اخلاقیات کا ڈھنڈورا

ہماری سیاست ہمیشہ سے ہی تضادات کا مجموعہ رہی ہے.ان تضادات میں ایک لفظ”اخلاقیات”کا ڈھنڈورا بار بار پیٹا جانا،ا ور اس شدت سے پیٹا جانا ہے کہ لفظ اخلاقیات ہی مشکوک ہو جاتا ہے.پاکستا نی سیاست کی بنیاد اصولوں اور اخلاقیات پر تعمیر کرنے والے بار بار مغربی جمہوریت میں اخلاقیات اور اصولوں کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے.یہ الگ بات ہے کہ ایسی مثالیں قائم کرنے میں یورپ کی مضبوط جمہوریتوں کو سالوں لگ گئے تب جا کر وہ اس مقام پر پہنچے ہیں کہ نہ صرف اخلاقیات کی اعلی مثال قائم کر سکیں ساتھ میں اپنے مخالین سے اخلاقیات اور اصولی سیاست کی توقع رکھ سکیں.پاکستانی سیاست کا باوا آدم نرالا ہے.یہاں اصول اور اخلاقیات کی توقع ہمیشہ مخالفین سیاست سے ہی کی جاتی ہے جبکہ اپنی ذات کو اس سے مستثنیٰ سمجھا جاتا ہے.زیادہ دور نہیں جاتے پانامہ معاملہ کے خلاصہ سے ہی پاکستانی سیاست اور سیاست دانوں کی دو رنگی سامنے آ جاتی ہے.
.
پانامہ معاملہ ابھی اخبارات تک ہی محدود ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سے وزیر اعظم کے مستعفیٰ ہونے کے مطالبات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں اوراس ضمن میں دیگر یورپی ممالک کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں.اب انہی اپوزیشن جماعتوں میں جن میں پی پی پی اور پی ٹی آئی ٹاپ پر ہیں،ان کے رہنماؤں کا نام بھی پانامہ لیکس میں آتا ہے.اب اصولی اور اخلاقی سیاست کی دعویدار جماعتوں کا حق نہیں بنتا تھا کہ وہ اپنے ان رہنماؤں کی پارٹی رکنیت معطل کرتی اور انہیں کہا جاتا کہ خود کو جب تک کلئیر نہیں کرو گے تمہاری پارٹی رکنیت بحال نہیں ہو گی.کیا کسی سیاسی جماعت نے اس اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا جو وہ وزیر اعظم سے مطالبہ کر رہے ہیں۔یقیناً نہیں کیا تو پھر جب آپ خود اخلاقیات کے اس معیار پر پورا نہیں اترتے تو دوسری جماعتوں سے کیسے توقع رکھ سکتے ہیں ،اب تھوڑا مزید آگے بڑھتے ہیں.وزیر اعظم کا معاملہ عدالت میں چلا جاتا ہے.معاملہ عدالت میں جانے پر بھی وہی مطالبہ سامنے آتا ہے کہ وزیر اعظم اخلاقی طور پر مستعفی ہو جائیں.کیا پی پی دور میں گیلانی صاحب جب تک ان کو عدالت نے نااہل نہیں کیا انہوں نے استعفی دیا؟ایسے ہی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں پر بھی عدالتی کیس چل رہے ہیں.کیا کسی نے اپنے ان رہنماؤں سے پارٹی رکنیت یا عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا؟یقیناً نہیں کیا.تو پھر جس اخلاقیات پر آپ عمل پیرا نہیں ہیں تو دوسروں سے اخلاقیات کا مطالبہ مضحکہ خیز نہیں لگتا کیا ؟۔

مزید آگے بڑھتے ہیں.وزیر اعظم کے خلاف جے آئی ٹی بن جاتی ہے.جے آئی ٹی ایک تفتیشی ٹیم ہوتی ہے جیسا کہ زرداری کے چہیتے وزیر ڈاکٹر عاصم کے خلاف بنی.یہاں تک کہ ان موصوف وزیر کے خلاف رپورٹ بھی دی گئی.اس رپورٹ کے بعد زرداری قیادت میں سارے پیپلز پارٹی والے ڈاکٹر عاصم کو سپورٹ کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لیتے رہے.یہاں تک کہ اس کی ضمانت کروا کر دم لیا گیا.پھر تھوڑا آگے بڑھتے ہیں تو اب وزیراعظم کے خلاف نیب میں ریفرنس فائل ہونے کی بات ہو رہی ہے جس کا حتمی فیصلہ عدالت نے کرنا ہے.اب بھی وہی اخلاقی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور مزے کی بات سب سے زیادہ یہ مطالبہ تحریک انصاف کی جانب سے سامنے آ رہا ہے جس نے پچھلے دنوں نیب ریفرنسز میں لتھڑے نمائندوں کو اپنی پارٹی میں بڑے فخر سے قبول کیا.انہیں اپنا اثاثہ قرار دیا اور ان کو پارٹی ٹکٹ بھی دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔اب انصافیوں سے پوچھا جائے کہ جس اخلاقیات کے تحت آپ وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں ، اسی اخلاقیات کے تحت آپ کا ان “ریفرنس زدگان”کو اپنی پارٹی میں لینا بنتا ہے کیا ؟؟

سرفراز قمر
سرفراز قمر
زندگی تو ہی بتا کتنا سفر باقی ہے.............

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *