تیری محبت سے ہم باز آئے

قبلہ مشتاق احمد یوسفی”زرگزشت” میں لکھتے ہیں
’’سلسلہ تجلیات کو جاری رکھتے ہوئے (نحاس پاشا کنجو نے) ارشاد کیا انتالیسویں شب کوکہ شب نیم ماہ تھی، تہجد کے اول وقت کھجور کھا کر گٹھلی تھوکی تو وہیں پیپل کا درخت اگ آیا۔ اب جو حوض میں چلتےہوئے فوارے کےاوپر کھڑے ہو کر غسل کرنےلگا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ہر بوند کا ایک لال طوطا بن گیا ہے اور پیپل کے ایک ایک پتے پر بیٹھ کر حمد باری تعالیٰ کر رہا ہے۔
’لال طوطا‘؟ ہم سے رہا نہ گیا
خان سیف الملوک نے ہمیں ٹہوکا دیا۔ کہنے لگے ،چپ کر بد بختا! یہاں اور کون سی بات سائنس کے مطابق ہو رہی ہے جو تجھے طوطے کے رنگ پہ اچنبھا ہو رہا ہے۔

پانامہ کی الف لیلوی داستان سے وہ عجوبے بر آمد ہو رہے ہیں کہ خدا کی پناہ لیکن ہمارے دانشوران ِ نکتہ داں یہاں بھی لال طوطے پکڑ کے بیٹھے ہیں۔کل کے جنگ اخبار نے احمد نورانی کے ذاتی تجزیہ کو صفحہ اول پر پانچ کالمی سرخی لگا کر شائع کیا ہے کہ”نوازشریف کی کوئی آفشور کمپنی نہیں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا”۔لب لباب اس تجزیہ کا محض یہ تکنیکی نکتہ ہے کہ جبل علی فری زون دوبئی میں محبی شریف خاندان کی جو کمپنی برآمد ہوئی ہے اسے پانامہ وغیرہ کی طرح”آفشور” نہیں کہا جا سکتا۔
وہ لطیفہ یاد آ گیا کہ ڈاکٹر ایک مریض کو خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سگریٹ پینا چھوڑ دو سگریٹ نوشی سے آدمی آہستہ آہستہ مر جاتا ہے۔ احمد نورانی کی طرح مریض بھی موت کی جگہ”آہستہ آہستہ”پہ فوکس کرتے ہوئے جواب دیتا ہے،
کوئی بات نہیں ڈاکٹر صاحب! سانوں کیہڑی جلدی اے۔۔۔۔

اسی خبر میں آگے حسین نواز کو کوٹ کرتے ہوئے یہ بھی چیلنج کیا گیا کہ”نواز شریف کے اکاؤنٹ میں کبھی اس کمپنی سے کوئی تنخواہ گئی ہو تو وہ والد محترم سے خود استعفا مانگیں گے اور یہ کہ کمپنی کا عہدہ تو بس میاں صاحب کے متحدہ عرب امارات کے دوروں اور ویزا سہولیات کے حصول کےلئے تھا”۔گویا ایک بار پھر (اور اس بار بغیر الحمدللہ کہے) قبول کیا گیا کہ دبئی میں کمپنی ضرور ہے، نواز شریف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہوئے دبئی کی اس کمپنی کے ملازم اور اقامہ ہولڈر بھی رہے ہیں۔ کمپنی کا مالک بیٹا حسین نواز ہے اور ملازم باپ نواز شریف ہے۔ یہ وہی بیٹا ہے جو بلین سے زیادہ رقم اپنے ملازم باپ کو تحفتاً بھیجتا ہے کیونکہ تحفے پہ ٹیکس واجب الادا نہیں۔ باپ اسے مزید آگے تحفتاً بانٹتا ہے (لیکن درویش ایسا کہ کبھی دس ہزار درہم مقررہ تنخواہ کا مطالبہ نہیں کرتا)۔

دوسرا درویش کیپٹن صفدر 1500 ماہانہ جیب خرچ سسرال سے پلس قومی اسمبلی کی معمولی تنخواہ سے زیر کفالت بیوی، بیرون ملک زیر تعلیم بچوں کے اخراجات کے علاوہ اتنی بچت بھی کرتا ہے کہ راجن پور اور مانسہرہ میں درجنوں مربعہ زمین بھی خرید لیتا ہے۔ایک اور صوفی منش سعید احمد نیشنل بنک کا موجودہ صدر انگلینڈ کی دوہری شہریت کا حامل، سعودیہ عرب سے غبن میں سزا یافتہ ایک ایسا شخص ہے جو ڈائریکٹ حوالدار یعنی ڈپٹی نیشنل بنک بننے سے پہلے لندن کے ایک نرسنگ ہوم کا معمولی ملازم تھا۔ تعیناتی کا میرٹ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دوست، ہم مکتب اور (مبینہ طور) منی لانڈرنگ کا سہولت کار ہونا ہے۔ یہ مبینہ بھی حقیقت سے قریب تر اس لئے نظر آتا ہے کہ موصوف خود ان سب حقائق کی جے آئی ٹی کے سامنے تائید کرتے ہیں۔ مزید برآں جے آئی ٹی جب ان کے چار فارن اکاونٹس کی بابت دریافت کرتی ہے تو جواب ملتا ہے انہیں نہیں معلوم وہ کس نے کھلوائے کیونکہ ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ گم ہو گیا تھا۔ اس سے مزید ایک قدم آگے لاہور کے ایک اکاؤنٹ بارے موصوف جواب دیتے ہیں کہ وہ تو انہوں نے اسحاق ڈار کے لئے کھولا اور چیک بک وغیرہ سائن کر کے روز اول ہی ان کے حوالے کر کے تھا،خود بیاد اللہ گوشہ نشین ہو گئے۔

مریم نواز، حسن/حسین نواز، طارق شفیع ودیگران کے بیانات آپ پڑھ چکے ہیں ۔ سب ہی شارٹ ٹرم میموری لاس یعنی گجنی کیس ہیں۔ کسی کو ٹھیک سے کچھ یاد نہیں۔ روز حشر کا سا عالم ہے کوئی کسی کو پہچان نہیں پا رہا۔اور ایسے میں اچھے بھلے معقول دانشوران اور تجزیہ نگار بھی سازشی تھیوری چورن اور گرائمر کی غلطیاں نکالتے ہوئے رائے عامہ کو صبر کرنے بلکہ ان جمہوری ڈاکوؤں کی خاطر اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔جاوید چودھری نے ایک بار غالباً ملک ریاض کے حوالے سے لکھا تھا کہ ان کی رائے میں” پاکستان میں کرپشن فوجی اور سول دونوں حکمران کرتے ہیں لیکن کیونکہ فوج بطور ایک ادارہ منظم اور ڈسپلنڈ ہے اور انہیں روز اول سے ہی چھریوں کانٹوں سے کھانا سکھایا جاتا ہے اس لیے وہ کرپشن بھی تمیز، تہذیب اور وقار سے اور حسب ضرورت کرتے ہیں جبکہ سیاسی حکمران دونوں ہاتھوں سے دیگ خالی کرنے کے درپے ہوتے ہیں”۔۔۔۔۔یہ دنیا ہم پہ ہنس رہی ہے ٹھٹھے لگا رہی ہے، پوری دنیا میں ہمارے شہریوں اور پاسپورٹ کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی جمہوریت ہے تو ہمارے ہاتھ کھڑے ہیں بھائیو۔ ہمیں کوئی شائستہ سا آمر ہی سوٹ کرتا ہے پھر، جمہوریت بی بی !تیری محبت سے ہم باز آئے!

کاشف حسین
کاشف حسین
مجموعہ خیال ابهی فرد فرد ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *