کونسا پاکستان !نیا پرانا؟۔۔۔۔۔سلمان امین

ہر انسان خواب دیکھتا ہے اپنے لئے اپنے خاندان کے لئے اپنے وطن عزیز کے لئے۔ آج کل ایک نعرہ ہر پاکستانی کی زبان پہ ہے “نیا پاکستان” ہر کوئی یہ خواب سجائے بیٹھا ہے کی اب نیا پاکستان بننے جا رہا ہے۔ میں اس طرح کا یہ اس سے متعلق کو ئی     نیا خواب نہیں دیکھنا چاہتا.میں ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہوتاحقیقت کی نظر میں دیکھنا چاہتا ہوں جو ہمارے عظیم قائد، قائداعظم محمد علی جناح  نے دیکھے تھے۔ ویسا پاکستان چاہتا ہوں جیسا جناح صاحب نے سوچا تھا۔پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد جناح صاحب نے جو پہلا قوم سے خطاب کیا تھا اس میں جناح صاحب نے فرمایا   کہ اس وطن میں ہر انسان اس کا تعلق چاہے جس بھی مذہب سے ہو وہ برابری کے حقوق کا حامل ہے۔ اقلیت کے بھی اتنے ہی حقوق ہیں جتنے کے اکثریت کے۔ ہر انسان اپنے مندر، مسجد اور اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لئے آزاد ہے۔ مگر یہاں صورتحال قدرے مختلف ہے۔مندر، چرچ تو دور کی بات ہے آج تو مسلمان اپنے اپنے مکتبہ فکر جماعتوں کے لیبل لگا کے بیٹھ گئے ہیں کوئی کسی  دوسرے مکتبہ فکر جماعت والے کی مسجد میں جانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ میں جناح صاحب کے اس خواب کی تعبیر چاہتا ہوں کہ جہاں ایک مسلمان کسی بھی مسجد میں عبادت کرسکے۔

زیارت (بلوچستان کا شہر)میں ایک نرس  جس نے جناح  صاحب کی بہت خدمت کی  ایک دن جناح صاحب نے اس نرس سے کہا بتاو میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ یاد رہے کہ اپنی زندگی بھر میں کسی کو یہ نہیں کہا تھا کہ بتاو میں آپ کے لئے کیا کرسکتا ہوں۔ اس نرس نے کہا کہ جناح صاحب میرا آبائی علاقہ سیالکوٹ ہے اور میں یہاں گھر سے دور ہوں براہ مہربانی میرا تبادلہ سیالکوٹ کردیں۔ یہ بات سن کر   گورنر جنرل آف پاکستان محمد علی جناح نے اس نرس سے معذرت کرلی کہ بیٹا میں آپ کا یہ کام نہیں کرسکتا۔ یہ کام سیکرٹری صحت کا  ہے۔ مگر یہ کیا آج کسی تھانیدار کا تبادلہ کرنا ہو تو وزیراعلی صاحب ، وزیرداخلہ صاحب کا حکم چلتا ہے ۔ چھوٹی سے چھوٹی    ملازت حاصل کرنا ہو تو کسی  وزیر صاحب کا حکم چلتا ہے۔ اوپر سے حکم ملتا ہے کہ لگا دو لگا دیا جاتا ہے حکم ملتا ہے کہ ہٹادو ہٹا دیا جاتا ہے حکم ملتا ہے اس کو تبدیل کر دو تو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ میں قائد صاحب کا وہ پرانا پاکستان چاہتاہوں  جہاں ایک  ملک کا صدر بھی کسی  ملازم کو تبادلہ تک نہیں کرسکتا تھا ۔ جہاں اک وزیراعظم بھی کسی بھی نااہل کو یاں کسی بھی اپنے لاڈلے کو ملازمت ،وزارت اور کوئی     عہدہ  نہیں دلا سکتا تھا ۔

کراچی گورنر ہاوس میں جناح صاحب رہتے تھے  گورنر ہاوس کی ایک غیر ضروری لائٹ جلنے نہیں دیتے تھے ۔  جیسے ہی  کام سے فارغ ہو کر نکلتے تو ساری لائٹیں خود بند کرتے ایک دفعہ ایک سفیر آپ سے ملنے آیا تو جب وہ ملاقات کرکے جانے لگا جناح صاحب اس کو باہر دروازہ تک چھوڑنے کے لئے نکلے تو  نکلتے وقت ساری لائٹیں بند کردیں۔سفیر یہ دیکھ کے بڑا حیران ہوا اور اس نے جناح صاحب سے کہا کہ یہ گورنر ہاوس ہے اس کی لائٹیں تو ہر وقت جلتی رہنی چاہیے آپ نے بند کردیں ۔جناح صاحب نے کہا کہ یہ ہاؤس حکومت پاکستان کا ہے اور میں اس  میں  عوام کا ایک پیسہ بھی فضول استعمال نہیں کرسکتا۔

کراچی گورنر ہاوس سے جناح صاحب اور ان کی عظیم بہن فاطمہ جناح صاحبہ روزانہ صبح ملیر کینٹ کے پارک میں سیر کرنے جاتے تھے ان کے ساتھ ایک گاڑی میں تحفظ(security) کے لئے پولیس کے دویا  تین اہلکار ہوتے تھے ۔راستے میں ایک  ریلوےپھاٹک بھی آتا تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ ابھی پھاٹک سے کچھ پیچھے ہی تھے  تو ریل گاڑی کے آنے کا وقت ہوگیا تو ملازم نے پھاٹک بند  کردیا ۔گاڑی سے پولیس اہلکار نکلا    اس نے ریلوے  ملازم کو کہا کہ تم کو پتا ہے اس گاڑی میں کون ہیں  گورنر جنرل آف پاکستان محمد علی جناح صاحب ہیں۔ ریلوے ملازم نے پھاٹک کھول دیا۔جناح صاحب نے پولیس اہلکار سے پوچھا کہ  پھاٹک کیوں کھول دیا ہے ملازم نے کہا کہ جناح صاحب آپ کو رکنا  پڑنا تھا اس لئے پھاٹک کھلوایا ہے تو جناح صاحب نے ملازم کو کہا کہ جاو اور پھاٹک بند کرواؤ۔جناح صاحب نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ اس ملک میں کوئی بھی گورنر،صدر،وزیراعظم یاں کوئی اور وزیر قانون کو  نا مانیں عام عوام تو رکے مگر صدرو وزیر نہ  رکیں ۔مگر یہاں تو آج جناح صاحب کے بعد یہ پھاٹک کھولتے رہے ۔ کئی کئی گھنٹے سڑکیں بند ہوتی رہیں سگنل بند ہوتے رہے کہ وزیر صاحب آرہے ہیں لوگ گھنٹوں انتظار کرتے رہے کہ وزیر صاحب کب گزریں اور ہم اپنی منزلوں تک جاسکیں۔ ایسے واقعات بھی سننے کو ملتے ہیں کہ وزیر صاحب کے آنے کی وجہ سے سڑک بند تھی تو عورت ہسپتال نہیں پہنچ سکی اور بچے کو سڑک پہ ہی جنم دے دیا،کسی حادثے میں زخمی مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکا راستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ایسی خبریں آئے روز دیکھنے کو ملتی ہیں۔ میں جناح صاحب اس خواب کی تعبیر چاہتاہو ں کے جہاں وزراء  بھی عام عوام کی  ہی طرح  سگنل پہ رکیں ۔

اور بھی ایسے بے شمار واقعات ہیں  آپ کی عظیم بہن جنہوں نے  سفرِتعمیرِ پاکستان میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ پاکستان بننے کے بعد گورنر ہاوس کا فرنیچر لیا گیا تو ایک کرسی اضافی تھی جناح صاحب نے پوچھا کہ یہ کرسی کس لئے ہے بتایا گیا کہ یہ کرسی محترمہ فاطمہ جناح صاحبہ کی لئے ہے تو جناح صاحب نے کہا کہ اگر اس کو گورنر ہاوس میں بیٹھنا ہے تو وہ کرسی خود خرید کے لے کے آئے اس کرسی کوواپس کردیا گیا۔یہ تو تھی ایک کرسی مگر آج کیا آج تو گورنر ہاوس کی چائے کا خرچہ ہی کڑوڑوں میں ہے۔ یہ تو ایک کرسی تھی  مگر آج تو وزراء  حضرات اپنے رشتہ داروں کو حکومتی گھر لے کے دیے ہیں۔

خان لیاقت علی خان جو کہ اپنے علاقے کے  نواب تھے کئی مربع زمین کے مالک تھے   ساری زمین بھارت میں چھوڑ کے آگئے نہ ہی اپنی زمین کا کیس کیا اور نہ ہی کبھی انہوں نے کسی سے اس کا ذکر کیا ۔ساری جائیداد اس ارضِ پاک پہ قربان کردی۔ لیاقت خان صاحب جب فوت ہوئے تو  دنیا دیکھ کے دنگ رہ گئی کہ ان کے جسم پہ رفو  کیے ہو کپڑے ، پھٹی ہوئی  بنیان تھی۔ان کا بنک کا اکاونٹ دیکھا گیا تو اُس میں ایک روپیہ نہیں تھا۔تدفین کے لئےبھی رقم  تک نہیں تھی۔آج جائیدادیں قربان کرنا تو درکنار بلکہ  حکومتی عہدے دار  اربو ں کی جائیدادیں بنا لیتے ہیں۔

میں جناح صاحب کے خواب کو سچ ہوتا دیکھنا چاہتا ہو میری التجاء ہے  ہر حکومتی عہدے دار سے، وزراء سے، بااختیار شخصیات سے ، ہر اُس شخص سے جس کے پاس کوئی عہدہ ہے ،وزارت ہے یاں کوئی اختیار ہے کہ اس پاکستان کو قائد کا پرانا پاکستان بنا دیں۔

سلمان امین
سلمان امین
اقبال و فیض کا ہمسایہ ہونے کے ناطے ہلکا پھلکا ادب سے لگاؤ رکھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *