک عہد کی داستان سناتے تھے۔
اندر منقش دیواروں پر کٹور خاندان کے شہزادے راجے مہاراجے ہیروں کے تاجوں سے سجی پیشانیوں کے ساتھ ایک سرے سے دوسرے تک پھیلے ہوئے تاریخ کی کتابوں کے اوراق اُلٹاتے تھے۔ ان ورقوں میں رئیسہ خاندان کی شکست اور تیمور لنگ کی اس اولاد کے کارنامے رقم تھے۔ امان الملک سے لے کر موجودہ سیف الملک ناصر تک۔ موجودہ شہزادہ تو یوسف ثانی تھا۔
ریاست کے مدغم ہونے کے بعد سے اسلام آباد میں مقیم تھا۔ اسکی جھیل جیسی نیلی آنکھیں اور تابناک چہرہ دیکھتے ہوئے میں سوچتی تھی۔ اسلام آباد کی فیشن ایبل عورتیں تو اُسے دیکھ کر اپنے کلیجوں پر ہی ہاتھ دھرتی ہوں گی۔ نشست گاہوں میں بچھے قالین صوفے ہاتھی دانت کی انٹیک میزیں اور تپائیاں۔ ماضی کی عہد ساز شخصیات کی تصویروں سے سجی دیواریں۔ گچ کی ان دیواروں میں دراڑیں تھیں۔ چیزوں پر پرانے پن اور بوسیدگی کی چھاپ تھی پر پھر بھی ان پرپھیلا شاہانہ رعب داب اور شان و شوکت کا پرتو متاثر کرتا تھا۔ محل بھی ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچار تھا۔ ایک ایک کمرہ نادر چیزوں سے آراستہ ضرور تھا نیل گائے مار خور اور چیتے کے سینگوں سے سجی غلام گردشیں تھیں جہاں گھومتے ہوئے بندہ عروج وزوال کے المناک تصورات کے زیر اثر ہول کھائے چلا جاتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ان محل باڑیوں میں رہنے والے لوگ کہاں گئے۔ اب یہ ڈھنڈار سے کمرے عبرت کا سامان بنے پڑے ہیں۔
میرا دل گھبرانے لگا تھا۔ اونچی اونچی فصیلوں کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے یہاں قید ہو گئے ہوں۔ باہر نکل آئے۔
بلند وبالا فصیلوں سے باہر راجہ فیملی کے باغ باغیچوں کے ساتھ بنی سڑک پر جس کے بائیں ہاتھ نشیب میں پامیران کے ہوٹل کا سلسلہ پھیلا ہوا ہے چلتے ہوئے ہم پرنس اسد الرحمٰن سے ملنے جا رہے تھے۔
دریائے چترال کے پہلو میں یہ ایک جدید وضع کا خوبصورت گھر تھا۔ ابھی ناشتے کا مرحلہ جاری تھا۔ چائے پیتے ہوئے وہ ہنسے اور بولے۔
آئیے باتیں کرتے ہیں۔ جو آپکو اپنے مطلب اور کام کی چیز محسوس ہو اُسے رکھ لیں باقی کو دفع کر دیں۔
اب ان کے اور حکومت کے درمیان پیدا شدہ جائیداد سے متعلق مختلف معاملات جو عدالتوں میں زیر سماعت تھے دفع کرنے کے قابل ہی تو تھے۔
ڈیڑھ گھنٹے کی اس نشست میں جن حقائق کو میں جاننے کی آرزو مند تھی اُن میں سے کوئی بھی موزوں انداز میں زیر بحث نہیں آیا۔ اور اگر کوئی آیا تو وہ قانونی موشگافیوں کی بھول بھلیوں میں اُلجھا ہوا تھا۔ ریاست کے پاکستان میں مدغم ہونے کی تاریخ بھی اُن حقائق سے لگانہیں کھاتی تھی جو میں نے سر کردہ لوگوں سے سُنے تھے۔ خاندانی البم دیکھنے کا معاملہ پھر کسی اور وقت پر اُٹھ گیا۔ سیف الرحمٰن کی بیوہ سے شادی کرنے میں اُس کے بے پایاں حُسن کی کوئی کرشمہ سازی تھی یا ماں بہنوں کا دباؤ تھا کہ اس کی اتنی نو عمری کی بیوگی پر خواص چھوڑ عوام بھی اشک کناں تھے۔
سچی بات ہے جب میں اُٹھی تھی میرے دماغ میں کھولن تھی۔ کوئی چیز واضح نہیں تھی۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو گیا تھا۔ اورمیں سخت ڈپریشن میں تھی۔
یہ بھی کیسا عجیب اتفاق تھا کہ شاہی قلعے کی فصیل کے پاس سفید ٹویوٹا میں ایک معزز مرد نے ہمیں قریب پہنچنے پر فراخدلانہ پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا۔
آپ بمبوریت جانا چاہتی ہیں؟
پل بھر کے لیے ہم حیرت زدہ سے ہوئے۔ پر حیرت جلد ہی رفع ہو گئی کہ صاحب کسی سگریٹ کمپنی کی طر ف سے ایڈورٹائزنگ کے سلسلے میں چترال آئے تھے۔ ہمشیرہ ساتھ تھیں ان کے پاس خود وقت نہیں تھا۔ ڈرائیور ہمشیرہ کو بمبوریت لے جا رہا تھا۔ ہمیں دیکھ کر انہوں نے بہن کی دوسراتھ کے لیے پیشکش کر دی۔
میں نے تو پل نہیں لگایا۔ ہنستے ہوئے یہ کہتے ہوئے ”ارے اس سے اچھی بات کیا ہو سکتی ہے“۔ گاڑی میں گلہری کی طرح پھدک کر بیٹھ گئی۔
پر شیشیوں میں سے میں نے دیکھا تاج صاحب حواس باختہ سے گُم سُم پریشان کھڑے تھے غالباً سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اس عورت کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ یقیناً اگر کہیں اس وقت میری ماں موجود ہوتی تو تاج صاحب کے شانے پر محبت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی۔ چھڈ پُتر۔ یہ تو ہے ہی سارے زمانے کی اواگون اسکا تو وہ حال ہے۔ جنے لایا گلیں اودے نال اُٹھ چلی۔
جب گاڑی چلی میں نے بیگ سے بسکٹ کا ڈبہ نکالا۔ خود لیا۔کوثر کو دیا۔ مسز زہرہ ممتاز کو چاہت کے ساتھ پیش کیا۔ ڈرائیور کو بھی اس منہ ماری میں شامل کیا۔
چلو بمبوریت میں پوڑ کا کچھ پتہ تو چلے گا۔ میں نے طمانیت سے سوچا۔
پر جونہی جیپ نے آیون کے لیے عمودی اُترائی پر قدم دھرا میرے ذہن نے قلابازی کھائی۔
بمبوریت کی بجائے بریر جایا جائے۔
اس خیال نے گاڑی کی رفتار پکڑنے کے ساتھ ساتھ زور پکڑا یوں کہ میں نے اپنا ہاتھ مسز زہرہ ممتاز کے بھاری بھرکم شانے پر رکھتے ہوئے انہیں بریر وادی کے دلفریب نظاروں کی ایسی دل کش تصویر دکھائی کہ وہ بے اختیار بول اُٹھیں کہ بھئی مجھے تو سیر سے غرض ہے۔ ڈرائیور نے ذرا سی پس وپیش کی تو میں نے وہاں کے نسوانی حسن کے یوں قصیدے پڑھے کہ بیچارے کو یقیناً دل پر ہی ہاتھ رکھنا پڑا ہو گا
فیصلہ ہوا کہ آیون سے ہی بریر جایا جائے۔ میری باچھیں دور دریاکو کسی کشادہ دل رئیس کی طرح سُبک خرامی سے بہتے دیکھ کر کھلی جاتی تھیں۔
سڑک گوکسی کنجوس کے دل کی طرح تنگ اور کسی غریب کی طرح بے مایہ سی تھی مگر بُری نہیں لگ رہی تھی کہ بریر کو جاتی تھی۔ پہاڑوں کی اونچائی کسی اعلیٰ ظرف کی طرح بلند تھی۔ سڑک کے کچا ہونے کی وجہ سے ہچکولے جھولے جھلاتے تھے۔ راستے نے ایک جگہ آکر ایسی دل دہلانے والی صورت بنا رکھی تھی کہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی زہرہ ممتاز اسکی خوفناکی سے لرز کر چیخ اُٹھیں۔ ڈرائیور محتاط تھا اور حوصلے والا بھی۔ فوراً بول اُٹھا تھا۔
مت گھبرائیے۔ ابھی گاڑی یہاں سے نکل آئے گی۔
گہریت پر بریر وادی سے آتا ہوا نالہ دریائے چترال میں گر رہا تھا۔ گہریت پشاور روڈ پر وہ جگہ ہے جہاں سے بریر کو راستہ جاتا ہے۔ اسے بریر موڑ بھی کہتے ہیں ڈرائیور ہمیں پہلے گہریت موڑ پر لے آیا تھا اُسے گاڑی کو چیک کرنا تھا۔ ہم آبادی کے لوگوں سے پوڑ کے بارے میں پوچھنے لگے۔ جب پھل پک کر گرے گا تب قاضی گنڈولک سرکردہ لوگوں کے صلاح مشورے سے تاریخ کا اعلان کرتا ہے۔ بالعموم ستمبر کا آخری ہفتہ ہوتا ہے۔ مایوسی تو پہلے ہی تھی یہ سب سُن کر آہ بھری اور گاڑی میں بیٹھے۔ پُل کراس کیا اور سفر پھر دریا اور پہاڑوں کے ساتھ ساتھ شروع ہو گیا۔ بریر کا راستہ بہت خطرناک تھا دریا اور سڑک کے دونوں جانب پہاڑوں کی تنگی نظر کو عجیب سی کوفت کا احساس دیتی تھی۔ چشموں سے جگہ جگہ راستے کا کٹاؤ ہوتا تھا۔
یہ بیزار کن صورت عین راحت میں بدلی جب بریر کا آغاز ہوا۔ یوں لگا جیسے بہشت بریں میں داخل ہو گئے ہوں۔
ہر سو سبزہ تھا۔ پکے ہوئے سیاہی مائل عنابی کالے سفید اور سرخی مائل انگوروں کے لٹکتے گچھے مکئی کے سر سبز کھیت پھلدار درخت اور جنت کی حوروں جیسے چہروں والی لڑکیاں اورعورتیں کہیں کھیتوں میں کہیں بھیڑ بکریوں کے پیچھے بھاگتی نظر آئیں۔
بریر نسار بڑا بھرا پُرا سا گاؤں تھا۔ ریسٹ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر سڑک کے کنارے قبرستان تھا۔ کس قدر عبرتناک نظارہ تھا۔ تابوت کھلے پڑے تھے بکھری ہوئی ہڈیاں چیخ چیخ کر متکبر بندے کو اپنی اوقات کا پتہ بتا رہی تھیں۔
اس وقت دو بج رہے تھے اور بھوک سے برا حال تھا۔ چنانچہ ایک سڑک کے کنارے ٹپری واسے ہوٹل سے روٹی کھائی۔
اب گھروں پر پھیلی بیلوں پر منوں کے حساب سے لٹکتے انگور کے خوشوں کو دیکھ کر آنکھوں میں تحیر شوق اور انہیں توڑ کر کھانے کی ترغیب جاگی۔ پر جونہی ایک بھری پُری بیل کو ہاتھ لگایا وہ ہا ہا کار مچی کہ یوں محسوس ہوا جیسے غلطی سے ہاتھ کسی بھڑوں کے چھتے میں پڑ گیا ہے۔
میرے ارد گرد لوگ کھڑے تھے جو میرے ہاتھوں کو دیکھتے تھے کہ ان میں کوئی انگور کا خوشہ تو نہیں۔
کوثر اور زہرہ ممتاز دور کھڑی پریشانی سے دیکھتی تھیں کہ ہوا کیا ہے۔
۴۱ اگست سے 20 ستمبر تک پھلوں پر DANEکا قانون لاگو ہے پھل کو کوئی توڑ نہیں سکتا ہے۔ اگر کوئی قانون شکنی کرتا ہے اسے جرمانہ ہو گا۔ ایک جوشیلے لڑکے نے باآواز بلند گویا اس قانون کی منادی کی۔
کوثر قریب آچکی تھی اور یہ سب سن کر اونچی اور غصیلی آواز میں بولی تھی۔
”کچھ خدا کا خوف کرو۔ تمہارا پوڑ دیکھنے کے لیے ہم اتنی دور سے پینڈے مارتے آئے ہیں۔ ذرا ہماری آنکھوں میں تو جھانکو جو تمہاری اس زمین پر پھلوں پھولوں اور فطرت کے حُسن کو دیکھ کر قدرت کی تم پر فیاضیوں پر رشک وحسد کے جذبات اُگل رہی ہیں۔ ہم مہمان ہیں تمہارے۔ کیا تمہیں مہمانداری کا ذرا بھی احساس نہیں۔ تمہارے کنویں سے کوئی پیاسا پانی نہ پئیے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔“
کوثر کی جذباتی باتوں کا اُن پر خفیف سا اثر بھی دیکھنے کو نہ ملا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ وہ ہمیں اخروٹ کے درخت تلے لے آئے اور اُس نوجوان لڑکے جس نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور جس کا نام شاہ حسین تھا ہمیں بتانا شروع کیا۔
دراصل پندرہ اگست کی صبح سب کالاشی مرد اپنی چراگاہوں اوروادی سے دُورمویشی خانوں سے پنیر کیلاڑ اور دودھ لے کر آتے ہیں۔ خواتین خانہ کی پکائی ہوئی روٹیوں کے ساتھ عصر کے وقت مالوش(قربانی کا دیوتا) پر جا کر وہاں اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا کھانے کے بعد مالوش کے سامنے باادب کھڑے ہو کر اپنی سلامتی اولاد کی درازی عمر پھلوں کی آرضی وسماوی آفات سے بچاؤ اور قربانی کی قبولیت کی دعا مانگتے ہوئے پھلوں کی ایک ماہ کے لیے حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ ڈین ہمارا مذہبی وعدہ ہے جسے توڑنا ہمارے لیے ناممکن ہے۔ چلیے آپ کو ہم اپنے مرکزی گاؤں گورولیکر چلتے ہیں ہمارے مذہبی رہنما شیر بیگ سے آپکو بہت سی باتوں کا پتہ چلے گا۔ شاہ حسین نے پیشکش کی۔ یہ امر بھی باعث صد اطمینان تھا کہ زہرہ ممتاز اس سیر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
”ضرور۔ دیکھیں تو سہی وہ کیا سُناتے ہیں۔“
سچی بات ہے ہماری آنکھیں تھک گئی تھیں پر رسیلے انگوروں سے لدی بیلوں کا سلسلہ لامتناہی تھا۔ اخروٹ کے بلند وبالا درختوں اور حُسن وجوانی سے بھرپور لڑکیوں کے نظاروں نے وادی کی تنگی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
گورو مرکزی وادی ہے۔ شاہ حسین نے ایک جگہ گاڑی رکوائی اُترا۔ اوپر گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک ہنستے مسکراتے آدمی کے ساتھ ظاہر ہوا جس نے ہمیں بریر میں خوش آمدید کہتے ہوئے اندر چلنے کی دعوت دی۔ گھر تو ایک ہی جیسے نمونے کے تھے۔ شیر بیگ بڑی میٹھی طبیعت کا بندہ تھا۔ محبت پور پور سے ٹپک رہی تھی۔
ہماراپوڑ دیکھنے کے لیے آنا اسکے لیے باعث مسرت تھا پر غلطی سے قبل از وقت آمد پر متاسف بھی تھا۔ ”آپ کے اس ڈین نے توہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے ہیں۔“ کوثر بے صبروں کی طرح بولی۔
ڈین کا مقصد دراصل کالاش قوم کو ضبط نفس کی تعلیم دینا ہے۔ بالعموم اسکا دورانیہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہے یعنی14 اگست سے 29 ستمبر تک۔ بزکشی کی ادائیگی گویا اس قانون کے خاتمے کا اعلان ہے۔اس رسم کے بعد ایک دن کے وقفے سے پوڑ کا میلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اب ہم سب کے چہروں پر بزکشی سے متعلق سوال رقم تھا۔ جسے انہوں نے پڑھا پر انکے بولنے سے پہلے چائے آ گئی تھی۔ چائے کے ساتھ جو لوازمات آئے تھے اُن میں بھُنے ہوئے مکئی کے سفید بھُٹے مغز اخروٹ خشک خوبانی اور بسکٹ۔
میں نے مکئی کا آدھا بھٹہ اُٹھایا اُسے چھوٹی سی چکی ماری تو صاحب خانہ نے ساتھ ہی مغز اخروٹ والی پلیٹ آگے کرتے ہوئے کہا۔
”بھُٹہ اس کے سا تھ کھایا جاتا ہے۔“
”بہت خوب۔“ اس نئے آمیزے کو شوق سے کھاتے ہوئے میرے منہ سے نکلا۔
”وادی کی مکئی ابھی کچی ہے کل میں چترال سے یہ لایا تھا۔ اخروٹ بھی پارسال کا ہے۔نیا تو ابھی درختوں پر ہے۔“
چائے کا گھونٹ بھرنے کے بعد کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے انہوں نے بات جاری رکھی۔ بزکشی کی رسم کے لیے عصر کا وقت بکری کے دو بچے وادی کے سر کردہ معزز لوگ ایک نابالغ بچہ جس نے نہانے کے بعد نئے کپڑے سر میں تیل اور آنکھوں میں سُرمہ لگایا ہو ضروری ہیں۔ یہ لوگ ہمارے سب سے طاقتور دیوتا مہاندیو جو وادی سے بہت دور چنار کے درخت کے نیچے ایک چھوٹی سی دیوار پر موجود ہوتا ہے کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔
بکری کے پہلے بچے کو نابالغ بچہ بغیر کسی مدد کے خود زبح کرتا ہے۔ کلہاڑی سے کھال اُتارے بغیر اُسکے ٹکڑے کرتا ہے۔ مہاندیو پر اُسکے خون کے چھینٹے پھینکتا ہے اپنے سر پر بھی ملتا ہے۔ دوسرے بچے کے ساتھ وہی عمل پھر دہراتا ہے۔ اُسے بھی ٹکڑوں میں کاٹتا ہے۔
معززین میں سے ایک آدمی اسکی طرف خشک لکڑی کی ٹہنیاں پھینکتا ہے جنہیں جلا کر بچہ اُس پر گوشت بھون کر خود کھاتا ہے۔
اپنے لیے معززین کا علیحدہ گوشت بھوننا اُسے کھانا اور پھر انگوروں سے منہ میٹھا کرنا ضروری ہے۔ دو دن بعد وادی میں میوہ اُتارو کی رسم شروع ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا آپ پندرہ دن ٹھہر جائیں۔ انہوں نے ہماری طرف دیکھا۔ یقین جانئیے۔ پوڑ والے دن اس تنگ سی وادی میں حسن ورنگوں کی پچکاریاں یوں چھٹتی ہیں کہ وادی اور اس پر تنا آسمان سبھی لال گلال نظر آتے ہیں۔
باہر کی وادیوں کے لوگوں سیاحوں گاڑیوں کی بھرمار اس زمین کے چپے چپے پر زندگی کو قہقہے لگاتے شور مچاتے اور ناچتے گاتے دیکھتی ہے۔ بڑی بڑی چوبی ٹوکریوں میں میٹھا رسیلا تازہ جنت کا پھل ٹنوں کے حساب سے اُترتا ہے اور منوں کی مقدار میں مفت بانٹا جاتا ہے۔
”پھل کی اتنی بہتات تو یقیناً وادی کے لیے کاروباری نگاہ سے بہت منافع بخش ہو گی۔“
زہرہ ممتاز کا یہ سوال کچھ ایسا بھی نہ تھا کہ شیر بیگ اس پر اپنی ہنسی ہی نہ روک پاتے۔ وہ ہنسے چلے جا رہے تھے۔ شاہ حسین مسکرائے چلا جا رہا تھا اور ہم تھے کہ ہونقوں کی طرح انکی صورتیں دیکھے چلے جاتے تھے۔
ایک دانہ نہیں بیچتے۔ ان رسیلے میٹھے انگوروں سے شراب بنتی ہے۔ نہایت بڑھیا ذائقہ دار ارغوانی رنگت والی شراب جو گندم کے گیلے آٹے میں مغز اخروٹ اور نمک گھی کی آمیزش سے بننے والی روٹی کے ساتھ ہمیں دسمبر جنوری کے تاحد نظر پھیلے برف کے صحراؤں میں برچھی کی طرح کاٹنے والی یخ بستہ ہواؤں میں زندہ رکھتی ہے۔ہمارا دسمبر کا چاؤ موس کا تہوار بھی اسکے بغیر ادھورا ہے۔
آپ کی چترال میں آنے والی حکمران اور ایلیٹ اس شراب کے لیے مری جاتی ہے۔معلومات فراہم کی جا رہی تھیں دو لوئر مڈل کلاس عورتیں شراب کے اس درجہ پسندیدہ ذکر پر چیں بچیں تھیں۔ اُن کی پیشانیوں کی لکیریں اور آنکھوں سے باہر جھانکتی زبان اس ذکر کو یہیں ختم کرنے کے لیے کہتی تھی۔ پر تیسری مڈل کلاسی کو یہ سب منظور نہیں تھا۔
میں پتھروں کی ہوزری دیکھتی تھی۔ زون (شراب بنانے والا آلہ) کے بارے میں سُنتی تھی۔ انگوروں کے پاؤں سے کُچلے جانے کے عمل کی تفصیل جان رہی تھی۔ وادی کا ہر گھر اس معاملے میں خود کفیل ہے۔ نیز تہواروں پر چترال کے مسلمان بھی بلا تکلف شراب پینے یہاں آتے ہیں۔
”بس کرو اب۔“ کوثر پنجابی میں چلائی۔ مسز ممتاز چلنے کے لیے کہتی ہیں۔
وہیں شراب کی ہوزری کے پاس میں نے بودلک کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔”زمانہ گزرا اس رسم کو ختم ہوئے۔ اب کوئی بودلک بھی زندہ نہیں جسے آپ کو دکھایا جائے۔“ شیر بیگ نے رسان سے کہا۔
”مجھے یقین نہیں۔“ قطعیت سے پُر میرا جواب تھا۔
”معاشرے کے تہذیبی ارتقاء میں رسموں کا ختم ہو جانا اور نئی کا رواج پانا کچھ ایسا بھی غیر معمولی نہیں جس پر آپ کو اعتبار نہ آئے۔“
شیر بیگ کی دانائی سے پُر اس بات نے مجھے قائل تو ضرورکیا پر میری آنکھوں میں تذبذب تھا۔ سوال تھے۔ اور کچھ جاننے کی شدید خواہش۔ میں نے کوثر لوگوں سے وادی کودیکھنے کے لیے کہا۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ اب وہ اس نئے افسانے کو سُنے جس کی حقیقت جاننے کے لیے مجھے اُچھل پیڑے لگے ہوئے تھے۔
اب یہ مشکل کام تو آپ کو ہی کرنا ہے۔ میں نے کمرے میں آنے اور بیٹھنے کے بعد کہا۔ وادی کی عورتوں کے ساتھ تو زبان یارمن ترکی ومن ترکی نمی وانم والا معاملہ ہے۔
تب وہ بولے۔
جب انسانی وجود کے آر پار کو کسی برچھی کی انی کی طرح چیرتی نورستان کے پہاڑوں سے آنے والی زمستانی ہوائیں دم توڑنے لگتیں تب بودلک کے چناؤ کے لیے سیمسن جیسے جری جوان کا انتخاب ہوتا تھا۔ اُسکے انگ انگ کی صحت مندی کی سند وادی کے وید حکیم کے جاری ہونے کے بعد پہاڑ کی چوٹی پر ایک الگ تھلگ گھر میں چھ ماہ تک بہترین کھانوں اور پھلوں کے ساتھ پرورش اور صنف مخالف سے میل ملاپ نہ کرنے کی نگرانی کرناوادی کے لوگوں کا ایک مقدس مشن تھا۔
پھر ایسے ہی دنوں میں جب پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی برفیں آبشاروں کی صورت وادی کو نہال کرتی تھیں جب پھولوں کے خوش رنگ چہرے اسکا حُسن بڑھاتے تھے جب انگوروں کی بیلیں رسیلے خوشوں سے لدی پھندی آنے والے دنوں میں سرور کے نئے رنگوں کا پیغام دیتی تھیں۔
وہ کسی آسمانی دیوتا کے سمان وادی میں اُترتا تھا۔ اُس بادل کی طرح جس کے ایک ایک آبی قطرے میں دھرتی کو گل رنگ کر دینے کا جادو ہوتا ہے۔ تب سولہ سنگھار کئیے حسینائیں آنکھوں میں محبت وعقیدت کے جام بھرے مردوزن پیروجوان بچے بوڑھے اسکے قدموں تلے پھول بچھاتے اُسے چارسو(ڈانس ہال) لے آتے۔ جہاں جلتی مشعلیں رات کو دن بنا رہی ہوتیں۔
ڈھول کی ڈھما ڈھم پر رقص اور مے نوشی کہ ساری کائنات تو بس سمٹ کر جیسے ان لمہوں میں مقید ہو جاتی۔ بارہ کاگجر۔ حسیناؤں کے چار سو سے جانے کی گھڑی کا اعلان ہوتا۔ جیسے کوئی کانچ کا کھلونا تھامے۔ یوں ڈبلول (مذہبی رہنما) بودلک کو پکڑے لڑکیوں کے پاس جاتا۔
تب گل چینی کا عمل شروع ہوتا۔ لڑکیاں پھول ہی تو ہوتی ہیں۔ تاروں کی طرح چمکتی پہلی لڑکی۔ پہلا تارہ ٹوٹتا ڈبلول چار سو میں طبل بجاتا۔ لوگ سرمستی اور سرشاری میں رقص کو تیز کر دیتے۔ تارے ٹوٹتے جاتے اور یوں صُبح ہو جاتی۔ تیس لڑکیوں کی گل چینی اُس شب بودلک کے لیے بے حد ضروری ہوتی تھی۔
”اس رسم یا عقیدے کی کوئی توجیح یا فلاسفی تو یقیناً آپ لوگوں کے ذہنوں میں ہو گی ہی۔“ میں نے پوچھا تھا۔
”بس یہ سمجھ لیجیے کہ ہمارا یقین ہے کہ بود لک کے وجودسے انسانی وحیوانی نباتاتی وجماداتی زندگی کے سوتے اُبل پڑتے ہیں۔ وہ وادی کو خوشحالی کی پھوار میں بھگو دیتا ہے۔“
”جب ایسا اندھا یقین ہے تو پھر یہ ختم کیسے ہو گئی۔“
”کئی بدلتی قدریں۔ وقت اور نئی نسل جسے یہ سب خرافات نظر آتی ہیں۔“
پھر میں اُنکے گھر کی بلندی سے نیچے آئی۔انگور نہ کھا سکنے کا میرا دُکھ۔ کنوئیں کے پاس آکر پیاسے آدمی کا میٹھا پانی نہ پی سکنے کا افسوس میری بار بار کی چچ چچ نے شیر بیگ کا دل
یقیناً پسیچ کر رکھ دیا ہو گا۔ تبھی وہ ہنستے ہوئے میری طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
”ایک نکتہ بتا دیتا ہوں۔ اُس سے فائدہ اُٹھا سکتی ہیں تو اُٹھا لیجیے۔
بیلوں سے گچھا توڑے بغیر دانہ دانہ کر کے کھا لیں۔آپکے ہاتھ میں ثبوت نہیں ہونا چاہیے۔“
خدا حافظ کہہ کر وادی میں بقیہ لوگوں کو ڈھونڈنے لگی۔ سی این ڈبلیو ریسٹ ہاؤس کے پاس ہی ٹکراؤ ہو گیا۔ خوشی سے چہکتے ہوئے انہیں راز کی بات بتائی۔
ڈرائیور یہاں سے واپسی چاہتا تھا پر زہرہ ممتاز کا وادی کے حُسن ورعنائی پر واری صدقے ہونا اور اگلی وادیوں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرنا میرے لیے بہت طمانیت کا باعث تھا۔
گرو خاصی بڑی وادی ہے۔ یہاں ڈسپنسری مڈل سکول دوکانیں اور ہوٹل ہیں۔
جب آگے چلے اور وادی کی مختصر سی بھیڑ بھاڑ سے نکلے۔ تو پھر انگور تھے ہم تھے۔ چشمے کے ٹھنڈے ٹھار پانیوں سے گچھے دھوئے اور کھائے۔ ڈین کی تو دھجیاں اُڑائیں۔
اگلی وادیاں بشاڑ اور بہاڑ تھیں۔ بشاڑ میں ہم نے ہوٹل کے سامنے دھری چارپائیوں پر بیٹھ کر چائے پی اور بہاڑ سے نورستان کے سرسبز وشاداب جنگل دیکھے۔
گلیشئروں سے لدے پھندے پہاڑوں نے مسحور کیا۔ افغانستان کے علاقے نورستان کے متعلق جانا۔ نورستانی چراگاہوں میں کالاشیوں کے ڈھور ڈنگروں کا رہنا چرنا اور کالاشیوں کا دودھ گھی جوڑ جوڑ کر نیچے لانا سب سُنا۔
اور جب واپسی ہوئی مسز زہرہ ممتاز نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
”میں شکر گزار ہوں آپ کی۔ بخدا میں نے فردوس بریں کی سیر کی۔“

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *