کارگل، کشمیر اور پاکستان

1965 اور 1971 کی جنگوں کے بعد کارگل 1999 کی جنگ پاکستان اور انڈیا کی تاریخ میں خصوصی نوعیت کی حامل ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک پاکستان کا ایک ہی موقف رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بهارتی ریاستی دہشت گردی، قتل و غارت، ظلم و ستم اور غیرانسانی و غیر اخلاقی ریاستی قبضے سے آزادی دلا سکے اور پاک بهارت تعلقات میں بدترین کشیدگی کی بهی یہی وجہ ہے کہ بهارت کشمیر سے اپنی فوجیں نہ نکالنے پر ہٹ دهرمی دکھا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے عوام، پاکستانی فوج اور دیگر سیاسی و سماجی جماعتیں کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت دلانے کیلئے اتنے سالوں سے کوششیں کر رہے ہیں۔کارگل کی جنگ کے پیچهے بهی پاکستان کا یہی موقف تها کہ مسئلہءکشمیر جس کیلئے بهارت اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کو مسترد کرکے نہتے کشمیریوں کوبربریت کا نشانہ بناتا چلا جارہا تها اس کےسدباب کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اسی لئے جنرل پرویز مشرف کی زیرنگرانی خالصتاًکشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کارگل کی جنگ کا آغاز کیا گیا۔جی ایچ کیو پلاننگ کے مطابق وادی کی 16000 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع بیابان چوٹیاں، جوکہ سردیوں میں غیر موزوں موسم کی وجہ سے انڈین آرمی کی طرف سے unattended تهیں ان پر قبضہ کرکے سرینگر/لہہ کی انتہائی اہم ہائی وے 1Dکا کنٹرول حاصل کیا جاسکے 1998-99ء میں بھی موسمِ سرما کے آغاز پر بھارت نے یہ چوٹیاں خالی کر دیں ۔ اس پلان کے پسِ پردہ یہ فکر کارفرما تھی کہ جب پاکستانی فوج کارگل کی ان چوٹیوں پر قابض ہو جائے گی تو اس کے بعد بھارت پرکشمیر کے حل کے لیے دبائو ڈالا جا سکے گا ۔ اس ساری پلاننگ کے محرک چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف ،جنرل محمود کمانڈر 10کور اور میجر جنرل جاوید حسن کمانڈر ناردرن ایریاز تھے۔ اس کے علاوہ جنرل محمد عزیز جو اس وقت چیف آف جنرل سٹاف تھے ا ور جنرل توقیر ضیاء جو ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن تھے ، وہ بھی اس منصوبہ سازی میں شریک تھے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے جب ایکشن لیا گیا تو بقول آرمی ہائی کمان کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم مجاہدین نے ان چوٹیوں پر قبضہ کر لیا ۔
پاک آرمی نے اس آپریشن کو “آپریشن بدر‘‘ کانام دیا۔ یہ واقعہ فروری 1999 کا ہے۔ اور پاکستان کی نڈر اور بہادر آرمی کی شاندار achievement یہ تهی کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب بهی ہو گئی تهی اور یہ وہ فتح تهی کہ پاکستان اس کے ذریعے 1947 سے لیکر اب تک کے اپنے تمام مطالبات منواسکتا تها۔پاکستان آرمی تقریباً10 کلومیٹر لائن آف کنٹرول سے اندر جاچکی تهی۔ پاکستان کی اس شاندار کامیابی کی گواہی خود انڈین آرمی کے میجر جرنیل اشوک کمار سہتہ نے انڈین اخبار میں اپنے مضمون”kargil, failure of mind”; میں یوں دی کہ کہ کارگل میں پاکستان آرمی اتنی سرعت اور بے خبری سے داخل ہوئی کہ انڈین آرمی اس طرح کے حملے کیلئے کسی طور بهی تیار نہیں تهی۔
گیارہ سال بعد کارگل جنگ کے فارمیشن کمانڈر لیفٹنینٹ جنرل ریٹائرکشن پال نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کارگل محاذ کے حوالے سے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ” کارگل جنگ حقیقت میں بھارت نے نہیں جیتی اُنہوں نے اِس کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1999میں کارگل جنگ میں587 فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور 1363زخمی ہوئے اور اِس حوالے سے اُنہوں نے اِس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بھارت اسٹرٹیجک لحاظ سے کارگل جنگ بُری طرح سے ہار گیا تھا اور اُنہوں نے اپنے اِسی انٹرویو میں اِس کا بھی انکشاف کیا ہے کہ اِس دوران بھارت سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی ناکام رہا ۔اِن کا کہنا تھا کہ کارگل جنگ کے حوالے سے بھارتی سیاست دان اور حکمران بھی بھارتی فوج کی طرح سے بوکھلاہٹ کا شکار رہے جس کی وجہ سے بھارت کو کارگل جنگ میں ہار کا سامنا کرنا پڑا اور یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے گیارہ برس تک اپنی زبان بند رکھی کیونکہ اِنہیں یقین نہیں تھا کہ بھارت نے حقیقتاً کارگل جنگ جیتی تھی۔
یہ حقیقت ہے کہ کبھی کارگل کا وسیع و عریض علاقہ جس کی اکثر چوٹیاں 16سے18ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں جہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی30ڈگری سے بھی کم رہتا ہے اور یہ علاقہ آزاد کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے کنڑول میں تھا جِسے 1971 کی جنگ میں بھارت نے پاکستان سے چھین لیا تھا اور اِس کے ساتھ ہی اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب 1971 کی جنگ میں بھارت نے دھوکے اور چالاکی سے پاکستان سے یہ علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا تو پھر بھارت کو ہی شملہ معاہدے کی رو سے پاکستان کو اِس کے کچھ ہزار قیدیوں سمیت 5 ہزار مربع کلومیٹر تک کا علاقہ ڈنکے کی چوٹ پر واپس کرنا پڑا کیونکہ بھارت نے اِسے انتہائی چالاکی اور دھوکے سے حاصل کیا تھا اور یہ بھی (پاکستان اور بھارت میں لکھی گئی بے شمار )تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ تب ہی سے ریاست جموں وکشمیر میں STATUS QUOُ پر ایک ایسا سمجھوتہ عمل میں لایا گیا کہ جس کے مطابق پاک بھارت افواج اُس وقت جہاں تھیں اُسے لائن آف کنٹرول قرار دے دیا گیا اور پھر اِس معاہدے کے تحت کارگل LOC کے اِس پار بھارت کے غاصابہ کنٹرول میں چلا گیا۔
کارگل کی جنگ کے دوران پاکستان نے بهارت کے اہم ترین پوائنٹس کو اپنے قبضے میں لے لیا ، دراس میں پہاڑیوں کے کئی ایسے پوائنٹس تھے جو اس وقت پاکستان کے قبضے میں تھے ، پوائنٹ 4950، 4150، 5353، 5280 اور جنگ صرف ایک پوائنٹ پر جاری تهی باقی پوائنٹس پر قبضے کا تو انڈین آرمی کو علم تک نہ ہوسکا۔ لیکن یکایک ایسا کیا ہوا کہ پاکستان کی حتمی جیت اچانک ہار میں تبدیل ہوگئی۔جب انڈیا دفاعی محاذپر پاکستان کو شکست دینے میں ناکام ہوگیا تو پهر اندرونی طور پر سیاسی جنگ شروع ہوئی اور اس وقت کے بهارتی وزیراعظم کے ایماء پر امریکہ نے اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم نوازشریف (جوکہ آجکل بهی ہم پہ مسلط ہیں)کو فوراًامریکہ بلایا اور رات ہی رات فیصلے ہوئے اور نوازشریف صاحب وطن تو بچا نہیں سکتے تهے اس لئے انهوں نے اپنی اوقات کے مطابق اپنی کرسی بچالی۔
پاکستان آرمی کی شہادتوں اور عوام کے جذبات کا سودا ہوگیا اور کارگل کی جیتی ہوئی بازی ہاتهوں سے نکل گئی۔ قوم جو عظیم الشان کامیابی کی منتظر تهی ناکامی کی خبر سن کر افسردگی سے ہاتھ ملتی رہ گئی۔ اور کارگل کی جیت جو صرف پاکستان کے نام تهی سب کیلئے ایک متنازعہ مسئلہ بن گئی بهارت جو بری طرح ہار چکا تهاپاکستانی فوج کی واپسی کو اپنی جیت بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کو پیش کرتا رہا۔ ہمارے حکمران اور آرمی جرنیل ایک کارگل مشن کے فیصلے پر متفق نہ ہوسکے ،دوسری طرف بهارت نے پاکستان میں بهی دہشت گردی کی وارداتوں میں شدت اختیار کرلی اور 1999 سے لیکر آج تک ہم بے شمار سانحوں اور ایام سوگ سے گزر رہے ہیں لیکن آج تک ہمارے پاس اس دہشت گردی کا کوئی سدباب کیوں نہیں نکلا ؟اس کی خالصتاًایک ہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان صرف اپنی بقا کیلئے میدان میں اترتے ہیں۔ملکی امن اور عوامی سلامتی جیسے مثبت نظریات سے ہمارے سیاسی اور حکمران طبقے کا کوئی واسطہ نہیں۔ہونا تو یہ چاہئے تها کہ کارگل کی جنگ میں جب پاکستان آرمی نے بهارت کی وہ شاہراہ تک حاصل کرلی تهی جس سے سردیوں میں پورے لداخ اور سرینگر کی سپلائی تک بند کی جاسکتی تهی۔حکومت کشمیر کیلئے اپنے موقف پر ڈٹ جاتی اور باقی کا کام آرمی پر چهوڑ دیتی تو یقیناًآج مقبوضہ کشمیر کے حالات یکسر مختلف ہوتے، مگر پوری قوم کو یہ کہہ کر بہلادیا گیا کہ اگر پاکستان پیچهے نہ ہٹا تو بهارت کی طرف سے ایٹمی جنگ کا آغاز ہوسکتا تها ۔کیا بهارت اتنا بیوقوف تها ؟کیا وہ یہ نہیں جانتا تها کہ پاکستان بهی ایٹمی جنگ کیلئے تیار تها مگر خطے میں امن و امان کیلئے پاکستانی قوم کے جذبات مجروح کئے گئے، خطے میں امن و امان تو پهر بهی نہ آیا۔ پاکستان میں آئے دن کی دہشت گردی کی وارداتیں اور کشمیر میں کهیلی جانے والی خون کی ہولی کس زاویے سے امن کی علامت ہے؟
امن تو کہیں بهی نہیں ہوا الٹا پاکستان میں فرقہ واریت اور نسل پرستی جیسے اوچهے جذبات کو مزید ہوا دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان والے سمجهتے ہیں کہ بلوچستان کے ساتھ انتہائی امتیازی رویہ رکها گیا وہاں پر نسل پرستی اور تفرقے کو پهیلایا گیا سندھ والے کہتے ہیں کہ سندھ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی، حالانکہ سندھ صنعتی اعتبار سے انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے جبکہ پنجاب کو تنقید کے نشانے پر رکها جاتا ہے کہ وہاں بہت ترقی ہو رہی ہے ۔ہاں سڑکوں کی حد تک بہت ترقی ہوئی جس کا یہ فائدہ ہوا کہ لوگ اپنے گهر بنانے کی بجائے انہی سڑکوں اور پلوں کے نیچے اپنی فاقہ زدہ راتیں گزاردیتے ہی۔ں سرحد میں کیا نہیں ہوا آئے دن دهماکے ایجنسیوں اور طالبان کے آئے دن کے آپریشنز اور آزاد کشمیر میں اکثر لوگ بولتے ہیں کہ آزاد کشمیر بهی پاکستان کا حصہ نہیں، اگر کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں تو کارگل کی جنگ کیوں لڑی گئی پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول پہ اپنی جانیں ہاتهوں میں لیکر کس کیلئے کهڑی ہے
اگر کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں تو پهر بهارت اور پاکستان کی اصل لڑائی کیا ہے؟؟یہ تمام صوبائی اور نسلی تعصبات پچهلے کچھ عرصے میں تیزی سے پهیلے ہیں کیونکہ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر ایسے پروپیگنڈا کو ہوا دینا بالکل بهی مشکل نہیں ۔ہماری نسلوں کو تباہ کرنے کیلئے میڈیا اور خصوصاًبهارتی میڈیا ہی کافی تها لیکن سوشل میڈیا نے اب تک کیلئے آخری کیل بهی ٹهونک دیا ،لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری حکومت اس بڑهتی ہوئی صوبائی اور نسل پرستی کی روک تهام کیلئے کچھ بهی نہیں کر پاتی یا شاید کرنا ہی نہیں چاہتی۔
پاکستان اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تاکہ مسلمان قوم کی شخصی اور مذہبی آزادی کو حاصل کیا جاسکے ۔ہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ہم آزاد شہری کی حیثیت سے first hand citizen کے خطاب کے ساتھ مکمل آزادی کی فضا میں سانس لیتے ہیں اور اس آزادی اور خودمختاری کی حفاظت کیلئے ہمیں پاکستان کی فوجی قوت اور انٹیلی جنس اداروں کا شکر گزار ہونا چاہئے جو بیرونی طاقتوں سے ملک کو بچانےکیلئے اپنی زندگی، آرام اور جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ورنہ حکمران تو شاید سب کچھ امریکہ کے حوالے کردیں۔

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کارگل، کشمیر اور پاکستان

  1. میرے خیال میں پاکستانی سیاستدان اپنی سیٹ بچانے کے چکر میں اس لیے رہتے ہیں کیونکہ ان کو کبھی 5 سال پورے نہیں کرنے دئیے گئے اور زیادہ تر دانشور اندھا دھند فوج کی اس طرح حمایت کرتے ہیں کہ وہ سیاستدانوں کو آرمی سے, جنرل سے, ایمپائر کی انگلی کے نام پہ اور کرپشن کے الزامات لگا کر ان کو ڈراتے رہتے ہیں اور جمہوری حکومت کو نہ ہی میعاد پوری کرنے دیتے ہیں نہ جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں. ان کا عجیب ایجنڈا ہے. ظاہر ہے پھر سیاستدان بھی اپنی کرسی ہی بچانے میں لگے رہتے ہیں

    1. ا پنے لیے تو جیتے ہیں سب ہی اس جہاں میں
      ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آ نا

Leave a Reply to ڈاکٹر محبوب الرحمان آصف جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *