الیس الصبح بقریب۔۔۔۔ محمد اظہار الحق

چوں چراغ لالہ سوزم درخیابان شما اے جوانان عجم! جانِ من و جانِ شما اے جوانان عجم! اپنی اور تمہاری جان کی قسم! میں تمہارے باغ میں گل لالہ کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں۔ مہرومہ دیدم‘ نگاہم برتراز پروین گزشت رخیتم طرحِ حرم درکافرستانِ شما سورج اور چاند کو دیکھا۔ پھر میری نظر ستاروں کے جھرمٹ سے آگے گئی۔ یوں میں نے تمہارے کفرستان میں حرم کی بنیاد رکھی۔ فکر رنگینم کند نذر تہی دستان شرق پارۂ لعلی کہ دارم از بدخشانِ شما تمہارے بدخشان سے جو لعل کا ٹکڑا میرے پاس ہے اسے میری رنگین سوچ مشرق کے مفلسوں کی نذر کر رہی ہے۔ می رسد مردے کہ زنجیر غلاماں بشکند دیدام از روزن دیوار زندان شما وہ شخص آ رہا ہے جو غلاموں کی زنجیریں توڑے گا ۔میں نے تمہارے زنداں کی دیوار میں بنے ہوئے سوراخ سے دیکھ لیا ہے۔ حلقہ گرد من زیند اے پیکران آب و گل آتشے درسینہ دارم از نیاگان شما اے مٹی اور پانی سے بنے ہوئے لوگو!میرے اردگرد حلقہ بنا لو! میرے سینے میں جو آگ جل رہی ہے وہ میں نے تمہارے ہی اجداد سے حاصل کی۔ (2) پھر گرد نے لی ہے انگڑائی کوئی آئے گا پھر دل میں جیسے دھمک پڑی کوئی آئے گا کوئی آئے گا بادل کی شکل بتاتی ہے کہتی ہے پرندے کی بولی کوئی آئے گا کوئی رخصت ہو گا گہری شام کی بارش میں پھر صبح سے جھانکے گی تتلی کوئی آئے گا کوئی آئے گا اور سب کچھ بدل کے رکھ دے گا یہ خلقت بھی یہ سورج بھی کوئی آئے گا کوئی آئے گا اور غربت اطلس پہنے گی بیچارگی کرنیں اوڑھے گی کوئی آئے گا جو مٹی پائوں کے نیچے آتی رہتی ہے کبھی ہو گی اس کی داد رسی کوئی آئے گا جو کہیں نہیں وہ آوازیں بھی سنتا ہوں مجھے دور سے ہے یہ خبر آئی کوئی آئے گا مجھے دی ہے سنو!ترمز کی خاک نے خوشخبری مجھے مترو سے کہتی ہے مٹی کوئی آئے گا مجھے خوشبو آئی ہے انجیر کے پکنے کی مجھے روکے گیہوں کی مستی کوئی آئے گا مرے چشمے کا ہے شور عجب‘ کچھ سمجھو تو مرے شیشم کی ہے چھائوں نئی‘ کوئی آئے گا مرے کیکر لد گئے سونے جیسے پھولوں سے مرے سپنوں میں سرسوں پھولی کوئی آئے گا میری چھت سے بیل انگور کی اٹھ اٹھ دیکھتی ہے مرے توت پہ بیٹھی ہے قمری کوئی آئے گا مرے شہد کا چھتہ چھلک رہا ہے پُھلا ہی پر مرا دودھ امانت مہماں کی کوئی آئے گا مرے رخساروں پر پھول کھلائے ان دیکھے مرے ہونٹوں کو دی شیرینی کوئی آئے گا مری نیندیں قرض کی ہیں واپس ہو جائیں گی مرے خواب مسافر کی پونجی کوئی آئے گا مری آنکھیں مُند مُند جاتی ہیں کوئی بات تو ہے مرے خون میں کیوں ہے لرزش سی‘ کوئی آئے گا مرے جگنو‘ گھاس اور شبنم استقبال کریں مری مٹی یوں ہی نہیں بکھری کوئی آئے گا مری خوشیوں کا کیا پوچھتے ہو تم دیکھو گے میری آنکھوں پر اس کی ایڑی کوئی آئے گا ہر سمت سے وقت رواں ہے میری ہی جانب دیکھو تو یہ پیغام بری‘ کوئی آئے گا کہیں دور سے اڑ کر اک غالیچہ آتا ہے یا شہزادہ پا لال پری کوئی آئے گا یہ فرغل آنکھیں کات کے میں نے بنایاہے پھر اس پر ٹانکی اپنی ہنسی!کوئی آئے گا (3) یہی مٹی سونا چاندی ہے جیسی بھی ہے یہی مٹی اپنی مٹی ہے جیسی بھی ہے اسی مٹی میں ہم بیج کی صورت جائیں گے ہمیں اپنے اندر رکھتی ہے جیسی بھی ہے اسی مٹی سے ہم پھوٹیں گے کونپل بن کر یہی مٹی ماں ہمیں جنتی ہے جیسی بھی ہے اسی مٹی نے ہمیں دودھ پلایا‘ بڑے ہوئے ہمیں پائوں پائوں چلاتی ہے جیسی بھی ہے اسی مٹی میں اجداد کی مٹی شامل ہے یہی خون رگوں میں بنتی ہے جیسی بھی ہے اسی مٹی نے ہمیں بادل اور ہوائیں دیں یہی چُھو کے فلک کو آتی ہے جیسی بھی ہے اسی مٹی نے ہمیں شربت شہد شرابیں دیں یہی ہونٹوں کی شیرینی ہے جیسی بھی ہے اسی مٹی سے زیتون کے باغ اگائیں گے یہی غرناطہ یہی سسلی ہے جیسی بھی ہے (4) زمیں کی تہہ میں نادیدہ جہاں روشن ہوئے ہیں کوئی آتا ہے دیکھو آسماں روشن ہوئے ہیں بتائو اب کہ مفلس کون ہے اور کون زردار نئے انداز سے سودوزیاں روشن ہوئے ہیں سمندر میں کسی نے مشعلیں پھینکی ہیں شاید اندھیری کشتیوں کے بادباں روشن ہوئے ہیں یہ آگ اب بجھ نہ پائے گی کسی عالی نسب سے ہماری بے نشانی کے نشاں روشن ہوئے ہیں (5) بہت ترتیب سے سارے جہاں گرنے لگے ہیں کہ ہفت اقلیم پر ہفت آسماں گرنے لگے ہیں خزانے یا زمیں کے راز اوپر آ رہے ہیں ستارے یا فلک سے شمعداں گرنے لگے ہیں فرشتے کس کے سر پر آ کے پر پھیلائیں دیکھو شجر اڑنے لگے ہیں سائباں گرنے لگے ہیں زمیں ظاہر نہ ہو گا تجھ پہ اب کوئی بھی موسم ہمیشہ کے لیے ابر و خزاں گرنے لگے ہیں یہ ساعت نور کی ہو گی کنارہ دیکھ لینا ہم اب گرداب میں آتش بجاں گرنے لگے ہیں یہ کھیل اب منطقی انجام کو پہنچے گا اظہارؔ ذرا اک صبر !عزت کے نشاں گرنے لگے ہیں (6) اب میں بھلا تیری کیا مدد کر سکتا ہوں ٭٭٭٭٭ تجھے یاد ہے جس دن تو گراں ترین پوشاک پہنے محفل خورد و نوش میں شرکت کرنے آیا تھا اور میں نے سلام کیا تھا تو نے کس قدر رعونت سے اپنے سر کو ذرا سی جنبش دی تھی۔ ٭٭٭٭٭ پھر جس دن میں نے اپنے بیٹے کی قمیض سے گاڑی کا شیشہ صاف کرنا چاہا تھا تونے جھڑک دیا تھا اس دن فاقے کا تیسرا دن تھا ٭٭٭٭٭ تونے کبھی اُن دنوں حساب لگایا تھا کہ تیری بیگم ایک سال میں کتنے ملبوسات بنواتی تھی اور تیرے بچوں کے پاس کتنے کھلونے تھے اور تیرے کھانے میں کتنے کورس اور تیرے ناشتے میں کتنے آئٹم ہوتے تھے اور تیرے ڈرائنگ روم میں کتنا کرسٹل تھا اور تیری پینٹری میں کبھی نہ استعمال ہونے والے کتنے ڈنر سیٹ تھے ہم تیرے دیے ہوئے کوارٹر سے دیکھا کرتے تھے میرے کسی بچے نے کبھی پورا انڈا اور پورا سیب نہیں کھایا تھا ٭٭٭٭٭ تجھے یاد ہے جب میں عرضی لے کر تیرے سامنے پیش ہوا تھا تونے شفاف ماتھے پر سلوٹیں ڈال کر بتایا تھا کہ انتظامی وجوہ کی بنا پر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے باہر چلے جانے کے لیے کہا تھا تجھے برج پر جانے کی جلدی تھی۔ ٭٭٭٭٭ گالف کلب میں گیندیں جمع کرنے والے کیڈی نے کموڈ صاف کرنے والے بھنگی نے بچوں کے جوتے پالش کرنے والے نوکر نے گھوڑے کے آگے آگے چلنے والے مصلی کے بیٹے نے فطرانے کی آس رکھنے والے محلے کے موذن نے حرام سے بنے ہوئے محل میں قرآن خوانی کرنے والے یتیم بچوں نے اور بیئر کو برف میں رکھنے والے خانہ زاد ملازم نے تیری دولت سے کتنا حصہ پایا تھا۔ ٭٭٭٭٭ اب میں بھلا تیری کیا مدد کر سکتا ہوں ذق انک انت العزیز الکریم چکھ۔ بہت ہی عزت دار ہے تو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *