نوجوان رائٹرز کے لئے ۔۔۔۔ رعایت اللہ فاروقی

لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کسی رائٹر کی رائے کے خلاف کوئی کچھ لکھ دے تو اسے سخت دکھ ہوتا ہوگا یا غصہ آتا ہوگا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب کسی رائٹر کی تحریر کا جواب آنے لگے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ اس رائٹر کی رائے اب باقاعدہ اہمیت اختیار کرنے لگی ہے۔ اختلاف رائے کسی صاحب الرائے سے ہی ہوتا ہے للو پنجو سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں فیس بک پر میں نے بعض بڑے قد کاٹھ کے دوستوں کو “بچوں” کی تحریروں کا جواب الجواب لکھتے دیکھا تو فورا انبکس میں جا کر انہیں سمجھایا کہ جواب یا جواب الجواب اسے دیا جاتا ہے جس کا کوئی قد کاٹھ بھی ہو۔ بچوں کی تحریروں کا جواب دے کر ان کا دماغ نہ خراب کیجئے۔

مجھے اپنے کیریئر کے دوران اس بات کا شدت سے انتظار رہا کہ کوئی میری کسی تحریر کا جواب لکھے۔ ذکر کبھی بھی کسی سے نہیں کیا تھا لیکن انتظار بڑی شدت سے رہا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہی اس بات کی مستند علامت ہوگی کہ میری تحریر اہمیت اختیار کر رہی ہے اور وہ لوگوں کو کسی بھی درجے میں “متاثر” کر رہی ہے۔ میں نے لکھنا ستمبر 1990ء سے شروع کیا تھا اور میری تحریر کا پہلا جواب 1996ء میں آیا تھا جو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا تھا۔ لیکن “مزہ” نہیں آیا تھا کیونکہ جواب لکھنے والا ارشد القادری نام کا کوئی غیر معروف بندہ تھا۔ چنانچہ میں نے جواب الجواب بھی نہیں لکھا۔ 2001ء میں مسعود اظہر اپنے چار پانچ چمچوں سمیت ایک کالم کے جواب میں حملہ آور ہوئے تو پہلی بار تھوڑا مزہ آیا۔ وہ سمجھتے رہے کہ مجھے “فتح” کر رہے ہیں جبکہ فی الحقیقت میری ایک اہم خواہش کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں کر رہے تھے۔ روزنامہ اوصاف میں شائع ہونے والے اس کالم (مسعود اظہر کو رہا کرو) کے جواب میں خود مسعود اظہر نے اپنے جریدے میں اداریہ تک لکھ ڈالا جبکہ روزنامہ اوصاف میں ان کے چمچوں کے تین مضامین اور دو خطوط (ایڈیٹر کی ڈاک میں) شائع ہوئے۔

لیکن سب سے زیادہ لطف تب آیا جب روزنامہ امت میں میرے کالم “ببانگ چنگ بگوئم آں حکایتہا” کے جواب میں ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی مرحوم کا قسطوار جواب شائع ہوا۔ حقیقی معنیٰ میں یہ تھی وہ چیز جس کا مجھے کئی برس سے انتظار رہا تھا۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب دمشق اور کئی دیگر یونورسٹیز میں تاریخ کے پچاس برس تک استاد رہے تھے۔ میری قسمت یہ اچھی رہی کہ ان کا جواب بہت ہی توہین آمیز تھا۔ اس سے مجھے ان کے احترام کے بجائے اپنے مخصوص جارحانہ طرز تحریر کا جواز مل گیا چنانچہ خلافت عثمانیہ کے آخری چالیس سالوں کے حوالے سے انہیں جواب الجواب اور جواب الجواب الجواب میں اس بے رحمی سے لتاڑا کہ جب انہوں نے اپنی عظمت کا قائل کرنے کے لئے یہ لکھا کہ صلاح الدین مرحوم (مدیر تکبیر) اور مجیب الرحمن شامی جیسے بڑے رائٹر میری ملاقات کو آیا کرتے تھے تو میں نے اس پوائنٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا

“اگر ملاقاتیوں سے کسی کی عظمت ثابت ہوتی ہے تو پھر آپ سے زیادہ وہ نائی عظیم ہیں جن کے پاس یہ دونوں بزرگ بال بنوانے جاتے رہے ہیں کیونکہ سب سے زیادہ ملاقاتیں تو ان کی ان سے رہی ہیں”

یہ سب کچھ آج اس لئے لکھا ہے کیونکہ آپ میں سے کئی نوجوان ابھرتے رائٹرز ہیں۔ یہ چیز آپ کے پیش نظر رہنی چاہئے کہ جس دن کوئی بڑا رائٹر آپ کی تحریر کا جواب لکھ دے۔ سمجھ جائے کہ حقیقی معنیٰ میں بطور رائٹر آپ کا سفر اب شروع ہوا۔ دوسری بات یہ کہ کبھی بھی کسی بھی صورت کم قد کاٹھ والے کی نہ تحریر کا جواب دیجئے اور نہ ہی جواب الجواب لکھئے۔ بونے اس طرح کی حرکتیں قد لمبا کرنے کے لئے کرتے ہیں، آپ نے ان کے چکر میں نہیں آنا۔ جواب یا جواب الجواب اسی کا لکھئے جو کم از کم آپ کا ہم پلہ ہو r

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *