پاکستان کا خط پاکستانی قوم کے نام۔۔۔۔۔اے وسیم خٹک

السلام علیکم!

امید ہے آپ سب لوگوں نے ایک دفعہ پھر میری آزادی کا جشن جوش وخروش کے ساتھ گزارا ہوگا,ـ جب آگست کا مہینہ  آتا ہے آپ لوگوں کی مجھ سے محبت دیکھنے لائق ہوتی ـ  ہے ،مجھے بھی ایک خوشی کا احساس ہوتا ہے کہ مجھے یاد کیا جا رہا ہے مگر جوں ہی پندرہ آگست کی صبح آتی ہے آپ لوگوں کی محبت بھی جھاگ  کی طرح بیٹھ جاتی ہے، آپ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں  مصروف ہوجاتے ہو ـ ،اور میری جشن آزادی پر جو آپ لوگ کرپشن اور دیگر باتیں  کرتے ہو کہ ہم آج سے عہد کرتے ہیں  کہ سچے محب وطن  بنیں گے ،کیونکہ مجھے آپ لوگوں کے آباؤاجداد نے کافی محنتوں کے بعد حاصل کیا ہے اور اپنے بچوں کو سب بتاتے ہو کہ ہمارے بڑوں نے بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے. مگر وہ سب آپ لوگ بھول جاتے ہو ـ اور وہی کچھ کرنے لگتے ہو جو آزادی کے بعد سے آپ سب کرتے آئے ہو ،ـ کرپشن لوٹ کھسوٹ ـ قتل وغارت گری ایک دوسرے کے گلے کاٹنا اور اپنے ہی لوگوں کے ساتھ دھوکہ کرنا وہ سب کچھ آپ لوگ کرتے ہو جو کہ نہ اسلام میں   ہے اور نہ میرے آئین میں ، ـ کبھی مجھے بچانے کے لئے مذہب کا سہارا لیا گیا کبھی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے مجھے ڈھال بنا یا گیا۔۔۔ حتی جس نے جتنا چاہا مجھے تباہ وبرباد کرنے میں  کوئی کسر نہیں  چھوڑی !

ـ میرے لوگوں آپ تو پاکستانی نہیں  ہو، بلکہ ایک ہجوم میں  بٹے ہوئے ہو ـ، پنجابی سندھی بلوچی پٹھان بنے پھرتے ہو ـ کسی نے آج تک یہ نہیں  کہا کہ میں  پاکستانی ہوں ـ میرے چاہنے والوں اور مجھ میں  رہنے والو ! میرے بارے میں  آپ بہت کچھ جانتے ہو اور ہر 14   اگست کو آپ میرے بارے میں لوگوں سے بہت کچھ جان لیتے ہو مگر میں  اس بات پر پریشان ہوں کہ  مجھ سے آپ لوگوں کی محبت صرف اگست میں  کیوں  زوروں پر ہوتی ہے؟ ـ یہ بات میں  آپ کو بتادوں کہ اگر میں  ہوں تو آپ لوگ قائم ہیں ، اگر میں نہیں  تو آپ لوگوں کا بھی نام ونشان نہیں  ہے، ـ میرے جھنڈوں کو کاروبار کی حد تک مت لو، میڈیا میں  جیوے جیوے کرنا چھوڑ دو ،اپنے اداروں میں  میری تعریفیں  کرنا بند کردو، میں  اللہ کی  جانب سے آپ لوگوں کے َلئے ایک تحفہ ہوں، میری قدر کرو اور میری ترقی کے لئے میرے بابا قائداعظم کے افکار کو اپنی زندگی میں  لاؤ!

یہ ناچ گانے، ـ یہ ریلیاں نکالنے ـ سوشل میڈیا پر میرے گُن گانے سے بڑی بڑی تقریروں سے میرا دل آپ نہیں جیت سکتے، اگر اپ نے مجھے پانا ہے تو سچا پاکستانی بننا ہوگا، اپنے آپ میں  پاکستانیت لانی ہوگی، ہر دن کو 14  اگست سمجھ کر منانا ہوگا۔ ـ آپ ترقی کروگے علم   عام کروگے تو لوگ تمھیں  پہچانیں  گے اور نام میرا ہوگا، ـمجھ میں  بہت سی راہیں  ہیں ، مسخر کرو اور میری ترقی کے لئے آگے بڑھو اور مجھے میرا  دل   جیت لو! ـ خدا آپ سب کا حامی و ناصر ہو!
آپ سب کا پاکستان!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *