• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • گریہ چاہے ہے خرابی میرے کاشانے کی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

گریہ چاہے ہے خرابی میرے کاشانے کی۔۔۔۔۔ محمد اقبال دیوان

پاکستان میں دولت کا ناجائز،بے دریغ بے خوف حصول اور طاقت کاگھٹیا،بلا وجہ اور تفاخر آمیز مظاہرہ سن 1972 سے بتدریج زور پکڑتا گیا۔اب اس سے خوف کم اور گھن زیادہ آتی ہے۔ہماری اہلیان طاقت و رسائی کی اکثریت نے    اب اس حوالے سے عادت ہی بنالی بے اور بے حسی کی ایک غلیط علامت بنی دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان کے مالدار اور طاقت ورا فراد کی اکثریت کے روز مرہ رہن سہن اور معاملات کا جائزہ لیں تو سن 1994 میں تہلکہ مچانے والی ہالی وڈ کی فلم The Mask یاد آجاتی ہے اس کا مرکزی کردا اسٹینلے اپ کس (مشہور اداکار جیمز کیری) عام زندگی ایک ناکام شخص ہے۔اسے ہمارے اسمبلی ممبران اور نودولتیوں کی طرح ایک جادوئی ماسک کہیں سے مل جاتا ہے۔پاکستان بننے کے بعد سیاست اور بیوروکریسی دونوں ہی شکستہ خاندانی پس منظر سے جڑے بہت چھوٹے گھرانوں میں جا بسی ہے۔ان سے وابستہ افراد کی اکثریت تو ایسی ہے کہ ان کی پشت سے سول سروس کی مہر ہٹالیں پارٹی اور لیڈر کا نام کھینچ کر پھینک دیں تو ان کی بیگمات بھی سول کہنے اور انہیں ووٹ دیتے وقت خاردار کیکٹس سے دانت مانجھنے کو اور سرمہ لگانے کو ترجیح دیں۔

دی ماسک

بات تھی ماسک کی۔ یہ ماسک اس کے لیے وہی طلسماتی طاقت رکھتا ہے جو پاکستان میں جمہوریت کے لیے اور الیکشن کی صورت میں بھولے عوام کے پاس اور نامساعد گھمبیر اور مشکل حالات کو درست کرنے کے لیے اسٹیبلیشمنٹ کے پاس ہر وقت موجود ہوتی ہے۔آپ کس کو اس ماسک کی بدولت سب کچھ حتی ٰ کہ کیمرون ڈائز جیسی دلفریب حسینہ کی رفاقت بھی حاصل ہوجاتی ہے تو وہ آئینے میں اپنی چمتکار اور نو حاصل Prowess کے اعتراف میں انتہائی تضحیک اور تمسخر سے ایک جملہ کہتا ہے جو شاید پاکستان میں ایسے سب ہی افراد سب کچھ کر گزرنے کے باوجود ہر کمزور افراد کو سڑک پر چانٹ مار مار کے کہتے ہیں کہ “Somebody stop meee”سوچیے کیا مشرقی عورت جیسے مجبور اہل بس و کشاد ہیں۔ٹارگیٹ کلر ز تحویل میں ہیں۔ کچھ نہیں ہوتا۔

کیمرون ڈائز

مصطفے کانجو سے ڈر کر مقتول زین کی والدہ اپنی بیٹیوں کی جان کو لاحق خطرے کو ملحوظ نظر رکھ کر کیس واپس لے لیتی ہے۔ 27, اکتوبر2015 سے قاتل کی بریت کے بعد یہ کیس عدالت کی راہداریوں میں بھٹک رہا ہے۔ ایک ماہ سے بھی کم کے عرصے19 نومبر کو سپریم کورٹ کے جسٹس امیر مسلم ہانی کی سربراہی میں تین ممبر بنچ اس پر لاہور  ہائی کورٹ کو دو ماہ کی مدت میں فیصلے کی مہلت دیتا ہے۔ بریت کے   تین دن بعد ملزم کانجو فرار ہوجاتا ہے۔آج تک اس کو گرفتار کرکے پیش  کرنے کے کسی کو نہیں سوجھتی۔ قصور کی زینب جس کے  کیس پر میڈیا کی ہچکیاں بندھ جاتی تھیں وہ اینکرز بی بیباں جن کے مسکارے کے دریا ذکر زینب پر ایسے بہتے تھے کہ اللہ نہ کرے میاں نے ان کی ملازمہ سے شادی کرلی ہو۔اب مینا کماری کی طرح میں چپ رہوں گی کی تصویر بنی رہتی ہیں۔ماڈل ٹاؤن کی گولی بازی سب نے دیکھی۔ٹی وی پر یہ مناظر لائیو دکھائے جاتے تھے۔رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر شاہد مسعود کا زینب کے قاتلوں کے خفیہ اکاؤنٹس کا ذکر کرکے تین ماہ کی پابندی میں ایسا برا حال ہو ا کہ خواب میں بھی زینب نام سن کر بال نوچ کر بستر کے باہر کود جاتے ہیں۔ڈارک اور ڈیپ ویب کی بات کرو تو کہتے ہیں یہ ساری شرارت حامد میر کی تھی۔گولیاں کھاکر ایسا بد مزہ ہوا ہے کہ ہر ایک کی نوکری برباد کرنے پر تلا رہتا ہے۔

زینب اور قاتل
مصطفٰٰی کانجو

اشک بار میڈیا
ڈاکٹر شاہد مسعود

آئیے طاقتور افراد کی مصلحت پسندی کا ایک جواز کراچی کی سڑک سے اٹھالیتے ہیں۔یہ آپ کو سمجھا دے گا کہ پاکستان کے مختلف چیف اور بڑے کیوں اتنے جسم و جاں بچا کر رہتے ہیں۔ڈنگ ٹپاؤ،ٹکر کھاؤ، گھر جاؤ۔ ان کا دوران ملازمت سلامتی کا منترہ یہ رہتا ہے کہ

ع اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا۔۔

ہمارے شہر کراچی میں صبح آٹھ سے بارہ بجے تک روزانہ ٹریفک پولیس کی ایک ٹولی گھات لگا کر ڈیفنس کی مصروف شاہراہ   پر کھڑی ہوتی ہے۔ان کا سرخیل اے ایس آئی رب نواز گکھڑ ہے۔یہ موٹر سائیکل سواروں کا برمودا ٹرائی اینگل ہے۔مجال ہے ان کے پاس رقم ڈھیلی کیے بغیر کوئی جانے پائے۔
ایک دن ہمیں موقع  مل گیا۔ہم جس بینک میں ر قم جمع کرانے گئے تھے یہ بھی وہاں کسی کام سے آیا تھا۔مینجر صاحبہ نے ہمارے لیے چائے منگائی تو ہم نے اسے بھی ساتھ بٹھالیا۔وردی والوں سے ہم ڈرتے بھی ہیں۔ان کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ایک دفعہ یونس حبیب اپنی بیٹی کی منگنی کی تقریب میں چیف آف آرمی اسٹاف اسلم بیگ کو ہم گریڈ سترہ کے اسسٹنٹ کمشنر سے ہاتھ پکڑ کر ملانے لے آیا ۔ہم نے میمنی زبان میں اسے ایڈی وڈی گالی دے کر کہا بھی کہ تو آرمی چیف کو اسسٹنٹ کمشنر سے ملانے لائے گا تو تیری ماں نے تجھے کسی تھانے میں جنا تھا کیا جو ڈر نہیں لگتا تو منہ  میں پان ٹھونس کے کہنے لگا آرمی چیف ہے تو یہاں کیا پرائز بانڈ کی پرچیاں خریدنے آیا ہے۔ پانجو جونو یار آئی (اپن کا پرانا یار ہے)۔
جنرل اسلم بیگ سے ہاتھ ملا کر ہم بہت دیر تک اپنا ہی ہاتھ چوما کیے۔اللہ اللہ کیا فیض رساں ہاتھ تھا۔سو یہ احترام تھا جو ہم نے ٹریفک کے اے ایس آئی رب نواز گکھڑ سے بھی بہ وجہ وردی برتاکیا۔
پرانی کوئی واقفیت نہ تھی۔شکل سے بھی ہم میڈیا والوں جیسے خرانٹ نہیں لگتے۔ سوموٹر سائیکل والوں کو دھبڑ دھوس کرنے والے اے۔ ایس۔ آئی رب نواز گکھڑ سے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا
۔یار یہ بتا تجھے کوئی پراڈو، لینڈ کروزر والا، نہیں دکھائی دیتا۔سرکاری گاڑیوں کو عورتیں اور بچے چلا رہے ہیں۔ہر طرح کی نمبر پلیٹ لگائے تیری آنکھ سے سرمہ سلائی بنے جو کار والے گزرے ہیں وہ ٹریفک کے مجرم نہیں۔
کہنے لگا سب ہیں۔آٹھ گھنٹے کی شفٹ ہے۔ چار ہزار ٹارگٹ ہے۔دو میرے،دو چوکی کے۔پراڈو، لینڈ کروز،سرکاری گاڑیوں جعلی نمبر پلیٹ والوں میں سے کسی ایک کو روک لوں۔آدھے گھنٹے بعد سارجنٹ ایس پی آفس میں پیشی کا نیوتا لے کر آجائے گا۔ایس پی آفس والے ہمارے آنے پر ایسے خوش ہوں گے گویا ڈالر کا تھیلا لے کر خود ٹرمپ آگیا ہے۔دس بجے جب شریف عورتیں دوپہر کا لنچ تیار کرلیتی ہیں،ایس پی صاحب کے دفتر والوں کو مجھے دیکھتے ہی ہماری جیب سے ناشتے منگوانے کی سوجھے گی۔۔ایس پی صاحب پہنچیں گے تو وہ ملزمان جن کا چالان ہوا ہے وہ بھی ساتھ ہی داخل ہوں گے۔ہمارے ہی پیسے سے ان کے لیے چائے بسکٹ آئیں گے۔ مجھ رب نواز گھکڑ کو دیکھتے ہی کہیں گے۔ایس پی صاحب ان چک چوراسی کے گکھڑوں، بٹروں، کھوکروں کو تو انگریز گورا شہر میں نہیں آنے دیتا تھا۔آپ نے انہیں سرکاری نوکری بھی دی ہے اور ڈیفنس کراچی جیسے علاقے میں پوسٹ کیا۔ Not fit to be here in DHAیہ تو ٹھیک سے سن سیٹ بلے وارڈ کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ ان کو بھائی لوگ ٹھیک ہی بوری میں بند کرتے ہیں۔تھوڑی دیر بعدکٹی پہاڑی پر تعیناتی ہوجائے گی۔گھر آؤں گا تو آپ کی بھابھی میلسی کی کوثر کھگا میرا در فٹے منہ دیکھ کر بولے گی۔ وے رب نواز سوہنا پیر کرماں والا تیں نوں پچھے۔ میں نوں خوار کرنا سی تے ملیسی تو کیوں لایا۔اوئے تینوں انور مجید دے شہر وچ وی عمران خان بنن دا کیوں شوق لگ گیا ہے۔اوئے اپنی بے وقوفی دا نئیں تے میری جوانی دا خیال کر۔

کٹی پہاڑی

ا۔موٹر سائیکل والوں اور اللہ کی مہربانی سے جیسا ابھی کام چل رہا ہے اس کی کمائی کی رقم لے کر گھر جاتا ہوں تو کوثر کھڑکی والے بلاؤز کی ساڑھی پہن کر میرا انتظار کرتی ہے۔ لائٹ ہاؤس کے پاس سے ترکی کا بنا ہوا ائیر فریشنر لائی ہے۔ ۔صاحب ایئر فریشنر کی خوشبو ایسی ہے کہ پہلی دفعہ تو مجھے لگا بجلی والے چولہےElectric Oven میں کملی نے چاکلیٹ کیک تھوڑا زیادہ سینک لیا ہے۔ہم نے پنجاب کے علاقے وہاڑی کی کوثر کھگا کا سوچا،کھڑکی والے بلاؤز کئی دعوتوں میں دیکھے۔ان کو زیب تن کرنے والی بی بیاں اپنے چہرے پر اتنی محنت نہیں کرتیں جتنی کھڑکی سے باہر جھانکتے بدن کے حصے پر کرتی ہیں۔کوثر کھگاکے، بلاؤز کا سوچا تو احساس ہوا کہ نیاز و ناز کے اس منظر میں غریب نواز بلاؤز بمشکل اتنی جگہ ہی گھیرپاتا ہو گا  تو رب نواز اے ایس آئی کیا ہماری پیاری آئی ایس آئی کی جگہ بھی کہاں بچتی ہوگی۔

کھڑکی والا بلاؤز

اس سے ذرا ہٹ کر ترکی چلتے ہیں اہل طاقت اور اثر و رسوخ کے طرز عمل کے دو مظاہرے:
اردگان صاحب نے انقلاب کے دوران جن چند جرنیلوں پر بھروسہ کیا یہ حضرت ان میں سے ایک کے صاحبزادے ہیں۔ حضرت ہمارے قریبی عزیز کے رفیق کار ہیں۔باہر کے تعلیم یافتہ اور بے حد دلربا شخصیت کے مالک۔
اصرار تھا کہ ہم ایک وقت کا کھانا اس کے ساتھ کے کھائیں۔ فینر باشی (Fenerbahçe) استنبول کا متمول علاقہ ہے،رات کا کھانا وہاں تھا۔ہم دونوں وقت مقررہ پہنچ گئے چند منٹوں کی تاخیر پر اس کا فون آیا کہ وہ پچھلی گلی میں کہیں پارکنگ ڈھونڈ رہاہے۔ذرا دیر ہوجائے گی ریستوراں میں داخل ہوا تو اچانک بارش ہونے کی وجہ سے کچھ گیلا اور نادم تھا۔ہمیں حیرت ہوئی ایسی طاقت ور ہستی کا بیٹا۔ نہ کوئی ڈرائیور،نہ بندوقیں تاننے والے تھپڑ مارنے میں معاون گارڈز، اپنی پارکنگ کے لیے خود ہی خوار ہوتا رہا۔ابھی نششت سنبھالے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک لڑکی آئی،اس سے گلے ملی،کچھ رسمی جملوں کا تبادلہ کیا،ہم سے بھی معافی مانگی اورہماری ٹیبل سے ایک ایک خالی کرسی خود ہی اٹھا کر اس نششت پرلے جاکر بیٹھ گئی جہاں اس کا گروپ براجمان تھا۔وہ بتانے لگا کہ یہ بی بی اسکول میں اس کی ساتھی تھی۔ اس کا بے حد مالدار باپ آج کل ترکی میں وزیر ہے۔

اردگان

ہمارے عزیز بتانے لگے کہ یہ پسر جرنیل اکثر اس کے اپارٹمنٹ پر چلا آتا ہے۔یہ استنبول کے بہترین علاقوں میں واقع بلڈنگ بلاکس ہیں۔نیچے سیکورٹی والے اسے روکتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں الجھتا۔سیکورٹی کا انچارج ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہے۔یہ صرف اپنے باپ کا نام لے دے تو افسر کی نیند اڑ جائے گی۔جب تک سیکورٹی کلئیر نہ کرے یہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھا رہتا ہے۔سیکورٹی پر مامور ایک شرارتی لڑکی اسے زیادہ ہی تنگ کرتی ہے اسے پارکنگ والوں کی NOC کے بغیر نویں منزل پر واقع اپارٹمنٹ میں نہیں جانے دیتی۔

استنبول میں رہائشی بلاکس

افغانستان کے صوبے کا نمروز حسن مصطفے اب کاپوڈوکیا ترکی کے سیاحی مقام پر ایک ہوٹل میں کام کرتا ہے۔اس کی جانب دیکھیں تو لگتا ہے بھارتی اداکاررنبیر کپور نے شہرت، دولت میں اس کا حق مارا ہے۔دیپکا پڈکون چاہے تو رنبیر کپور سے عشق میں ناکامی کا بدلہ اس سے نمونے کی چند ڈیٹس مار کر لے سکتی ہے۔

نمروز
دیپیکا اور رنویر

کاپوڈوکیا
کاپووڈوکیا،غار،غبارے اور غزالہ

پہلے استنبول میں رہتا تھا،چچا،بھتیجا یہاں آئے تھے۔ چچا سوئیڈن پہنچ گیا ہے ، یہ موقعہ کی تلاش میں ہے۔کاپوڈوکیا، آپ ضرور جائیں۔یہ پہلے یونانی علاقہ تھا، یہاں عیسائی راہب غاروں میں رہا کرتے تھے۔اب یہاں غاروں میں مکانات اور ہوٹل بن گئے ہیں۔آج سے لگ بھگ ہزار سال پر یہاں سلجوق مسلمان حاکم بنے۔یہاں آپ کو دیگر تفریحات کے علاوہ Hot Air Balloon Ride کا مزہ مل جائے گا۔ صبح چار بجے جب باہر کا ماحول سرد ہوتا ہے۔گیس برنرز کی مدد سے اندرونی ہوا کو گرم کرکے غباروں کے یہ غول سیاحوں کے لے کر فضا میں بلند ہوجاتے ہیں۔بہت ہی دلفریب منظر ہوتا ہے۔

غار ہوٹل

حسن کو استنبول میں رہائش مہنگی پڑتی تھی،پولیس بھی بلاوجہ سوال جواب کرتی تھی، وہاں کردوں اور دداعش  کی وجہ سے کافی سیکورٹی اور سختی ہے۔یورپ سے آنے والے جہادی نوجوان ترکی ہی کے راستے رقع شام میں   داخل ہوتے تھے بو جو داعش کا مرکز رہا ہے۔استنبول اور انقرہ نسبتاً مہنگے شہر ہیں۔
یہاں جس ہوٹل میں کام کرتا ہے وہاں رات کو کسی برآمدے یا خالی کمرے میں پڑکر سو جاتا ہے،مالک کے ساتھ ہی کھانا پینا ہوجاتا ہے،کراچی میں گیارہ سال رہا۔کراچی ہی میں عزیز آباد کی ایک مہاجر خاتون پر دل آیا،خاندان کی مخالفت کے بعد شادی کی۔یہاں اس کے اخلاق اور حسن سے متاثر ہوکر کئی مقامی اور سیاح خواتین مہربان ہوئیں استنبول کی سہیلہ اور ایمل اس پر دل ہار بیٹھیں، ان میں سے ایک سے شادی کرتا تو ترکی شہریت مل جاتی مگر یہ قلندارن وفا میں سے ایک نکلا۔ سختیء حالات کے باوجود بھی اپنی زوجہ محترمہ سے بے وفائی پر آمادہ نہیں۔بیگم کا ہاتھ تھاما تو چھوڑنے کا نام نہیں لیا۔ اسکائپ،فیس ٹائم اور واٹس اپ سے شادی کا بندبند جوڑ کر رکھا ہے۔پاکستانی سفارت خانہ اسے افغان ہونے کی وجہ سے ویزہ نہیں دیتا،افغانستان یہ ڈر کے مارے جانا نہیں چاہتا، سوئیڈن جانے کی فوری امید نہیں۔ایسے عمدہ اور وفا دار مرد یا تو میوہ شاہ یا میانی صاحب کے قبرستان، یا جیل میں پھانسی کی کال کوٹھڑی میں یا GAYS مردوں میں ملتے ہیں یا پھر شاید یورپ جانے کے امیدوار مہاجرین میں۔اس کا نام بھی حسن ہوگا۔Exceptions don’t make rule “استثنا کو کلیہ نہ سمجھا جائے”بیان کرتا تھا کہ جس گھرانے کے پاس یہ استنبول میں ملازم تھا ان کی ہدایت تھی کہ وہ اپنی ملازمت ظاہر نہ کرے۔ اس وجہ سے پیچیدگیاں ہوجائیں گی۔ایک رات جب یہ یورپی حصے سے تھکن سے چور ایشیائی حصے میں اپنے گھر کے پاس پہنچا تو پولیس نے دھر لیا۔مالکان کا پاس لے گئے،ویزہ کی کوئی بے ضابطگی نہ تھی اسے رہائی ملی تو اس نے پولیس سے ہلکا سے احتجاج کیا کہ اب میں رات کے ایک بجے کہاں گھر پہنچ پاؤں گا تو وہ اسے پچیس میل دور اپنی کار میں گھر بھی چھوڑ کر آئے اور راستے میں کھانا بھی کھلایا۔
وہ سوچ رہا ہے کہ ترکی کی دو اہم شخصیات کے بیٹے اور بیٹی اس قدر نارمل اور عام کیوں ہیں جب کہ ہمارے ہاں کے ایک پیر صاحب جو ایسے معروف بھی نہیں بلکہ وجہء آسودگی و تفاخر صرف یہ ہے کہ ایک مقتدر شخصیت کے دامن حرص و ہوس کو تھامے بیٹھے ہیں یہ قطب ِگمنام جب جمعہ کی نماز پڑھنے بمشکل مسجد میں آتے ہیں آگے پیچھے موبائلز انہیں شیطان کی مانند گھیرے رہتی ہیں۔آپ کو شیطان کا وہ معاملہ تو یاد ہی ہے نا جو سورہ الاعراف کی آیات سولہ اور سترہ میں بیان ہوا ہے کہ:

”میں ان پر (تیرے بندوں پر) حملہ آور ہوں گا آگے، پیچھے، دائیں، اور بائیں جانب سے (اے سرّب الکریم)ان کی اکثریت ناشکری اور نافرمان ہے ” ۔
مسجد کے صدر دروازے پر حضرت کی آمد کے ساتھ ہی ان کے وحشی صورت گارڈز لپک کر مسجد کا رخ کرتے ہیں۔دخول مبارک سے پہلے ا ندر جھانک کر اطمینان کرلیتے ہیں کہ اس بندہء خدا کے لیے اللہ کا گھر محفوظ ہے کہ نہیں تب کہیں جا کر سرکار کی آمد مرحبا ہوتی ہے۔

اہل اللہ تو یوں بھی اہل فقر ہوتے ہیں اہلیان حرص و ہوس سے وابستگی انہیں کیوں کر قبول ہوتی ہے یہی وہ لمحہء تشویش ہے جب اقبال کا یہ مصرعہ بے اختیار زبان پر آجاتا ہے ع
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی۔۔
بادشاہ محمد تغلق نے جب دہلی کے ایک مشہور بزرگ سے یہ فرمائش کی کہ” جمعہ کی نماز وہ قلعے میں واقع محل کی مسجد میں پڑھایا کریں ” تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ” ہمارے پاس لے دے کے یہ ایک نمازبچی ہے وہ بھی آپ ہم سے چھیننا چاہتے ہیں ”
جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ سے دربار سے وابستہ ایک عالم کی رنجش کی ہوگئی۔ اسی گلہ جوئی کی بنیاد پر حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ،جو ان کے مرشد تھے ، اپنے ساتھ دہلی سے اجمیر لے جانے لگے تو ساری دہلی انہیں روکنے پر اصرار کرنے لگی اور آخر میں بادشاہ ایلتمش نے درخواست کی کہ انہیں ساتھ نہ لے جائیں تو وہ مان گئے۔اسی طرح حضرت نظام الدین اولیاؒ کے دہلی تشریف لانے کے بعد گیارہ بادشاہ تخت نشین ہوئے جن میں سے کم از کم تین ایسے تھے جو آپ کے معتقد تھے مگر آپ ایک دفعہ بھی دربار کی طرف نہ گئے، نہ کوئی جاگیر قبول کی نہ کوئی وظیفہ، نہ منصب۔
کیا پاکستان میں اہم افراد کے دل سے احساس زیاں بالکل ہی جاتا رہا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *