ایجوٹینمنٹ: بھئی، آپ کی سوسائٹی تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے!

چند روز پہلے یونیورسٹی میں چند فیکلٹی ممبرز میں اس بات پر ڈسکشن ہو رہی تھی کہ ہماری نوجوان نسل جس طرح موبائل فون اور سوشل میڈیا کی ایڈکشن میں مبتلا ہے تو اس کا علاج کیا ہے؟ ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ اس ایڈکشن کی وجہ سے بچوں کے رویے (attitudes) تباہ ہو چکے ہیں، وہ ماں باپ کی بات کیا مانیں گے، انہیں تو اس ایکٹوٹی کے دوران نہ اپنے ارد گرد کی خبر ہوتی ہے، نہ گھر کی اور نہ ہی اپنی۔ لڑکیاں سیلفی ایڈکشن میں مبتلا ہیں تو لڑکے گیم ایڈکشن میں۔ اور دونوں نوٹیفکیشن دیکھنے کی ایڈکشن میں بھی۔

ایک رائے یہ سامنے آئی کہ بچوں کو صرف دو گھنٹے کے لیے موبائل، ٹیب، لیپ ٹاپ وغیرہ پکڑایا جائے، لیکن اس کا جب تجربہ کیا گیا تو بچوں کی حالت ایسے ہو گئی جیسے کسی نشی کو نشہ نہ ملنے کی صورت میں ہوتی ہے۔ ایک دوسرے پروفیسر صاحب نے کہا کہ گیم ایڈکشن اس قدر عام ہو چکی ہے کہ میرے دس سال کے بیٹے نے اپنے دوستوں سے ٹائم سیٹ کر رکھا ہوتا ہے کہ اتنے بجے آن لائن ہو جانا اور وہ گروپس بنا کر کھیلتے ہیں اور جب کھیلتے ہیں تو دنیا اور ما فیا سے غافل ہو جاتے ہیں۔ یونیورسٹی میں جہاں ہر طالب علم کے ہاتھ میں کتاب نظر آنی چاہیے تھی، وہاں اب اسمارٹ فون نظر آتا ہے اور شاید اسٹوڈیو میں اتنی تصویریں نہ کھینچی جاتی ہوں جتنی تعلیمی اداروں میں کھینچی جا رہی ہوتی ہیں۔

tripako tours pakistan

میرا دو سال کا بچہ جس انہماک سے موبائل کی اسکرین دیکھتا ہے، اس سے وحشت ہونے لگتی ہے کہ اس انہماک اور توجہ سے تو ہمارا ساٹھ سالہ بوڑھا سجدہ نہیں کرتا۔ رات بھی اپنے بھانجے مغیرہ لقمان سے اس بات پر ڈسکشن ہو رہی تھی کہ ہم سب کو مسئلے کا علم ہے لیکن اس کا حل کیا ہے؟ یہ سوال بھی سامنے آیا کہ مغرب (west) نے اس کا کیا حل پیش کیا؟ تو معلوم ہوا کہ مغرب تو تباہی کا شکار ہو چکا اور ہم اہل مشرق تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں۔مغرب کا سارا تعلیمی نظام اسٹوڈنٹ کے گرد گھومتا ہے کہ وہ کسٹمر ہے، بس اسے مطمئن ہونا چاہیے کیونکہ تعلیم کاروبار بن چکی لہذآ اپ ایجوکیشن کی بجائے ایجوٹینمنٹ کا تصور آ رہا ہے۔ استاذ سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ طالب علم کو خوش اور مطمئن رکھے، چاہے اسے کلاس میں جوکر (joker) بننا پڑ جائے۔ پس اگر یہ ایجوکیشن سے بھاگتے ہیں تو ایجوٹینمنٹ کی طرف لے آؤ کہ انہیں ایجوکیشنل گیمز دکھا کر کچھ نہ کچھ سکھا دو اور ایجوکیشن کو ان کے لیے انٹرٹینمنٹ بنا دو۔

مغرب میں جو سوچ بچار رکھنے والے لوگ تھے تو انہوں نے بچے اسکولوں سے اٹھوا لیے اور ہوم اسکولنگ کا کانسپٹ بہت تیزی سے عام ہو گیا۔ ہمارے ہاں مشرق میں ابھی اتنا برا حال نہیں ہے کہ کہیں نہ کہیں تعلیمی نظام استاذ کے گرد بھی گھوم رہا ہے لہذا ہم اپنے تعلیمی اداروں میں اب بھی بہتری لا سکتے ہیں۔ مسئلہ یہی ہے کہ ہمارے نوجوان کے پاس انرجی بہت ہے لیکن کرنے کو کام نہیں ہے یا کام ہے تو اس کام میں اس کا دل نہیں لگتا۔ ایک یونیورسٹی گریجویٹ کے پاس کیا یہ تھوڑا کام ہے کہ وہ اپنی ڈگری اچھے طریقے سے حاصل کر لے لیکن کتنے اپنی تعلیم میں سنجیدہ ہوتے ہیں؟ دو فی صد بھی نہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں تعلیم میں دلچسپی نہیں ہے اور دلچسپی کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے اور مقصد نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں کوئی ایسا استاذ ملا نہیں کہ جو ان کے دلوں میں مقصد کی محبت اس طرح ڈال سکے جیسے کسی جبلی تقاضے (instinct) کی محبت ہوتی ہے۔

یہ مقصد اور آدرش کی محبت ہی ہے جو تمام خواہشات کی محبتوں پر غالب آ سکتی ہے اور یہ وہی استاذ پیدا کر سکتا ہے جو خود بامقصد زندگی گزار رہا ہو۔ ہم جس لائف اسٹائل کے عادی ہو چکے ہیں، یہ جبرا ہم پر مسلط ہو چکا، اب اس سے بھاگنا ممکن نہیں رہا۔ اب ایک ہی رستہ ہے کہ اسے بامقصد بنا لیا جائے۔دوسرا یہ کہ اگر زندگی بامقصد ہو جائے تو انسان اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے بہت حد تک محفوظ رہ سکتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اپنی روز مرہ زندگی کے معمولات چلا سکتا ہے بلکہ ہماری نوجوان نسل کو یہ سب کچھ سیکھنا ہے کہ انہیں اس سب کچھ کے ساتھ وہ سب کچھ کیسے چلانا ہے جو بامقصد ہے اور ان کے فیوچر، یہاں اس دنیا اور آخرت، کے لیے مفید ہے۔

مجھ سے اکثر دوست پوچھتے ہیں کہ آپ فیس بک پر کتنا وقت دیتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ سنجیدگی سے تو ایک گھنٹہ کہہ سکتا ہوں لیکن غیر سنجیدگی سے دن کا ایک بڑا حصہ۔ میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ فیس بک پر بیٹھے ہوئے اپنے بامقصد کام جاری رکھوں۔ عموما یونیوسٹی آتے جاتے وقت رستے میں ایک مضمون سوچ لیتا ہوں جو کہ لکھنا ہے، پھر اسے لکھ دیتا ہوں، پھر دن بھر میں وقتا فوقتا کمنٹس بھی دیکھتا رہتا ہوں، چیٹس کے جواب بھی دیتا رہتا ہوں، ساتھ میں ریسرچ آرٹیکل بھی مکمل کر رہا ہوتا ہوں، کتاب بھی لکھ رہا ہوتا ہوں اور بچہ بھی سبھال رہا ہوتا ہوں۔ اور بہت سے سنجیدہ دوست ایسے ہی اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کو مینیج کرتے ہیں جیسا کہ ان سے بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے اور فی الحال اس مسئلے کا یہی حل ہے۔ واللہ اعلم

حافظ محمد زبیر
حافظ محمد زبیر
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کامساٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ تقریبا دس کتب اور ڈیڑھ سو آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *