• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سرگودھا کے انتخابی نتائج اور سیاسی شعور۔۔۔۔۔ ولائیت حسین اعوان/آخری حصہ

سرگودھا کے انتخابی نتائج اور سیاسی شعور۔۔۔۔۔ ولائیت حسین اعوان/آخری حصہ

اس سے پہلے سرگودھا میں عام انتخابات کے حوالے سے این اے 88 اور این اے 90 کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔آج باقی 3 حلقوں کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔
این اے 89 سرگودھا 2 کوٹ مومن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اسامہ غیاث میلہ اور مسلم لیگ نون کے محسن شاہ نواذ رانجھا کے درمیان ایک بھرپور اور دلچسپ مقابلہ ہوا جس میں محسن شاہ نواز کو 800 ووٹ سے کامیابی ملی۔

سرگودھا الیکشنز نتائج اور مجموعی شعور ۔۔۔۔ولائیت حسین اعوان/حصہ دوم

اسامہ غیاث میلہ کے والد غیاث میلہ 1997 میں نون کے ٹکٹ پر ایم۔این اے منتخب ہوئے۔اور 2002 اور 2007 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔2013 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ہی محسن شاہ نواز رانجھا سے شکست کھا گئے۔اور انکی وفات 2015 میں ہوئی۔محسن شاہ نواز رانجھا مسلم لیگ نون کے ضلعی صدر شاہ نواز رانجھا کے بیٹے ہیں۔
اسامہ غیاث میلہ ایک نوجوان شخصیت ہیں اور اگر چہ  انہیں محسن شاہ نواز کی طرع نہ اپنے والد کی سرپرستی حاصل تھی اور نہ پہلے خود الیکشن کمپیئن کا تجربہ۔اور انکے ساتھ ایم۔پی اے کی سیٹ پر عامر چیمہ کے بیٹے اور انور علی چیمہ کے پوتے منیب سلطان کی بھی یہی پوزیشن تھی۔کہ انکے والد عامر چیمہ کا یہ پرانا حلقہ ضرور تھا لیکن وہ خود این اے 91 سے الیکشن لڑ رہے تھے اور مصروفیات کی وجہ سے اس حلقہ میں وقت نہیں دے سکتے تھے لیکن ان سب باتوں کے باوجود ان دو نوجوانوں نے بہت خوب مقابلہ کیا۔اس حلقہ میں تحریک انصاف کے دوسرے ایم پی اے کے امیدوار انصر ہرل تھے جو کہ پی ٹی آئی کے ضلعی صدر ہیں۔پی پی 75 سے منیب سلطان 13000 کے بھاری مارجن سے اپنے مدمقابل نون کے امیدوار عمر حیات کلیار سے با آسانی جیت گئے لیکن انصر ہرل پی پی 74 سے پرانے منجھے ہوئے سیاستدان مناظر رانجھا سے صرف 1200 ووٹ سے شکست کھا گئے ۔ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس حلقہ میں 7000 کے قریب ووٹ کینسل ہوا جس پر اسامہ غیاث میلہ نے عدالت میں اپنے حق میں ڈالے ووٹ کا دعوی بھی دائر کیا۔

این اے 91 سرگودھا  4 سلانوالی سے مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے عامر سلطان چیمہ اور نون لیگ کے سابق ایم۔این اے  ذوالفقار علی بھٹی کے درمیان تھا۔۔
عامر سلطان چیمہ اس سے پہلے ق لیگ کے ٹکٹ پر اور اس سے پہلے نون لیگ کے ٹکٹ پر ایم۔پی اے منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔سابق صوبائی وزیر لائیو سٹاک اور آبپاسی بھی رہے۔یہ حلقہ انکے والد مرحوم انور علی چیمہ صاحب کا تھا۔انور علی چیمہ صاحب 7 بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔پاکستان کے چند ایسے سیاستدانوں میں انکا شمار ہوتا ہے جنھوں نے شرافت کی سیاست کو فروغ دیا اور حلقہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروا کر اپنے اپ کو عوام کا پسندیدہ نمائندہ بنایا۔ذوالفقار بھٹی نے 2008 کے الیکشن پی پی پی کے ٹکٹ پر ق لیگ کے انور علی چیمہ سے شکست کھائی اور 2013 میں نون لیگ میں شامل ہوئے۔اور انور علی چیمہ کو شکست دے کر ایم۔این۔اے منتخب ہوئے۔انور علی چیمہ کی وفات کے بعد اس حلقہ میں انکی نمائندگی عامر سلطان چیمہ کے پاس آئی۔عامر چیمہ کی بھی تحریک انصاف میں شمولیت سرگودھا  کے باقی قومی  اسمبلی کےامیدواروں کی طرع الیکشنز سے چند ہفتے پہلے ہوئی۔جس کا بہرحال انہیں کچھ نقصان ہوا۔عامر چیمہ کو بھی مسترد ووٹ کا مسئلہ درپیش رہا۔جس کے لیئے کیس ہائی کورٹ تک گیا۔لیکن  ذوالفقار بھٹی نے سپریم کورٹ سے دوبارہ گنتی رکوانے کا حکم حاصل کر کے صرف 87 ووٹ سے فتح اپنے نام کی۔پوسٹل بیلٹ کے حوالے سے سرگودھا  کے تقریباً  ہر حلقہ سے یہ مسئلہ سامنے آیا کہ جن لوگوں نے بیلٹ   پیپر پر جوش میں یا کم علمی میں صرف PTI لکھا انکا ووٹ مسترد ہوا۔۔

اس حلقہ میں تحریک انصاف کی طرف سے پی پی 76 پر ایم پی اے کی نشست پر سابق ایم پی اے فیصل چیمہ اور دوسرے صوبائی حلقہ پی پی 79 سے فیصل گھمن تھے اور دونوں عامر چیمہ صاحب کے رشتہ دار تھے۔نون کی صوبائی ٹکٹ پر سابق ایم پی اے رانا منور غوث اور کامل شمیل گجر تھے۔تحریک انصاف کے فیصل چیمہ 7000 ووٹ سے اپنے مدمقابل سے جیت گئے کہ انکا پچھلے 5 سال کا حکومتی دور اپنے حلقہ میں حاضری اور کام کے حوالے سےمثالی رہا۔ایک نوجوان ابھرتے ہوئے سیاستدان بااخلاق اور زہین محنتی شخص ہیں۔جبکہ رانا منور غوث بھی 15000 کے بھاری مارجن سے شائد لگاتار تیسری بار فتح یاب ہوئے۔کہ وہ بھی اپنے حلقے میں عوام سے رابطے کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتے ہیں۔مزید برادری ازم کا ووٹ بھی انکے لیئے معاون ثابت ہوتا ہے۔
عامر چیمہ کی اس حلقہ میں پہلی بار آمد اور ساتھ انکے کمزور صوبائی امیدوار فیصل گھمن کا ٹکٹ کا غلط فیصلہ اور ذوالفقار بھٹی کی “روایتی” سیاست اس حلقہ میں عامر کی شکست کا باعث بن۔
این اے 91 میں حافظ محمد سعید کے بیٹے بھی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے جنھوں نے 11000 ووٹ لیا۔جبکہ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار فرحان گجر نے 7000 ووٹ حاصل کیئے۔
این اے 92 ساہیوال شاہ پور پر تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے امیدوار اگر چہ  ہار گئے لیکن تحریک انصاف نے صوبائی دونوں نشتیں جیت لیں۔

قومی سیٹ پر سرگودھا کے دوسرے حلقوں کی طرع اس حلقہ میں بھی ٹکٹ کا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ کیا گیا۔الیکشن سے چند دن پہلے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے مضبوط امیدوار سابق بیوروکریٹ ظفر قریشی جو کہ سابق ایم این اے مظہر قریشی کے بھائی ہیں کو نظر انداز کر دیا گیا۔نہ صرف یہ ان کے ساتھ پارٹی کے پرانے مخلص ورکرز شہزاد میکن آصف میکن کو بھی اس حلقہ میں ٹکٹ دیتے وقت اعتماد میں نہ لیا گیا۔اور انکی جگہ ٹکٹ دینے کی شرط پر شامل ہونے والے سیال شریف کے گدی نشین پیر حمید الدین سیالوی کے بھتیجے نعیم الدین سیالوی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا گیا۔انکے بھائی نظام الدین سیالوی نون لیگ کے ایم۔پی اے رہ چکے ہیں اور انکی کارکردگی پچھلے 5 سالہ دور میں کچھ زیادہ بہتر نہ تھی۔انکے مقابلے میں نون لیگ نے ایک بہتر امیدوار سابق ایم این اے سید جاوید حسنین شاہ کو ٹکٹ دیا اور وہ 30 ہزار کے بھاری مارجن سے جیتے۔قابل زکر بات یہ ہے کہ تحریک انصاف سے ناراض ظفر قریشی آصف میکن نے اپنا آزاد پینل بنایا اور ظفر قریشی نے 57000 ووٹ حاصل کیا جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار کے ووٹ 65000 تھے۔جبکہ تھریک انصاف کی قیادت سے ناراض صوبائی امیدوار نے بھی آصف حیات نے بھی 29000 ووٹ حاصل کر کے تحریک انصاف کی قیادت کو انکے غلط فیصلوں پر جنجھوڑا۔۔پی پی پی کے قومی اسمبلی کے امیدوار رانا جمشید جھمٹ نے 16000 ووٹ لے کر اپنےحلقہ میں پی پی پی سے اپنی پرانی وابستگی کو تازہ کیا اور اسکی لاج رکھی۔پی پی پی کے صوبائی امیدوار تیمور امیر خان نے بھی 10 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے یہ بتایا کہ حالات جیسے بھی ہوں نظریہ پر فاتحہ پڑھ کر گھر نہیں بیٹھنا چاہیئے۔میدان میں مقابلہ کرنا چاہیئے۔

اس حلقہ میں تحریک انصاف کے جیتنے والے امیدواروں کی مثبت بات یہ تھی کہ دونوں پہلی بار منتخب ہوئے اور اپنے علاقے میں صاف ستھری شرافت کی سیاست کو فروغ دیا۔پی پی 81 سے چوہدری افتخار گوندل۔2013 میں بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر صوبائی الیکشن لڑ چکے ہیں۔اس سے پہلے تحصیل نائب ناظم شاہ پور رہ چکے ہیں۔انتہائی مخلص شریف اور باوقار انسان ہیں۔پارٹی کے لیئے انکی بے پناہ خدمات ہیں۔عمران خان کے بہت مخلص ساتھیوں میں انکا شمار ہوتا ہے۔اور انکی جیت کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے اس صوبائی امیدوار کو شکست دی یعنی سید جاوید حسنین شاہ کو جس نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر تحریک انصاف کے امیدوار کو 30 ہزار ووٹ سے شکست دی۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتےہیں کہ لوگوں میں جماعتی وابستگی ٹکٹ کے فیصلوں اور صحیح غلط امیدوار کے چناؤ  کے حوالے سے پچھلے تمام الیکشنز کی نسبت بہتر سیاسی شعور پایا جاتا ہے۔

پی پی 80 سے غلام علی اصغر لاہڑی بھی ایک نہایت اچھی شہرت کے حامل سیاستدان ہیں۔اور انکی بہترین سیاسی خدمات کا ہی یہ صلہ تھا کہ وہ بھی 21000 ووٹ کی برتری سے اس حلقہ سے جیتے جہاں انکی جماعت کا قومی اسمبلی کا امیدوار 30 ہزار ووٹ سے ہارا۔یہ سابق تحصیل ناظم ساہیوال رہ چکے ہیں۔امید ہے کہ یہ دونوں ممبران صوبائی اسمبلی ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گے اور عوام اور حلقہ کی فلاح و بہبود کے لیئے ہمیشہ کی طرع بہترین کوششیں کریں گے۔
مجموعی طور پر سرگودھا سے تحریک انصاف نے 5 اور نون نے 5 صوبائی نشتیں حاصل کیں۔ جبکہ ٹکٹوں کی غلط تقسیم کی وجہ سے قومی کی تمام 5 نشتیں تحریک۔انصاف ہار گئی ۔تحریک انصاف کے4 لوگ پہلی بار ایم پی اے بنے۔ایک دوسری بار۔ان میں سے 2 امیدوار 2013 میں بھی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں۔
ان تمام نتائج سے کچھ باتیں روز روشن کی طرع عیاں ہوتی ہیں۔مستقبل میں کرپشن کے خلاف لوگوں کے شعور کو دبایا نہیں جا سکے گا اور وہی شخص کامیاب ہو گا جس کا ماضی صاف ستھرا ہو گا۔
لوگوں کو آپ باتوں سے بیوقوف نہیں بنا سکیں گے۔ٹکٹ کے غلط فیصلوں کا خمیازہ جماعت کو بھگتنا ہو گا۔

لوگ ووٹ کسی کے کہنے یا کسی زور زبردستی مجبوری کی بنا پر نہیں دیں گے۔نہ سیاستدانوں کی چالاکیوں یا شعبدہ بازیوں سے متاثر ہو کر۔۔۔بلکہ وہ ووٹ کارکردگی پر دیں گے۔
آخری بات پورے ملک میں ووٹ کاسٹ ہونے کی شرح تقریبا 55 فیصد ہے۔نئی حکومت جو بھی ہو کم از کم تین باتوں پر ضرور غور کرے۔ووٹ کا صاف شفاف اور آسان طریقہ کار جس میں دھاندلی کا ایک فیصد بھی امکان نہ ہو۔دوسرے متناسب نمائندگی اور تیسرے لازمی ووٹ کاسٹ کرنا۔جو 55 فیصد ووٹ دے رہے ہیں غلط کو دے رہے ہیں یا صحیح کو انکا قصور کم اور جو گھر بیٹھے رہتے ہیں الیکشن کے روز خراب ملکی حالات اور غلط سیاستدانوں کے اسمبلی میں پہنچنے میں انکا کردار ذیادہ ہے۔

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *