• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نئی حکومت ،امیدیں اور خدشات۔۔۔۔طاہر یاسین طاہر

نئی حکومت ،امیدیں اور خدشات۔۔۔۔طاہر یاسین طاہر

زمینی حقائق ہمیشہ بڑے تلخ ہوتے ہیں، لیکن امیدیں انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔بارہا لکھا کہ دعووں کے برعکس عمل کرنا مشکل تر ہوتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ وعدوں،دعووں اور الزام تراشیوں کی تاریخ ہے۔ملک کی غالب آبادی نوجوانوں کی ہے یہ نوجوان اپنے لیے نوکری اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ہیں۔  نوجوانوں کی یہ امید نہ تو پیپلز پارٹی پوری کر سکی نہ نون لیگ، نہ کوئی مذہبی جماعت ہی نوجوان نسل کو مایوسی اور یاسیست سے نکال پائی۔نوجوانوں نےجذبات اور توقعات کے امتزاج کو یکجا کیا اور پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالا۔یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں نوجوان نسل منشیات کی طرف راغب ہونے لگی ہے۔ اسلام آباد کے کئی نامور تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کے دھندے کی رپورٹس بارہا میڈیا پہ شائع اور نشر ہو چکی ہیں۔ملک مختلف مافیاز کے نرغے میں ہے۔ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے پوری قوم کو کرپشن کے خلاف ہم آواز کیا اور ووٹرز کو بتایا کہ چار دھائیوں سے اس ملک پر حکمران دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے ملک کو قرضوں،کرپشن اور اقربا پروری کی نذر کر دیا ہے۔ کس نے کتنی کرپشن کی، اس کا حساب ضرور ہونا چاہیے ۔ہر پاکستانی یہ چاہتا ہے مگر اب جبکہ عمران خان وزیر اعظم بن چکے ہیں تو انھیں یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ اس کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ کیا آئین میں ترمیم کرنا پرے گی تا کہ قانونی سقم دور کیا جا سکے؟ اور اگر عمران خان کرپشن کے خلاف قانون سازی کرنے کی طرف قدم بڑھاتے ہیں تو کیا  پیپلز پارٹی اس ایوان میں پی ٹی آئی کا ساتھ دے گی؟کیا نون لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اس پہ اپنا جارحانہ ردعمل نہیں دیں گی؟ وزیر اعظم نے اپنے افتتاحی خطاب میں روایتی جارحیت سے کہا کہ کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا اور سب کا کڑا احتساب ہو گا۔کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک ایسے احتسابی عمل کا آغاز کیا جائے جس پر انگشت نمائی نہ ہو سکے؟ اور اس احتسابی عمل سے انتقام کی بو نہ آئے بلکہ اس کی شفافیت اور میرٹ کی سب داد دیں؟کیا سو دن کا خوش فکر پروگرام اپنی جامعیت کی  بنیادیں مضبوط کر پائے گا؟

ہمیں اچھائی اور بہتری کی امید کرنی چاہیے۔نوجوانوں کو روزگار کی جو توقعات ہیں اگر پہلے سو دنوں میں ان توقعات کی سمت کا تعین کر دیا گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ اپوزیشن کو  ہر بے روزگار مگر پڑھا لکھا نوجوان خود ہی سنبھال لے گا اور حکومت یکسوئی سے اپنا کام کرتی رہے گی۔مگر یہ بھی یاد رہے کہ پہلے سو دن تو کیا پہلے چار چھ ماہ بلکہ سال دو سال میں بھی کوئی معجزاتی تبدیلی ممکن نہیں۔ایک گھر کے بگڑے ہوئے معاملات کو سلجھانے میں ڈیڑھ دو سال لگ جاتے ہیں۔وہ ملک جسے داخلی و خارجی اور معاشی و سماجی سطح پر بہت سے چیلنجز درپیش ہوں اسے تو ٹھیک ہونے میں ایک عشرہ درکار ہوتا ہے۔عمران خان اور ان کی ٹیم سے جو توقعات ہیں وہ  یہی کہ نون لیگ کی سخت اپوزیشن کے باجود وہ کم از کم معاشی و سماجی ترقی کا ایسا روڈ میپ دیں گے جس سے ملک میں بہتری آئے گی۔اگر عمران خان نے اپنی صلاحیتیں اپوزیشن کے ہر احتجاج کا جواب دینے میں ہی لگا دیں تو یہ اس ملک کی ایک بڑی بد نصیبی ہو گی۔وزیر اعظم کو اپنے ان اہداف کی طرف بڑھنا ہو گا جن کا وعدہ کر کے وہ آج اس ملک کے وزیر اعظم بن چکے ہیں۔داخلی سطح پر ملک کو اگر کئی مسائل کا سامنا ہے تو خارجی محاذ پر بھی حالات بہت تکلیف دہ ہیں۔

نوجوان نسل بہر حال عمران خان سے معجزاتی تبدیلیوں کی توقعات کیے ہوئے ہے۔مکرر عرض ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہوتا۔سماج کا نیا رخ متعین کرنے میں وقت درکار ہے۔ یکسوئی اور محنت۔الزام تراشیوں کی سیاست نہ صرف ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی عدم برداشت کی طرف لےگئی ہے۔۔ ہر بندہ دبائو اور ڈپریشن کے زیر اثر ہے۔ ایسے میں روایتی سیاسی حربوں کے بجائے پی ٹی آئی جب وعدوں کی تکمیل کی طرف بڑھتی نظر آئے گی تو سماج میں بھی ایک خوش کن اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔بے شمار توقعات ہیں، نئی حکومت سے یہ توقعات بے جا بھی نہیں۔تھانہ کلچر، پٹوار کلچر، رشوت ستانی ،میرٹ کا قتل،تعلیم و صحت کے معاملات میں بہتری ،ملک و سماج کی اولین ضرورت ہے۔اشتہاراتمیںہونے والی ترقی اور عملی ترقی میں فرق روا رکھا جائے تو بہتری ممکن ہے۔مثلاً ٹی ایچ کیو،ہسپتال کلر سیداں پنجاب کا ایسا ٹی ایچ کیو ہے جو مسلسل تین سال سے پورے صوبے میں اپنی مینجمنٹ  کے حوالے سے پہلے نمبر پر آ رہا ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یکم اگست سے اس ہسپتال کی ایمرجنسی اور رہائشی کالونی میں واٹر سپلائی کا پانی نہیں آرہا۔ مگر ہسپتال پھر بھی پہلے نمبر ہے؟ اور بھی کئی مسائل جو کبھی کسی دوسرے کالم میں  لکھوں گا۔

یہ وہ تکنیکی دو نمبریاں ہیں جو وزیر اعظم کی ٹیم نے پکڑنی ہیں،اور اس کام میں میڈیا نے بھی ملکی مفاد میں حکومت کے ہم رکاب ہونا ہے۔اس حکومت کو ایک ہی خدشہ ہے اوروہ ہے  مفاداتی ٹولے کا پیٹھ پیچھے سے وار۔ اگر عمران خان مفاداتی ٹولے کی چالاکیوں، چالبازیوں اور”روایتی سیاسی مصلحت پسندی” سے نکلنے میں کامیاب رہے تو  ہمیں توقع رکھنی چاہیے کہ نوجوانوں کو نوکریاں بھی ملیں گی۔ ملک میں یکساں نصاب تعلیم بھی ہو گا، تھانہ کلچر میں بہتری بھی آئے گی، پولیس گردی سے نجات بھی ملے گی اور پاکستانی سماج خوشحالی و ترقی بھی دیکھے گا۔ ایسی ترقی جس سے لاکھوں خاندان آشنا ہوں گے۔اگر ایسا نہ ہو پایا اور نئی حکومت پہلے سو دنوں میں وعدوں کی تکمیل کا کوئی اشاریہ نہ دے پائی تو پھر اپوزیشن میڈیا کے ساتھ مل کر حکومت کے لیے نئے نئے مسائل تراشنا شروع کر دے گی۔عمران خان کا وزیر اعظم بننا ہی اصل میں اس ملک سے روایتی سیاسی نظام کے خاتمے کی طرف پیش قدمی ہے۔ایک مکمل جمہوری نظام اور قابل قیادت کے لیے ابھی  مزید محنت اور ریاضت درکار ہے۔نوجوانوں کی امیدیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اگر ان کی امیدیں اس بار بھی ثمر بار نہ ہوئیں تو سماج میںمایوسی و یاسیت کے سائے بہت گہرے ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم کے پاس ڈیلیور کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں۔اسی کی طرف توجہ رہے

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *